بند کریں
جمعہ فروری

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کچھ علاج اس کا بھی اے چَارہ گراں۔۔
آج بے ہنگم ٹریفک سے پیدل چلنے والے پریشان ہیں تو گاڑی چلانے والے بھی مشکلات سے دوچار ہیں کیونکہ اب سڑکوں پر ”ٹرن“ یعنی مڑنے کے لئے جو ”کٹ“ بنائے گئے ہیں ان سے ہر کوئی آگاہ نہیں۔۔۔ٹریفک پولیس کے حوالے سے چند گذارشات
محمد رمضان چشتی:
ایک دور تھا جب پاکستان کے بڑے بڑے شہروں کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور میں ٹریفک کو رواں رکھنے یا حادثات کو روکنے میں ٹریفک پولیس اہلکار بڑی بڑی شاہراوٴں کے چوراہے پر لکڑی کے چبوترے پر کھڑے ہو کر ہاتھوں کے اشارے سے ٹریفک کنٹرول کرتا تھا، پھر جیسے جیسے آبادی میں اضافہ ہوا اور تانگے سائیکل کی بجائے سکوٹر، کاریں سڑکوں پر دکھائی دینے لگیں تو بڑی شاہراوٴں پر ٹریفک سگنل بھی نصب کر دیئے گئے اور آج صورت حال یہ ہے کہ ٹریفک کو رواں رکھنے کے لئے ٹریفک سگنل کے قواعد و ضوابط میں بھی تبدیلیاں ہو رہی ہیں اسی طرح ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے سلسلے میں ٹریفک وارڈن کی ”فوج ظفر موج“ بھی دکھائی دیتی ہے۔
آج بے ہنگم ٹریفک سے پیدل چلنے والے پریشان ہیں تو گاڑی چلانے والے بھی مشکلات سے دوچار ہیں کیونکہ اب سڑکوں پر ”ٹرن“ یعنی مڑنے کے لئے جو ”کٹ“ بنائے گئے ہیں ان سے ہر کوئی آگاہ نہیں، اسی طرح بڑی شاہراوٴں پر ٹریفک پولیس انتظامیہ نے ٹریفک رواں رکھنے کے حوالے سے جو اقدامات کئے ہیں ان سے عوام کو مشکلات کا بھی سامنا ہے۔ خاص طور پر لاہور کی شاہراہ قائداعظم (دی مال) میں مسجد عکس گنبد خضریٰ کی طرف جو گاڑی رواں ہے وہاں ٹریفک سیدھی چلی جا رہی ہے مگر وہاں تھوڑا سا ٹرن رکھا گیا جس کی وجہ سے روزانہ ٹریفک سارجنٹ ”خلاف ورزی“ کے نام پر چالانوں کی بھرمار کرتا دکھائی دیتا ہے۔
کیونکہ روزانہ مختلف کاموں کے سلسلے میں جو پردیسی لاہور آتے ہیں۔ ان کو یہاں کے حوالے سے زیادہ معلومات نہیں ہوتیں، لہٰذا اکثر دیکھنے میں آیا کہ ایسی کاریں جن میں خواتین اور بچے بھی بیٹھے ہوں اور سخت گرمی سے سب کا برا حال ہو رہا ہوتاہے ”ٹریفک رولز کی خلاف ورزی“ کے نام پر ہراساں ہورہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح مصری شاہ، چاہ میراں جا ر جانے والوں کو بخوبی علم ہے کہ اس علاقے میں ٹریفک ”کچھوے کی رفتار“ سے رینگتی ہے، اور ایسے میں جب کوئی ٹریفک والا روک کر ”سیٹ بیلٹ“ کا پوچھے تو آپ کے دل کی کیفیت کیا ہو گی۔

کوئی اس سے پوچھنے والا نہیں کہ یہاں بے ہنگم ٹریفک کو رواں رکھنا ہی سب سے اہم کام ہے۔ دنیابھر میں پولیس عوام کو راستہ بتاتی ہے، مدد کرنے کو ہر دم تیار ہوتی ہے اور ہمارے ہاں معاملات اس کے برعکس ہیں۔
ایک اور اہم بات ہے کہ آپ نے بھی دیکھا ہو گا کہ اکثر ٹریفک پولیس والے کسی بھی اشارے کے آگے جا کر چھپ کر کھڑ ے ہو جاتے ہیں تا کہ آپ خلاف ورزی کریں اور وہ اچانک نمودار ہو کر آپ کو روک لیں۔
اسی طرح کی صورت حال میں اکثر حادثات بھی رونما ہو جاتے ہیں۔سٹیشن پر دو اشارے غلط فہمی کا شکار کردیتے ہیں جونہی غلطی ہوئی قابو کر لیا جاتا ہے۔ٹیکنیکل کالج ریلوے سٹیشن کے قریب ہے اور بادامی باغ لاری اڈہ پرنیا پل جو سبزی منڈی، لاری اڈہ کو جاتاہے وہاں ٹریفک کا اڑدھام ہے، پیدل چلنے وا لوں کے لئے گزرنا دشوار ہے۔وہاں اشارہ ہی نہیں۔ راوی روڈ، بادامی باغ، مصری شاہ سے ٹریفک آ رہی ہے موٹر سائیکل سوار زخمی ہو رہے ہیں گاڑیاں آپس میں ٹکرا رہی ہیں۔
پل بنا دیا گیا اچھا کام کیا اللہ آپ کومزید ایسے اچھے کام کرنے کی ہمت دے۔ اب وہاں کینٹ / ڈیفنس کی طرف پر ٹائمنگ والا اشارہ لگے گا تو نہ اشارہ کٹنے کا ڈر ہو گا نہ چالان کرنے والوں کی جیب بھرنی پڑے گی۔
آٹو مارکیٹ بادامی باغ کی صورت حال سارا دن ہی خراب سے خراب تر رہتی ہے اس طرف ہر طرف سے گاڑیوں کا دباوٴ۔ اشارہ نہیں ہے جو وارڈن کھڑے ہیں وہ بھی بے بس ہیں اور عوام اذیت میں مبتلا ہیں۔

یہ آئی جی پولیس ٹریفک افسران کا کام ہے کہ وہ فوری طور پر اس طرف توجہ دیں۔ کنٹریکٹ پر بھرتی ہونے والے وارڈن زیادہ سے زیادہ کارکردگی دکھانے کے چکر میں رہتے ہیں ان کو بندوں کا کیا خدا کا خوف بھی نہیں ہے۔آج بڑھتی ہوئی ٹریفک کو رواں رکھنے کے لئے یقیناً اچھے اقدامات اور اچھی تربیت کی ضرورت ہے تاکہ نئی صورت حال کے تناظر میں سڑکوں پر آنے والوں کی بھی رہنمائی ہو اور وہ نئے تقاضوں سے روشناس ہو سکیں۔آج مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کے چہروں سے خوشی ختم کر دی ہے اوپر سے یہ عزاب عوام جائیں تو کدھر جائیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-06-13

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان