بند کریں
منگل جنوری

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سادہ سی زندگی تھی
جسے آسائشوں کی طلب نے مشکل بنادیا ہے بائل فون عام ہونے سے پہلے تک اسے آسائش سمجھا جاتا تھا مگر جیسے ہی موبائل سیٹ اور سستی سمز نے مارکیٹ کا رُخ کیا ہر طرف سے فون کی گھنٹیاں سنائی دیتی ہیں
عمیر ناصر:
انسانی تمدن پر نظر دوڑائیں تو پتہ چتا ہے کہ پہلے زندگی سادہ ہوتی تھی۔ آج کے ایک معمولی امیر شخص کو میسر سہولتیوں اور آسائشون کا موازنہ ماضی کے بادشاہوں سے بھی کریں تو آج کا آدمی، ماضی کے بادشاہ سے بہت آگے نظرآئے گا۔ بہت سی ایسی آسائشیں موجود ہیں جو پچھلے زمانوں کے امیر سے امیر تر شخصی کو بھی حاصل نہیں تھی۔ مگر آج عام آدمی بھی اُن سے مستفید ہورہا ہے۔
سائنس و ٹیکنالوجی ہر نئے دن نت نئی آسائشیں پید ا کررہی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ہر ایجاد پہلے پہل آسائش کی شکل میں جنم لیتی ہے اور پھر تھوڑے ہی عرصہ میں لوگوں کی شدید ضرورت بن جاتی ہے۔ اس کی سادہ سی مثال یہ ہے کہ موبائل فون عام ہونے سے پہلے تک اسے آسائش سمجھا جاتا تھا مگر جیسے ہی موبائل سیٹ اور سستی سمز نے مارکیٹ کا رُخ کیا ہر طرف سے فون کی گھنٹیاں سنائی دیتی ہیں۔
آج ہمارے ہاں موبائل فون ایک ضرورت بن چکا ہے۔ متوسط طبقے میں فریج، ٹی وی، موٹر سائیکل، اور دیگر کئی چھوٹی بڑی اشیاء ایک ضرورت بن چکی ہیں۔ سائنس و ٹیکنالوجی نے انسان کیلئے بہت سی سہولتیں فراہم کی ہیں، فاصلے سمٹ گئے ہیں۔ سائیکل سے شروع ہونے والا سفر ہوئی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں سے ہوتا ہوا راکٹ کے ذریعے چاند اور مریخ تک جا پہنچا ہے۔
مگر راحتِ قلب و جان میسر نہیں ہورہی۔ آج ایک عام آدمی بھی خود کو ضرورت سے نکال کر آسائش میں ڈالنے میں مصروف ہے۔ آج کسی کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا کہ ضرورت کیا ہے اور آسائش کیا ہے؟ کوئی شخص اصلاح احوال کیلئے تیار نہیں ۔ سادگی اپنانا تو درکنار بہت سے معاملات میں اپنی روایات اور اقدارکو بھی نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ اہم انسانی ضروریات کا جائزہ لیں تو وہ بھی کچھ کم نہیں ہیں۔
روٹی، کپڑا اور مکان کے علاوہ تعلیم ، صحت اور ذرائع آمدو رفت بھی بنیادی انسانی ضروریات میں سے ہیں۔ مگر حالت زاریہ ہے کہ ایک طبقہ تو ان تمام ضروریات سے نہ صرف استفادہ کررہا ہے بلکہ بہت زیادہ اسراف اور نمو دو نمائش سے کام لے رہا ہے جبکہ دوسرا طبقہ سراسر بنیادی انسانی سہولتوں سے ہی محروم ہے۔ یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ انسان ہمیشہ کوب سے خوب تر کی جستجو کرتا رہا ہے مگر یہ بھی غلب رویہ ہے کہ لوگوں کے ایک طبقے کو انسان ہی نہ سمجھاجائے۔
وہ طبقہ جو مکمل طور پر آسائشوں کے دائرے میں قید ہو کر رہ گیا ہے وہ اپنے ارد گرد نظر نہیں دوڑاتا اور اپنے سے کم تر لووں کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات کرتا نظر نہیں آتا۔ یہ محروم طبقہ بنیادی انسانی ضروریات کے حصول میں بہت پیچھے ہیں جبکہ دوسری جانب آسائشوں کی دوڑ جاری ہے۔ خوراک کو دیکھیں تو شادی بیاہ کی تقریبات میں کھانا جائع کرنے کے علاوہ بھی ہمارے معاشے میں سادہ غذا نہیں اپنائی جاتی۔
لاہور جیسے گنجان آباد شہر میں لوگوں کی اکثریت، امریکن، چائنیز، لبنای، اٹالین اور کئی دیگر ممالک کے پُر تکلف کھانے استمال کرتی ہے، سادہ غذا صحت بخش بھی ہوتی ہے اور قیمت میں بھی کم، مگر لوگ چٹ پٹے اور مختلف ذائقے دار کھانو کو پسند کرتے ہیں، خواہ یہ مہنگے اور مرغن کھانے استعمال کرنے کے بعد ہسپتال میں داخل ہونا پڑجائے۔ لباس کی ضرورت اور آسائش کا فرق ہمارے ہاں عام دیکھا جاستکا ہے۔
ایک طرف تو وہ طبقہ ہے جو سخت سردی میں گرم کپڑے پہننے سے محروم ہے جبکہ دوسری جانب وہ ہیں جو فیشن کے نام پر ہر روز نئے نئے ملبوسات زیب تن کرتے ہیں۔
ایک عام آدمی چھوٹا گھر ہونے کے بعد بڑے گھر کی خواہش، بڑے گھر کے بعد کوٹھی یا بنگلے کی خواہش میں مبتلا نظر آتا ہے، اسی طرح سائیکل کے بعد موٹر سائیکل اور موٹر سائیکل کے بعد کار اور کار کے بعد بڑی کار․․․․․ یوں انسانی خواہشات اُسے پُر سکون نہیں رہنے دیتی۔
سادگی کا دامن چھوڑ کر انسان اُسی دوڑ میں لگا رہتا ہے جو اُسے کسی لمحہ اطمینان حاصل نہیں کرنے دیتی۔ بہت سے لوگوں نے اپنے کھانے پینے اور طرز زندگی میں کئی فضول اخراجات شامل کررکھے ہیں۔ مثلاََ پان، سگریٹ، چیونگم وغیرہ ایسی چیزیں ہیں جن کے استعمال کے بغیر بھی زندگی گزاری جاسکتی ہے۔ اخراجات میں بے اعتدالی کی واحد وجہ سادگی سے دوری اختیار کرنا ہے۔
چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے والا شخص کبھی پریشان نہیں ہوتا۔ مسلمانوں کیلئے تو نبی اکرم ﷺ کا اسوہ حسنہ مشعل راہ ہے۔ آپ کی حیات مبارکہ سادگی سے عبارت ہے۔ پھر کس طرح پاکستان میں رہنے والے لوگوں کی اکثریت جو مسلمان بھی ہے ، سادہ زندگی گزارنے کی بجائے پر تعیش زندگی کوترجیح دینے لگی ہے۔ ہمیں سادگی اپنا کر ایک صحت مند معاشرے کی جانب بڑھنا چاہئے۔
تاریخ اشاعت: 2014-02-27

(5) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان