بند کریں
منگل جنوری

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
قسطوں میں موت
لاہور کے جنرل ہسپتال کے نیورو سرجری وارڈ میں ایک مریضہ 16 دن موت و حیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد جس طرح خالق حقیقی سے جاملی، آنکھوں دیکھی اس صورت حال کے بعد ہسپتالوں میں مریضوں کا خدا ہی حافظ ہے
شہزادہ خالد:
ہمارے ملک کے سرکاری ہسپتالوں میں آنے والے مجبور لاچار مریضوں کے ساتھ جو غیر انسانی اور ظلم پر مبنی سلوک کیا جاتا ہے اس سے مریض کے ورثا مریض کی صحت یابی کی بجائے اسکی موت کی دعا کرنے لگتے ہیں۔لاہور کے جنرل ہسپتال کے نیورو سرجری وارڈ میں ایک مریضہ 16 دن موت و حیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد جس طرح خالق حقیقی سے جاملی، آنکھوں دیکھی اس صورت حال کے بعد ہسپتالوں میں مریضوں کا خدا ہی حافظ ہے۔
16 مئی 2015ء کو صبح تقریباً دس بجے میرا چھوٹا بھائی طارق شیخوپورہ سے اپنی بیوی کے ساتھ مرید کے روانہ ہوا اورفضیلت بی بی موٹر سائیکل سے نیچے گر کر شدید زخمی ہو گئی۔جسے بیہوشی کی حالت میں ریسکیو 1122 نے فوراً تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال مرید کے پنچایا جہاں معمول مرہم پٹی کر کے مریض کو جنرل ہسپتال ریفر کردیا گیا۔ سب سے پہلے تو جنرل ہسپتال میں شدید زخمی فضیلت کو سٹریچر ہی نہ مل سکا۔
دو گھنٹے کی بھاگ دوڑ کے بعد فضیلت کا شوہر طارق ایک ٹوٹی پھوٹی وہیل چیئر حاصل کر نے میں کامیاب ہوا۔ وہیل چیئر پر دو گھنٹے سے زائد کا عرصہ مریض نیم مردہ حالت میں پڑی رہی۔ اس دوران ہسپتال کے ایک کونے سے پرچی بنوانا دوسرے کونے سے ایکسرے کروانا اور پھر مریض کو آپریشن تھیٹر لے جانا کسی آزمائش سے کم نہیں۔ 4 گھنٹے کے بعد فضیلت آپریشن تھیٹر کے باہر ایک ایسے سٹریچر پر پڑی تھی جس کی پٹیوں سے مرمت کر رکھی تھی۔
حادثے کے روز شام چھ بجے سے لے کر اگلے روزساڑھے تین بجے تک مریضہ آپریشن تھیٹر کے برآمدے میں پڑی رہی۔ پھر آپریشن کی باری آنے پر اس کے بعد اس سٹریچر پر اسے وارڈ نمبر 18 یونٹ III میں شفٹ کردیا گیا۔ جہاں اگلے روز تک کسی بیڈ کا انتظام نہ ہو سکا۔ 18 مئی کو صبح 8 بجے کے قریب وہاں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر اشفاق کو بیڈ کے لئے درخواست کی گئی۔ جنہوں نے خود ہی بتایا کہ مریضہ کے بچنے کے 5 فیصد چانسز ہیں اور اسے واقعی بیڈ کی ضرورت ہے۔

ایمرجنسی سے آپریشن تھیٹر تک کا جو راستہ ہے اسکا یہ حال ہے کہ ایک تندرست آدمی کو سٹریچر پہ لیٹا کر آپریشن تھیٹر تک لائیں تو اسکا دماغ ہل جائے گا۔ اس سے آپ سر کی چوٹ والے مریض کی حالت زار کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ہسپتال کی اس صورت حال پر تو اس کا فوکل پرسن بھی کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکتا۔ اب سنیں بیڈ ملنے کی داستان۔ ڈاکٹر اشفاق احمد کے زور دینے کے بعد جونیئر ڈاکٹر نے اگرچہ کہا کہ میں آج بیڈ کا انتظام کر دیتا ہوں مگر پھر بھی وہ اپنی کرسی سے نہ اٹھا۔
مریضہ کے لئے بیڈ کا انتظام کروانے کے لئے پھر سفارش ڈھونڈنے کا مرحلہ آگیا۔ ادھر ادھر سے فون کرائے گئے کوئی مسئلہ حل نہ ہوا اسی دوران ایک گیٹ کیپر کے بتانے پر اسی وارڈ کے ملازم زمان نے 200 روپے لیکر بیڈ کا انتظام کر دیا۔ اس کے بعد میڈسن کیلئے سٹاف نرسوں کی منت سماجت کرنا پڑی کہ دوچار نرسوں کے علاوہ بیشترکام وارڈ بوائے یا نائب قاصد وغیرہ کرتے ہیں۔
مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والوں کو وارڈ سے باہر نکال دیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی مریض کی سانس اکھڑنے پر لواحقین سے کہہ دیا جاتا ہے کہ وہ خود پمپ کر کے مریض کی سانس بحال کریں کیونکہ وارڈوں میں وینٹلیٹر بھی پورے نہیں جو وینٹلیٹر ایک سال سے خراب ہیں ،خراب ہی پڑے ہیں۔ جو کام کر رہے ہیں وہ بھی ٹرپ کر جاتے ہیں۔دوسری طرف بجلی آنکھ مچولی بھی دن رات جارہی رہی جنریٹر چلنے میں دو چار منٹ کا وقفہ بھی آجاتا ہے۔
وارڈ میں یونٹ II, I اور III کے مریض مشترکہ رکھے جاتے ہیں کوئی پتہ نہیں کونسا مریض کس یونٹ کاہے۔مریضوں کے متعلقہ ڈاکٹر ڈھونڈنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ وارڈ 18 کا ڈاکٹر وارڈ 22 میں سویا ہوا ہے تو کبھی وارڈ 22 کا 18 میں سویا ہے۔ ایمرجنسی کے باہر مریضوں کے لواحقین کی ایک بستی آباد رہتی ہے۔ بظاہر ہسپتال کے پی آر او کی طرف سے ٹھنڈے پانی کے دو واٹر پلانٹ کے افتتاح کی خبر شائع کروا دی جاتی ہے لیکن پہلے سے چلنے والا واحد پلانٹ بھی خراب ہو چکا ہے اور لوگ دربدر کی ٹھوکریں کھا کر پانی ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں۔
20 مئی کو فضیلت کو سانس کی تکلیف ہوئی تو اس کیلئے بھی ایمبو کی ہدایت کردی گئی ،لواحقین ہاتھ سے غبارہ نما تھیلے سے اس کے تنفس کو بحال کرتے رہے۔ احتجاج کرنے پر ڈاکٹر نے وینٹی لیٹر مہیا کرنے کا حکم جاری کیا۔ اس کے باوجود سامنے پڑے وینٹی لیٹر کو سٹاف نرس نے نہ لگایا۔ ہم نے یہ وینٹی لیٹر خود لگا لینے کا پوچھا تو اس نے جواب دیا کہ ہمارے کام میں مداخلت نہ کریں ورکر ہی آکر لگائے گا۔
اس پر ڈاکٹر کو دوبارہ اطلاع دی گئی تو انہوں نے آکر وینٹی لیٹر لگوایا۔ اسی طرح مریضوں کی شوگر چیک کی جاتی ہے نہ گلو کو میٹر وارد میں رکھا جاتا ہے۔ انسولین نہ لگنے پر احتجاج کیا گیا تو ایک نرس نے آکرچارٹ پر انٹری کردی اور کہا کہ انسولین لگا دی گئی ہے صرف انٹری رہ گئی تھی۔ (اللہ جانے حقیقت کیا ہے) تمام مریضوں کی سانس کی نالیوں کی صفائی بھی وارڈ بوائے کرتے ہیں اور پٹیاں وغیرہ بھی وہی تبدیل کرتے ہیں۔
سرکی چوٹ والے وارڈ میں 95 فیصد مریض تو بے ہوش ہوتے ہیں۔ لواحقین کو سمجھ نہیں آتی کدھر جائیں کس سے فریاد کریں۔
پنکھے خراب پانی کا کوئی انتظام نہیں۔ وارڈ کی لیٹرین، واش روم کی حالت یہ ہے کہ اندر جاتے ہی آدمی بے ہوش ہو جائے۔ جیب تراش، نشی مجبور، بے بس لواحقین، کے موبائل چوری کرلئے جاتے ہیں۔۔۔۔ 25 مئی کو فضیلت کا سانس اکھڑ گیا۔ منت سماجت کر کے سٹاف نرس کو بلایا گیا جس نے سانس کی نال کی صفائی کی تو سانس کچھ بہتر ہوا۔
فضیلت بی بی کی حالت دن بدن بہتر ہونے کے بجائے خراب ہوتی جا رہی تھی اسے ہسپتال انفیکشن ہو گیا۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ انفیکشن تو امریکہ میں بھی ہو جاتا ہے لیکن پاکستان میں 90 فیصد مریض جو ٹھیک ہو رہے ہوتے ہیں انہیں ہسپتال انفیکشن ہو جاتا ہے اور اللہ کو پیارے ہو جاتے ہیں۔ جس کے بعد لواحقین اللہ کا حکم کہہ کر بات ختم کردیتے ہیں۔ فضیلت بی بی بھی 31مئی کو شام 6بجے آخری سانسیں لے کر اس جہان فانی سے کوچ کرگئی اور اسکے 3بچے 5 سالہ احمد، 3سالہ شہزاد اور ایک سالہ بیٹی ماں کی ممتا سے محروم ہوگئے۔
ہم نے اللہ کا حکم سمجھ کر صبر کرلیا لیکن یہ ہمارے سمیت لا تعداد مریضوں، اس خلق خدا کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے ، قیامت کے دن ہسپتال کا تمام سٹاف اس کا ضرور جواب دہ ہو گا۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی فضیلت رانی نے سٹیٹ لائف سے انشور نس کروا رکھی تھی اسکے انشورنس کے کاغذات لے کر ہسپتال جایا گیا تو کسی کو یہ نہیں پتہ تھا کہ کس نے دستخط کرنے ہیں کوئی رجسٹرار کے پاس بھیج دیتا تو کوئی آپریشن تھیٹر میں کبھی ڈاکٹر کا آپریشن ڈے ہے تو کبھی چھٹی، جنرل ہسپتال کے مریضوں کے اکثر لواحقین کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس آ زمائش سے نجات دے۔
تاریخ اشاعت: 2015-08-04

(2) ووٹ وصول ہوئے