بند کریں
جمعہ فروری

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
نوٹ بیتی
اپنی پیدائش کے بعد دس پندرہ دن تو میں اسٹیٹ بینک کی عمارت میں ایک بہت بڑی تجوری میں قید رہا۔ کچھ دن بعد بینک کے کیشئیر نے مجھے تجوری سے آزادی کیا
وقار محسن :
یوں تو میں ایک معمولی سا کاغذ کا ٹکڑا ہوں۔ میرے کم زور جسم پر بے شمار دھبے اور سلوٹیں ہیں، لیکن مجھے تعجب ہے کہ ہر کوئی مجھے پانے کے لیے اس قدر دیوانہ کیوں ہے۔ اس وقت میری عمر صرف پانچ سال ہے، لیکن ان پانچ سالوں میں ، میں ایک لمبا سفر طے کیا ہے۔ نہ جانے کہاں کہاں گھومتا رہا ۔ لوگوں نے مجھے رگڑا ، مسلا، مروڑا۔ البتہ جب میں جوان اور کرارا تھاتوہر کوئی مجھے اپنے پاس رکھنا چاہتا تھااور میرے بدلے میرے کسی میلے کچیلے ساتھی سے پیچھا چھڑانا چاہتا تھا۔

اپنی پیدائش کے بعد دس پندرہ دن تو میں اسٹیٹ بینک کی عمارت میں ایک بہت بڑی تجوری میں قید رہا۔ کچھ دن بعد بینک کے کیشئیر نے مجھے تجوری سے آزادی کیااور میرے دوسرے ساتھیوں کیساتھ ہماری گنتی کی، پھر مجھے کاوٴنٹر پرکھڑے سیٹھ چھا بڑی والا کے سپرد کیا گیا۔ سیٹھ چھابڑی والا کے کار خانے میں گزارے ہوں تین چار دن بہت تکلیف دہ تھے۔ اس کار خانے میں لال مرچوں میں لکڑی کا برادہ ، کالی مرچ کے پپیتے کے بیج اور نہ جانے کیا الم غلم ملا کر نقلی مسالے تیار ہوتے تھے۔
مرچوں کی دھانس سے میرا سانس لینا دشوار تھا، حال آں کہ سیٹھ کی تجوری مجھ جیسے نوٹوں سے بھری ہوئی تھی، پھر بھی سیٹھ زہریلے مسالے بانٹ رہے تھے۔
دو دن بعد سیٹھ صاحب نے میرے کچھ اور ساتھیوں کے ساتھ مجھے ڈاکٹرفیروز کے حوالے کردیا۔ اسی رات کو ڈاکٹر صاحب کی بیگم نے مجھے چُرا کر اپنے پرس میں رکھ لیا اور اگلے دن بے چاری نوکرانی کو نوٹ چُرانے کے الزام میں نوکری سے نکال دیا گیا۔
اگلے دن بیگم صاحبہ نے مجھے رمضان ویٹر کو ٹپ کے طور پر دے دیا۔ رمضان ایک تنگ سے کواٹر میں رہتا تھا۔ وہ اور اس کی بیوی بچوں کے ساتھ اپنی سادہ زندگی میں بہت خوش تھے۔ میرا دل چاہتا تھا کہ کچھ دن اس ان کے پاس رہوں، لیکن مجھے ایک جگہ قرار کہاں میسرتھا۔ اگلے دن رمضان نے مجھے اپنی چار سالہ بیٹی تانیہ کے سپرد کر دیا۔ یہ میری زندگی کے حسین لمحے تھے ، جب تانیہ مجھے اپنی جیب میں رکھے اسکول میں دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہی تھی۔
چاروں طرف بچے چڑیوں کی طرح چہچہا رہے تھے۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ مجھے بھی اسکول میں داخلہ مل جائے اور میں بھی ہمیشہ ان بچوں کے ساتھ کھیلتا رہوں، لیکن اگلے دن تانیہ نے مجھے غبارے والے کے سپرد کر دیا۔ غبارے والے نے تین چار گھنٹے مجھے اپنی تمباکو کی ڈبیا میں بند رکھا اور پھر مجھے ننھے ایان کے حوالے کر دیا۔ ایان کی نرم گرم مٹھی میں مجھے سکون ملا۔
پہلے دن ایان نے مجھے اپنے چھوٹے سے پلنگ پر تکیے کے نیچے رکھ دیا ۔ جب ایان رات کو کارٹون دیکھ رہا تھا تو میں بھی تکیے کے نیچے سے چھانک کر کارٹون سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ کچھ دیر بعد ایان میاں سو گئے۔
اگلے دن ایان مجھے اپنی جیب میں رکھ کر چڑیا گھر لے گئے،جہاں سیکڑوں بچے پہلے سے موجود تھے۔ بچے لوہے جولیوں سے اپنے چہرے لگاے سامنے گھاس پر ٹہلتے شیر ، بھالو، ہرن، بارہ سنگھا، زیبرا، اور ہاتھی کو بڑی دل چسپی سے دیکھ رہے تھے۔
جب بطخیں ”قیں قیں“ کرتی جالی سے نزدیک آتیں تو بچے ان کو پاپ کارن کھلاتے اوروہ چونچ میں دانے دبا کر واپس چلی جاتیں۔ جب ایان میان گول چکر والے جھولے میں بیٹھے تو مجھے بہت لطف آیا۔
رات کو ایان پھر مجھے اپنے نرم تکیے کے نیچے رکھ کر سو گئے، لیکن مجھے نیند نہیں آئی۔ کچھ دیر بعد ایان کے پلنگ کے سامنے رکھے شیلف سے سارے کھولے قالین پر اُتر آئے اور آپس میں کھسر پسر کرنے لگے۔
کاندھے پر بندوق رکھے فوجی۔ ڈرم بجانے والا بھالو، انڈے دینے والی مرغی، تالی بجانے ولا جوکر، گلابی رنگ کی پری سب قالین پر کھیل رہے تھے۔ میں بھی پنکھے کی ہوا کا سہار لے کررینگتا ہواان کے درمیان پہنچ گیا۔ پہلے تو سارے کھولنے مجھے غور سے دیکھتے رہے، پھر ایک ایک کر کے مجھے چومنے لگے۔ فوجی نے اپنی بندوق پر ہاتھ مارتے ہوئے مجھے سیلوٹ کیا اور کہا:
” پاکستان زندہ باد۔۔۔۔ قائداعظم زندہ باد۔“
اب مجھے احساس ہوا کہ کھلونے مجھے نہیں، بلکہ میرے سینے پر چھپی قائداعظم کی تصویر کو چوم رہے تھے۔ آج مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ میں صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں ہوں، آج مجھے اپنے اوپر فخر محسوس ہو رہا تھا۔
تاریخ اشاعت: 2014-02-19

(2) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان