بند کریں
بدھ جنوری

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
لاہور…سوہا بازار کے نو عمر محنت کش کے قاتل پولیس اہلکار بھائیوں کیخلاف مقدمہ درج
محکمہ پولیس میں ایسے پولیس افسران واہلکاروں کی بڑی تعدادموجود ہے جو شہریوں کے قتل سمیت چوری ،ڈکیتی جیسی سنگین وارداتوں میں ملوث ہیں تھانوں میں شہریوں سے ناروا سلوک اور تشدد کرتے ہیں
میاں علی افضل:
مولانا رومی کے ایک قول کے مفہوم کے مطابق 100 بہترین حکمرانوں کے مرجانے سے اتنا نقصان نہیں ہوتا جتنا ایک احمق ، لالچی اور ظالم کے بااختیار ہونے سے ہوتا ہے عہدہ طاقت ، اختیارات انسان کو اللہ تعالی کی طرف سے عطا کردہ ہے ان کے ملتے ہی انسان کی آزمائش شروع ہو جاتی ہے، اگر انسان ان کا استعمال ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اللہ تعالی کی خوشنودی اور خدمت انسانیت کیلئے استعمال کرے تو دنیا سے جانے کے بعد بھی امر رہتا ہے اور اس کی آخرت بھی سنور جاتی ہے اور اگر یہ عہدہ ، اختیار اور طاقت اپنے ناجائز کاموں کی تکمیل کیلئے استعمال کرے اور ظلم کرتا چلے تو یقینا دنیا وآخرت میں نشان عبرت اس کا مقدر بن جاتا ہے، محکمہ پولیس میں ایسے پولیس افسران واہلکاروں کی بڑی تعدادموجود ہے جو شہریوں کے قتل سمیت چوری ،ڈکیتی جیسی سنگین وارداتوں میں ملوث ہیں تھانوں میں شہریوں سے ناروا سلوک اور تشدد کرتے ہیں جبکہ مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتے ہیں لیکن ایسے باہمت ، باضمیر، فرض شناس اور خدمت انساینت کے جذبہ سے سرشار آفیسر بھی ہیں جو شہریوں کو انصاف کی فراہمی کیلئے اپنے ہی محکمہ کے افسران واہلکاروں کے خوف ناک چہروں سے شرافت کا نقاب اتار رہے ہیں اور محکمہ پولیس میں موجود کالی بھیڑوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچا رہے ہیں، مظلوموں کو انصاف اور طاقت ور ظالموں کو سزا دلوا رہے ہیں اور رضائے مولا کیلئے بے خوف ہو کر کام کر رہے ہیں ایسا ہی ایک واقع تقریبا ایک سال قبل صوبائی دارالحکومت کے علاقہ لوہاڑی گیٹ میں ہوا جہاں ایک محنت کش سلیم کا بیٹا ارسلان دن بھر سوہا بازار میں کام کرتا اوروہ گھر میں موجود غریبی اور مفلسی کو ختم کرنے کیلئے بہت محنت کرتا اسی محلے میں ناصر نامی شخص بھی رہائش پذیر تھا جو آوراں لڑکوں کیساتھ اٹھا بیٹھا تھا اور محلے میں” بدمعاش“ کہلواتا تھا ناصر کے پولیس افسران سے تعلقات کیوجہ سے اہل علاقہ اس سے خوف زدہ رہتے ایک روز کام سے واپسی پر ارسلان گلی سے گزر رہا تھا کہ اس کا سامنا ناصر کیساتھ ہو گیا اور ناصر کی طرف دیکھنے پر دونوں میں تکرار ہو گئی وہاں موجود افراد نے بیچ بچاؤ کرایا ناصر کو ارسلان پر شدید غصہ تھا جس پر ناصر نے ارسلان کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا اور اپنے دوست تھانہ فیروز والا میں تعینات اے ایس آئی سیف اللہ کو غلط اطلاع دی کہ ارسلان نامی نوجوان نے ڈکیتی ماری ہے اور اس کی پاس 1کروڑ روپے کی رقم موجود ہے جس پر رقم لینے کیلئے طاقت کے نشہ میں دھت تھانہ فیروز والہ میں تعینات اے ایس آئی سیف اللہ نے مخبر ناصر کی اطلاع پر محنت کش سلیم کے بیٹے ارسلان کو سوہے بازار سے اٹھایا اور تھانہ فیروز والا لے گیا اور تھوڑی دیر تھانے میں رکھنے کے بعد ارسلان کو اپنے گھر فاروق آباد لے آیا ارسلان کو حراست میں لینے کے بعد اے ایس آئی سیف اللہ نے خانقاہ ڈوگراں میں تعینات اپنے بھائی ٹی اے ایس آئی آصف کو فون کیا اور اسے بھی گھر بلوا لیا ٹی اے ایس آئی آصف کے گھر آنے پر اے ایس آئی سیف اللہ نے چھوٹے بھائی کو بتایا کہ ارسلان کے پاس ایک کروڑ روپے ہیں تشد د کرنے پر یہ بتائے کہ پیسے کہاں ہیں جو آپس میں تقسیم کر لیں گے دونوں بھائی محنت کش ارسلان کو تشدد کا نشانہ بناتے رہے اور اس سے ڈکیتی میں لوٹی گئی ایک کروڑ روپے کی رقم کے متعلق پوچھتے رہے ارسلان کسی ڈکیتی کی واردات میں ملوث نہ تھا اس لئے انکار کرتا رہا رات بھر تشدد کرتے رہے جبکہ ارسلان چیختا و چلاتا رہا لیکن ان ظالموں کو اس پر رحم نہ آیا صبح ہوتے ہی ارسلان دم توڑ گیا اے ایس آئیز سیف اللہ اور ٹی اے ایس آئی آصف نے ارسلان کی لاش قریبی نہر میں پھینک دی ملزمان اتنے مکار تھے کہ اپنے خلاف تمام ثبوت بھی ختم کر دئیے اور مستقبل میں پکڑے جانے کے خوف سے ارسلان کے خلاف فیصل آباد کے تھانے میں شراب کا مقدمہ درج کروا دیا اور ایک جعلی شخص کو ارسلان ظاہر کرکے جیل بھی بھیجوا دیا تاکہ ارسلان کی ان کے پاس موجودگی کے تمام ثبوت ختم ہو جائیں اور ارسلان کی فیصل آباد میں موجودگی ظاہر کر دی دوسری جانب ارسلان کے والدین بیٹے کی تلاش میں خوار ہوتے رہے لیکن کوئی سراغ نہ لگ سکا بالآخر محنت کش سلیم نے تھانہ لوہاڑی گیٹ میں بیٹے ارسلان کے اغواء کی درخواست دی جس پر مقدمہ نمبر 52/14 درج کیا گیا لیکن پولیس مغوی کے متعلق کوئی سراغ نہیں لگا سکی کئی ماہ کی کوششوں کے بعد بھی ارسلان کے متعلق کچھ معلوم نہیں ہو سکا محنت کش سلیم بیٹے کی بازیابی کیلئے سسکیوں اور آہوں کیساتھ ایس پی سی آئی اے عمر ورک کے پاس فریاد لے کر جا پہنچا جس پر فوری کیس کی تفتیش ڈی ایس پی سی آئی اے کوتوالی خالد ابوبکر کے پاس جا پہنچی اور ڈی ایس پی سی آئی اے خا لد ابوبکر کی سربراہی میں انسپکٹر طارق سجوار، اے ایس آئی جعفر، غلام مرتضی پر مشتمل ٹیم نے کیس کی تفتیش شروع کی اور جہاں سے ارسلان کو اغوا کیا گیا وہاں سے سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے تفتیش کا آغاز کیا اور چند ہفتوں کی تفتیش میں ملزمان کا سراغ لگا لیا گیا جس کے بعد ملزمان کی گرفتاری کا عمل شروع ہوا اور بااثر ، با اختیار، طاقت ور ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ڈی ایس پی سی آئی اے خالد ابوبکر کی جانب سے بلاتفریق کارروائی کی گئی اور کوئی امتیاز برتے بغیر اپنے ہی محکمہ کے اے ایس آئی اور اس کے ساتھی کو ہتھکڑیوں میں جکڑ لیاملزم ناصر اور ٹی اے ایس آئی آصف کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ اے ایس آئی سیف اللہ کی گرفتاری کیلئے کوششیں جاری ہیں ، ملزمان کی گرفتاری کے ساتھ ہی ظلم کی داستان سامنے آئی جبکہ بچے کی تلاش میں سال بھر سے خوار ہونے والے والدین قتل میں ملوث پولیس اہلکار کی پولیس کی جانب سے گرفتاری پر حیران رہ گئے محکمہ پولیس میں یقینا ایسے افسران کی موجودگی ناگزیر ہے جو صرف اور صرف فلاح انساینت کیلئے کام کریں اور بلا تفریق کارروائی کریں چاہے ملزم کتنا ہی طاقت ور ،با اختیار ،با اثر اور اپنا پیٹی بھائی ہی ہوں اور ایسے ظالم اور اختیارات کا غلط استعمال کرنے والے افسران و اہلکاروں کا خاتمہ ضروری ہے جو اختیارات کے ذریعے ظلم برپا کر رہے ہیں.
تاریخ اشاعت: 2015-05-13

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان