بند کریں
پیر جنوری

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
چار سالہ گریجویشن پروگرام اور مستقبل کے چینلجز
مسلم لیگ ن کا اپنے اقتدار میں تین برس قبل صوبے کے 26کالجوں میں دو سالہ بی اے پروگرام ختم کرکے چارسالہ بی ایس اونرز کا پروگرام شروع کرنا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے
عنبرین فاطمہ:
تعلیم ہر فرد کی تربیت کا نام ہے جو اس کی تمام تر ذہنی ،روحانی اور جسمانی صلاحیتوں کو نشوونما دے کر بہترین شکل میں ڈھال دے۔تعلیم کا عمل انسان کی سوچوں اور قابلیتوں کو ایک مرکز فراہم کرتا ہے اور انہیں معاشرے کا ایک مفید فرد بننے میں مدد دیتا ہے۔تعلیم یافتہ معاشرہ زندہ قوموں کی اعلی اقدار کا مظہر ہوتا ہے نوزائیدہ اذہان کی آبیاری ہو یا ملک و ملت کی رہبری قوموں کی تعمیر و ترقی ہو یا معاشرے کی اصلاح تعلیم کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔
اعلیٰ تعلیمی ضرورتوں اور بیرونی دنیا سے موئثر رابطہ کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال عام ہوچکا ہے۔ارتقاء کے اس عمل نے ساری دنیا کو کمپیوٹر کی ایک چھوٹی سے چپ میں سمو دیا ہے لیکن بد قسمتی سے ہمارے ہاں آج کل پڑھے لکھے ہونے کا مطلب لکھنا پڑھنا ،انگلش سمجھنا،امتحانات میں پاس ہو کر ڈگری لے لینا گردانا جاتا ہے۔ موجودہ صدی کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کیلئے پنجاب حکومت دن رات کوشاں ہے۔
صوبے میں مختلف تعلیمی پروگراموں کا انعقاد اس بات کا مظہر ہے کہ تعلیمی ترقی پنجاب حکومت کی ترجیحات میں نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔پنجاب حکومت کی کوشش ہے کہ صوبے کا تعلیمی معیار بین الاقوامی تعلیمی معیار سے مطابقت رکھتاہو۔مسلم لیگ (ن) کا اپنے اقتدار میں تین برس قبل صوبے کے 26کالجوں میں دو سالہ بی اے پروگرام ختم کرکے چارسالہ بی ایس اونرز کا پروگرام شروع کرنا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
ذرائع کے مطابق اب یہ پروگرام صوبے کے تمام سرکاری کالجوں میں شروع کیا جائے گا۔جن کالجوں میں بی ایس اونرز کا چار سالہ پروگرام شروع کیا جا چکا ہے وہاں ٹیچرز،والدین اور طالب علم کس حد تک مطمئن ہیں یہ ایک الگ بحث ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر پنجاب کے تمام کالجوں میں بی ایس اونرز کا پروگرام شروع کر دیا جائے تو کیا یہ ہمارے تعلیمی معیار کو بڑھانے میں صحیح معنوں میں مددگار ثابت ہوگا؟۔
اپنے تعلیمی معیار کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالنے کیلئے کیا ہمارے پاس ویسا سسٹم موجود ہے۔ہمارے تعلیمی اداروں میں انفراسٹرکچر دستیاب ہے طالب علموں کو بنیادی سہولیات میسر ہیں؟۔ان کیلئے ٹرانسپورٹ کی سہولیات موجود ہیں،کیا والدین دو سال کی بجائے چار سال تک تعلیمی اخراجات اٹھانے کی سکت رکھتے ہیں،چار سالہ اس پروگرام کے بعد کیا طالب علموں کے لئے روزگار کے مواقع بڑھ جائیں گے؟۔
سرکاری کالجوں میں اس وقت کم از کم چار ہزار اساتذہ کی کمی ہے سو ڈیڑھ سو طالب علموں کو ایک اکیلا استاد ہینڈل کر رہا ہوتا ہے کیا اس پروگرام کیلئے نصاب کو بھی بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا گیا ہے اور کیا سرکاری کالجوں میں کوالیفائیڈ اساتذہ موجود ہیں جو اس پروگرام کے نصاب کو بخوبی پڑھا سکیں؟۔کیااس پروگرام کے سلیبس کو پڑھانے کیلئے اساتذہ کی ٹریننگ ہوئی ہے یا ایسا کوئی پروگرا پائپ لائن میں ہے؟۔
چار سالہ بی ایس اونرز کے نصاب کو پڑھانے کیلئے مزید کوالیفائیڈ اساتذہ کی ضرورت ہے۔بے شک یہ پہلا تجربہ ہے ابھی ہمیں اس طرح کے پروگرام شروع کرنے کیلئے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔وزیر اعلی پنجاب کی تعلیمی کاوشیں اپنی جگہ ہیں لیکن صوبے کا تعلیمی معیار بین الاقوامی تعلیمی معیار کے مطابق کرنے کیلئے ہمیں گراس روٹ لیول سے کوششیں کرنی ہوں گی۔
سب سے پہلے ہمیں اپنے بنیادی تعلیمی سسٹم کو بہتر بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔اس کے بعد تعلیمی اداروں میں انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کیلئے پالیسیاں ترتیب دینی ہوں گی۔اساتذہ کی ٹریننگ کا اہتمام اور تعلیمی اداروں میں ان کی زیادہ سے زیادہ تقرریاں یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔سب سے اہم یہ ہے کہ ہمیں پورے ملک میں معیار تعلیم کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
بنیادی تعلیم پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔سکولوں ،کالجوں میں انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔حکمرانوں پہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہونی چاہیے کہ تعلیم ہی ہے جو چاروں صوبوں،فاٹا اور گلگت بلتستان میں رہنے والوں کو یگانگت اور ہم آہنگی میں پروسکتی ہے اور ہم اسی کے ذریعے بد امنی اور افلاسی سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-03-08

(4) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان