بند کریں
جمعہ جنوری

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
چائلڈ لیبر کا خاتمہ
وقت کی ضرورت بچے جو کسی ملک کا مستقبل،سرمایہ اور اثاثہ ہوتے ہیں۔ جب حالات سے مجبور ہو کر ہنسنے کھیلنے کے دنوں میں کام کرنے نکل کھڑے ہوتے ہیں
سید جواد بخاری:
بچے جو کسی ملک کا مستقبل،سرمایہ اور اثاثہ ہوتے ہیں۔ جب حالات سے مجبور ہو کر ہنسنے کھیلنے کے دنوں میں کام کرنے نکل کھڑے ہوتے ہیں تو یقیناً اس معاشرے کے لئے ایک المیہ وجود پا رہا ہوتا ہے۔ یہ المیہ ہر گزرتے دن کے ساتھ زخم کی صورت اختیار کرتا ہے اور پھر ناسور بن کر معاشرے کا چہرہ داغدار اور بد صورت کر دیتا ہے۔
پاکستان میں بھی معاشی بدحالی، سہولیات سے محرومی، استحصال، بے روزگاری، غربت اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے جگہ جگہ اس المئے کو جنم دے رکھا ہے۔ اسی طرح بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عوام کی بے شعوری نے بھی اس میں کافی کردار ادا کیا ہے۔ غرباء جب اپنے بچے کو اچھے سکولوں میں نہیں بھیج پاتے یا انہیں مناسب تعلیم نہیں دلوا پاتے تو پھر وہ اپنے بچوں سے کام لینے لگ جاتے ہیں۔
ساری دنیا ہی اس لعنت کا سامنا کر رہی ہے اور اس کے خاتمے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی بچوں سے مشقت کروانا جرم ہے لیکن پاکستان میں چائلڈ لیبر ایک سماجی ضرورت بن چکی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں چائلڈ لیبر سب سے زیادہ ہے۔پاکستان کے بچوں کی حالت زار یہ ہے کہ غربت کی وجہ سے تقریباًکم و بیش دو کڑور بچے محنت مشقت کرتے ہیں لیکن اپنے فائدے کی وجہ سے کچھ بااثر شخصیات اس تحقیق کو جھٹلارہی ہیں۔
جبکہ دوسری طرف کچھ غیر ملکی این جی اوز جیسے یو ایس ایڈ اور پاکستان کی فلاحی تنظیمیں پاکستان میں چائلڈ لیبرکے خلاف کام کر رہی ہیں۔ پاکستان میں چائلڈ لیبرکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اب تقریبا% 53 لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ جبکہ حالیہ برسوں میں یہ اضافہ بڑی تیزی سے ہو رہا ہے۔ سکول جانے کی عمر کے بچے دکانوں، ہوٹلوں، ورکشاپوں، چمڑے کے کاروبار میں، جوتوں کے کارخانوں میں اور دیگر متعدد جگہوں پر ملازمت کرنے کے علاوہ مزدوری کرنے پر بھی مجبور ہیں۔
قوم کے مستقبل کا ایک بڑا حصہ بچپن سے ہی تعلیم سے محروم ہو رہا ہے اور یہی قوم کے وہ معمار ہیں جنہوں نے مستقبل میں ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے اور نوجوان نسل اس وقت تک حالات نہیں بدل سکتی جب تک اس کے پاس تعلیم نہ ہو۔ یہ بات افسوس کے قابل ہے کہ اب تک کسی سیاسی جماعت نے چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئے کوئی منشور نہیں بنایا۔ معاشرے کے کسی اور طبقے کی طرف سے بھی اس جانب کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
ایسا لگتا ہے ہم نے بحثیت مجموعی چائلڈ لیبر کواپنے لئے ناگزیر مجبوری تسلیم کر لیا ہے۔ عوام الناس بالعموم اور ارباب اختیار بالخصوص کو اس ضمن میں کوئی پریشانی لاحق نہیں۔ سماجی بہبود کے اعدادو شمار کے مطابق باقاعدہ شعبوں میں کام کرنے والے مزدور بچوں کی تعداد چالیس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور اس میں بیس لاکھ مزدور بچے پنجاب میں ہیں اور قابل افسوس بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت کی کافی تگ و دو کے بعد اب بھی تقریباً دو کروڑ بیس لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں اور یہ سب بچے کسی وقت بھی نو عمر مزدور نہ صرف بن سکتے ہیں بلکہ بن چکے ہیں۔
پاکستان میں بچوں کی مزدوری کا قانون بنے کئی سال بیت چکے ہیں لیکن اس پر عمل درآمد نہ ہو سکا اور خود قانون میں بھی نئے عالمی کنونشنز کے مطابق بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ مزدور بچوں کا 80 فیصد تو غیر رسمی شعبہ میں ہے جیسے گھروں میں اور کھیتوں میں کام کرنے والے بچے جن کا کوئی سرو ے دستیاب نہیں۔ لوگوں کو زندگی کی بنیادی سہو لتیں میسر نہیں ہیں۔
بچوں کے لئے کوئی ایڈ پلین اور الاؤنس موجود نہیں ہیں۔ متفرقہ گروپ کلاسزکے حساب سے تعلیم اور شعور فراہم کیا جائے۔ حکو مت کا چائلڈ لیبر کوکنٹرول کرنے کے حوالے سے کوئی اقدم ا ب تک منظر عام پر نہیں آیا۔ ایک گھر میں کمانے والا ایک شخص جبکہ کھانے والے افراد کی تعداد اوسطاً سات سے آٹھ ہے۔ تو ایسے میں وہ تمام گھر والوں کی ذمہ داریوں کو کیسے پورا کر سکتا ہے۔
لہذا ان گھروں میں عورتیں اور بچیاں مختلف کام کرکے اپنا خرچہ نکال رہی ہیں۔ ننھے ننھے وہ ہاتھ جن کی عمر ابھی گڑیا اور گڈوں سے کھیلنے کی تھی اب انہی ہاتھوں سے اپر سلائی، چوڑیاں جوڑنے اور کڑھائی کا کام کر رہی ہیں۔ ملک کے ہر چھوٹے بڑے شہروں میں گاڑیوں کی ورکشاپوں، فرنیچر کارخانوں، چمڑے کے کاروبار میں، جوتوں کے کارخانوں میں اور دیگر متعدد جگہوں پر ملازمت کرنے کے علاوہ مزدوری کرتے ہیں۔
وہ آنکھیں جو خواب دیکھنے کی عمر کی مستحق تھیں۔ اب وہ بے نور اور حسرت و مایوسی کا شکار ہو کر رہ گئی ہیں۔ دوسروں کو سکول جاتے دیکھتی ہیں تو ناجانے کتنی حسرتیں اور کتنے شکوے زبان پر توڑ دیتے ہیں۔ پیٹ کی بھوک ہر چیز پر حاوی ہو جاتی ہے۔
قصور میں چائلڈ لیبر میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک بیس لائن سروے کے مطابق اس وقت صرف قصور کی یو۔
سی 05 اور 06 میں تین ہزار کے قریب بچے چائلڈ لیبر ہیں اور ان میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ چائلڈ لیبرمختلف شعبوں ٹینریز، جوتوں کی فیکٹریوں اور لڑکیاں گھروں میں کڑھائی اور اپر بنوائی کا کام کر رہی ہیں۔ اسکی وجہ یقیناً غربت، بے روزگاری اور حالات ہیں۔
چائلڈ لیبر پرجیسا کہ بہت سی این۔جی۔اوز اور پاکستان کی فلاحی تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔
اسی طرح قصور میں سمال گرانٹس اینڈ ایمبیسڈرز فنڈ پروگرام یو ایس ایڈ کے تعاون سے ایلفا فاؤ نڈیشن نان فارمل ایجوکیشن سنٹرز چلا رہی ہے۔ چائلڈ لیبر کے خاتمے اور تعلیم کے فروغ کے لئے اس پروگرام کے تحت 5 سال سے14 سال تک عمر کے کام کرنے والے بچوں اور بچیوں کوغیر رسمی تعلیمی سنٹرز میں مفت تعلیم دی جا رہی ہے۔ یہ سنٹرز یونین کونسل نمبر 05اور 06کے علاقہ موچی پورہ، بستی شاہدرہ، بیرون کوٹ حلیم خان، منگل منڈی،کوٹ مولوی عبدالقادر، روشن آباد، باگڑ کوٹ، علی گڑھ، سلامت پورہ، لطیف پورہ اور بستی ونیکاں میں مصروف عمل ہیں۔

قابل اور محنتی ٹیچرز کی زیر نگرانی قصور شہر میں بارہ غیر رسمی تعلیمی سنٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ جس میں پانچ سو بچوں اور بچیوں کو تعلیم دینے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ ان میں سے ساڑھے تین سو بچوں کو پرائمری پاس کروانے کے بعد سرکاری سکولوں میں با قا عدہ داخل کروایا جائے گا۔ مزید برآں سو بچوں کو فنی تعلیم کے لئے ٹیکنیکل ایجو کیشن کے اداروں میں بھیجا جائے گا۔
پراجیکٹ کی سر گرمیوں میں چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئے ضلعی سطح پرآگا ہی پروگرام، سیمینار، مشاورت اور تحقیق وغیرہ شامل ہے۔ اس ضمن میں مختلف اداروں، سماجی کارکنوں اور کمیونٹی گروپس کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے۔
ایلفا فاؤ نڈیشن اور یو ایس ایڈ کی اس کاوش کا ناصرف مختلف سماجی تنظیموں نے خیر مقدم کیا بلکہ بیشتر علاقائی، سیاسی، مذہبی لوگوں نے بھی سراہا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ مخیر حضرات اگرچائلڈ لیبر کے خاتمے اور تعلیم کے فروغ پر توجہ دیں تو دور اندیش نتائج اخذ ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ95 فیصد پاکستانیوں کو بچانے کے لئے دو وقت کی رو ٹی کا حصول ممکن بنانے کے لئے پاکستان میں چائلڈ لیبر کے خاتمے کے اور ملک سے کرپشن کے خاتمے کے لئے فوری اقدامات کیے جائیں تو انشا ء اللہ حالات میں بہتری آسکتی ہے۔ آخر میں یہ بات ضرور کہوں گاخدارا پاکستان میں چائلڈ لیبر کے خاتمے بھرپور اقدامات کئے جائیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-02-01

(0) ووٹ وصول ہوئے