بند کریں
ہفتہ جنوری

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
خونی دشمنی کا شاخسانہ
ساتواں بھائی بھی قتل۔۔۔۔ اس سے قبل اس دشمنی کی وجہ سے مقتول کے 6 بھائیوں سمیت 13 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں
شیر سلطان ملک:
اس سے قبل اس دشمنی کی وجہ سے مقتول کے 6 بھائیوں سمیت 13 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔
یوں تو ہمارے معاشرے میں معمولی باتوں پر دشمنیاں پالنا قابل فخر بات سمجھی جاتی ہے اور ان دشمنیوں کو بنیاد بنا کر مخالف کو قتل کرنا بھی معمولی بات ہے مگر وطن عزیز کے مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں بعض دشمنیاں اور عداوتیں ایسی بھی ہیں جو پورے کے پورے خاندانوں کا لہو پی چکی ہیں۔
ہنستے بستے گھر اجڑ گئے۔ گھر کا کوئی مرد باقی نہ رہا۔ حتیٰ کہ خواتین اور بچوں کو بھی معاف نہیں کیا گیا۔ نسلیں ختم ہوگئیں مگر یہ دشمنیاں اور دشمنی پالنے والے یا اسے قابل فخر سمجھنے والے اب بھی ہمارے معاشرے میں قابل نفرت نہیں سمجھے جاتے۔
صرف چند روز قبل ایسی ہی ایک خونی دشمنی کے نتیجہ میں ایک ایسے خاندان کا فرد اور ساتواں بھائی بھی مخالفین نے فائرنگ کر کے مار ڈالا جس کے چھ سگے بھائی پہلے ہی اس دشمنی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔
مرید کے تھانہ کے علاقہ قلہ مستیاں حدو کے میں کئی سال قبل مٹی گلی سے اٹھانے یا ڈالنے جیسی معمولی بات پر جھگڑے کا آغاز ہوا جوبعد میں ایک دوسرے پر جائزو ناجائز مقدمات درج کروانے کی وجہ سے دشمنی میں تبدیل ہوگیا۔ مقتول اشرف بٹ اور انکے بھائیوں کی جانب سے مقدمات درج کروانے پر مخالف قصاب گروپ علاقہ چھوڑ کر دیگر مقامات پر چلے گئے جس پر پولیس نے انہیں اشتہاری قرار دے دیا۔
اس بات پر قصاب گروپ نے بٹ گروپ کے افرد کو مختلف واقعات میں باری باری نشانہ بنایا اور بٹ گروپ کے سربراہ اعجاز بٹ، محمود بٹ، بلا بٹ، اصغر بٹ، سمیت 13 افراد کو قتل کیا۔ پھر بھی انکی رنجش ختم نہ ہوئی اور چند روز قبل 7 میں سے زندہ بچ جانیوالے آخری بھائی 33 سالہ اشرف بٹ کو بھی گولیوں کی بارش کر کے موت کی نیند سلا دیا مقتول پانچ بچوں کا باپ تھا۔
اس افسوسناک واقعہ کے بعد مقتول اشرف بٹ کے لواحقین جن میں نوجوان و بوڑھی خواتین اور بچے شامل تھے، نعش کو لاہور لے آئے اور فیصل چوک جن پر نعش رکھ کر احتجاج کیا۔ خواتین بین کرتی رہیں۔ مرید کے میں لواحقین کے احتجاج کے باعث 5 گھنٹے تک ٹریفک بند رہی اور لاہور سے گوجرانوالہ تک گاڑیوں کی لائنیں لگ گئیں احتجاج میں شامل مرد و خواتین نے پولیس کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ قاتل مجرمانہ اشتہاریوں نے قتل و غارت کا سلسلہ جاری رکھا اورسات بھائیوں سمیت 13 لوگوں کو قتل کر دیا مگر پولیس نے ان اشتہاریوں کو گرفتار نہ کر کے بہت سنگین غفلت کا مظاہرہ کیا۔

دشمنی کے اس افسوسناک انجام یعنی ایک خاندان کی تباہی کی مثال کے علاوہ بالخصوص صوبہ پنجاب کے چھوٹے بڑے شہروں میں خونی دشمنیاں ہزاروں افراد مرد خواتین اور بچوں کی جان لے چکی ہیں۔ لاہور، شیخوپورہ، گوجرانوالہ، پنڈی بھٹیاں، سرگودہا، میانوالی اور جھنگ میں آج بھی ایسی سنگین دشمنیاں چل رہی ہے۔ جو ہزاروں لوگوں کے سروں پر موت کی تلوار بن کر ہر وقت لٹک رہی ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ان دشمنیوں کے خاتمہ کے لئے نہ صرف حکومت ہنگامی اقدامات کرے بلکہ پولیس بالخصوص ایلیٹ فورس کا مفرور اشتہاری مجرمان کو گرفتار کرنے کا خصوصی ٹاسک دیا جائے۔ معاشرہ کا ہر طبقہ دشمنیوں کے خاتمہ اور انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کرے عام و خاص سبھی دشمنیوں کو قابل نفر ت سمجھیں اور اس نفر ت کا اظہار مظلوموں کی ہر طرح کی حمایت کر کے کریں۔
علماء کرام، پیران محترم اور سیاسی رہنما ایم این اے، ایم پی اے صاحبان اپنے اپنے علاقوں میں دشمنیوں کے خاتمہ کے لئے صلح کمیٹیاں قائم کریں۔ قانون سازی کے ذ ریعہ قتل کی ایسی وارداتوں کو دہشت گردی جیسا جرم قرار دے کر جلد از جلد مجرموں کو پھانسی کے پھندے پر پہنچایا جائے اسکے علاوہ اساتذہ کرام نوجوان نسل میں دشمنیوں کے بارے میں شعور بیدار کر کے اسے جہالت کی نشانی قرار دے کر قابل نفرت فعل شمار کریں۔
تاریخ اشاعت: 2015-02-18

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان