بند کریں
بدھ جنوری

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
اوگرا سکینڈل
اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا سابق چئیرمین اوگرا توقیر صادق کسی بھی حوالے سے اس عہدے کیلئے موزوں نہیں تھے اور ان کی واحد قابلیت پیپلز پارٹی کے اہم رہنما کے ساتھ قریبی عزیز داری تھی
محمد نعیم مرزا:
اوگرا سکینڈل کے حوالے سے کچھ عرصہ قبل قومی اخبارات میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں دعویٰ کیا گیاتھا کہ اوگرامیں درحقیقت کبھی بدعنوانی اک کوئی واقعہ سامنے ہی نہیں آیا۔ اس سکینڈل میں ملوث بااثر افراد کا موقف ہے کہ 82 ارب روپے کی کرپشن کی باتیں محض سیاسی انتقام لینے کی خاطر کی جارہی ہیں۔ دوسری طرف نیب کا دعویٰ ہے کہ سابق چئیر میں اوگرا توقیر صادق کے دور میں نہ صر ف یہ کہ 82ارب روپے کی کرپشن کی گئی بلکہ بذات خود توقیر صادق کی بطور چئیر مین اوگرا تقرری قواعد و ضوابط اور میرٹ کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سابق چئیرمین اوگرا توقیر صادق کسی بھی حوالے سے اس عہدے کیلئے موزوں نہیں تھے اور ان کی واحد قابلیت پیپلز پارٹی کے اہم رہنما کے ساتھ قریبی عزیز داری تھی اور یہی وجہ ہے کہ نہ صرف توقیر صادق کو اس وقت کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے ذریعے چئیر مین اوگرا تعینات کروایا گیا بلکہ جب سپریم کورٹ آف پاکستان نے مبینہ 82ارب روپے کرپشن کی خبروں پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کا آغاز کیا اور اس ضمن میں توقیر صادق کی تقرری کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی گرفتاری کا حکم جاری کیا تو انہیں بچانے کیلئے سرکاری مشینری اور ذرائع کا بھرپور استعمال کیا گیا۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بے بس کرنے کیلئے توقیر صادق کو لاہور میں گورنرز ہاؤس میں بطور مہمان رکھا گیا۔ اس وقت سردار لطیف کھوسہ گورنر پنجاب تھے۔ بعد ازاں انہیں گورنرز ہاؤس کی گاڑی میں لاہور سے اسلام آباد پہنچایا گیا جہاں وہ چند ”ضروری امور“ سرانجام دینے کے بعد انتہائی خفیہ انداز میں ملک سے باہر چلے گئے۔ ان ناکام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل تھا اور اس پر عملدرآمد یقینی بنانا وزارت داخلہ کی ذمہ داری تھی جس میں وہ یکسر ناکام رہی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت کی وزارت داخلہ کے بعض اعلیٰ حکام کے عملی تعاون سے ہی توقیر صادق ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔
توقیر صادق کو دبئی سے گرفتار کر کے واپس لانے کی کوششوں کو بھی اعلیٰ حکام کی ملی بھگت سے ناکام بنایا جاتا رہا۔
جہاں تک 82ارب روپے کی کرپشن کا سوال ہے تو اس ضمن میں اہم ترین بات یہ ہے کہ اوگرانے گیس کے ”ناقابل کنٹرول زیاں“ کی شرح 4.5فیصد سے بڑھا کر 7فیصد کرنے کا اچانک یکطرفہ اور بلا جواز فیصلہ کیا اور اس فیصلے کا نوٹیفکیشن جاری کرنے سے قبل ہی اس کی اطلاع توقیر صادق نے اپنے بعض قریبی رفقاء کو کردی۔
اس ”لیک“ کی بدولت شئیر مارکیٹ میں ایک طوفان برپا ہوگیا اور ایک ہی دن میں سوئی نادرن اور سوئی سدرن گیس کمپنیوں کے شئیر کی قیمت 15روپے سے بڑھ کر 36روپے ہوگئی اور یوں کمانے والوں نے اربوں روپے کمالیے۔
جہاں تک گیس کے ”ناقابل کنٹرول زیاں“ کی قیمت گیس کمپنیوں کے صارفین سے وصول کرنے کا سوال ہے تو اس حوالے سے اہم ترین بات یہ ہے کہ کمپنی یا مجاز اتھارٹی گیس کی قیمت مقرر کرتے ہوئے”رسک فیکٹر“ سمیت ہر طرح کے اخراجات کو پیش نظر رکھتی ہے۔
لیکن بعد ازا ”لائن لاسز“ یا UFGکو بھی صارفین کے سر منڈھ دینا سراسر زیادتی ہے کیونکہ صارف کے میٹر تک پہنچنے سے قبل اگر کسی بھی وجہ سے گیس ضائع ہوتی ہے تو یہ کمپنی کی ذمہ داری ہے نہ کہ صارف کی۔ گیس کمپنیاں منافع اپنی جیب میں ڈالتی ہیں تو انہیں نقصان بھی خود ہی برداشت کرنا چاہیے۔
یہاں سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی توقیر صادق کے دور میں ملکی خزانے کو 82ارب روپے کا ٹیکہ لگایا گیا تھا یا معاملہ محض ”بڑھا دیا ہے یونہی زیب داستان کیلئے“ تک محدود ہے۔

اس معاملے کا ایک پہلو یہ ہے کہ سب سے پہلے 36ارب روپے کی کرپشن کی باتیں سامنے آئیں جس کے مطابق دیوان پٹرولیم لمیٹڈ کی ملکیت سبسبیل گیس فیلڈ سے حاصل ہونے والی گیس کی قیمت میں ردو بدل کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سوئی نادرن اور سوئی سدرن گیس کمپنیوں کے ٹیرف میں بیشی کے ذریعے 44ارب روپے کرپشن کی باتیں سامنے آئین اور تیسرا پہلو یہ ہے کہ اوگرا کے چئیر مین توقیر صادق نے سی این جی اسٹیشنز کیلئے این او سی جاری کرنے اور دیگر حوالے سے لوگوں کو نوازنے کے عوض دو ارب روپے کمائے تھے۔
جہاں تک دیوان پٹرولیم کے حوالے سے 36ارب روپے کی کرپشن کا سوال ہے تو اس قضئیے کا آغاز 2007ء میں حکومت وقت اور دیوان پٹرولیم کے درمیان ہوا تھا۔ تنازعے کی وجہ یہ تھی کہ دیوان پٹرولیم نے سبسبیل گیس فیلڈ سے حاصل ہونے والی گیس کی قیمت میں اضافے کا مطالبہ اس وقت کی حکومت اور اوگرا نے رد کردیا تھا۔ اگر اس وقت حکومت اور اوگرا دیوان پٹرولیم کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے قیمت بڑھانے کی اجازت دے دیتی تو آئندہ 25برس میں دیوان پٹرولیم کو 36ارب روپے کی اضافی آمدن متوقع تھی۔
دیوان پٹرولیم نے لاہور ہائیکورٹ میں ایک رٹ دائر کردی اور عدالت عالیہ نے قیمت میں اضافہ کرنے کا حکم جاری کردیا اور یوں 17فروری 2011ء اوگرا نے گیس کی قیمت میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ آف پاکستان نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کیا تو اوگرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن بھی واپس لے لیا گیا۔ سپریمکورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا اور یوں 36ارب روپے کی کرپشن کبھی وقوع پزیر ہی نہیں ہوئی۔

اوگرا نے سوئی نادرن اور سوئی سدرن گیس کمپنیوں کیلئے گیس ٹیرن میں اضافے کی منظوری دی تھی جس کے نتیجے میں مذکورہ کمپنیاں تو فائدے میں رہیں لیکن صارفین کو اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑا۔ یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جن اقسام کے لائن لاسٹر سے بچنا ناممکن ہوتا ہے ان کا اندازہ مذکورہ کمپنیاں ہر برس لگا کر اپنے ٹیرف کو اسی حساب سے ترتیب دیتی ہیں اور اوگرا سے اس کے صارفین پر اطلاق کے حوالے سے منظوری لیتی ہیں۔

مالی سال 2009-2010ء کیلئے گیس کمپنیوں کیلئے ناقابل کنٹرول زیاں کی شرح 4.5فیصد سے بڑھا کر 7فیصد کردی گئی۔ اوگرا کے فیصلے سے گیس کمپنیوں کو فائدہ اور صارفین کو نقصان ہوا۔ اوگرا نے اپنا یہ فیصلہ 7ہفتے بعد واپس لیتے ہوئے گیس کے ناقابل کنٹرول زیاں کی شرح ایک مرتبہ پھر 4.5 فیصد مقرر کردی۔
اوگرا کے اس فیصلے کو گیس کمپنیوں نے ہائیکورٹس میں چیلنج کردیا اور عدالتوں سے سٹے آرڈرز حاصل کرلیے جن کی روس رواں مالی سال کیلئے گیس کے زیاں کی شرح 7فیصد ہی رکھنے کا حکم دیا گیا۔
گیس کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے گیس کمپنیوں کو ہونے والی 44ارب روپے کی اضافی آمدن کسی فرد یا افراد کی ذاتی جیب کی بجائے سرکاری خذانے میں چلے گئے کیونکہ دونوں بڑی گیس کمپنیوں۔ سوئی نادرن اور سوئی سدرن ، میں سرکاری حصہ بالترتیب 62فیصد اور82فیصد ہے ۔ 44ارب روپے میں سے سوئی سدرن کے حصے میں 24ارب روپے آئے اور اس کمپنی میں سرکاری شئیر کے حساب سے 22ارب روپے سرکاری خذانے میں چلے گئے۔
سوئی نادرن کو ملنے ولاے اضافی 20ارب روپے میں سے 15ارب روپے سرکاری خزانے میں چلے گئے۔ باقی ماندہ رقم ان ہزاروں پرائیویٹ شئیر ہولڈرز میں مساوی تقسیم کردی گئی جو پورے پاکستان میں پھیلے ہوئے ہیں۔
اوگرا سکینڈل کے دونوں پہلوؤں کو سامنے رکھیں تو ایک ایسی تصوری ابھرتی ہے جو بہت زیادہ گنجلک ہونے کی وجہ سے عام آدمی کی سمجھ میں ہی نہیں آتی لیکن عام آدمی کو اتنا علم بہر حال ہے کہ 82ارب روپے میں سے زیادہ تر حصہ سرکاری خزانے میں گیا یا اسوقت کے حکمرانوں اور انکے حواریوں کی جیبوں میں، یہ پیسے نکلے بہر صورت اس کی جیب سے ہی تھے۔
تاریخ اشاعت: 2014-03-01

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان