بند کریں
جمعہ فروری

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ڈیموں کی تعمیر
ہر ملک میں اس کی بڑی اہمیت ہے مگر ہم اسے فراموش کررہے ہیں امریکہ کی مثال لی جائے تو یہاں 1930ء کی دہائی میں بننے والے ہوور ڈیم نے ملک کی معیشت میں مضبوطی کیلئے اہم کردار ادا کیا تھا
آغا عمیر ناصر:
قدرت کی عطا کردہ عقل سے انسان نے اسے کارنامے سرانجام دیے ہیں کہ وہ خود بھی اکثر ان پر دنگ رہ جاتا ہے ۔ ایسا ہی ایک کارنامہ ڈیموں کی تعمیر ہے۔ قومی ضروریات کے پیش نظر پانی ذخیرہ کرنے کا یہ مناسب بندوبست بجلی کی ضرورت بھی پوری کرتا ہے اور ساتھ میں زرعی شعبہ میں بھی بہت مفید ہے۔
ڈیم بنانے کی تاریخ بہت پرانی ہے۔
بیشتر ممالک نے ڈیم بنا کرترقی حاصل کی۔ امریکہ کی مثال لی جائے تو یہاں 1930ء کی دہائی میں بننے والے ہوور ڈیم نے ملک کی معیشت میں مضبوطی کیلئے اہم کردار ادا کیا تھا۔ یہ ایسا ڈیم ہے جس نے سیلاب کا سبب بننے والے دریا پر کنٹرول حاصل کی اور امریکہ کی جنوب مغربی ریاستوں کے لئے بجلی کی پیداوار شروع کردی۔ ہوور ڈیم کی اونچائی بہت زیادہ ہے۔ یہ ڈیم فن تعمیر کے حوالے سے انجینئرنگ کے شعبہ کا ایک شاہکار مانا جاتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ اس ڈیم کی تعمیر میں بہت زیادہ کنکریٹ استعمال ہوا تھا۔ یہ اتنا زیادہ میٹریل تھا کہ اس سے ایک طویل سڑک تعمیر کی جاسکتی ہے۔ اس قدر پیچیدہ اور مشکل ڈیم بھی اپنے مقررہ وقت سے دوسال قبل تیار ہوگیا تھا۔ ڈیمز ممالک کیلئے اقتصادی طور پر بہت مفید ہوتے ہیں۔ یہ خوشحالی اور ترقی کا سبب بنتے ہیں۔ ماہرین چھوٹے بڑے ہر طرح کے ڈیموں کو ملک کی ترقی و خوشحالی کا ضامن قرار دیتے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق 2040ء تک دنیا بھر میں بجلی کے استعمال میں 50فیصد سے زائد اضافے کو توقع ہے۔
بجلی کے حصول کیلئے جہاں دیگر کارآمد ذریعوں سے مدد لی جارہی ہے وہاں سب سے سستا اور موٴثر ذریعہ ”پن بجلی“ ہی کو سمجھا جارہا ہے۔ ڈیموں کے ذریعے پیدا ہونے والی بجلی نہ صرف سستی ہوتی ہے بلکہ یہ زیادہ مقدار میں بھی حاصل کی جاسکتی ہے ۔ وائس آف امریکہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پن بجلی پیدا کونے اور اس کا استعمال کرنے والے ممالک میں ویت نام اور لاؤس مثالی ہیں۔
یہ ممالک ڈیموں سے نہ صرف بجلی پیدا کررہے ہیں بلکہ کئی ممالک کو برآمد بھی کررہے ہیں۔ وہاں ڈیمز صنعت کا درجہ اختیار کرچکے ہیں۔ چین، امریکہ، بھارت، برازیل اور بہت سے دوسرے ممالک ڈیموں کی تعمیر پر بھرپور توجہ کیے ہوئے ہیں۔ یہ ڈیم ہی ہیں جو ان ممالک کی معیشت میں اضافے اور بجلی کی پیداوار میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ جب کسی ملک کو بجلی اور پانی کی پیداوار کے سلسلے میں ایمرجنسی کا سامنا ہو تو پھر ڈیم بنانے کے حوالے سے جلدی اختیار کرنی چاہئے۔

پانی ہر ملک و قوم کیلئے زندگی کی علامت ہے اور ڈیم پانی ذخیرہ کرنے اور اس بیاندی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے اہم ہیں۔ پانی ذخیرہ کرنے کیلئے ہر ملک کو ڈیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس پانی سے بجلی پیدا کرنے کے علاوہ کاشتکاری کے کام میں بھی لایا جاتا ہے۔ پاکستان میں ڈیموں کی بروقت تکمیل نہ ہونے سے مسائل میں اضافہ ہورہا ہے۔ اگر پاکستان میں پانی کے مسئلے کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو مستقبل میں پاکستان کے بڑے مسائل میں سرفہرست پانی کا مسئلہ ہی ہوگا۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں اہم معاملات کو بھی سیاست، بحث و مباحثہ اور تنازعات کی نظر کردیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قومی منصوبے فرد واحد کیلئے نہیں ہوتے بلکہ ان سے پوری قومی کو فائدہ ہوتا ہے۔ بہت سے ایسے ڈیم ہیں جن کی تعمیر پر کسی کو اعتراض نہیں ہے مگر پھر بھی ان کی تعمیر میں بھی سستی اور غفلت سے کام لیا گیا۔
حکومت کو چاہیے کہ تمام صوبوں کے تکنیکی ماہرین کی ایک ایسی ٹیم تشکیل دے جو ہر صوبے میں جہاں ممکن ہو چھوٹے بڑے ڈیم بنانے کے متعلق مشورے بھی فراہم کر اور اس حوالے سے موجود رکاوٹوں کو دور کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کرے۔
عام پاکستانیوں کو ڈیموں کی اہمیت اور افادیت سے آگاہ کیا جانا ضروری ہے۔ لوگوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ بجلی اور پانی کی محرومی زیادہ سے زیادہ ٹیم تعمیر کر کے ہی دور کی جاسکتی ہے۔
پاکستان میں آبپاشی اور بجلی کی ضرورت پوری کرنے کیلئے بہت سے نئے ڈیموں کی اشد ضرورت ہے ۔ ڈیموں کی تعمیر سے متعلق لوگوں میں شعور و آگہی عام ہوجائے تو عین ممکن ہے کہ مفاد پرست لوگ اس حوالے سے سیاست نہیں کرسکیں گے۔ سند کو دیکھا جائے تو یہاں کبھی سیلاب آتے ہیں اور کبھی تھرپارکر میں قحط کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ سب آبی بدانتظامی کی وجہ سے ہے۔ موجودہ حکومت سے امید کی جاسکتی ہے کہ یہ ڈیموں کی افادیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ملک بھر میں چھوٹے بڑے ڈیموں کی تعمیر کو یقینی بنائے گی۔
تاریخ اشاعت: 2014-04-29

(4) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان