بند کریں
اتوار جنوری

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بھکاری مافیا کے وارے نیارے
رمضان میں ایک بھکاری روزانہ تین ہزار روپے سے زیادہ کماتا ہے۔۔۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت سواتین لاکھ افراد ملک کے طول وعرض میں بھکاری نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔
صابر بخاری:
پاکستان کے قانون کے مطابق بھیک مانگنا جرم ہے مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں بھکاریوں کی تعداد میں سالانہ پانچ فیصد اضافہ ہو رہاہے۔ رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی بھکاریوں اور بھکاری مافیا کی چاندی ہوگئی ہے۔ مارکٹیں،چوک،چوراہے مساجد،مزارات تک کی بولی لگ چکی ہے۔ بھکاری مافیا کا پاکستان میں ایک منظم نیٹ ورک موجود ہے۔
ہم یہاں پر بھکاری نیٹ وارک اور رمضان المبارک میں اس سرگرمیوں میں اضافہ کے بارے میں کچھ معلومات شیئر کرتے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت سواتین لاکھ افراد ملک کے طول وعرض میں بھکاری نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔ خاص طور پر رمضان المبارک میں بھکاری چھوٹے قصبوں سے نکل کرپاکستان کے بڑے شہروں کراچی،لاہور، اسلام آباد،پشاور،راولپنڈی،کوئٹہ،حیدر آباد،ملتان،سکھر،سمیت دوسرے شہروں کارخ کرتے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ شہروں میں امیر لوگ زیادہ ہوتے ہیں۔ جورمضان میں دل کھول کر پیسہ خرچ کرتے ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق رمضان میں ایک بھکاری روزانہ تین ہزار سے زیادہ کما لیتا ہے۔
بات کریں اگر پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی تویہاں پر بھی آبادی کے حساب سے بھکاریوں کی تعداد بھی زیادہ ہوتی ہے۔ رمضان المبارک کی آمد کیساتھ ہی یہ تعداد کافی حد تک بڑھ گئی ہے۔
کراچی کا کوئی چوک،چوراہا،شاہراہ ایسی نہیں جہاں بھکاریوں نے ٹھکانے نہ بنارکھے ہوں۔ ذرائع کے مطابق کراچی پہنچنے والے زیادہ تر بھکاریوں میں جنوبی پنجاب اور اندرون سندھ کے بھکاریوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ ڈیفنس،چورنگی،کلفٹن،ٹاور،بولٹن مارکیٹ گلشن چورنگی سمیت کئی دوسرے علاقے بھکاری مافیا کی کمائی کے بڑے مراکز ہیں۔ گداگری کے نام پر اربوں روپے کمانے والے مافیا بھی سرگرما ہوگیا ہے۔
اس مافیا نے ہی جنوبی پنجاب اور اندرون سندھ سے بھکاریوں کو کراچی میں ٹولیوں کی صورت میں پہنچا دیا ہے۔ اس مافیا نے بھکاریوں کو سگنلز،مساجد امام بارگاہوں ،مزاروں،مارکیٹوں، چوکوں ،شاہراہوں پر بھیک مانگنے کیلئے جگہ مختص کردی ہے۔ بھکاری مافیا بھکاریوں کو روزانہ کی بنیاد پر اجرت دیتا ہے۔ بات کریں اگر پاکستان کے دوسرے بڑے شہرلاہور کی تو یہاں بھی رمضان المبارک کی آمد کیساتھ ہی بھکاریوں کی فوج ظفر فوج شہر میں داخل ہو چکی ہے۔
بھکاری اہلخانہ کیساتھ شہر میں داخل ہوئے ہیں جن کی رہائش،کھانے پینے کا بندوبست بھکاری مافیا کرتا ہے۔ حاصل ہونے والی آمدن کا بڑا حصہ بھکاری مافیا لے جاتا ہے۔ اور بھکاری کو کچھ حصہ یا روزانہ کی اجرت دی جارہی ہے۔ زیادہ معذور بھکاری کی اجرت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ ان بھکاریوں کے مانگنے کے انداز بھی نرالے ہیں۔ کچھ بھکاری تو کچھ لئے بغیر جان ہی نہیں چھوڑتے۔ مقدس اور تاریخی مقامات کے اردگرد کے علاقے آجکل بھکاریوں کے نرغے میں ہیں۔ یہ بھکاری پورا رمضان خوب بھیک مانگتے ہیں۔ اور عید کے بعد اپنے اپنے علاقوں کو لوٹ جاتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-06-25

(1) ووٹ وصول ہوئے