بند کریں
جمعہ جنوری

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
رنگ،زندگی پر رنگوں کے اثرات
رنگ ہمارے احساسات و جذبات پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہوئے ذہنی کارکردگی کو اُبھارتے اور سیکھنے کے عمل کو دلچسپ بنا دیتے ہیں سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق رنگ انسانی موڈ کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں
نسرین شاہین:
کائنات تخلیق کرنے والے نے ایک خاص توازن اور ہم آہنگی کے ساتھ دنیا بنائی ہے جہاں ہم اپنی پسند کے رنگوں کو محسوس کرسکتے ہیں۔ انسان کی شخصیت اور اسن کی نفسیات کو مد نظر رکھ کر یہ ممکن ہے کہ اس کی مناسبت سے ایسارنگ منتخب کرلیا جائے جو اس کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہو۔ ہم اپنے لباس‘ اپنے گھر اور دیگر اشیاء کیلئے اکثر و بیشتر رنگوں کا انتخاب کرتے رہتے ہیں اور اس سے ہماری شخصیت کے بارے میں بہت کچھ پتہ چلتاہے ۔
ہم اپنے پسندیدہ رنگوں کے لباس میں گھومتے پھرتے ہیں کیونکہ ہمارے پسندیدہ کلر ہیں اور یہ ہماری شخصیت اور احساسات کی عکاسی کرتے ہیں کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ایساکیوں ہوتا ہے؟ اس کا جواب فطرت کے اصولوں میں چھپا ہے۔
فطرت نے دنیا میں رنگوں کا ایک توازن پیدا کررکھا ہے۔ جب ہم پرسکون ہوتے ہیں تو ایسے رنگوں کا انتخاب کرتے ہیں جو اطمینان اور سکون اور احساس اجاگر کرتے ہیں۔
ہم زندگی میں سکون اور توازن چاہتے ہیں اور ہم ان کو رنگوں کے ذریعے حاصل کرسکتے ہیں۔ درحقیقت رنگ روشنی ہے اور روشنی کو طاقت کی علامت سمجھا جاتا ہے‘ رنگوں کا انتخاب انسانی شخصیت کو پرت در پرت واضح کرتا ہے۔ ہر رنگ کے مختلف اثرات ہوتے ہیں۔ اگر کسی فرد کو کوئی رنگ پسند ہے تو اس کے کچھ اثرات اس کے مزاج‘ برتاؤ اور عادات سے جھلکیں گے۔
سائنسدانوں کے مطابق انسانی نفسیات میں رنگوں کے حوالے سے کئی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔ مثلاََ کچھ رنگ اپنے اندر ہیجان خیزی رکھتے ہیں تو کچھ فرحت اور اطمینان کا احساس اجاگر کرتے ہیں کچھ کی تاثیر سرد اور کچھ کی گرم ہوتی ہے۔ بعض رنگ نیندیں اڑادیتے ہیں اور کچھ رنگ خمار طاری کردینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
رنگ اور موڈ:
ایسے رنگ جن کا انتخاب ہم موڈ کو مدِ نظر رکھ کرتے ہیں‘ وہ بھی ہماری شخصیت کے آئینہ دار ہوتے ہیں مختلف موڈز کے تحت رنگوں کو پسند کرنے والے لوگ اصل میں اپنے ذہن اور جسم کے تابع ہوتے ہیں تاہم ہم میں سے اکثر لوگ اپنی شخصیت اور عمر کی مناسبت سے رنگوں کا انتخاب کرتے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا رنگ ہمارے موڈ کو تبدیل کرسکتے ہیں؟
اس کا جواب ”ہاں“ میں ہے اور اکثر لوگ یہ سمجھ نہیں پاتے ہیں کہ رنگ ہمارے جسم اور جذبات پرکس قدر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں ۔ آپ کسی کڈز گارڈن میں چلے جائیں‘ آپ اس کی دیواروں پر روشن کلرز دیکھیں گے۔ یہ رنگ ذہنی کارکردگی کو اُبھارتے ہیں اور سیکھنے سکھانے کے عمل کو دلچسپ بناتے ہیں۔
تبت کے بدھ مت کو ماننے والے اساتذہ اپنی عبادت گاہوں کو نیلے رنگ سے رنگ لیتے ہیں۔ اس سے انہیں ذہنی سکون ملتا ہے۔ نیلے رنگوں کے درمیان سرخ رنگ کی پٹیاں بھی بناتے ہیں تاکہ ان کا ذہن بیدار بھی رہے۔
لباس کے رنگ بھی ہمارے موڈ پر اثر انداز ہوتے ہیں حتیٰ کہ وہ آپ کے اِرد گرد موجود لوگوں کا مزاج بھی بدل سکتے ہیں‘ اسی لئے بہتر ہے خصوصی ملاقاتوں یا تقریبات میں شرکت کرنے سے قبل لباس کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیجیے۔
بالفرض اگر مشکل میٹنگ نے آپ کو ذہنی طور پر ڈپریشن زدہ اور پریشان کررکھا ہے تو پر سکون ہونے کی خاطر نیلا یا سبز لباس پہنئے اگر آپ خود کو مضمحل یا توانائی سے عاری محسوس کرتے ہیں تو سرخ یا نارنجی لباس زیب تن کیجیے۔ تاہم یہ یاد رکھیے کہ سرخ لباس قلب کی دھڑکن اور خون کے دباؤ میں اضافہ کرسکتا ہے ۔ نیز ہوسکتا ہے کہ وہ دوسرے کو ں زیادہ غصیلا یا جوشیلا بنادے۔
اسی طرح اگر آپ پژمردہ ہوں تو پیلا لباس آپ کا حوصلہ بڑحانے میں مددگار ثاہت ہوگا چونکہ پیلا رنگ دماغی صلاحیتیں بھی بڑھاتا ہے لہٰذا کسی دن آپ کو ذہنی صلاحیتیوں کی زیادہ ضرورت ہو تو اس رنگ کا لباس ضرور پہنیے۔ اگر آپ کو روھانی توانائی چاہیے تو جامنی لباس پہننا سود مند رہے گا۔
یہ حقیقت ہے کہ ہر صبح رنگ کے انتخاب پر چند منٹ غور کرنے سے آپ اپنے مزاج پر خوشگوار اثرات ڈال سکتے ہیں۔
بلا شبہ رنگوں کا ہماری زندگیوں میں بڑا دلچسپ عمل دخل ہوتاہے ‘ یہ نہ صرف ہمارے جسم بلکہ ذہنوں پر بھی قابو پاجاتے ہیں ہر رنگ کی اپنی خصوصیات اور تاثر ہوتا ہے اس لیے لوگوں کو ملبوسات کیلئے رنگوں کا انتخاب کرتے ہوئے خاص خیال رکھنا چاہیے۔ نوجوان رنگوں کے انتخاب کے معاملے میں کافی پر جوش ہوتے ہیں ۔ اس لیے انہیں اپنے ملبوسات کے حوالے سے رنگوں کا انتخاب کرنے سے پہلے رنگوں کی تاثیر اور خصوصیت کے بارے میں بھی معلوم ہونا چاہیے۔
مثلاََ پیلا‘ سرخ اور نارنجی سورج اور گرمی کی علامت یعنی آتشی رنگ سمجھے جاتے ہیں اس لیے انکا بہت زیادہ استعمال نوجوانوں میں شدت پیدا کردیتاہے‘ یہاں تک کہ ان کا دوران خون بھی بڑھا سکتا ہے یہ رنگ کبھی کبھی اشتعال انگیزی کی طرف بھی مائل کرتے ہیں اس لیے ان شرارتی رنگوں کو استعمال کرتے وقت ٹھنڈے اور ہلکے اثر والے رنگ بھی ان کے ساتھ ملالیں‘ ہاں! اگر آپ کے زیر استعمال نیلا‘ ہرا اور اودا رنگ ہے تو زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ نیلا پر سکون رنگ ہے‘ اس سے طبیعت میں ٹھہراؤ اور سکون بڑھتا ہے۔
یہ تینوں رنگ فطرت سے نزدیک لے جاتے ہیں۔ سبز رنگ میں سبزے کی جھلک‘ نیلے رنگ میں سمندری کی جھلملاہٹ اور اودے رنگ میں آسمان کی وسعتیں ظاہر ہوتی ہیں۔گرم اور تیز رنگ ہمیشہ نظروں کے قریب رہتے ہیں جبکہ سرد رنگ ہلکے ہوتے ہیں۔ سفید رنگ سادگی‘ پاکیزگی اور امن کا رنگ ہے۔ اس میں سے نظر نہ آنے والی ٹھنڈک خارج ہوتی ہے‘ سیاہ رنگ گرم ہوتا ہے‘ یہ عجیب سی وحشت کا احسان دلاتا ہے‘ یہ گرمی کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اس لیے سرد موسم میں یہ رنگ حرارت کا احساس دیتا ہے۔

رنگوں سے علاج:
قدیم تہذیبیں جس میں چین اور مصر شامل ہیں‘ کلر تھراپی یعنی رنگوں سے علاج کرتی رہی ہیں اور رنگوں کو استعمال اکر کے مریض کو سکون پہنچاتی رہی ہیں۔ رنگوں سے علاج کو ”کروموتھراپی“ کہا جاتاہے‘ اسے لائٹ تھراپی کے نام سے بھی پکا جاتا ہے اور موجودہ دور میں بھی ان سے علاج کیا جاتا ہے۔
اس علاج میں جسم اور ذہن کو متحرک کرنے اور خون کی گردش میں تیزی پیدا کرنے کیلئے سرخ رنگ کا استعمال کیا جاتا ہے جبکہ زرد رنگ کے استعمال سے اعصابی نظام کو تحریک ملتی ہے اور جسم پر سکون رہتا ہے۔
اسی طرح اورنج رنگ سے پھیپھڑوں کا علاج کیا جاتا ہے اور توانائی میں اضافے کیلئے بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ نیلے رنگ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بیماری سے آرام دیتا ہے اور درد میں آرام لاتا ہے۔ کلر تھراپی کے ذریعے مریض کے ذہنی دباؤ میں کمی آجاتی ہے اور رنگوں کو دیکھ کر اسے اپنے اندر توانائی کا احساس ہوتا ہے اور اس احساس کے جاگتے ہی وہ لمبی لمبی اور گہری سانسیں لینے لگتا ہے جس سے جسم میں زیادہ سے زیادہ آکسیجن داخل ہونے لگتی ہے۔

کچھ ماہرین رنگوں کی شعاعوں کو جسم کے انہیں حصوں پر ڈالتے ہیں جن کا علاج کرنا ہوتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتاہے کہ رنگ انسانی جسم کی فعالیت کو تیز اور بعض حالتوں میں کم کر کے متاثرہ حصے کو سکون دیتے ہیں۔ ان کا انحصار رنگ پر ہوتا ہے۔ بہت سے ماہرین اور معالجین نے رنگوں کو متبادل علاج کے طور پر استعمال کیا اور یہ نوٹ کیا کہ ان میں انسانی جسم اور ذہن پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت ہوتی ہے۔
سائنسدانوں نے یکہ بھی دریافت کیا کہ ہلکے رنگ سے صرف کمرے کو ماحول کو ہی پر سکون نہیں رکھا جاسکتا ہے بلکہ یہ انسانی موڈ کو بھی تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کچھ ماہرین کے نزدیک رنگ سکون پہنچانے میں اپنا جواب نہیں رکھتے ہیں چونکہ 75فیصد یا اس سے زیادہ بیماریاں دباؤ اور تناؤ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں لہٰذا رنگوں کا استعمال متاثرہ شخص کے دباؤ کو ختم کر کے سکون دیتا ہے اور بعد میں پیدا ہونے والی بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔

رنگوں کی نفسیات سمجھیں:
رنگون کے اثرات کافی گہرے ہوتے ہیں کچھ رنگ ایسے ہوتے ہیں۔ جن کو بین الاقوامی معنوں میں استعمال کیاجاتا ہے۔ مثلاََ سفید رنگ کو امن کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ سرخ رنگ کے سائے میں جو رنگ آگے ہیں ان کو ”وارم“ کلر کہا جاتا ہے۔ اس میں لال‘ اورنج اور زرد رنگ شامل ہیں۔ یہ وارم کلرز انسانی جذبات کو اُبھارتے ہیں۔
وہ رنگ جو نیلے رنگ کے آس پاس ہوتے ہیں۔ ان کو ”کولڈ“ کلر کہا جاتا ہے۔ اس میں نیلا ”پرپل اور سبز شامل ہیں ان رنگوں کو پرسکون رنگ بھی کہا جاتا ہے مگر یہ ذہن کو سست بھی بنادیتے ہیں۔ ماہرین نے سرخ‘ نیلے اور سفید رنگوں کو استعمال کر کے تجربات کیے۔ جب فرد نے سرخ رنگ کی طرف دیکھا تو اس کا بلڈ پریشر‘ سانس لینے کی رفتار اور پسینہ نکلنے کی رفتار میں اضافہ ہوگیا۔
اسی طرح اس کی پلکیں بھی معمول سے زیادہ جھپکنے لگیں اور جب فرد نے نیلے رنگ کی طرف دیکھا تو بلڈ پریشر نیچے آگیا۔ اسی طرح پلکیں جھپکنے اور سانس لینے کی رفتار میں بھی کمی آگئی۔ تجربے میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ جن رنگوں کی طول موج (لہر کی لمبائی) زیادہ ہوتی ہے جیسا کہ سرخ‘ زرد اور اورنج یہ انسانی جسم میں ہیجان پیدا کرتے ہیں جبکہ جن رنگوں کی طول موج کم ہوتی ہے۔
نیلا‘ پرپل اور سبز انسانی جسم کو پرسکون اور ٹھنڈا رکھتے ہیں۔
اگرچہ وارم اور کولڈ کلر کی اصطلاح بین الاقوامی ہے مگر جسمانی‘ ذہنی اور جذباتی لحاظ سے ہم اس سے ہٹ کر بھی محسوس کرسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ کا عزیز دوست ہمیشہ ہلکے رنگوں کے کپڑے پہنتا ہے تو آ پ ان رنگوں سے مانوس ہوجاتے ہیں۔ ایسے میں اگر وہ کبھی شوخ رنگ کا لباس پہن لے تو آپ اپ سیٹ ہوجائیں گے اور خود کو اس رنگ سے ہم آہنگ نہیں کرپائیں گے۔
انگریز سائنسدان آئزک نیوٹن نے 1666ء میں یہ دریافت کیا تھا کہ جب خالص سفید روشنی کو منشور سے گزارا جاتا ہے تو یہ منشور دیگر تمام رنگوں کو الگ الگ کر کے دکھاتا ہے۔ نیوٹن نے یہ بھی دریافت کیا تھاکہ ہر رنگ کی ایک لہری لمبائی ہوتی ہے اور اسے مزید رنگوں میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا ہے بعد کے تجربات نے یہ ثابت کردیا کہ رنگوں کو آپس میں ملا کر ایک تیسرا رنگ حاصل کیا جاسکتا ہے۔
مثال کے طورپر رلال رنگ کو اگر پیلے رنگ کے ساتھ مکس کیا جائے تو اورنج رنگ حاصل ہوگا۔ ایسا رنگ جو دو رنگوں کو ملا کر حاصل کیا جاتا ہے اسے کمپلیمنٹ رنگ کہا جاتا ہے۔
رنگ بولتے ہیں:
رنگ اندانی جذبات و احساسات کے ترجمان ہیں۔ رنگ‘ پھول‘ خوشبو سبزہ وغیرہ جب یہ سب چیزیں ایک جگہ جمع ہوں تو کون ان کی طرف مائل نہ ہوگا۔
اگر دنیا میں یہ سب چیزں بے رنگ ہوتیں تو ہماری طبیعت میں شوخی اور محبت کے رنگ کون بھرتا؟ یہ رنگ ہی تو ہیں جو زبان سے کہے بغیر ہمارے جذبات اور احساسات کی ترجمانی کردیتے ہیں۔ رنگوں کی وجہ سے خوشی اور غموں کے رنگ علیحدہ ہوجاتے ہیں اور بغیر بتائے انسانی احساسات کو عیاں کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ رنگ آپ کو یہ بھے بتاتے ہیں کہ آپ کے احساسا ت کیا ہیں اور کیسے ہیں؟ بلا شبہ انسانی زندگی پر رنگوں کے اثرات مرتب ہوتے ہیں کیونکہ رنگ بولتے ہیں اور ہر رنگ کی اپنی ایک الگ زبان ہوتی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-04-30

(1) ووٹ وصول ہوئے