بند کریں
پیر فروری

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
شادی سے چند یوم قبل سعودیہ پلٹ نوجوان کا قتل
دوست کو پانچ لاکھ روپے اُدھار دینے سے انکار موت کا سبب بنا۔۔۔۔ پھول نگر میں د و سال قبل زمین فروخت کر کے سعودی عرب میں کام کے سلسلے میں جانے والا حاجی عارف اپنے ہی دوستوں کے ہاتھوں مارا گیا
ڈاکٹر محمد لطیف:
پھول نگر میں د و سال قبل زمین فروخت کر کے سعودی عرب میں کام کے سلسلے میں جانے والا حاجی عارف اپنے ہی دوستوں کے ہاتھوں مارا گیا۔ حاجی عارف 8-9-2015 کو فیصل آباد ائیر پورٹ پر اترا۔ عید سے تین دن قبل ا س کی اور اس کی بہن کی شادی 8-10-2015 طے پائی حاجی عارف کا عید سے دو تین دن پہلے شہباز نامی شخص سے لڑائی جھگڑا ہوا شہباز کا مطالبہ تھا کہ مجھے تم پانچ لاکھ روپے ادھار دے دو یہ بات حاجی عارف نے اپنی والدہ کو بتائی کہ شہباز مجھے ہر روز تنگ کرتا ہے کہ مجھے پانچ لاکھ روپے دو میں نے اسے کہا کہ میرے پاس اتنے پیسے نہیں تو آگے سے اس نے کہا کہ تم اتنی خریداری کیسے کر رہے ہو؟ یہ باتیں حاجی عارف نے اپنی والدہ منور بی بی کو بتائی والدہ نے اپنے بیٹے کو ایسے لوگوں میں بیٹھنے سے منع کیا کہ آپ ان کے پاس نہ بیٹھا کرو تو شہباز نے کہا تم ہر بات اپنی والدہ کو کیوں بتاتے ہوئے۔
اگلے دن ان کے دروازے پر شہباز نے دستک دی اور حاجی عارف باہر نکلا تو والدہ نے بھی پیچھے دیکھنے کے لیے گئی والدہ نے کہا کہ میں نے اپنے بیٹھے کو شہباز کے ساتھ جاتے ہوئے دیکھا تقریباََ ایک گھنٹے کے بعد ہمیں تھانہ سٹی سے کا ل آئی کے آپ کے بیٹے کو کچھ لوگ مار کر پھینک گئے ہیں جس سے آپ کے بیٹے کی موت واقع ہو گئی ہے۔ یہ خبر سنی تھی کہ میرے پاوٴں سے زمین نکل گئی میرے گھر کا واحد کفیل جس کو میں نے اپنی زمین فروخت کر کے باہر سعودی عرب بھیجا کہ اللہ ہمارے مقدر پھیردے کیا معلوم تھا کہ میرے لخت جگر کو واپسی پر ان ظالموں نے قتل کر دینا ہے مجھے اپنے بیٹے سے بہت محبت تھی کیونکہ اس کا باپ بوڑھا ہو چکا ہے ظالموں نے ہمارے خوشیوں بھرے گھر کو ماتم کدا میں بدل دیا ہے۔
منور بی بی نے یہ بھی بتایا کہ میری آنکھوں کے سامنے میرے بیٹے کی تصویر چھائی رہتی ہے اور میرا ذہنی توازن بھی کام نہیں کرتا کیونکہ یہ میرا لخت جگر میری آنکھوں کا تارا تھا میرے دل کا سکون تھا آج زندہ ہوتا تو اس کی شادی کی خوشیاں مناتی بیٹے کوسہرے لگاتی لیکن خدا کو منظور ہی نہ تھا ظالموں نے میری ہنستی بستی دنیا اجاڑ دی۔ بہنیں بھی رو رو کر اعلیٰ احکام سے انصاف کی اپیل کرتی رہیں۔ بھائیوں نے کہا ہمارا بھائی انتہائی شریف آدمی تھا آج تک کبھی کسی سے لڑائی جھگڑا نہ ہو اہے ظالموں نے چند پیسوں کے لیے میرے بھائی قتل کر دیا بوڑھے باپ منظور نے بھی کہا کہ بڑھاپے میں ، میری کمر توڑ دی ہے ظالموں نے پتہ نہیں کس جرم کی مجھے سزا دی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-10-07

(0) ووٹ وصول ہوئے