بند کریں
منگل جنوری

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
اسلامی جمہوریہ ایران
اسلامی تہذیب اور جدید روایات کا خوبصورت مرقع۔۔۔۔ ایرانی معاشی ڈھانچے کی بنیاد عظیم الشان اسلامی دستور پر استوار کی گئی ہے۔ جسکا نتیجہ ہے لوگ اپنی مذہب و عقیدے کے زیادہ نزدیک ہیں
تہمینہ رانا:
انقلاب اسلامی سے پہلے ایران میں شہنشاہی نظام حکومت نافذ تھا۔ پہلوی خاندان نے ایران سے اسلامی تشخص ختم کرنے کے لئے کثیر رقم خرچ کی۔ عام آدمی پر غاصبانہ اثرات ڈالنے کے لئے فحاشی اور انسانی اقدار کی دھجیاں اڑائی جائیں۔ بانی انقلاب امام آیت اللہ خمینی نے ایرانی قوم کے ہمراہ اسلام سے اپنی محبت کا اظہار اسلامی انقلاب کی صورت میں کیا۔
اس دن کے بعد سے ہر سال 11 فروری کو یوم اسلامی جمہوریہ ایران منایا جاتا ہے۔ ایران کا شمار پاکستان کے ہمسایہ اور بہترین دوست ممالک میں ہوتا ہے۔
ایرانی معاشی ڈھانچے کی بنیاد عظیم الشان اسلامی دستور پر استوار کی گئی ہے۔ جسکا نتیجہ ہے لوگ اپنی مذہب و عقیدے کے زیادہ نزدیک ہیں۔ لوگوں نے جدید روایات کو اپنانے کے باوجود اپنی اسلامی تہذیب وتمدن کو نہیں چھوڑا۔
اسی لیے ملک میں رائج اسلامی قوانین پر بوڑھے بزرگ سے لے کر جوان شہری خواتین اور بچے تک اتحاد یکساں طور پر نظر آتا ہے۔ ایران میں اسلامی انقلاب ایک نعمت ہے اس عظیم الشان انقلاب کے رونما ہونے کی وجہ سے ایرانی قوم میں ایک جذبہ حب الوطنی ایثار اور خودداری نے جو جنم لیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران 37 ویں سال میں داخل ہو چکا ہے ۔ آج ایران خطے کا مضبوط ملک ہے تمام تر مسائل کا سامنا کرنے کے باوجود قومی و بین الاقوامی سطح پر ایران کا تشخص مثبت انداز میں سامنے آیا ہے۔
انڈسٹری سائنس، خلاء ، ٹیکنالوجی، نیٹو ٹیکنالوجی ، اٹاک انرجی، میڈیکل تھراپی، زراعت، انجنیئرنگ اور دیگر سیکٹرز میں ایران نے قابل ستائش حدتک ترقی کی اور گرانقدر خدمات سرا نجام دی ہیں۔اس ترقی کے نتیجے میں ایران معاشی طور پر بہت مستحکم ہوا ہے۔
ایران میں بچوں کی شرح اموات فی ہزار111 سے گر کر 26 پر آ چکا ہے جبکہ اوسط عمر58 سے بڑھ کر 72 جا پہنچتی ہے ہے 1979 ایران میں بجلی کے استعمال کنندگان3399000 تھے۔
لیکن گزشتہ سال کے آخر میں 30 ملین تک پہنچ چکے ہیں۔ ایران 3.27 ٹریلین کیوبک میٹرز تک گیس کے ذخائر کے ساتھ دنیا میں دوسرا بڑا ملک ہے۔
1979 ء میں51000ایرانی فیملیز گیس کی نعمت سے مستفید ہوتی تھیں۔ لیکن اب 14ملین ایرانیوں کے پاس گھریلو گیس کنکشنز ہیں1912 ء تا 1957 تک ایران میں4565کلومیٹر ریلوے ٹریک تھا لیکن اس نیٹ ورک کی لمبائی 10,000 کلو میٹر تک جا پہنچی ہے۔
پہلے 25 فیصد ادویات ملک کی ضرورت کے مطابق تیار کی جاتی تھیں لیکن اب ان ادویات کا 96 فیصد پورے ملک کو سپلائی سمیت ایکسپورٹ بھی کیا جاتا ہے 45 فیصد سے زائد ایرانی انٹرنیٹ کی سہولت آپٹک فائبرز کے کامیاب سسٹم کی بدولت استعمال کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی سائنس دانوں کی رپورٹس کے مطابق ایران دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت 11 گنا آگے ہے ۔ یہاں لٹریسی ریٹ82.3فیصد ہے ۔
ایران میں2500 یونیورسٹیز ہیں۔ ایران کا شمار مغربی ایشیا کے سائنٹیفک پول میں ہوتا ہے ۔ اس شاندار ترقی نے ایران کو دنیا کے بار ہویں ملک کے طور پر لاکھڑا کیا ہے ۔ 2005 میں ایران کا موازنہ کیا جائے تو ہیومین ڈویلپمنٹ انڈکس میں10ویں رینک پر تھا۔ اب انسانی ترقی کے لحاظ سے اس کا شمار ٹاپ کے 7 ممالک میں ہوتا ہے۔
ایران میں 36 سالوں کے دوران 30 بار سے زائد مرتبہ الیکشن کا انعقاد کروایا جا چکا ہے جس میں متعدد بار صدراتی انتخاب شامل ہیں اسلامک کنسلٹیٹو اسمبلی، ایکسپرٹ کونسل اور میونسل الیکشن ان کے علاوہ ہیں۔
ایرانی الیکشن دنیابھر کی جمہوریتوں کی نسبت بے مثال ٹرن آوٴٹ کا شاندار اور پرامن اظہار ہمارے انتخاب کے مراحل کو شفاف اور غیر جانبدار بناتا ہے۔ ایران کی خارجہ پالیسی بشمول انٹرنیشنل کمیونٹی تعمیرات تعلقات پر مبنی ہے ۔ جس میں خاص طور پر ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات شامل ہیں۔
ایران اور پی فائیو+ ون کے دومیان معاہدے کی رو سے نوکلیئر پروگرام نے 23نومبر 2013 میں عظیم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
جو دنیا کے ساتھ بہتر ڈپلومیٹک تعلقات کا شاخسانہ ثابت ہو رہی ہیں۔ دونوں اطراف سے مفاہمتی مذاکرات کو بڑھا کر جون 2015 تک لے جایا جائے گا۔ایران جمہوری سوچ کی عکاسی کرتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ خطے میں برقرار رہے۔ اس کیلئے پی فائیو+ ون کے ساتھ لمبے عرصے تک کے معاہدے پر عمل پیرا رہنے کی کوشش انہی دوستانہ تعلقات کی ایک کڑی ہے۔ ایران نے مسلم آمر اور ہمسایہ ممالک بالخصوص پاکستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو عزت کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ ایران کی خارجہ پالیسی کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ سفارش وہ دیگر معاملات میں ہمیشہ ہم آہنگی پائی گی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-03-06

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان