بند کریں
اتوار جنوری

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ماں بیٹی کا اندھا قتل دو سال بعد بے نقاب
پولیس کا کام شہریوں کے جان ومال اور عزت کی حفاظت کرنا ہے ،مگر ہمارے ملک میں قانون کے رکھوالوں کا اپنی ذمہ داریوں کو بھول کرقانون ہاتھ میں لینا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔پولیس افسران کی جانب سے قانون شکنی
احسان شوکت:
پولیس کا کام شہریوں کے جان ومال اور عزت کی حفاظت کرنا ہے ،مگر ہمارے ملک میں قانون کے رکھوالوں کا اپنی ذمہ داریوں کو بھول کرقانون ہاتھ میں لینا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔پولیس افسران کی جانب سے قانون شکنی، قانون سے کھلواڑ اوراپنے اختیارات سے تجاوزکرنے کے واقعات ہمارے معاشرے میں آئے روز کامعمول ہیں۔ مگر اب بات اس سے بھی بہت آگے پہنچ چکی ہے۔
صورتحال یہ ہے کہ بعض پولیس اہلکارنہ صرف اپنے فرائض اورذمہ داریوں سے غافل ہو چکے ہیں بلکہ شہریوں کے جان ومال اور عزت کی حفاظت کے ذمہ دار بعض درندہ صفت پولیس اہلکاروں کے ہاتھ شہریوں کے خون سے رنگ جانے کے علاوہ وہ معصوم خواتین کے عزتوں کے در پے بھی ہو گئے ہیں۔ایسا ہی ایک افسوسناک و ہوشربا انکشاف شالیمار کے علاقہ میں قتل ہونے والی ماں، رخسانہ کے بعد اس کی بیٹی سعدیہ کے اندھے قتل کی وارادت کو دو سال گزرنے کے بعد سی آئی اے پولیس کی جانب سے پکڑے گئے ملزمان جن میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر شاہد مراد اور اس کے تین ساتھی شامل ہیں۔
ان کی گرفتاری کے بعد سامنے آیا ہے۔جس سے قانون کے رکھوالے کے شرمناک کرتوت سن کر رونگٹھے کھڑے ہو جاتے ہیں۔افسوسناک واقعات کے مطابق شالیمارلاہورکے علاقہ میں جواں سالہ سعدیہ شاہد اپنے والدین کے ساتھ ر ہائش پذیر تھی۔تھانہ شالیمار کے اے ایس آئی شاہد مراد کا علاقہ میں گشت کے دوران سعدیہ شاہد کے گھروالی گلی میں آنا جاتا رہتا تھا۔ اس دوران اے ایس آئی شاہد مراد نے لڑکی سعدیہ سے دوستی کر لی۔
دوران ڈیوٹی اور ڈیوٹی ختم کرنے کے بعد اے ایس آئی شاہد مراد لڑکی سعدیہ کو ملنے اس کی گلی میں آتا اوروہ اسے تنگ کرتاتھا۔سعدیہ کی والدہ رخسانہ نے اے ایس آئی شاہد مراد کواس بات سے منع کیا کہ وہ اس کی بیٹی کو ملنے نہ آیا کرے اور ان کی محلے میں عزت رہنے دے۔مگر اے ایس آئی شاہد مرادبازنہ آیا اور اس نے کئی بار سعدیہ کی ماں رخسانہ سے جھگڑا کیا۔
رخسانہ بدنامی کے ڈر سے چپ رہتی۔ مگر معاملہ بہت آگے بڑھ گیا تو بے بس ماں رخسانہ نے مجبور ہو کر اے ایس آئی شاہد مراد کو اس کے افسران کو شکایت لگانے کی دھمکی دے۔ جس پر قانون کے رکھوالے اے ایس آئی شاہد مراد نے اپنے دوستوں قاصد نعمان، عاصم شاہ اور علی کے ساتھ مل کرسعدیہ کی ماں رخسانہ کو راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بنایا۔منصوبے کے مطابق اے ایس آئی شاہد مراد اپنے دوستوں نعمان، عاصم شاہ اور علی کے ساتھ مل کر مسلح ہو کر سعدیہ کے گھر آ یا ،جہاں انہوں نے فائرنگ کرکے سعدیہ کی ماں رخسانہ کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
رخسانہ شاہد کے قتل کا مقدمہ اے ایس آئی شاہد مراد اور اس کے ساتھیوں کے خلاف تھانہ شالیمار میں درج ہوا۔اے ایس آئی شاہد مراد نے یہاں ایک اور بھیانک منصوبہ بنایا اور قتل کے مقدمہ میں بری ہونے کے لیے اپنے دوست قاصد نعمان کو اس بات پر راضی کیا کہ وہ سعدیہ شاہد سے نکاح کرلے اور اس سے شادی کے بعد ہم سب بری ہو جائیں گے اور اس نے منصوبے کے تحت نعمان کی شادی لڑکی سعدیہ سے کرا دی۔
شادی کے بعد قاصدنعمان نے سعدیہ کو اس کے والدشاہد محمود اور رشتے داروں سے ملنے سے بالکل منع کر دیا۔جس کے کچھ عرصہ بعد مغلپورہ کے علاقہ میں دہشت گردی کورٹ کے سامنے نہرسے ایک نامعلوم لڑکی کی توڑے میں بند تشددزدہ لاش برآمد ہوئی۔جس کے گلے میں پھندے کا نشان بھی تھا۔پولیس نے لاش کی شناخت کے لئے کوشش کی مگرمقتولہ لڑکی کی شناخت نہ ہو سکی۔
جس پر پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف تھانہ مصطفی آباد میں مقدمہ درج کر کے لاش دفن کر دی۔دوسری طرف بیٹی کو ملے کافی عرصہ گزر جانے کے بعد سعدیہ کے والدشاہد محمود نے سیشن کورٹ میں اپنے داماد قاصدنعمان کے خلاف رٹ دائر کر دی۔ کہ وہ اسے مجھے میری بیٹی سے ملنے نہیں دے رہا ہے اورمجھے شبہ ہے کہ اس کی بیٹی کو بھی قتل کر دیا گیا ہے۔عدالت کے طلب کرنے پر قاصد نعمان نے عدالت میں ایک طلاق نامہ پیش کر دیا کہ اس نے تو سعدیہ کو کافی عرصہ قبل طلاق دے دی تھی۔
اب اس کا مجھے کچھ پتا نہیں کہ وہ کہاں ہے۔سعدیہ شاہد کے والد شاہد محمود کو تھانہ مصطفی آباد سے نہر سے مردہ حالت میں ملنے والی مقتولہ لڑکی کی تصویر دکھائی گئی تو اس نے تصویرکی شناخت کر لی کہ وہ اس کی ہی بیٹی کی تصویرہے۔جس پر معاملہ سی آئی اے پولیس کے سپرد ہوا۔جس پر ایس پی سی آئی اے محمد عمر ورک نے ڈی ایس پی سی آئی اے اقبال ٹاوٴن محمد ریاض علی شاہ کو اندھے قتل کی اس واردات کو سراغ لگانے اور ملزمان کو گرفتار کرنے کا ٹاسک دیا۔
ڈی ایس پی سی آئی اے اقبال ٹاوٴن محمد ریاض علی شاہ کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے جدید خطوط پر تفتیش کرتے ہوئے واقعہ میں ملوث3 ملزمان محمد قاصد نعمان، محمد انیل عرف نیلا اور وقاص عرف کدو کو گرفتار کرلیا۔اندھے قتل کی اس واردات کا سراغ لگانے اور ملزمان کو گرفتار کرنے پر ایس ایس پی انوسٹی گیشن رانا ایاز سلیم اور ایس پی سی آئی اے محمد عمر ورک نے ڈی ایس پی سی آئی اے اقبال ٹاوٴن محمد ریاض علی شاہ اور ان کی ٹیم کیلئے تعریفی سرٹیفکیٹ اور نقد انعامات کا اعلان کیا ہے۔
گرفتارملزمان نے دوران تفتیش سعدیہ کو قتل کرنے کا انکشاف کیا اور بتایاکہ انہوں نے سعدیہ کی ماں رخسانہ شاہد کے قتل کے مقدمے سے بری ہونے کے لیے اے ایس آئی شاہد مراد کے کہنے پر سعدیہ سے نکاح کیا۔مگر سعدیہ اپنی ماں کی قاتلوں کو معاف یا راضی نامے کی بجائے انصاف اور قتل کا بدلہ لینا چاہتی تھی۔سعدیہ سے شادی کے باوجود مسئلہ حل نہ ہوا اور مقدمے میں کوئی خاطرخواہ نتائج نہ ملے تو پھر ملزمان نعمان، انیل اور وقاص نے سعدیہ سے چھٹکار پانے کے لئے اسے تشدد کے بعدگلے میں کپڑا ڈال کرپھندہ دے کر قتل کر دیا اوپھر سعدیہ کی نعش توڑے میں ڈال کر اسے مغلپورہ نہر جعفری پلی کے قریب بہا دیا۔
ذرائع کے مطابق ایک اور تفتیش ناک بات یہ ہے کہ کہ پولیس اے ایس آئی شاہد مراد نے رخسانہ قتل کیس میں مدعی فیملی سے ڈرادھمکا کر صلح کر لی ہے۔جس پر اب وہ آزاد ہے جبکہ سعدیہ قتل کیس میں3 ملزمان محمد قاصد نعمان، محمد انیل عرف نیلا اور وقاص عرف کدو جیل میں ہیں۔ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ سعدیہ قتل کیس میں بھی غریب و کمزور مدعی اے ایس آئی کا نام لینے کو تیار نہیں۔ مدعی اپنی بیوی اور بیٹی کے کھوجانے کے غم میں نڈھال جبکہ ملزم آزاد ہے۔اس واقعہ سے ہمارے معاشرے میں کمزور کریمنل جسٹس سسٹم کی بھی نشاندہی ہوتی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-02-18

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان