بند کریں
اتوار فروری

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کیا کراچی آپریشن ایک سال جاری رہے گا
لیاری میں پھر گینگ وار، بلوچ کلچرل ڈے پر دھماکے اور تشددکے واقعات صدرممنون حسین نےبھی کراچی آپریشن کی نئی ترجیحات اورحکمت عملی کااعلان کیاہے،اس پلان کےتحت جرائم پیشہ افرادکی گلی کوچوں میں تلاش شروع کردی گئی ہے
شہزاد چغتائی:
صدر مملکت ممنون حسین کی کراچی آمد کے موقع پر یہ بحث جاری تھی کہ کراچی آپریشن کب مکمل ہوگا اس پرصدر مملکت نے وضاحت کر دی ہے کہ مسلم لیگ ن نے کراچی میں امن و امان قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور جرائم پیشہ افراد اور ٹارگٹ کلرز کے خلاف آپریشن ایک سال تک بھی جاری رہ سکتا ہے۔ اس سے قبل کراچی میں یہ اطلاعات تھیں کہ کراچی آپریشن کا فیصلہ کن مرحلہ شروع ہونے والا ہے جس کے ساتھ سب کی چیخیں نکل جائیں گی۔
چند روز قبل ڈائریکٹر جنرل رینجرز نے بھی اپنے انٹرویو میں بے رحمانہ آپریشن کی جانب اشارہ کیا تھا۔ ڈائریکٹر جنرل رینجرز میجر جنرل رضوان اختر نے یہ بھی کہا کہ لیاری سے وصول کیا جانے والا کروڑوں روپے کا بھتہ ”بڑے گھر“ بھی جاتا ہے جس کے بعد سنسنی پھیل گئی تھی اور اندازہ ہورہا تھا کہ رینجرز بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالنے والی ہے جس سے اقتدار کے ایوان بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔
لیکن ڈائریکٹر جنرل رینجرز کے بعض سلگتے ہوئے بیانات کے بعد نارتھ کراچی کا واقعہ ہوگیا اور رینجرز دباوٴ میں آگئی جس کے بعد کراچی آپریشن کی رفتار بھی سست ہوگئی۔ اس دوران جبکہ صدر ممنون حسین نے بھی کراچی آپریشن کی نئی ترجیحات اور حکمت عملی کا اعلان کیا ہے ، اس پلان کے تحت جرائم پیشہ افراد کی گلی کوچوں میں تلاش شروع کردی گئی ہے۔ کیونکہ کچی آبادیاں دہشت گردوں کی جائے پناہ بتائی جاتی ہے، اس تناظر میں اب دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے اور کراچی میں بم دھماکے اور دہشت گردی کی وارداتوں میں مطلوب کالعدم تنظیموں کا نیٹ ورک توڑنے کیلئے اقدامات شروع کردیئے گئے ہیں۔
تحریک طالبان کراچی کے امیر اور دوسرے جنگجو عناصر کی تصاویر بھی جاری کردی گئی ہیں۔ دریں اثناء کراچی آپریشن کی نگرانی کیلئے کمیٹی قائم کردی گئی ہے کمیٹی کا قیام اس لحاظ سے خوش آئند ہے کہ ایم کیو ایم 6ماہ سے اس کمیٹی کے قیام پر زور دے رہی تھی وزیراعظم نوازشریف بھی کمیٹی کے قیام کی منظوری دے چکے تھے کمیٹی کے قیام کے بعد اب ایم کیو ایم سمیت سب تمام اسٹیک ہولڈرز مطمئن ہوگئے ہیں جس کے بعد خیال کیا جارہا ہے کراچی آپریشن اپنے منطقی انجام کی جانب تیزی سے بڑھے گا اور چونکہ وفاق نے کراچی میں قیام امن کا تہیہ کر رکھا ہے اس لئے آپریشن کے مقاصد بھی حاصل کئے جاسکیں گے۔

حالیہ دنوں میں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان کشیدگی کم ہوئی ہے اس سے قبل ایم کیو ایم الزام عائد کررہی تھی کہ آپریشن کا رخ طالبان کے بجائے ایم کیو ایم کی جانب موڑ دیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایس ایس پی چوہدری اسلم کی شہادت کے بعد طالبان کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں لیکن اب رینجرز نے طالبان کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
کراچی کے مضافات میں عسکریت پسندوں کا سب سے بڑا نیٹ ورک موجود ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کیلئے رینجرز کو مکمل اختیار دیا گیا ہے اور حکومت کے ساتھ سیاسی جماعتوں سمیت سب اسٹیک ہولڈرز رینجرز کی پشت پر کھڑے ہیں۔ ایک جانب ایم کیو ایم کو ریلی میں افواج پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا تو دوسری جانب حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کے صدر نہال ہاشمی کی سربراہی میں آل پارٹیز کانفرنس میں پولیس رینجرز اور فوج کی حمایت کا اعلان کیاگیا۔

اس سے قبل نارتھ کراچی میں رینجرز کی فائرنگ سے شوہر ذیشان کی ہلاکت اور بیوی کے زخمی ہونے کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے اور کالعدم تنظیموں نے اس واردات سے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوششیں کی لیکن کراچی کی انتظامیہ اور رینجرز حکام کی دانشمندی کے باعث صورتحال پر قابو پالیا گیا ہے۔ ذیشان کی ہلاکت کا سانحہ اس وقت رونما ہوا جب وہ اپنی ناراض بیوی کو زبردستی کار میں ڈال کر ساتھ لے جانا چاہتا تھا اور شافعہ کو سڑک پر بری طرح مار رہا تھا۔
بیوی اس کے ساتھ نہیں جانا چاہتی تھی لوگ شافعہ کو ذیشان کے چنگل سے چھڑانے میں ناکام ہوگئے تھے۔ جس پر شافعہ نے نزدیک چوکی پر موجود رینجرز سے مدد طلب کی اور تاثر دیا کہ ذیشان اس کو زبردستی اغوا کررہا ہے جس پر رینجرزکے سپاہی نے غلط فہمی میں گولی چلادی اور ذیشان جاں بحق ہو گیا۔ اس پر مشتعل افراد نے رینجرز کے خلاف احتجاج شروع کیا اور رینجرز کی چوکی کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔
ذیشان کی ہمشیرہ نے رینجرز کے خلاف مقدمہ کے اندراج اور گرفتاری تک دھرنا دیا جس پر رینجرز کے سپاہی کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا جبکہ منگل کے روز عدالت نے رینجرز کے سپاہی رحم نور کی ضمانت منظور کر لی ہے۔ ورثاء کے مطالبہ پر عدالت نے پولیس کو ذیشان کی ہمشیرہ کی دوسری ایف آئی آر درج کرنے کا بھی حکم دیا ہے جس میں ذیشان کی مشیرہ نے الزام عائد کیاہے کہ ذیشان کو سپاہی نے سینے پر گولی ماری۔

کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور فرقہ وارانہ دہشت گردی پہلے ہی تھمنے نہیں پا رہی‘ تشدد کی نئی لہر کے دوران ایک دن میں ڈیڑھ درجن افراں جاں بحق کردیئے گئے جن میں مدرسوں کے سربراہ اور علماء کرام شامل تھے جس کے بعد کراچی میں کشیدگی پھیل گئی۔ مختلف علاقوں میں ہنگامہ آرائی ہوئی ابوالحسن اصفہانی روڈ پر بہت گڑبڑ ہوئی اس دوران ایم کیو ایم کے دو رہنماوٴں حامد پیا اور محمدخالد کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ نماز پڑھ کر گھر جارہے تھے۔
ڈبل سواری پر پابندی کے باوجود ملزمان موٹر سائیکل پر سوار تھے۔ ایم کیو ایم نے الزام لگایا کہ حامد پیا اور خالد کو مذہبی انتہا پسندوں نے قتل کیا ہے۔ حامد پیا کراچی کی بااثر شخصیت تھے۔ آئی جی سندھ نے قتل کی تحقیقات کیلئے چار رکنی کمیٹی قائم کردی۔
ادھر بلوچ کلچرل ڈے کے موقع پر لیاری دستی بموں کے دھماکوں سے گونج اٹھا۔ ان دھماکوں کے نتیجے میں ایک جانب بلوچ کلچرل ڈے کی تقاریب ملتوی کردی گئیں تو دوسری جانب خواتین اور بچوں سمیت کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔
بم دھماکوں کو لیاری گینگ وار کے گروپوں کی آپس کی لڑائی کا شاخسانہ قرار دیاگیا۔ لیاری میں بم دھماکے اس وقت ہوئے جب پوری قوم کرکٹ میچ میں بھارت کے خلاف پاکستان کی کامیابیوں کا جشن منارہی تھی جب پورا کراچی فتح کی خوشی میں ہونے والی فائرنگ سے گونج رہا تھا، لوگ سڑکوں پر دیوانہ وار بھنگڑا ڈال رہے تھے۔ لیاری دہشت گردی کی زد میں تھا دوسرے روز بھی بم دھماکوں سے گونجتا رہا اس دوران لیاری امن کمیٹی اور سٹی الائنس کے سربراہ عذیر بلوچ کی رہائش گاہ کے قریب بھی دستی بم کا دھماکہ ہوا جس کے بعد کشیدگی پیدا ہوگئی۔
عذیر بلوچ اور بابا لاڈلہ کے ساتھیوں کے درمیان تصادم کئی دن تک جاری رہا جس میں نصف درجن افراں جاں بحق ہوئے۔ اخبارات لکھ رہے ہیں کہ لیاری میں بابا لاڈلہ گروپ اور عذیر بلوچ گروپ آپس میں برسرپیکار ہیں جس کا خمیازہ لیاری کے عوام بھگت رہے ہیں۔
علاوہ ازیں سندھ میں نئے آئی جی کی تقرری کے معاملے وفاقی اور سندھ حکومت میں اختلافات دور نہیں ہو سکے جس کی وجہ سے اب تک سندھ میں آئی جی کے عہدے پر کسی افسر کی مستقل تعیناتی نہیں ہوسکی ہے۔
وفاقی حکومت آئی جی موٹر وے ذوالفقار چیمہ جبکہ سندھ حکومت فیاض لغاری کو آئی جی سندھ کے عہدے پر تعینات کرانا چاہتی ہے،ذرائع کے مطابق آئی جی سندھ پولیس کے عہدے پر شاہد ندیم بلوچ کی ریٹائرمنٹ کے بعد اس عہدے کا قائم مقام چارج ایڈیشنل آئی جی اقبال محمود کے پاس ہے، سندھ حکومت نے وفاقی حکومت کو سفارش کی ہے کہ آئی جی سندھ کے عہدے پر فیاض لغاری کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے تاہم وفاقی حکومت کے کچھ حلقے آئی جی موٹر وے ذوالفقار چیمہ کونیا آئی جی سندھ تعینات کرانا چاہتے ہیں جس کی وجہ سے حکومت سندھ کی سفارشات کوالتوامیں ڈال دیا گیا ہے، آئی جی سندھ کے معاملے پر وفاقی اور سندھ حکومتوں کے درمیان رسہ کشی کے باعث صوبے میں پولیس کے سب سے اہم عہدے پر اب تک کسی افسرکی تعیناتی کا فیصلہ نہیں ہوسکا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ4 ستمبر 2013 کو وزیراعظم کے دورہ کراچی کے موقع پر بھی وفاقی حکومت نے آئی جی سندھ کے عہدے پرذوالفقار چیمہ کو تعینات کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا، وفاق کی جانب سے ان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا جارہا تھا تاہم وزیراعظم کے دورہ کراچی کے موقع پر وزیراعلی سندھ نے آئی جی سندھ کے معاملے پر سندھ حکومت کو اعتماد میں نہ لینے پر شدید احتجاج کیا تھا اور سندھ حکومت کے احتجاج کے باعث ذوالفقار چیمہ کو آئی جی سندھ بنانے کا معاملہ موخرکردیا تھا تاہم اب شاہد ندیم بلوچ کی ریٹائرمنٹ کے بعد وفاقی حکومت کی خواہش ہے کہ ذوالفقار چیمہ کو نیا آئی جی سندھ تعینات کرایا جائے، اسی وجہ سے وفاقی حکومت نے سندھ حکومت کی جانب سے آئی جی سندھ کے عہدے پر فیاض لغاری کی تقرری کیلیے بھیجی جانے والی سفارشات پرعمل درآمد کو التوا میں ڈال دیا دیا گیاہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-03-07

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان