بند کریں
اتوار جنوری

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کراچی میں مسیحا پھر نشانے پر ۔۔۔۔تین ہزار ڈاکٹرز بیرون ملک نقل مکانی کر گئے
طبی و نیم طبی عملے کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومت انہیں تحفظ دینے میں ناکام ہو چکی ہے۔ پاکستان کی 18 کروڑ آبادی کے لئے ایک اندازے کے مطابق کم و بیش ڈیڑھ لاکھ ڈاکٹر موجود ہیں
الطاف مجاہد:
مسیحا ایک بار پھر نشانے پر ہیں۔ کراچی میں وکلاء ، علماء اساتذہ اور دانشوروں کی طرح ڈاکٹروں کی زندگی بھی خطرے میں ہے گذشتہ 7 برسوں میں کراچی کے 145 ڈاکٹر قتل ہوئے اور خوف کے باعث 3 ہزار بیرون ملک نقل مکانی کرگئے۔ طبی و نیم طبی عملے کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومت انہیں تحفظ دینے میں ناکام ہو چکی ہے۔ پاکستان کی 18 کروڑ آبادی کے لئے ایک اندازے کے مطابق کم و بیش ڈیڑھ لاکھ ڈاکٹر موجود ہیں یہ تعداد ورلڈ اسٹینڈرڈ سے بہت کم ہے اگر نقل مکانی کا سلسلہ بڑھا تو پاکستان میں شعبہ طب کا کیا بنے گا؟ یہ بھی اہم سوال ہے۔
ویسے بھی سندھ میں محکمہ صحت کے حالات اچھے نہیں متحدہ کے ڈاکٹر صغیر احمد کے بعد یہ شعبہ جات مہتاب ڈہر کے سپرد ہیں اور سیکرٹری محکمہ صحت افتخار شلوانی ہیں لیکن تھر میں یومیہ 3سے 5 ہلاکتیں معمول ہیں اور یہ نوزائیدہ، شیرخوار یا پھر کمسن بچے غذائی قلت کے تحت اجل کا نشانہ بن رہے ہیں اور محکمہ صحت کا عملہ چین کی بانسری بجا رہے ہیں۔سندھ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر مجتبیٰ سندیلو مطالبہ کرتے ہیں کہ ڈاکٹروں کو اسلحہ لے کر چلنے کی اجازت دی جائے اور اب تک ہلاک کئے گئے ڈاکٹروں کے ورثاء کو ایک ایک کروڑ روپے کی مالی امداد دی جائے یہی بات پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سابق سیکرٹری جنرل ڈاکٹر شیر شاہ سید نے کہی وہ بتانے لگے کہ ایسے ڈاکٹر بھی نشانہ بنے جن کے اہلخانہ آج گزر بسر کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کوئٹہ میں ایک ڈاکٹر کو دھمکی ملی وہ ہسپتال سے ائرپورٹ پہنچے اہلخانہ کو وہیں بلوایا اور دبئی کا ویزہ ہونے کی وجہ سے وہاں چلے گئے اور پھر واپس نہیں آئے۔
اس لئے کہ بھتہ خوروں کی دھمکیاں حقیقت کا روپ بھی دھار سکتی تھیں۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن، پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن سمیت تمام تنظیموں میں اس امر پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ سندھ کی حکومت ڈاکٹروں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو چکی ہے۔ باالخصوص کراچی کی صورتحال خراب ہے اس لئے نقل مکانی کا سلسلہ زور پکڑا ہے۔ ڈاکٹرنجی کلینکوں کی بندش اور سرکاری و پرائیویٹ ہسپتالوں میں تالہ بندی اور ضلعی ڈویڑنل صدر مقامات پر مظاہرے بھی کر رہے ہیں۔
ان کا یہ موقف بھی ہے کہ ہلاک ڈاکٹروں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جائیں ڈاکٹروں کو آسان طریق کار کے تحت اسلحہ لائسنسوں کا اجراء یقینی بنایا جائے سرکاری و نجی ہسپتالوں اور کلینکوں پر پولیس نفری تعینات ہونی چاہئے۔
کراچی میں اپنے اپنے شعبوں میں کے ماہرین باالخصوص ڈاکٹروں کی اموات پر ایک تبصرہ تو یہ ہے کہ اگر یہ پروفیشنل شخصیات اسی طرح نشانہ بنتی رہیں تو پاکستان بھر میں سب سے زیادہ لٹریسی ریٹ کا حامل کراچی کیا اپنے ان سپوتوں سے محروم نہیں ہو جائے گا جو اسی کا فخر اور افتخار ہیں دوسرے الفاظ اس کی سڑکوں پر جہالت راج کرے گی 2013ء میں کراچی میں 32 سو افرادہلاک ہوئے تھے اور 2014ء میں تعداد اس سے زیادہ ہی تھی گویا مجرموں کے حوصلے بلند ہوئے اور شرافت پسپا ہوئی اس پسپائی کا ایک اندازہ نقل مکانی بھی ہے جو بیرون ملک جانے کی سکت، استطاعت یا حیثیت نہیں رکھتے وہ اندرون ملک میں جا بسے وہاں بھی حالات قابل رشک نہیں البتہ کراچی سے بہتر ضرور ہیں۔

دنیا کے سو بہترین ملکوں میں پاکستان شامل نہیں اسے 106 واں نمبر ملا ہے گڈ کنٹری انڈیکس میں سائنس، ٹیکنالوجی، ثقافت، عالمی امن شجرکاری، ماحولیات، مساوات،ترقی اور بہتر شخصیات کے حوالے سے اچھے یا برے ملک کا انتخاب کیا گیا تھا پاکستان سائنس و ٹینالوجی میں 106 ویں ، ثقافتی لحاظ سے 109 ویں اور ماحولیاتی اعتبار سے 108 ویں نمبر پر رہا۔ کراچی کو ایک اور سروے میں دنیا کے خطرناک شہر سے تعبیر کیا گیا تھا اور امریکی جریدے فارن پالیسی سے بیان کیا تھا کہ کراچی واحد میگا سٹی ہے جہاں کوئی ماس ٹرانزٹ سسٹم نہیں ہے کراچی کے باشندے عدم تحفظ کا شکار ہیں اغواء برائے تاوان صرف کراچی کا مسئلہ نہیں سال گذشتہ پہلی سہ ماہی میں بلوچستان کے 28 ماہر صحت قتل کئے گئے کراچی میں ابتدائی ششماہی خطرناک رہی جس میں 10 ڈاکٹر ہلاک ہوئے کراچی میں ایک اندازے کے مطابق ڈاکٹروں سے انٹرنیٹ اور موبائل فون کے ذریعے بھی بھتہ وصول کیا جائے رہا ہے اور اس قبیح کاروبار میں درجن بھر ٹولے ملوث ہیں اور رقم ادا نہ کرنے والوں کے گھروں، کلینکوں اور دفاتر کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

حکومت کے بارے میں عمومی تاثر ہے کہ وہ ڈاکٹروں کے تحفظ میں سنجیدہ نہیں ہے اگر وہ چاہے تو سخت اقدامت کے ذریعے مثالی امن قائم ہو سکتا ہے۔ سرسری اور فوری سماعت کی عدالتیں، عبرتناک سزائیں اور ان کی تشہیر سے حالات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے کراچی میں ستمبر 2013 سے جاری ٹارگٹڈ آپریشن بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-02-11

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان