بند کریں
اتوار جنوری

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
لیڈی وارڈنز کی بھرتی
حکومتی مقاصد پورے نہ ہو سکے
شروع میں جب لیڈی وارڈنز بھرتی کی گئیں تو ان کی شہر کی مختلف سڑکوں پر ڈیوٹیاں لگائیں گئیں۔اس دور حکومت میں پاکستان کا سافٹ امیج قائم کرنے کے لئے ان خواتین کو ترجیحی بنیادوں پر بھرتی کیا گیا تھا
عنبرین فاطمہ:
ٹریفک کے سسٹم کو بہتر بنانے کیلئے سال2006ء میں پرانی ٹریفک پولیس کو ختم کرکے پنجاب کے پانچ بڑے شہروں فیصل آباد،پنڈی،گوجرانوالہ ،لاہور اورملتان میں نیا وارڈن سسٹم متعارف کروایا گیا۔تقریباً 3300وارڈنز کو دو مراحل میں تعینات کیا گیاجن میں 158لیڈی وارڈنز بھی شامل تھیں۔شروع میں جب لیڈی وارڈنز بھرتی کی گئیں تو ان کی شہر کی مختلف سڑکوں پر ڈیوٹیاں لگائیں گئیں۔
اس دور حکومت میں پاکستان کا سافٹ امیج قائم کرنے کے لئے ان خواتین کو ترجیحی بنیادوں پر بھرتی کیا گیا تھا اور یہ خواتین مختلف چوراہوں پر ڈیوٹیاں دیتے نظر بھی آئیں۔اس کے علاوہ پاکستان میں پہلی مرتبہ یہ خواتین ہیوی موٹر بائیکس پر شہر میں پٹرولنگ کرتی نظر آئیں مگر اس دوران ان لیڈی وارڈنز کو مختلف مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا تھا جس میں من چلوں کی جانب سے بد تمیزی کرنے،فقرے کسنے سمیت چھیڑخانی کے بھی افسوسناک واقعات سامنے آئے۔
اس کے علاوہ تعینات لیڈی وارڈنز کی شادی ہونے پر خاوند یا سسرالی دباؤ پر نوکریوں سے استعفیٰ دینے کیلئے واقعات ورنما ہونے لگے۔جس کی وجہ سے تعینات خواتین وارڈنز کی تعداد بتدریج کم ہوتی گئی اور ان کی نئی وارڈنز پولیس میں نمائندگی برائے نام رہ گئی۔اس کے علاوہ ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ ان وارڈنز کو 25سے30ہزار روپے کی پر کشش تنخواہوں پر بھرتی کیا گیا تھا مگر ان خواتین وارڈنز نے سڑکوں پر ڈیوٹی کی بجائے اپنی ڈیوٹیاں ٹریفک دفاتر جن میں ٹریفک پولیس لائن، لائسنسنگ برانچ،سٹی ٹی او آفس اور اسی طرح مختلف شعبوں میں کلیریکل ڈیوٹیاں سرانجام دینا شروع کر دیں۔
یوں یہ لیڈی وارڈنز سڑکوں سے بالکل غائب ہو گئیں جبکہ یہ تنخواہ تو لیڈی وارڈنز کی لے رہی ہیں لیکن وارڈن کی ڈیوٹی کی بجائے کلرک کا کام کر رہی ہیں۔اگرانہوں نے بطور کلرک ہی کام کرنا تھا تھا تو پھر انہیں پر کشش تنخواہ دے کر وارڈن بھرتی کرکے خزانے پر بوجھ کیوں ڈالا گیا۔اب صرف کسی وی آئی پی کے روٹ کسی اہم شخصیت کی پاکستان آمد کے موقع پر یہ وارڈنز نمائشی ڈیوٹی سرانجام دیتی نظر آتی ہیں۔
ٹریفک وارڈن کا نیا سسٹم متعارف کروانے کے باوجود سڑکوں پر بے ہنگم ٹریفک گاڑیوں کی لمبی قطاریں وارڈنز کی کارکردگی کا منہ چڑا رہی ہوتی ہیں۔بے ہنگم ٹریفک کی وجہ سے شہری پریشانی و مشکلات سے دوچار ہونے کے علاوہ چڑچڑے پن اور بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔دفاتر اور سکولوں میں چھٹی کے اوقات میں شہر پیک ہو کر رہ جاتا ہے یوں بچوں کو سکول سے لانے والے والدین کو کوفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مریضوں کو لے جانے والی ایمبیولینسز بھی ٹریفک میں پھنسی نظر آتی ہیں اس کے برعکس سرکاری محکموں کی کارکردگی دیکھیں تو شہر میں صورتحال یہ ہے کہ وارڈنز ٹریفک کو چلانے کی بجائے سڑکوں سے غائب یا پھر سڑک کنارے ٹولیوں کی شکل میں گپیں مارنے میں مگن ہوتے ہیں۔شہر میں نصب197ٹریفک اشاروں میں سے130خراب ہیں۔ہر سڑک پر مختلف متعلقہ محکموں سے ملی بھگت اور ان کو حصہ دے کر تجاوزات قائم کر دی گئیں ہیں۔
کسی بھی محکمہ کی جانب سے شہر میں ٹریفک کے مسئلہ کو حل کرنے کیلئے منصوبہ بندی یا پھر موئثر حکمت عملی نظر نہیں آرہی ہے۔شہر کی سڑکوں پر ٹریفک کے اڑدھام میں ایمبولینس پھنسی ہوئی دکھائی دیتی ہے جبکہ ٹریفک پولیس کی کارکردگی دیکھیں تو یوں لگتا ہے کہ ٹریفک پولیس کا کام شہر میں ٹریفک کو رواں دواں رکھنا نہیں بلکہ صرف اور صرف چالان کرنا رہ گیا ہے۔
افسوسناک بات یہ بھی علم میں آئی ہے کہ ٹریفک پولیس حکام کی جانب سے وارڈنز کو چالان کا ٹارگٹ دے دیا جاتا ہے اور چالان نہ پورے کرنے پر انہیں سزا دی جاتی ہے۔روزانہ پندرہ سے بیس چالان کرنے والوں کو مختلف سزائیں دی جاتی ہیں جس وجہ سے وارڈنز ٹریفک کلئیر کروانے کی بجائے شہر کی مختلف شاہراؤں پر چالان کرتے نظر آتے ہیں کیونکہ ان کی کارکردگی چالان کرنے سے ہی وابستہ کر دی گئی ہے۔آخر میں اگر ہم لیڈی وارڈنز کی ایک مرتبہ پھر بات کریں تو بڑی تعداد میں تعینات کی گئیں ٹریفک لیڈی وارڈنز کی تعداد کم ہو کر104رہ گئی۔اب جو لیڈی وارڈنز رہ گئیں ہیں زیادہ تر دیکھنے میں آتا ہے کہ وہ دفاتر کی حد تک محدود ہیں یعنی دفاتر سے باہر نہیں نکلنے میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-03-17

(1) ووٹ وصول ہوئے