بند کریں
ہفتہ فروری

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ہم جھگڑتے کیوں ہیں؟
دوسروں کی غلطیاں نظر انداز کر کے جھگڑے سے بچا جا سکتا ہے چھوٹی چھوٹی بے معنی باتوں پر آپے سے باہر ہوجانا اور انا کو درمیان میں لے آنا، ہمارے جھگڑالو ہونے کی علامتیں ہی تو ہیں۔ کوئی بھی شخص پیدائشی طور پر جھگڑالو نہیں ہوتا۔

بتول زہرا:
آئے روز خبریں آتی ہیں کہ فلاں جگہ لڑائی جھگڑا ہوا۔ جس کی وجہ سے فلاں شخص جاں بحق ہو گیا۔ بعض اوقات جھگڑا اس قدر سنگین نوعیت اختیا ر کرجاتا ہے کہ کئی کئی افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔اور خاندان کے خاندان تباہ ہوجاتے ہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر ہم لڑتے جھگڑتے کیوں ہیں؟ جب کہ خدا تعالیٰ نے حضرت انسان میں عقل و فہم کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔

اسے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے ۔ اس کے باوجود لڑائی جھگڑا کرتا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہاں رب کریم نے انسان میں بہت سی خوبیاں پیدا کی ہیں، وہاں اس میں کئی خامیاں بھی ہیں جیسا کہ اس کا جھگڑالو ہونا۔
سورة یٰسین میں خدا تعالیٰ نے انسان کے جھگڑالو ہونے کی زبر دست دلیل دی ہے کہ ہر بات پر اعتراض کرنا، نہ میں جواب دینا۔ لہٰذا قرآن پاک سے یہ ثابت ہوگیا کہ انسان کے جھگڑالو ہونے کی دو بڑی وجوہات ہیں اور جب ہم انسانی رویوں پر غور کرتے ہیں تو ہمیں یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ انسان واقعتاََ جھگڑالو ثابت ہوا ہے۔

چھوٹی چھوٹی بے معنی باتوں پر آپے سے باہر ہوجانا اور انا کو درمیان میں لے آنا، ہمارے جھگڑالو ہونے کی علامتیں ہی تو ہیں۔ کوئی بھی شخص پیدائشی طور پر جھگڑالو نہیں ہوتا۔ معاشرہ ، سکول ، گھریلو ماحول اور ساتھیوں کی بے اعتنائی اسے جھگڑالو بنا دیتی ہے۔ ناپسندیدہ اور مزاج کے خلاف کی گئی بات پر غصہ میں آجانا انسانی رویہ ظاہر کرتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ کوئی بھی انسان بذات خود برا نہیں ہوتا بلکہ اپنے گردو پیش سے اسے جو ملتا ہے وہ رد عمل کے طور پر وہی لوٹاتا ہے۔ بعض اوقات دفتر میں ساتھی کارکنوں کا رویہ ناقابل برداشت ہوجاتاہے۔ خواہ اس شخص کو اس بات کا احساس تک نہ ہو کہ اس کی باتوں سے دوسرا شخص شدید تناؤ میں آسکتا ہے ۔ چند دن تو برداشت کیا جاسکتا ہے مگر کب تک جب برداشت حد سے باہر ہوجاتی ہے تو نوبت جھگڑے تک پہنچ جاتی ہے۔

ایساہی معاملہ پڑوسیوں کے ساتھ پیش آتا ہے۔ بعض پڑوسی اپنے پڑوسیوں کو تنگ یا پریشان کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ جب ستائے ہوئے لوگوں کی برداشت ختم ہوجاتی ہے تو جھگڑا ہوجاتا ہے۔جس کی وجہ سے بعض اوقات انسانی جانیں بھی ضائع ہوجاتی ہیں۔ بعض لوگ مذاق یا انجانے میں دوسروں کو ناراض کردیتے ہیں۔ ان کا یہ مذاق اس وقت درد سر بن جاتا ہے۔
جب دوسرا فرد لرائی پر آمادہ ہوجاتاہے۔مذاق میں کی گئی بات بعض اوقات تھانے تک پہنچ جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے دونوں فریقوں کا پیسہ الگ خرچ ہوتا ہے اور فریقین کے درمیان صلح صفائی ہو کر بھی تناؤ کی کیفیت ہی رہتی ہے۔ کبھی کبھار عزیز و اقارب اور دوستوں کا رویہ بھی انسان کو جھڑنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ناراضگی اور حسد کی وجہ سے کسی کو دل ہی دل میں برا یا غلط سمجھنا یہ تمام چیزیں جھگڑے کا پیش خیمہ بن جاتی ہیں۔
بعض اوقات بہت قریبی رشت داری یا تعلق کے درمیان غلط فہمی پیدا کرنے میں تیسرا فیق اہم کردارادا کرتا ہے ۔ ان کے درمیان غلط فہمیاں پید اکرنے کے بعد وہ کود پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔
بہن بھائی بھی آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں۔ بہن بھائیوں کی لڑائی کو ہمیشہ پیار و محبت کی علامت ہی تصور کیا جاتاتھا لیکن اب چھوٹی چھوٹی رنجشیں جھگڑا بن کر اس قدر شدت اختیا کرجاتی ہیں کہ بھائی بہن ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں۔
اکثر زمین جائیداد کی خاطر بہن بھایئوں کا خون کرنا معمولی بات بن چکی ہے۔ پچھلے دنوں ایک واقعہ پیش آیا کہ دو بھائیوں اور ایک بہن نے جائیداد کی کاطر اپنے بڑے بھائی کو پٹرول چھڑک کر آگ لگادی اور خود فرار ہوگئے۔ جائیداد کی خاطر لڑائی جھگڑے ہمارے معاشرتی اور خانگی زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔
بچوں کے لڑائی جھگڑے کی وجہ سے ان کی ماں ہمیشہ پریشان رہتی ہے۔
ایک ایسی ہی ماں نے بتایا کہ لڑنا جھگڑنا ہماری فطرت میں شامل ہو چکا ہے۔ جب تک ایک دوسرے کو دو چار باتیں کہہ سن کر دل کی بھڑاس نہ نکال لی جائے بے چینی سی رہتی ہے۔ یہی حال میرے بچوں کا ہے۔ ان کی لڑائی کی وجہ سے میں اس قدر بیزار ہوچکی ہوں کہ گھر میں دل نہیں لگتا۔
آبادی میں اضافہ، مہنگائی اور غربت کے باعث بھی لوگ جھگڑالو ہوگئے ہیں۔ ایک شخص جو بیروز گار ہوسارے دن کی تلاش کے بعد بھی جب اسے روزگار نہیں ملتا تو گھر آکر لڑائی کرنے لگتا ہے۔
اسی طرح دیہاڑی دار جسے سارے دن کی تگ و دور کے بعد بھی کام نہیں ملتا وہ بھی اپنا غصہ جھگڑے کی صورت میں نکالتا ہے۔ نفسیاتی مسائل بھی جھگڑے کا سبب بن جاتے ہیں۔ وہ شخص جس نے ساری زندگی محرومیاں ہی دیکھی ہوں ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ ذہنی طور پر کمزور ہوجاتا ہے اور اس کی یہی کمزوری لڑائی کی صورت اختیار کر جاتی ہے۔مختلف کیفیات اور مراحل سے گزرنے کے بعد جب انسان اپنے آپ پر قابو نہیں رکھتا تو جھگڑتا ہے۔

مسائل اپنی جگہ لیکن لڑائی جھگڑا ان مسائل کا حل نہیں ہے بلکہ اس کیلئے صبرو تحمل اور برداشت کی ضرورت ہے۔ بات بات پر غصہ میں آنا، معمولی بات کو انا کا مسئلہ بنانا یا دوسروں کی بارتوں میں آکر اپنے تعلقات میں بگاڑ پیدا کرنا صحت مند ذہن کی علامت نہیں ہے۔ بلکہ صحت مند دماغ وہ ہے جو ہر معاملے کا حل صلح صفائی کی صورت میں نکالے۔ دوسروں کی غلطیوں کو بھلا کر اور اپنے آپ میں برداشت پیدا کرنے سے بہت سے جھگڑے ختم ہوسکتے ہیں۔ جو چیز انسان کے بس میں ہے اس کا وہ محتاج نہیں ہے۔ قرآ ن مجید میں بھی صبر کی اہمیت و عظمت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ضروری ہے کہ ہم قرآنی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں تاکہ کبھی جھگڑے کی نوبت ہی پیش نہ آئے۔

تاریخ اشاعت: 2014-01-14

(6) ووٹ وصول ہوئے