بند کریں
ہفتہ جنوری

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
لاہور میں تجاوزات کے خلاف مہم‘ پولیس اور تاجروں میں ٹھن گئی
ٹاؤن شپ میں پولیس اور تاجروں کے مابین اس وقت تصادم ہوگیا جب المدینہ روڈ پر تجاوزات کو گرانے کی کوشش کی گئی۔ تاجروں نے ایک آرائشی دروازہ جس پر مقدس عبارت درج تھی کو گرائے جانے پر احتجاج کو تصادم میں بدل دیا
خرم عزاز:
لاہور میں ان دنوں تجاوزات کے خلاف مہم جاری ہے اس سلسلے میں شہر کے مختلف علاقوں میں آپریشن کئے گئے جبکہ ٹاؤن شپ میں پولیس اور تاجروں کے مابین اس وقت تصادم ہوگیا جب المدینہ روڈ پر تجاوزات کو گرانے کی کوشش کی گئی۔ تاجروں نے ایک آرائشی دروازہ جس پر مقدس عبارت درج تھی کو گرائے جانے پر احتجاج کو تصادم میں بدل دیا کہا جاتا ہے تاجروں نے اسے تصادم کا بہانہ بنایا جبکہ تاجروں کا موقف ہے کہ وہ مقدس عبارت کی بے حرمتی برداشت نہ کرسکے۔
جہاں تک تجاوزات کے خلاف مہم کا تعلق ہے یہ بلا شبہ ایک درست عمل ہے مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر شہر میں تجاوزات کی اجازت ہی کیوں دی جاتی ہے اگر ایک مرتبہ تجاوزات کے ساتھ ساتھ اگر متعلقہ حکام کے خلاف بھی کارروائی کی جائے تو شاید دوبارہ ایسی مہم کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
ٹاؤن شپ المدینہ روڈ پر ضلعی انتظامیہ کے تجاوزات کیخلاف آپریشن کے دوران تاجروں کا سرکاری اہلکاروں اور پولیس کے ساتھ تصادم ہوگیا۔
دونوں جانب سے پتھراؤ اور لاٹھی چارج سے اسسٹنٹ کمشنر سمیت 5اہلکار جبکہ 8مظاہرین زخمی ہوگئے۔ مشتعل مظاہرین نے چار سرکاری ٹرکوں کو آگ لگا دی۔ علاقہ میدان جنگل کا منظر پیش کررہا تھا جبکہ مظاہرین کی مزاحمت بڑھنے پر اہلکاروں نے وہاں سے دوڑیں لگاادیں۔ تفصیلات کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی انسداد تجاوزات فورس کے اہلکاروں کی بڑی تعداد نے گزشتہ روز ٹاؤن شپ کے علاقہ المدینہ روڈ پر تجاوزات کے خلاف آپریشن کرنا شروع کیا تو تاجروں نے دکانیں بند کر کے سڑک پر ٹائر جلا کر احتجاج شروع کردیا۔
مظاہرین نے ضلعی انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے سرکاری اہلکاروں کو آپریشن کرنے سے روکنے کیلئے مزاحمت کی تو پولیس کی بھاری نفری وہاں پہنچ گئی۔ پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج شروع کردیا جس پر مظاہرین منتشر ہوئے اور ضلعی انتظامیہ نے آپریشن جاری رکھا۔ اس دوران انتظامیہ نے وہان لگے دو گلیوں المدینہ بازار اور المکہ بازار کے لوہے کے محرابی شکل میں بنے بورڈ جن پر مقدس الفظ لکھے تھے، کو بلڈورزر سے گرایا تو مظاہرین مشتعل ہوگئے اور انہوں نے پولیس پر پتھراؤ کرنا شروع کردیا۔
پولیس نے مظاہرین پر شدید لاٹھی چارج کا سلسلہ جاری رکھا جس سے علاقہ میدان جنگ بن گیا۔ مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ اور پولیس کے شدید لاٹھی چارج سے اسسٹنٹ کمشنر رائیونڈ سید امان انور قدوائی سمیت 5پولیس اہلکار اور 8مظاہرین زخمی ہوگئے۔ مظاہرین کی جانب سے مزاحمت بڑھی تو سرکاری عملہ نے ٹرک چھوڑ کر جبکہ پولیس نے بھی دوڑیں لگا دیں جس پر مظاہرین نے وہاں کھڑے 4سرکاری ٹرکوں کو نزر آتش کردیا جس کے بعد دیگر علاقوں سے بھی پولیس کی بھاری نفری اور ضلعی انتظامیہ کا عملہ بلا لیا گیا لیکن اس دوران مظاہرین بھی منتشر ہوچکے تھے۔
بعد ازاں مذہبی جماعتوں اور علاقہ کی سیاسی و سماجی شخصیات اور اہل علاقہ کی بڑی تعداد تھانہ ٹاؤن شپ کے باہر جمع ہوگئی۔ لوگوں کا مطالبہ تھا کہ ضلعی انتظامیہ کے خلاف قرآنی آیات کی بے حرمتی کرنے پر مقدرمہ درج کیا جائے۔ علاوہ ازیں ذرائع کے مطابق ایس ایچ او ٹاؤن شپ کی ناقص حکمت عملی کے باعث اتنا بڑا سانحہ پیش آیا۔ ایس ایچ او نے مظاہرین سے مذاکرات یا بات چیت کرنے کی بجائے ان پر فوری لاٹھی چارج کرنے کا حکم دیدیا تھا۔

دریں اثراء این این ائی کے مطابق ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر لاہور ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کہا ہے کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن پوری طاقت سے جاری رہے گا اور شہر میں جہاں کہیں بھی تجاوزات ہیں ان کو ہر صورت میں ختم کیا جائے گا۔ ڈی سی او لاہور ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کہا کہ شہر میں تجاوزات کے خلاف آپریشن سے قبل بھرپور تشہیری مہم چلائی گئی اور اخبارات میں اشتہارات دئیے گئے جبکہ ٹاؤن انتظامیہ کی طرف سے دکانداروں کو تجاوزات ختم کرنے کا موقع دیا گیا۔
ایسے دکاندار جنہوں نے تجاوزات کا رضا کارانہ طور پر خاتمہ نہ کیا اب انتظامیہ ان کی تجاوزات کو مسمار کررہی ہے اور تجاوزات کے خلاف آپریشن میں بلا امتیاز کارروائی کی جارہی ہے ۔ علاوہ ازیں ترجمان ضلعی انتظامیہ نے بتایا کہ ٹاؤن شپ مدینہ مارکیٹ سے تجاوات کے خاتمہ کرنے والی ٹیم پر پتھراؤ اور گاڑیاں جلانے پر مقدمرہ درج کروادیا ہے۔ دریں اثناء اسسٹنٹ کمشنر سیدامان انور قدوائی نے کہا کہ رائے ونڈ میں ناجائز تجاوزات کا خاتمہ کے آپریشن کے اگلے مرحلے میں آئندہ روز مین بازار اور صحن غلہ منڈی میں غیر قانونی طور پر قائم پختہ عمارتیں اور عارضی تعمیرات گرائی جائیں گی۔
ریلوے روڈ سے ماڈل بازار میں داخل ہونے والا 52فٹ چوڑا راستہ تجاوزات کی وجہ سے صرف 20فٹ رہ گیا ہے، وہاں پوری مارکیٹ غیر قانونی طور پر تعمیر ہائی ، اسسٹنٹ کمشنر سید امان انور قدوائی نے بتایا کہ رائے ونڈ میں تجاوزات کے ذمہ دار محکمہ مال کے وہ کرپٹ اہلکار بھی ہیں جنہوں نے مختلف اوقات میں سیاسی شخصیات کی سفارشوں وار رشوت کے عوض جعلی رجسٹریاں اور انتقال کروائے۔ ایسے تمام قبضے پہلی فرصت میں واگزار کروائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تجاوز کنندگان رضا کارانہ طور پر تجاوزات ہٹالیں بصورت دیگر تجاوزات ہٹانے پر آنے والے اخراجات بھی ان کے ذمہ ڈالے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ تجاوزات کے خلاف جاری بلا امتیاز آپریشن رائے ونڈ کو ماڈل سٹی بنانے تک جاری رہے گا۔
تاریخ اشاعت: 2014-03-05

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان