بند کریں
بدھ جنوری

مزید تحقیقاتی فیچرز

پچھلے مضامین - مزید مضامین
وادی سندھ کی تہذیب
ھڑپہ اور موہنجوداڑو کے کھنڈرات۔۔۔۔۔ ہڑپہ کے کنھڈرات کی کھدائی پہلی بار 1921 سے 1925 تک ” دیا رام ساہنی“ کی زیر نگرانی ہوئی
قرعة العین عدنان :
یہ حقیقت ہے کہ ہر عروج کو زوال ہوتا ہے لیکن تہذیبوں کے عروج کی باقیات ، ان کے زوال میں کہیں باعث فخر سمجھی جاتی ہیں تو کہیں باعث عبرت!
ہڑپہ اور موہنجوداڑو وادیء سندھ کی تہذیب کے دو بڑے نام مانے جاتے ہیں جن پر گزر جاتے وقت کے ساتھ ماضی کی دھول جمتی جا رہی ہے۔ کبھی کوئی آر کیا لوجسٹ یا تاریخ سے خاص شفف رکھنے والے لوگ ان پرسے گرد صاف کرتے ہیں تو اس تہذیب کا عکس ماضی کے آئینے میں جگمگا اُٹھتا ہے آج سے تقریباََ 5000 سال قبل یہ تہذیب دریائے سندھ اور اسکے معاون دریاوٴں کی قدیم گزرگا ہوں پر پھلتی نظر آتی ہے۔
زمانہ کے لحاظ سے یہ تہذیب مصری تہذیب کے ہم عصر دکھائی دیتی ہے اپنے وقت کی بہترین تہذیبیں اور شہر آج کھنڈرات کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہیں اور یہاں کی زندگی چیخ چیخ کر اپنے عروج وزوال کی داستان سناتی نظر آتی ہے۔ شاید کسی شاعر نے زندگی کے اسی مدد جزر کے بارے میں کہا ہے کہ
زندگی تجھ سا منافق بھی کیا ہوگا
تیرا ہی شاہکار ہوں، تیرا ہی مارا ہوا ہوں
اسی تہذیب کا دوسرابڑا شہر ہڑپہ ساہیوال سے 27km جنوب مغرب میں کھنڈرات کی صورت میں بکھرا پڑا ہے۔
1826 میں ہڑپہ کے کھنڈرات کی آگاہی سب سے پہلے مسٹر چارلیس میسن (جو برٹش فوج کے کسی عہدے پر فائر تھے) نے وہاں کے دورا کرنے سے حاصل کی اس کے بعد ایک مشہور آرکیا لوجسٹ مسٹر الیگزینڈر نے 1853 اور1856 میں دوبارہ وہاں کا دورہ کیا لیکن اس سلسلے میں کچھ خاص ترقی نہ ہو سکی اس کے ایک طویل عرصہ کے بعد 1920 میں AMP ایکٹ 1904 کے تحت ہڑپہ کی کھدائی کا سلسلہ شروع ہوا لیکن بد قسمتی سے کھدائی کے سلسلہ سے پہلے ہی وہاں موجود لوگوں نے کھنڈارات سے اینٹیں نکال کر اپنے استعمال میں لانا شروع کر دی تھیں اور کچھ وہاں بچھنے والی ریلوے لائن سے اینٹوں کے تباہی پہنچی اور ان کھنڈرات کو کافی نقصان برداشت کرنا پڑا۔
یہاں کی اینٹوں اور پتھروں کا استعمال کر کے برطانوی عہد حکومت میں ایک پولیس اسٹیشن بھی یہاں تعمیر کیا گیا جس کی شاید اب باقیات بھی موجود نہیں ہوں گی۔اس عمارت کے پاس ہڑپہ دور کا ایک کنواں بھی موجود تھا جسکو موضی قریب تک استعمال کیا جاتا رہا۔ کھنڈرات کی اینٹوں اور پتھروٴں کو انہیں نقصانات کے بارے میں ایم ایس واٹس جو کھدائی کے ماہرما نے جاتے تھے کہتے ہے کہ
”میں نے ہڑپہ کی بہت ساری کھدائی کی لیکن ریلوے کنٹریکڑز نے وہاں کی زمین بالکل ہموار کر دی گی تھی جس کے باعث میں وہاں کنڈرات کا بہت تھوڑا حصہ محفوظ کر سکا“
ایم ،ایس، واٹس اسی خطہ ء زمین کو وادی سندھ کا پر اسرار حصہ بھی لکھتے ہیں۔

ہڑپہ کے کنڈرات کی کھدائی پہلی بار 1921 سے 1925 تک ”دیا رام ساہنی“ کی زیرنگرانی ہوئی اسکے بعد 1926-1935 تک ”مسٹر مادھو ساریپ“ نے کام کیا، پھر 1937 میں ” مسٹر کے ایم شاستری“ کی زیرنگرانی کھدائی کاکام ہوا 1944-46 تک ”آر، ای ،ایم وہیلر“ نے یہاں ایک خندق بھی دریافت کرلی 1947 میں پاکستان بننے کے بعد ڈاکٹر محمد رفیق مغل نے 1966 میں اس سائیٹ کے بارے میں کچھ مفید معلومات بھی دیں۔
1986 میں امریکن آرکیا لوجی مشن نے شعبہ آرکیا لوجی اور موزیم، حکومت پاکستان کے تعاون سے ڈاکٹر جارج ڈیلز کے زیر نگرانی یہاں ریسرچ کا کام شروع کی جسکے نتیجے میں ہڑپہ کا ایک بڑا حصہ عیاں ہوا 1926 میں اسی جگہ پر ایک چھوٹا سا عجائب گھر بھی بنایا گیا جہاں کھدائی سے نکلنے والی باقیات کو رکھا گیا۔ 1947 میں اس عجائب گھر کو موجودہ جگہ پر منتقل کر دیا گیا جہاں بہت خوبصورتی سے چیزوں کو ترتیب سے رکھا گیا ہے اور باقاعدہ طور پر معلومات بھی آویزاں کی گئی ہیں ہڑپہ کے کھنڈرات سے نکلنے والے یہ قیمتی نواد رات نہ صرف ہڑپہ عجائب گھر کی زینت بنے بلکہ نیشنل میوزیم دہلی میں بھی ہڑپہ کی تہذیب و ثقافت پرایک گیلری موجود ہے جس میں کانسی کا مجسمہ خوبصورت ترین ، زیوارت اور مہریں وغیرہ ہڑپہ کے ان لوگوں کی تہذیب و ثقافت کا خیالات مستعار لئے ہوئے ہے دوران کھدائی وہاں سے پتھر کے بنے ہوئے دستی کلہاڑے، بلیڈ اور چاقو انسان کے ابتدائی مراحل کو ظاہر کرتے ہیں۔
یہاں کے لوگ سنگ تراشی اور مجسمہ سازی میں ماہر تھے اور یہاں موجود گھر اور باقی عمارت پکی اینٹوں سے بنائے گے تھے کانسی اور تابنے کے ظروف سازی کا منہ بولتا ثبوت ہیں یہاں سے ملنے والے پتھر کے باٹوں سے لیکر زیورات تک ان لوگوں کی کھلی سوچ کے عکاس ہیں۔
ان کھنڈارت کا بلند ترین ٹیلہ جو یہاں کی کھدائی کے بعد سامنے آیا ہے اس کو ٹیلہ AB کانام دیا گیا، یہ ٹیلہ تقریباََ 450 میٹر شمال سے جنوب کی جانب اور 233 میٹر مشرق سے مغرب کی جانب پھیلا ہوا ہے مٹی کی اینٹوں سے بھی ہوئی ایک مضبوط دیوار اس ٹیلے کو محصور کرتی نظر آتی ہے۔
اس ٹیلہ کی کھدائی کا زیادہ کام مادھو سریپ واٹس سے 1926 سے 1934 کے درمیان کیا تھا، اور یہاں سے نکلنے والے نوادارت زیادہ تر گھروں کی باقیات ، نالیوں کا مکمل نظام وغیرہ ہی تھا۔
یہاں پایا جانے والا قبرستان ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے جسکا دور 2500 قبل مسیح سے 1800 قبل میسح تک پھیلا ہو اہے۔ یہ لوگ اپنے مردوں کو دفن کرتے تھے۔ اس قبرستان کا ایک حصہ آریاں نسل کے لوگوں کی تدفین کے لئے مخصوص تھا یہ وہ لوگ تھے جو ہڑپہ کے اصل لوگوں کی تباہی کا سبب بنے یہ اپنے مردوں کو شہر سے دور ویران جگہوں پر چھوڑ دیتے تھے جب جانور ان کا گوشت نوچ لیتے تو انکی باقی مانندہ ہڈیاں یہ پختہ بڑے مٹکے نما برتنوں میں ڈال ک دفن کر دیتے ایک اور روایت کے مطابق یہ لوگ اپنے مردوں کو جب بڑے ظروف میں دفن کررہے ہوتے تو ان کا کچھ کھانا بھی ساتھ دفن کرتے تھے۔

انہیں کھنڈرات سے ہڑپہ کے لوگوں کے منظم اور باشعور ہونے کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب اس شہر کے گردا گردینی ایک موٹی دیوار (جس کی موٹائی 45 فٹ ہے جو اوپر چڑھتے ہوئے پتلی ہوتی جاتی ہے) کی باقیات دیکھنے کو ملتی ہیں۔ یہاں سے ملنے والی باقیات میں یہاں کے لوگوں کارہن سہن ظاہر ہوتا ہے ان کے پکے گھر اور گھروں کا طرز تعمیر ، خوبصورت اناج گھر، پکی نالیاں ان کی باقاعدہ اور باشعور طرز زندگی کا عکاس ہیں۔

ہڑپہ کی تہذیب پر زوال کیوں آیا؟ اس کیوں؟ کاجواب شائد اب تک پوری طرح سے کوئی نہیں جان پایا لیکن مئورفین کہتے ہیں شائد یہاں کے لوگوں کو جوڑراعت اور تجارت سے منسلک تھے جنگجو آریان نے تباہ کر دیا شائد یہ لوگ کسی وبائی بیماری سے مارے گئے، یا شائد دریا نے رخ بدل کر یہاں کے تجارت پیشہ لوگوں سے بے وفائی کر لی۔
ماضی کا یہ خوبصورت شہر ہزار ہابرس زمین میں دفن رہا اور صدیوں ان پرکوئی کام نہ ہو سکا، لیکن ہڑپہ کے بلند دبالا ٹیلے محقیقین کو سیاحوں کو اور ماہرین آثار قدیمہ کو اپنا راز دان بنانے کو تیار ہیں بس انکی طرف توجہ کی ضرورت ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-09-23

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان