بند کریں
جمعہ فروری

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بہاولپور وکٹویہ ہسپتال میں اموات کا ذمہ دار کون؟
پروفیسر زمافیاکی چیرہ دستیوں کے باعث ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میں14 بچے وفات پاگئے صرف ماہ جولائی میں33 بچے فوت ہوئے جبکہ اس سال کے6 ماہ میں901 بچے ہلاک ہوئے اتنی بڑی تعداد میں ہونیوالی ہلاکتیں ایک لمحہ فکریہ ہیں
شاہداختربلوچ
بہاول وکٹوریہ ہسپتال ریاست بہاولپورکے دورمیں قائم کیاگیا نواب بہاولپورسرصادق محمد خان خامس عباسی نے بہاولپورکے عوام کوبہترین تعلیمی سہولتوں کی فراہمی کی خاطر جہاں بہاولپور میں اعلی تعلیمی ادارے قائم کیے وہاں لوگوں کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کیلئے ایک بہترین ہسپتال کی بھی داغ بیل ڈالی جسے نواب بہاول خان اورملکہ وکٹوریہ کے ناموں کی مناسبت سے بہاول وکٹوریہ ہسپتال کانام دیاگیا اس ہسپتال میں ریڈیالوجی سمیت ، سرجری، طب، گائنی، ٹی بی کے وارڈ بنائے گئے تھے۔
ہسپتال کاایک آؤٹ ڈوربھی تھامریضوں کو ادویات ،کھانے پینے کی اشیاء اورتین وقت بہترین کھانا مفت فراہم کیاجاتاتھا۔ ریاست بہاولپورکی پاکستان میں شمولیت کے بعداس ہسپتال کانظام بھی محکمہ صحت کے پاس چلاگیا۔ پھر اس ہسپتال میں ای این ٹی اورآئی کے شعبہ جات بھی بنادیئے گئے۔1972 میں یہاں میڈیکل کالج کے قیام کی داغ بیل ڈالی گئی توبی وی ہسپتال کوٹیچنگ ہسپتال کے طورپر میڈیکل کالج سے منسلک کردیاگیا۔
میڈیکل کالج بننے کے بعد ہسپتال کے کلینکل شعبہ جات کانظام قائداعظم میڈیکل کالج کے پروفیسروں کی نگرانی میں دے دیاگیا جبکہ ہسپتال کے انتظامی امور کیلئے یہاں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کوبرقراررکھاگیالیکن میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی آسامی محض ڈمی کی صورت اختیارکرگئی کیونکہ پرنسپل قائداعظم میڈیکل کالج کوکلینیکل شعبہ جات کاسربراہ بنادیاگیا اوراس کواتنے اختیارات دے دیئے گئے کہ وہ ہرمسئلہ کابادشاہ بن بیٹھا۔
کلینکل شعبہ جات کے پروفیسر ز، اسسٹنٹ پروفیسرز ایسوسی ایٹ پروفیسر میڈیکل کالج سے متعلق ہیں جبکہ باقی جونیئرڈاکٹر بی وی ہسپتال کے تحت کام کرتے ہیں اس طرح ہسپتال پرپروفیسر زکی اجارہ داری قائم ہوگئی اوروہ ہرطرح کے سیاہ وسفید کے مالک بن بیٹھے ان کی مرضی کے بغیروارڈوں میں کوئی پرندہ بھی پرنہیں مارسکتا۔ ان سپیشلسٹ ڈاکٹروں نے سرکاری رہائش گاہوں پراپنے مطب قائم کرلیے اوروہاں مریضوں کومعائنہ کے بعد ہسپتال میں داخل کرنااور ڈسچارج کرناان کی صوابدید بن گئی آہستہ آہستہ پروفیسرز اتنے بااختیار بن بیٹھے کہ ان کی مرضی کے بغیر ہسپتال کے امورکی انجام دہی مشکل ہوکررہ گئی انہیں پروفیسر زنے پرائیویٹ ہسپتال بنالیے اور سرکاری ہسپتال میں مریضوں کوعلاج معالجہ کی سہولیات کی فراہمی محض جونیئر ڈاکٹروں کی ذمہ داری بن گئی سینئر اورسپیشلسٹ ڈاکٹروں نے وارڈوں میں آناچھوڑ دیا اورپرائیویٹ پریکٹس کے ذریعے کروڑوں روپے ماہوار بنانے لگے ان کوپوچھنے والاکوئی نہیں کیونکہ پرنسپل کیوایم سی انہیں پروفیسروں میں سے ایک پروفیسر ہوتاہے اوراکیڈمک کونسل میں شامل پروفیسر پرنسپل کواپنی مرضی نہیں کرنے دیتے ہسپتال کاایم ایس محض ڈمی بن کررہ گیااوراس کے پاس صر ف جونیئر ڈاکٹروں کی تنخواہوں کی ادائیگی، ہسپتال کے سٹاف کی سربراہی اورصفائی واددیات کی خریداری کے امور رہ گئے لیکن ان امور میں بھی پروفیسروں کی مرضی کاعمل دخل ہے اس طرح ہسپتال میں ایک پروفیسر زمافیا وجود میںآ گیاجنہوں نے مریضوں پرتوجہ دینے کی بجائے اپنی پرائیویٹ پریکٹس پرزیادہ توجہ دی بی وی ہسپتال800 بسترکا ہسپتال ہے لیکن اس کی گنجائش سے دوگنے مریض وہاں داخل ہوتے ہیں جنہیں گیلریوں اور زمین پرلٹایاجاتاہے صفائی کی حالت انتہائی ابترہے مریضوں کوکوئی سینئر ڈاکٹر دیکھناگوارانہیں کرتااور بیچارے مریض ہاؤس جاب ڈاکٹرز یاپی جی آر ڈاکٹرز کے رحم وکرم پررہتے ہیں۔
پروفیسر اور سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی عدم توجہی کے باعث ہسپتال میں داخل مریض ایڑیاں رگڑ رگڑ کرموت کوگلے لگالیتے ہیں یاپھر ان قصابوں کے پرائیویٹ کلینکوں کارخ کرنے پرمجبورہوجاتے ہیں جہاں ان کی خوب کھال اتاری جاتی ہے چندروز قبل پروفیسر زمافیاکی چیرہ دستیوں کے باعث ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میں14 بچے وفات پاگئے صرف ماہ جولائی میں33 بچے فوت ہوئے جبکہ اس سال کے6 ماہ میں901 بچے ہلاک ہوئے اتنی بڑی تعداد میں ہونیوالی ہلاکتیں ایک لمحہ فکریہ ہیں لیکن اس مافیا کے کانوں پرجوں تک نہیں رینگی اوریہ اسے معمول کی اموات قراردینے پر مصرہیں۔
وزیراعلی پنجاب شہبازشریف نے بھی ان اموات کانوٹس لیاہے لیکن ایم ایس کی بنائی گئی تحقیقاتی ٹیم نے تمام الزامات کومسترد کرتے ہوئے بچوں کی ہلاکتوں کومعمول کی کاروائی قراردیاہے۔ وزیراعلی شہباز شریف کی تحققیاتی ٹیم بھی اس سانحہ کی تحقیقات کررہی ہے معلوم نہیں کہ یہ تحققیات بھی شفاف ہوں گی یااس پربھی بااثر پروفیسرز مافیااثرانداز ہوجائیگا اسوقت بی وی ہسپتال انتہائی ناگفتہ حالت میں ہے شعبہ حادثات وایمرجنسی کے انچارج کوسول ہسپتال کاایم ایس بنادیاگیاہے جوشعبہ حادثات پربالکل توجہ نہیں دے سکتا ہسپتال میں ادویات کی قلت ہے جبکہ جان بچانے والی ادویات بھی مریضوں کوبازار سے لانی پڑتی ہیں صفائی کی صورتحال انتہائی خراب ہے سینٹری انسپکٹر بھتہ خوری کرتاہے اوردیگرکاموں میں مصروف رہتاہے پروفیسروں کی کوٹھیوں پرسٹاف کی ڈیوٹیاں ہیں۔
ضرورت اس امرکی ہے کہ بے لاگ تطہیر کاعمل کرکے مسیحاؤں کے بھیس میں قصابوں کوہسپتال سے نکال باہرکیاجائے۔ ان کی پرائیویٹ پریکٹس پرپابندی لگائی جائے سرکاری خزانہ سے لاکھوں روپے تنخواہیں لینے والوں کومریضوں کی دیکھ بھال کاپابندکیاجائے۔ بی وی ہسپتال کے امورکی نگرانی کیلئے ایم ایس کوفری ہینڈ دیاجائے اورامور میں پرنسپل قائداعظم میڈیکل کالج کی مداخلت بندکرائی جائے مانیٹرنگ کاسخت عمل شروع کیاجائے اوراس کیلئے کمشنر ، ڈی سی او کوہسپتال کی روزانہ پڑتال کے امورسوپنے جائیں۔ حکومت عوام کوطبی سہولتو ں کی فراہمی کے بلندوبانگ دعوے توکرتی ہے لیکن ان دعوؤں کوعملی جامہ پہنانے کی راہ میں حائل ان رکاوٹوں پربھی توجہ دی جائے۔
تاریخ اشاعت: 2015-08-04

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان