بند کریں
منگل جنوری

مزید تحقیقاتی فیچرز

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پاکستانی طالبان
ایک مشن کے حامی مختلف گروہوں کا پس منظر پاکستان میں موجود چند بڑے عسکری گروپوں کا جائزہ لیں تو ان میں عالمی سطح پر کام کرنے ولای تنظیم القاعدہ بھی شمال ہے ۔ اس میں اب کوئی ابہام نہیں ہے
مصنف : سید بدر سعید
پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں پر قابو پانے کیلئے ایک مرتبہ پھر طالبان سے مذاکرات کا ڈول ڈالا جارہا ہے۔ طلبان سے مذاکرات کایہ پہلا دور نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی ایسی کوششیں کی جاتی رہی ہیں جو الزام تراشیوں پر ختم ہوئیں۔ اس دوران پاک فوج کے اہم افسر میجر جنرل ثناء اللہ نیازی اور طالبان کے امیر حکیم اللہ محسود جاں بحق ہوئے اور یہ سلسلہ رک گیا۔
ماضی میں طالبان کے خلاف آپریشن بھی ہوچکے ہیں۔ پاک فوج نے سوات پر سے طالبان کا قبضہ ختم کروا لیا تو دوسری طرف سواتی طالبان کے امیر ملا فضل اللہ ہی تحریک طالبان پاکستان کے امیر کے عہدے تک جاپہنچے۔ حکومت اور طالبان کے درمیان چلنے والی کشمکش میں مختلف اتار چڑھاؤ آتے رہے جبکہ اس دوران 50ہزار سے زائد پاکستانی شہید ہوگئے۔ شہید والے والوں میں عام شہریوں کی اکثریت ہے۔
طالبان کی جانب سے اب شہریوں اور عبادت گاہوں پر حملوں کی تردید کی جاتی ہے لیکن ماضی میں انہی کی جانب سے اعترافی بیانات بھی ریکارڈ پر موجود ہیں۔
حکومت کی جانب سے طالبان سے مذاکرات کی بات پر یہ سوال بھی اٹھتے رہے ہیں کہ مذاکرات کن سے کئے جائیں گے۔ وزیر داخلہ خود بھی طالبان کے متعدد گروپوں کا ذکر کرچکے ہیں جبکہ دوسری جانب اچھے طالبان اور برے طالبان کی اصطلاحات بھی رائج ہیں۔
یہ ساری صورت حال اور اچھے برے کے فارمولے عام شہریوں کو مزید ابہام کا شکار بنا دیتے ہیں۔
پاکستان میں موجود چند بڑے عسکری گروپوں کا جائزہ لیں تو ان میں عالمی سطح پر کام کرنے ولای تنظیم القاعدہ بھی شمال ہے ۔ اس میں اب کوئی ابہام نہیں ہے کہ القاعدہ افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی مضبوط حوالے رکھتی ہے۔ یہ تنظیم اسامہ بن لادن نے 1980ء کے آخر میں بنائی ۔
القاعدہ ریاستی سرحدوں کی بجائے ایک ملت اسلامیہ بھی یقین رکھتی ہے۔ پاکستان میں اس کی کارروائیاں نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن یہ یہاں کے جہادی گروپوں کے درمیان رابطے اور ان کی مدد کے حوالے سے فعال سمجھی جاتی ہے۔ القاعدہ میں پڑھے لکھے افراد بڑی تعداد میں شامل ہیں۔ پاکستان میں اس کے حامیوں اور کارکنوں کی بڑی تعداد کا تعلق شہروں سے ہے۔
ان میں یونیورسٹیوں سے ڈگری یافتہ طالب علم بھی شامل ہیں۔ القاعدہ پاکستان کے حوالے سے سے ”دارالکفر و الحرب“ کا نظریہ رکھتی ہے۔ یہ پاکستانی فوج کو مرتد دسمجھتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک فوج اور حکمران ”اسلام کی آڑ میں “ کفر کے بازو مضبوط کررہے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ تنظیم مسلم ممالک میں حکومتوں کا تختہ الٹ کر ایک عالمی خلافت کے قیام کیلئے کوشش کررہی ہے۔

القاعدہ کے بعد پاکستان کے بڑے گروپوں میں تحریک طالبان پاکستان کا نام لیا جاتا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان ہی دراصل یہاں کی اہم کارروائیوں میں براہ راست شامل رہی ہے۔ اس کی باقاعدہ بنیاد 2007ء میں بیت اللہ محسود نے رکھی لیکن دراصل اس کا آغاز عمر خراسانی سے 2006ء میں کیا تھا۔ 2007ء میں اس نے مختلف علاقوں کے جہادیوں کو ”پاکستانی طالبان“ کے حوالے سے ابھارا۔
ابتدائی طور پر جو گروہ اکٹھے ہوئے ان میں سواتی طالبان بھی شامل تھے۔ اسی لئے ملافضل اللہ کے امیر بننے کے بعد عمر خراسانی بھی طالبان کی فرنٹ لائن پرمتحرک نظر آنے لگا۔ 2007ء میں باقاعدہ تحریک طالبان پاکستان کی بنیاد رکھی گئی اور بیت اللہ محسود اس کے پہلے باقاعدہ امیر بنے۔ یہ القاعدہ کی پاکستانی ”فرنچائز“ بھی ہے۔ ریاست مخالف گروپوں کے ساتھ اس تنظیم کے مضبوط رابطے ہیں اور اس کی مزید کئی شاخیں بن چکی ہیں۔
اس کا مقصد بھی القاعدہ کی طرح عالمی خلافت کا قیام اور پاکستان کو ”اسلامی ریاست“ میں تبدیل کرنا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان بھی پاک فوج اور حکومت کو مرتد کہتی ہے۔ لشکر جھنگوی کے ساتھ مضبوط روابط اور لشکر جھنگوی کے اس تنظیم میں واضح عمل دخل کی وجہ سے یہ تنظیم بھی اہل تشیع مکتبئہ فکر کو ”کافر“ قرار دے کر ان کے قتل کو جائز سمجھتی ہے لیکن اب اس حوالے سے تحریک طالبان پاکستان میں اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔
کچھ کمانڈر دوسرے فرقوں کو اندھا دھند قتل کو اپنے لئے نقصان قرار دیتے ہیں جبکہ کچھ اس کے حق میں ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان بھی القاعدہ کی طرح خود کو عالمی تنظیم بنانے کی جانب رواں دواں ہے۔
یہاں ایک اہم گروپ اسلامی تحریک برائے ازبکستان بھی موجود ہے۔ یہ گروپ 1991ء میں طاہر یلڈ وشیف نے قائم کیا۔ اس تنظیم کا ابتدائی مقصد ازبکستان میں اسلام کریموف کی حکومت کا تختہ الٹ کر ایک ”اسلامی ریاست “ قائم کرنا تھا۔

پاکستانی طالبان میں بڑا عنصر سپہ صحابہ پاکستان یا لشکر جھنگوی کا بھی ہے۔ لشکر جھنگوی کی بنیاد 196ء میں رکھی گئی۔ اس کے بانیوں میں ریاض بسراء اکرم لاہوری اور ملک اسحٰق نے زیادہ شہرت حاصل کی۔ لشکر جھنگوی فرقہ ورانہی بنیادوں پر بنائی گئی۔ اس کے ٹارگٹس میں اہل تشیع شامل ہیں۔ اس کے رہنما پاکستان کو ”سنی اسلامی ریاست“ بنانا چاہتے ہیں۔
اس گروپ کے متعددلڑکے نہ صرف ٹی ٹی پی میں شامل ہیں بلکہ القاعدہ سے بھی نظریاتی وابستگی رکھتے ہیں۔
حکومت اگر القاعدہ کے پاکستانی چیپٹر، تحریک طالبان پاکستان، لشکر جھنگوی اور اسلامی موومنٹ آف ازبکستان کے کمانڈروں سے کامیاب مذاکرات کرے تو کافی حد تک پاکستان میں عسکریت پسندی کی کارروائیوں پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
پاکستان میں موجود ان ”چار بڑوں“ کے علاوہ دیگر اہم گروپوں میں نیا بننے والا خطرناک گروپ ”انصار الاسیر“ ہے۔
یہ ”جہادیوں“ کی مدد کیلئے بنایا گیا تھا۔ مختصر عرصہ میں اس گروپ نے دو بڑی جیلوں پر حملے کر کے اپنے ساتھی رہا کرالیے۔ اس کا مرکز جنوبی وزیرستان ہے۔ جنوبی وزیرستان کے ہی لشکر خراسان کو بھی خطرناک گروپوں میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ یہ لشکر القاعدہ کا اتحادی ہے۔
تحریک طالبان پاکستان کا ہی ایک قدرے چھوٹا گروپ انصارالمجاہدین کے نام سے معروف ہے۔
اس کی بنیادی ذمہ داری فورسز اور سیاست دانوں کو ٹارگٹ بنانا ہے۔ کے پی کے کے وزیر قانون اسرار گنڈہ پور کے قتل میں بھی اسی کا ہاتھ بتایا جاتا ہے۔ اس گروپ کا بنایدی مقصد بھی پاکستان کو ”اسامی ریاست“ بنانا اور پھر اس اسلامی ریاست سے کفار کی ریاستوں کے خلاف جہاد کا اعلان کرنا ہے۔ شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ایک اور گروپ جند اللہ کو بھی القاعدہ کا اتحادی ہونے کی وجہ سے خاصی اہمیت حاصل ہے۔
لال مسجد کی بنیاد پر غازی فورس کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ انتقامی فورس ہے جس کا نام لال مسجد آپریشن میں شہید ہونے والے مولونا عبدالرشید غازی کے نام پر رکھا گیا ہے۔ یہ گروپ بھی تحریک طالبان پاکستان کی چھتری تلے کام کررہا ہے۔ اس کے اراکین کامرکزی ہدف جنرل پرویز مشرف ہیں۔
عسکریت پسندوں کے ناراض گروپوں میں سے اگر چار یا پانچ بڑے گروپوں کے ساتھ معاملات طے پا جائیں تو دیگر گروپس اس معاہدے کے پابند ہوں گے۔
یہ ایک وسیع نیٹ ورک ہے جو منظم سیاسی جماعتوں کے علاقائی ناظمین یا سیکٹرز انچارج کے نظام کی طرح پھیلا ہوا ہے لیکن یہ ناظمین یا سیکٹر انچارج مرکزی قیادت کے احکامات کے پابند ہیں اور مرکزی قیادت ان کے عہدوں میں تبدیلی کرسکتی ہے ۔ اس سسٹم سے باہر نکلنے والے گروپس کا طاقت پکڑنا یا طویل عرصہ کیلئے اپنی بقا کی جنگ لڑنا زیادہ آسان نظر نہیں آتا۔ اس لئے بہت زیادہ گروپس کے حوالے سے سے کنفیوژن کا شکار ہونے کی بجائے اگر بنیادی نظام کو دیکھ لیا جائے تو امید کی جاسکتی ہے کہ اگر حکومت طالبان کے چند بڑے گروپوں سے کامیاب مذاکرات کرنے میں کامیاب ہوگئی تو اسے بڑی کامیابی سمجھا جائے گا اور صورتحال کئی گنا بہتر ہوجائے گی۔
تاریخ اشاعت: 2014-02-18

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-