بند کریں
بدھ جنوری

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مالکان کے بہیمانہ تشدد سے گھریلو ملازمین کی ہلاکتیں
گزشتہ چند دنوں میں کمسن گھریلو ملازم تین بچیوں کو مالکوں کی جانب سے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کرنے کے واقعات نے ہمارے معاشر ے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے
احسان شوکت:
ہمارے معاشرے میں نام نہاد شرفاء کی جانب سے گھریلو ملازم حوا کی بیٹیوں کو تشدد اور زیادتی کا نشانہ بنانے کے علاوہ انہیں موت کے گھاٹ اتارنے کے دلخراش واقعات آئے روز رونما ہو رہے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں میں کمسن گھریلو ملازم تین بچیوں کو مالکوں کی جانب سے بیہمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کرنے کے واقعات نے ہمارے معاشر ے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
مجبور و بے بس بچیاں جو دو وقت کی روٹی کے لئے اپنے صاحبوں کے گھر میں غلامی کی زندگیاں بسر کر رہی ہوتی ہیں تو دوسری طرف دکھ اور افسوس کی انتہا یہ ہے کہ یہ بچیاں نہ صرف گھر کی مالکن کے تشدد بلکہ ان کے خاوند اور اولادوں کی جانب سے بھی جنسی تشدد اور ظلم و ستم کا نشانہ بن رہی ہیں۔ صوبائی دارالحکومت لاہور میں گزشتہ چند روز میں کمسن گھریلو ملازم بچیوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کرنے کے افسوسناک واقعات دیکھیں تو ڈیفنس کے علاقہ میں اعلی تعلیم یافتہ سرکاری کالج کے پروفیسر سلمان رفیق نے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا کر 16 سالہ گھریلو ملازمہ سمبڑیال سیالکوٹ کی رہائشی فضہ بتول کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
پروفیسر سلمان رفیق نے فضہ بتول کو لاٹھی سے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا تو اس کی حالت غیر ہو گئی۔ جس پر وہ فضہ کو طبی امداد کے لئے ڈیفنس کے ایک نجی ہسپتال میں لے گیا۔ حالت زیادہ خراب ہونے پر نجی ہسپتال کی انتظامیہ نے لڑکی کو سرکاری ہسپتال لے جانے کا مشورہ دیا۔ جس پر پروفیسر سلمان اپنی بیوی کی مدد سے ملازمہ فضہ بتول کو سروسز ہسپتال میں چھوڑ کر فرار ہو گیا۔
ہسپتال انتظامیہ نے پولیس کو اطلاع دے دی۔ پولیس نے پروفیسر سلمان رفیق کے خلاف مقدمہ درج کرکے اس کو گرفتار کر لیا۔ پروفیسر سلمان نے پولیس کو دوران تفتیش بتایا کہ اس کی گھریلو ملازمہ فضہ میز پر چڑھ کر صفائی کر رہی تھی کہ اچانک پاؤں پھسلنے سے نیچے گر کر زخمی ہو گئی ہے۔ اگلے روز ہسپتال میں زیر علاج فضہ ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی جبکہ ہسپتال کی جانب سے جاری ہونے والی ابتدائی رپورٹ کے مطابق بچی پر وحشیانہ تشدد کیا گیا ہے اور اس کو زیادتی کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔
فضہ بتول پروفیسر سلمان کے گھر گزشتہ ساڑھے چار سال سے ملازمہ تھی۔ پروفیسر گزشتہ چار ماہ سے اسے والدین سے بھی ملنے نہیں دے رہا تھا اور اسے آئے روز تشدد کا نشانہ بنانا اس کا معمول تھا۔ اس کے علاوہ پروفیسر کی بیوی اور بچے گھر کو تالے لگا کر فرار ہو گئے ہیں۔ دوسرا دلخراش واقعہ بھی شہر کے پوش علاقہ شمالی چھاؤنی‘ عسکری نائن میں پیش آیا ہے۔
خاتون ناصرہ نے اپنے شوہر الطاف محمود سے مل کر اپنی دس سالہ گھریلو یتیم ملازمہ اوکاڑہ کی رہائشی ارم رمضان کو چند ہزار روپے چوری کا الزم لگا کر پلاسٹک کے پائپ سے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور حالت غیر ہونے پر اسے طبی امداد کے لئے ہسپتال لے گئے۔ مگر تشدد کا شکار معصوم بچی ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی موت کے منہ میں جا چکی تھی۔ ڈاکٹروں نے بچی کی موت کی تصدیق کر دی۔
شمالی چھاؤنی پولیس نے ملزمہ ناصرہ اس کے شوہر الطاف محمود اور بیٹے کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزمہ ناصرہ بی بی نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے پولیس کو بیان دیا کہ ملازمہ ارم نے گھر سے 30 ہزار روپے چوری کئے تھے۔ اس نے بچی سے پیسے لینے کے لئے تشدد کیا تھا مگر اس کا شوہر اور بیٹا بیگناہ ہے۔ پولیس کے مطابق بچی کے منہ اور جسم پر تشدد کے واضح نشانات بھی موجود تھے۔
سنگدل مالکن نے بچی کے ہاتھ پاؤں رسی سے باندھ کر پانی والے ربڑ کے پائپ سے اس پر تشدد کیا۔ جس سے بچی کی موت کی منہ میں چلی گئی۔ پولیس نے بچی کے ہاتھ پاؤں باندھنے والی رسی اور پائپ کو بھی برآمد کر لیا ہے۔ تیسرا افسوسناک واقعہ فیصل ٹاؤن کے علاقہ میں پیش آیا۔ جب ایک تاجر کے بیٹوں نے 15سالہ گھریلو ملازمہ عذرا کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد گلے میں پھندا دے کر قتل کر دیا۔
واقعہ کے مطابق پتوکی کا رہائشی محمد جعفر عرصہ سے گردوں کی بیماری میں مبتلا تھا۔ چند سال قبل محمد جعفر بیوی شمیم اور دو بیٹیوں عذرا اور ناصرہ کے ہمراہ لاہور میں فیصل ٹاوٴن کے علاقہ محمد پورہ‘ موچی پورہ میں ایک مکان کرائے پر لے کر رہنے لگا۔ اس کی بیوی شمیم نے 15 سالہ بیٹی عذرا کو ساتھ والی گلی میں رہائش پذیر تاجر شیخ شوکت کے گھر میں ملازمہ رکھوا دیا۔
وقوعہ کے روز مالک مکان شوکت کا بیٹا عاصم صبح سویرے شمیم کے گھر آیا اور کہا کہ عذرا گھر سے بتائے بغیر چلی گئی ہے۔ جس سے گھر والے پریشان ہو گئے۔ جس کے پندرہ منٹ کے بعد عاصم دوبارہ شمیم کے گھر آیا اور کہا کہ عذرا کی لاش سڑھیوں میں پڑی ہے۔ شمیم اور اس کا خاوند جعفر‘ مالک شیخ شوکت کے گھر پہنچے تو وہاں ان کی بیٹی عذرا کی لاش دوسری منزل کی سیڑھیوں میں پڑی ہوئی تھی جبکہ اس کے گلے میں رسی کا پھندا لگا ہوا تھا۔
اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ عذرا کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد گلے میں رسی سے پھندا دے کر قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے عاصم اور اس کے دو بھائیوں کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا۔ بدنصیب ماں شمیم کے مطابق وہ اپنی دو بیٹیوں عذرا اور ناصرہ کے ہمراہ کام کاج کرنے کی غرض سے لاہور آئے تھے تاکہ وہ لوگوں کے گھروں میں کام کاج کرکے اپنے بیمار خاوند محمد جعفر کے علاج کے لئے پیسے اکھٹے کر سکیں۔
عذرا کو ملزمان نے پہلے بھی تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ جس پر اس نے وہاں سے کام چھوڑ دیا لیکن گھر کے مالک شیخ شوکت دوبارہ عذرا کو اپنے گھر کام پر لے گیا اور وعدہ کیا کہ آئندہ ایسا واقعہ پیش نہیں آئے گا۔ ملزم عاصم نے پولیس کی حراست میں گھناؤنے جرم کا اعتراف کر لیا اور پولیس کو بتایا کہ اس نے لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد پکڑے جانے کے خوف سے قتل کیا تھا۔
بے بس‘ لاچار و غربت کی ماری حوا کی یہ بیٹیاں تو اپنے مالکوں کے ظلم و ستم کا شکار بن کر منوں مٹی تلے دب گئی ہیں۔ مگر ان کے ورثاء کا انصاف حاصل کرنے کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھانا مقدر بن چکا ہے۔ حکومت‘ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا حال یہ ہے کہ ایسا افسوسناک واقعہ پیش آنے پر مفلوک حال ورثاء کی چند ٹکوں کی مالی امداد اور میڈیا کے سامنے انصاف کے بلندو بانگ دعوے کرکے معاملہ ”ٹھنڈا“ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت لیبر قوانین اور خصوصاً چائلڈ لیبر کے حوالے سے موجود قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرائے جبکہ گھریلو ملازموں پر تشدد کے حوالے سے نئی موثر قانون سازی بھی کی جائے۔ ایسے واقعات میں ملوث درندوں کو سخت سے سخت سزائیں دے کر نشان عبرت بنا دیا جائے تاکہ مجبور بیٹیوں کی عزتیں اور زندگیاں محفوظ رہ سکیں۔ اس کے علاوہ حکومت گھریلو ملازموں کی رجسٹریشن کا نظام وضع کرے اور یونین کونسل یا پھر ٹاوٴن کی سطح پر گھریلو ملازموں کا ڈیٹا اکھٹا کیا جائے اور شہری بھی اپنا فرض ادا کرتے ہوئے کسی ایسے معاملہ کے علم میں آنے پر فوراً پولیس یا متعلقہ اداروں کو آگاہ کریں تاکہ معاشرے میں اس بڑھتے ہوئے ناسور پا قابو پایا جا سکے۔
تاریخ اشاعت: 2014-01-25

(0) ووٹ وصول ہوئے