بند کریں
منگل جنوری

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین

فیصل آباد

فیصل آباد میں پاکستان کے سب سے بڑی ایئرپورٹ کا مجوزہ منصوبہ!
کینال ایکسپریس وے کے کنارے 32مربع اراضی پر تعمیر ہو گی۔۔۔۔ ایئرپورٹ فیصل آباد کے علاوہ لاہور اور گردونواح کے اضلاع کے عوام استعمال کر سکیں گے
احمد کمال نظامی:
سابق صوبائی وزیر قانون و بلدیات رانا ثناء اللہ خاں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ پنجاب میں کسی وزارت پر فائز نہ ہونے کے بغیر بھی وزیراعلیٰ میاں شہبازشریف کے بعد صوبائی حکومت کی دوسری طاقت ور شخصیت ہیں اور اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ حکمران پارٹی کو ان دنوں جس قسم کے چیلنجز درپیش ہیں۔ ان میں رانا ثناء اللہ خاں جیسے مخلص اور وفادار ساتھی پارٹی قیادت کو بعض نام نہاد پارٹی پنڈتوں کے مقابلے میں بہتر مشورے دے سکتے ہیں۔
گذشتہ دنوں رانا ثناء اللہ خاں نے فیصل آباد ترقیاتی ادارہ کے نام سے منسوب رہائشی منصوبے ایف ڈی اے سٹی میں نہر جھنگ برانچ سے 18کروڑ 86لاکھ روپے کی لاگت سے سات ماہ میں مکمل ہونے والے فراہمی آب کے ایک منصوبے کی ایک افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میاں شہبازشریف کے ترقیاتی منصوبوں سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ تعمیروترقی کے مراحل سے گزر رہا ہے اور صوبائی دارالحکومت لاہور کے بعد فیصل آباد میں بھی متعدد ایسے ترقیاتی کام ہو رہے ہیں جن کے مکمل ہونے کے بعد کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ فیصل آباد شہر صوبے کا دوسرا جدید اور ترقی یافتہ شہر نہیں ہے۔
رانا ثناء اللہ خاں نے کہا کہ متعدد میگا پراجیکٹس پر ہونے والے ترقیاتی کاموں نے فیصل آباد کو جدید و تیزرفتار ترقی کی نئی سمت کی جانب گامزن کر دیا ہے اور ان ترقیاتی اقدامات کے مکمل ہونے سے فیصل آباد کو حقیقی معنوں میں صوبے کے دوسرے بڑے شہر کی حیثیت حاصل ہو جائے گی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں ایک نوید تو یہ سنائی کہ 6ارب روپے کی لاگت سے کینال ایکسپریس وے منصوبہ سال 2015ء کے اندر اندر مکمل ہو جائے گا اور ایک دوسرا انکشاف یہ بھی کیا گیا کہ پاکستان کا سب سے بڑا ایئرپورٹ جو لگ بھگ 400 ایکڑ رقبہ پر مشتمل ہو گا وہ بھی ساہیانوالہ انٹرچینج کے قریب ہی تعمیر کیا جائے گا۔
ساہیانوالہ سابق سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری محمد افضل ساہی کا گاوٴں ہے۔ چوہدری محمد افضل ساہی ان دنوں بھی پنجاب اسمبلی میں شامل ہیں لیکن میاں نوازشریف اور میاں شہبازشریف کی ملک سے جلاوطنی کے دوران انہوں نے چونکہ پاکستان مسلم لیگ قائداعظم گروپ میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور الیکشن 2008ء میں رکنپنجاب اسمبلی میں منتخب نہیں ہو سکے تھے لہٰذا وہ الیکشن 2013ء سے پہلے دوبارہ مسلم لیگ(ن) میں آ گئے تھے لہٰذا انہیں حکمران جماعت کی طرف سے دانستہ پانچ سال تک پارٹی کی پچھلی صفوں میں رہنے کو کہا گیا ہے لہٰذا شہر کے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں بھی وہ فرنٹ لائن پر نظر نہیں آ رہے حالانکہ فیصل آباد کے سب سے زیادہ ترقیاتی پراجیکٹس ان کے صوبائی اسمبلی کے اور ان کے بھائی کرنل(ر) چوہدری غلام رسول ساہی کے قومی اسمبلی کے حلقہ میں ہی ہو رہے ہیں۔
رانا ثناء اللہ خاں نے ایف ڈی اے کی جس رہائشی سکیم ایف ڈی اے سٹی میں میٹھے پانی کی فراہمی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فیصل آباد میں مستقبل قریب میں ہونے والی تعمیروترقی کا ذکر کیا ہے اس تعمیروترقی سے ساہی برادران (سابق سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری محمد افضل ساہی اور رکن قومی اسمبلی چوہدری غلام رسول ساہی) کا بھی ایک تعلق رہا ہے۔ رانا ثناء اللہ خاں نے ساہیانوالہ انٹرچینج کے قریب ایک صنعتی زون پر بھی ترقیاتی کام ہونے کا ذکر کیا ہے۔
ان کا اشارہ پچاس مربعہ اراضی پر قائم کئے جانے والی ایم تھری انڈسٹریل اسٹیٹ کی طرف ہے۔ اس انڈسٹریل سٹیٹ کو اس جگہ تعمیر کرنے کی تمام تر منصوبہ بندی مشرف دور میں ہوئی تھی۔ یہ وہی دن تھے جب چوہدری محمد افضل ساہی پنجاب اسمبلی کے سپیکر تھے اور وہ اس وقت کے وزیراعلیٰ چوہدری پرویزالٰہی سے بھی خاصے قریب تھے جبکہ ان کے بھائی کرنل(ر) غلام رسول، سابق فوجی افسر اور رکن قومی اسمبلی ہونے کی بناء پر جنرل پرویزمشرف کے بھی قریب تھے۔
ایم تھری انڈسٹریل اسٹیٹ کا قیام سٹی ڈسٹرکٹ فیصل آباد کے ترقیاتی منصوبوں میں بہت زیادہ اہمیت کا حامل منصوبہ ہے اور اسی انڈسٹریل اسٹیٹ کو موٹروے تک رسائی دینے کے لئے ساہیانوالہ انٹرچینج قائم کیا گیا تھا۔ یہ انٹرچینج موٹروے تھری کی تعمیر کے دوران اس کے منصوبے کا حصہ نہیں تھا۔ اب ساہیانوالہ انٹرچینج اور ایم تھری انڈسٹریل اسٹیٹ ہی کینال ایکسپریس وے کی زیرتعمیر ایکسٹنشن (فٹ والا چوک سے ساہیانوالہ تک) کے ترقیاتی منصوبے کا باعث بنے ہیں۔
اگر ساہیانوالہ انٹرچینج قائم شدہ نہ ہوتا اور اس کے قریب ایم تھری انڈسٹریل اسٹیٹ قائم نہ کی جاتی تو کینال ایکسپریس وے کو گٹ والا موڑ سے آگے بڑھانے کا بھی یقینا کوئی جواز نہ ہوتا۔ رانا ثناء اللہ خاں نے چھ ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی کینال ایکسپریس وے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی تعمیر سے فیصل آباد شہر کے شرقی اور جنوبی علاقوں سے جھال خانوآنہ اور عبداللہ پور پل سے نصف گھنٹے سے بھی کم وقت میں موٹروے تک رسائی ممکن ہو جائے گی۔
یہ ایکسپریس وے نہر رکھ برانچ کے دونوں جانب ٹو لین روڈز کا تعمیراتی منصوبہ ہے اور گذشتہ دنوں قومی اسمبلی کے ارکان میاں عبدالمنان، حاجی محمد اکرم انصاری اور پنجاب اسمبلی کے ارکان حاجی خالد سعید، چوہدری فقیر حسین ڈوگر اور نواز ملک پر مشتمل ایک پانچ رکنی وفد تشکیل دیا گیا ہے تاکہ وہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف سے مل کر کینال ایکسپریس وے کو نہر کے دونوں جانب میں تھری لین روڈز کا منصوبہ بنا دیں۔
رانا ثناء اللہ خاں نے چونکہ ایف ڈی اے سٹی کی تقریب میں ساہیانوالہ کے قرب و نواح میں پاکستان کے سب سے بڑے ایئرپورٹ کی تعمیر کا انکشاف بھی کر دیا ہے جو 32مربع اراضی پر تعمیر کیا جائے گا۔ رانا ثناء اللہ خاں نے بتایا کہ 32مربع اراضی پنجاب حکومت کے پاس تقریباً حاصل شدہ موجود ہے۔ نہر رکھ برانچ کے دونوں اطراف میں لگ بھگ 8سو ایکڑ اراضی مختلف دیہات کے لوگوں سے جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے نئے کیمپس کی تعمیر کے لئے خریدی تھی۔
بعد میں جی سی یونیورسٹی کے سابقہ وائس چانسلر ڈاکٹر ذاکر حسین نے جھنگ روڈ پر ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ سے جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے نئے کیمپس کی تعمیر کے لئے 100ایکڑ اراضی کے عوض نہر رکھ برانچ کے دونوں اطراف کی یہ آٹھ سو ایکڑ اراضی ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ کے حق میں حکومت پنجاب کو واپس کر دی تھی۔ میں نے اپنے ایک کالم میں مقامی ارباب بست و کشاد کو مشورہ دیا تھا کہ فیصل آباد ایئرپورٹ مجوزہ منصوبہ کے لئے جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کی سرنڈر کردہ اراضی کو استعمال کر لیا جائے۔
رانا ثناء اللہ خاں کے انکشاف سے لگتا ہے کہ نہر رکھ برانچ کے دونوں اطراف کی اس اراضی کا غربی حصہ فیصل آباد ایئرپورٹ کی تعمیر کے لئے مختص کر لیا گیا ہے اور اگر ایسا ہے تو یہ بلاشبہ ایک مستحسن فیصلہ ہے۔ مناسب ہو گا کہ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے نئے کیمپس کے متروک رقبہ کا شرقی جانب کا رقبہ بھی کسی بڑے ترقیاتی منصوبہ کے لئے مخصوص کر لیا جائے اور زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کی ایکسٹنشن کے لئے ضلع جھنگ یا ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں زرعی اراضی کا کوئی ٹکڑا تلاش کر لیا جائے اور کینال ایکسپریس وے کو ساہیانوالہ روڈ کی کینال کراسنگ سے آگے مجوزہ فیصل آباد ایئرپورٹ تک اس کے زیرتعمیر منصوبے کا حصہ بنا دیا جائے اور رانا ثناء اللہ خاں کینال ایکسپریس وے منصوبے کو ٹو لین روڈ کی بجائے نہر کے دونوں اطراف تھری لین روڈز کی تعمیر کا منصوبہ بنانے کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کرنے والے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے تشکیل کردہ وفد کا خود بھی حصہ بن جائیں۔
کینال ایکسپریس وے چونکہ مستقبل میں پاکستان کی سب سے بڑی ایئرپورٹ کے لئے بھی آمدورفت کا روٹ ہو گی لہٰذا اس کی ابھی سے نہر کے دونوں جانب تھری لین روڈز کی صورت میں تعمیر ضروری ہو گی۔ اگر کینال ایکسپریس وے کو ابھی سے ضلع ننکانہ صاحب کے معروف قصبہ سانگلہ ہل تک توسیع دینے کا فیصلہ کر لیا جائے تو اس سے مجوزہ ایئرپورٹ کی افادیت دوچند ہو جائے گی اور یہ فیصل آباد کی ایئرپورٹ سے زیادہ سنٹرل پنجاب کی مرکزی ایئرپورٹ کی حیثیت اختیار کر لے گی۔
فیصل آباد کے علاوہ ضلع ننکانہ صاحب اور اس کے تحصیل ہیڈکوارٹر شاہکوٹ سے بھی اس تک براستہ سانگلہ ہل اور براستہ کھرڑیانوالہ رسائی ممکن ہو گی۔ فیصل آباد کا پہلا ایئرپورٹ جھنگ روڈ پر شہر سے آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ یہ ایئرپورٹ اب شہر کی حدود میں شامل ہو چکا ہے تو یہ بات غلط نہیں ہو گی۔ فیصل آباد کا یہ ایئرپورٹ پاکستان ایئرفورس کا ایئرپورٹ ہے۔
پاک فضائیہ اس کو ملک کی دفاعی ضرورت کے وقت عام لوگوں کے لئے بند کر دیتی ہے۔ کینال ایکسپریس وے پر مجوزہ ایئرپورٹ کی تعمیر سے ایم تھری انڈسٹریل اسٹیٹ کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔ اس وقت پاکستان اور چین کے نجی اداروں کے اشتراک سے اس صنعتی زون میں دنیا کی سب سے بڑی ٹیکسٹائل مل زیرتعمیر ہے۔ اگر رانا ثناء اللہ خاں کی مجوزہ ایئرپورٹ 2016ء تک بھی تعمیر ہو جائے تو فیصل آباد کے صنعتی زون میں بیرون ممالک کے سرمایہ کاروں کے لئے دلچسپی بڑھ سکتی ہے۔
یہ ایئرپورٹ ضلع شیخوپورہ کے اکثر علاقوں کے لئے بھی لاہور ایئرپورٹ کی نسبت زیادہ قریب اور زیادہ آسان اپروچ میں ہو گی۔ ضلع حافظ آباد اور فیصل آباد ڈویڑن کے تمام اضلاع سمیت یہ ایئرپورٹ سنٹرل پنجاب کے شہریوں کے لئے ایک بے مثال تحفہ سمجھی جائے گی۔ رانا ثناء اللہ خاں اور فیصل آباد کے دیگر زعماء کو یہ ایئرپورٹ پراجیکٹ آئندہ سال کے بجٹ میں شامل کرانے کی ہرممکن مساعی کرنی چاہیے۔
تاریخ اشاعت: 2015-02-14

(2) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان