بند کریں
پیر فروری

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
لاہور جرائم پیشہ افراد کے نرغہ میں
پولیس شہریوں کو جان ومال کا تحفظ دینے میں ناکام۔۔۔ چوہنگ، ٹھوکر ، ہنجروال اور اقبال ٹاون ہر طرح کے جرائم کا گڑھ بن گئے
صابر بخاری:
صوبائی دارلحکومت کو رنگ برنگے پھولوں، سایہ دار درختوں، وسیع سڑکوں، میٹروبس سمیت تمام خوبصورت لوزامات سے آراستہ کردیا گیا ہے۔ پوری دنیا میں اپنی خوبصورتی اور خوش ذائقہ کھانوں کی وجہ سے یہ شہر سیاحوں کی ہمیشہ توجہ کا مرکز رہا ہے۔ ملک کی زیادہ تر بیوروکریسی اوربا اثر افراد بھی اسی شہر میں رہتے ہیں حکومت کی طرف سے جس قدر اس شہر کو خوبصورت بنانے کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں اس قدر اس شہر کو پر امن بنانے کیلئے نہیں کئے گئے۔
روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں قتل، ڈکیتی، سٹریٹ کرائمز، چوری کی وارداتیں ہو رہی ہے مگرحکمران اور پولیس ان وارداتوں کو روکنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجاب پولیس کا سب سے زیادہ بجٹ بھی اس شہرمیں خرچ کیا جاتا ہے مگر لاہور پولیس اتنے فنڈز کھانے کے باوجود بھی شہریوں کے جان و مال کا تحفظ نہیں کر رہی۔راقم کے لاہور کے مختلف علاقوں میں ہونے والے جرائم کے حوالے سے سروے اور ذرائع سے معلوم ہوا کہ موہلنوال، مصری شاہ، ستوکتلہ، ہنجروال، کے علاقوں میں منشیات کا دھندہ، عروج پر ہو رہا ہے، عیسیٰ نگر عیسائیاں کی بستی میں مرداورخواتین سرعام منشیات بیچتے ہیں۔
یہاں گلیوں میں خواتین اور مرد کنڈے اور منشیات ہاتھ میں لے کر کھڑے ہوتے ہیں۔ پھلروان میں شراب چرس بہت زیادہ فروخت ہوتی ہیں اور یہاں منشیات کے بڑے ڈیلر موجود ہیں منشیات کا زیادہ تر سامان پشاور سے آتا ہے یہ زیادہ تر ٹرانسپورٹ کے ٹائروں، پیٹیوں،بجری وغیرہ میں ڈال کر لاہور لایا جاتا ہے۔ پشاور میں منشیات کے باڑے ہیں۔ ایک موریہ کے علاقے میں منشیات فروشوں کے ٹھکانے ہیں اور ڈیرے ہیں۔
یہاں گلیاں انتہائی تنگ اور باریک ہیں۔یہاں سرحدی برادری بڑی تعداد میں رہتی ہے جو علاقے میں خوف و ہراس قائم کئے رکھتے ہیں۔ یہ لوگ اکثر رات کو فائرنگ کرتے رہتے ہیں یہاں بدنام زمانہ منشیات فروشوں کے بسیرے ہیں ان لوگوں نے گھر اس طرح بنائے ہوئے ہیں کہ پولیس اندر داخل نہ ہوسکے۔ اگر پولیس وہاں کارروائی بھی کرے تو یہ لوگ بھاری ہتھیاروں سے مقابلہ کرتے ہیں۔
ڈیفنس گلبرگ اور اس طرح کے دوسرے پوش علاقوں میں غیر اخلاقی حرکات کا دھندہ عروج پر ہے۔ ان علاقوں میں بااثر افراد رہتے ہیں جہاں پر قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی کاروائی سے ڈرتے ہیں۔ وہ دھندہ جو کبھی شاہی قلعہ کے آس پاس ہوتا تھا وہ آجکل ان پوش علاقوں میں شرافت کا لبادہ اوڑھ کر ہو رہا ہے۔ بڑے بڑے با اثر لوگ اس غیر اخلاقی سرگرمیوں کا حصہ ہیں۔
اس کے علاوہ ان علاقوں میں قحبہ خانے کے مرکز بھی بڑی تعداد میں چل رہے ہیں۔ تھانہ گارڈن ٹاؤن، برکت مارکیٹ، اقبال ٹاون میں گاڑی، موٹر سائیکل چوری، سٹریٹ کرائمز بہت زیادہ ہیں۔ کاہنہ کے علاقے میں لڑائی جھگڑے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ ان لڑائی جھگڑوں، مار دھار کے پیچھے زیادہ تر سیاست کار فرما ہوتی ہے۔ شیراکوٹ میں کاروں کی ڈکیتیاں اور چوری کرنے والے بڑے گروہ موجود ہیں۔
اکثر کار اورموٹر سائیکل چوری کی وارداتوں کے ملزمان یہاں سے گرفتار ہوتے ہیں ہربنس پورہ، تاج پورہ، دھرم پورہ کے اطراف کے علاقوں میں بوگس سوسائٹیاں عروج پر ہیں۔ با اثر لوگوں نے زمینوں پر قبضے کئے ہوئے ہیں۔ مغل پورہ سے جلو پارک موڑ تک کے قرب وجوار کے علاقوں میں قبضہ گروپوں نے غیر قانونی سوسائٹیاں بنا رکھی ہیں جو ایل ڈی اے سے بھی منظور شدہ نہیں ہیں۔
جوہر ٹاؤن، واپڈا ٹاؤن میں گاڑیوں کے چھیننے اور سٹریٹ کرائم کی وارداتیں زیادہ ہیں۔ بات کریں اگر اندرون لاہور کی تو مصری شاہ، شاد باغ، اور اندرونی شہرکے دوسرے علاقوں میں بدمعاشی بہت زیادہ ہے۔یہاں سے اکثر لوگ حکومت کا حصہ ہوتے ہیں یا تعلق داریاں ہوتی ہیں۔ یہی رشتہ داریاں یا تعلق داریاں ظاہر کرکے یہ لوگ رعب جماتے ہیں اور پولیس کو بھی مرعوب کرتے ہیں۔
ان علاقوں میں قتلوں کے اشتہاری بڑی تعداد میں پناہ لئے ہوئے ہیں ان لوگوں میں برداشت کم ہوتی ہے۔ چھوٹی چھوٹی بات پر قتل کر دیتے ہیں اور بیرون ملک فرار ہو جاتے ہیں۔ ان علاقوں میں جوئے خانے بھی بہت زیادہ ہیں۔ مصری شاہ شادباغ، گوالمنڈی اور گجر پورہ کے علاقوں میں حکومتی سرپرستی کی وجہ سے غیر قانونی اسلحہ کی بھرمار ہے۔یہاں لوگ سرعام اسلحہ لے کر چلتے ہیں۔
ریلوے اسٹیشن اور داتا دربار کے علاقوں میں غیر اخلاقی حرکات زیادہ ہوتی ہیں۔ یہاں اکثر ہوٹل، گیسٹ ہاؤسز جسم فروشی کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔ یہ ہوٹل زیادہ ترپولیس افسران، ٹی ایم اوز اور سیاستدانوں کے ہیں جہاں پر پولیس کارروائی نہیں کرسکتی اور ہوٹل مالکان تحفظ کی ضمانت بھی دیتے ہیں۔ لاری اڈا، ریلوے اسٹیشن کے علاقوں میں نشئی اور دوسرے جرائم پیشہ عناصر ، پھرتے رہتے ہیں۔
رکشہ والے بھی یہاں جرائم میں شامل ہوتے ہیں جب رکشہ والے، دیکھتے ہیں کہ اکیلی خاتون بچہ کوئی سادہ لوح فرد یا بھاری بھرکم بیگ کسی سواری کے پاس موجود ہے تو وہ اپنے ساتھیوں کو بتاتے ہیں کہ وہ فلاں راستے سے جا رہے ہیں یہ لوگ راستے میں آکر وارداتیں کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اکثر مسافروں کو بے ہوش کر کے بھی ان کا سامان لوٹ لیا جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ افراد زندگی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
جیب کترے بھی ان علاقوں میں اپنے شکار کیلئے الرٹ رہتے ہیں۔ ایئر پورٹ سے آنے والے اکثر مسافروں کو راستے میں اکثر پولیس کی وردیوں ،کسٹمز یا ایف آئی اے کی وردیوں میں ملبوس ہو کر لوٹتے ہیں گرین ٹاؤن میں قحبہ خانے بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ شاہدرہ کے علاقہ میں چوری، ڈکیتی اور اغواء برائے تاوان کی وار داتیں زیادہ ہیں۔ اس علاقے میں قتل کی بھی کافی وارداتیں ہوتی ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق، چوہنگ، ٹھوکر ، ہنجروال اور اقبال ٹاون کے علاقے جرائم کا گڑھ ہیں۔ سمن آباد، اقبال ٹاؤن، سبزہ زار، ہنجروال، گلشن راوی، مسلم ٹاؤن، کوٹ لکھپت، فیکٹری ایریا، ڈیفنس اے، بی، سی اور دوسرے پوش علاقے قحبہ خانوں کا گڑھ ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق اندرون لاہور میں، منشیات پرچی جواء، میچوں پرسرعام جوا، ہوتا ہے۔ زیادہ تر پولیس والے یہاں خود جرائم کرا کرایف آئی آر درج کرتے ہیں اور پیسے بٹورتے ہیں لاہور میں ہونے والی اکثر وارداتوں میں پولیس بھی ملوث ہوتی ہے۔
کئی پولیس ملازمین کو وارداتیں کرتے ہوئے گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ڈی آئی جی انویسٹی گیشن رانا ایاز سلیم کا کہنا ہے کہ لاہور میں جرائم پہلے کی نسبت کافی کم ہوا ہے۔ مختلف جرائم کے حوالے سے مختلف پلان ترتیب دے رہے ہیں۔بدمعاشوں کو پکڑنے کیلئے الگ فورس تشکیل دی ہے۔لاہور میں پورے پاکستان سے لوگ آکر کاروبار ملازمت کرتے ہیں جن کا ڈیٹا حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔رانا ایاز سلیم کے مطابق ابتر معاشی حالات بھی جرائم کی وجہ ہیں۔جن سوسائٹیوں میں گارڈ نہیں ہوتے وہ جرائم پیشہ عناصر کا آسان ٹارگٹ ہوتے ہیں۔ڈی آئی جی نے بتایا کہ منشیات کیخلاف خصوصی مہم شروع کی ہے۔لاہور کو جرائم فری بنا کر دم لیں گے۔
تاریخ اشاعت: 2015-05-06

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان