بند کریں
جمعرات فروری

مزید تحقیقاتی فیچرز

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پاکستان میں انسانی اسمگلنگ کی صورتحال اور قومی اداروں کی کارکردگی
پاکستان میں انسانی سمگلنگ کا آغاز کب اور کیسے ہوا، اس بارے میں باقاعدہ اعداد وشمار کا سہارا لینا تو ممکن نہیں تاہم یہ امر طے شدہ ہے کہ قیام پاکستان کے وقت سے ہی انسانی سمگلنگ کا دھندہ جاری ہے
مصنف : ذبیح اللہ بلگن
گزشتہ دنوں قومی اخبارات میں ایک سنگل کالم خبر کچھ یوں تھی کہ ”تھائی لینڈ میں انسانی سمگلروں کے خلاف کاروائیوں میں 72افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ 45دیگر افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے گئے ہیں“۔راقم کو متعدد بار تھائی لینڈ سمیت دیگر پسیفک ممالک میں جانے کا موقعہ ملاہے یہی وجہ ہے کہ ان ممالک میں انسانی سمگلنگ کی صورتحال کو راقم نے بڑے قریب سے دیکھا ہے ۔
یہاں تھائی لینڈ سمیت دیگر ممالک میں انسانی سمگلنگ جیسے مکروہ دھندے کے حوالے سے مفصل تحریر کیا جاسکتا ہے تاہم ممکن ہے کہ یہ تحریرپاکستانی قارئین کیلئے دلچسپی کا باعث نہ ہو لہذا یہاں دیگر ممالک کی بجائے پاکستان میں انسانی سمگلنگ کی صورتحال پر رپورٹ پیش کی جارہی ہے ۔ تاکہ قارئین پاکستان میں انسانی سمگلنگ کی صورتحال سے آگاہی حاصل کر سکیں اور اس مکروہ دھندے میں ملوث افراد کے طریقہ واردات اور سرگرمیوں سے واقف ہو سکیں ۔

پاکستان میں انسانی سمگلنگ کی صورتحال
پاکستان میں انسانی سمگلنگ کا آغاز کب اور کیسے ہوا، اس بارے میں باقاعدہ اعداد وشمار کا سہارا لینا تو ممکن نہیں تاہم یہ امر طے شدہ ہے کہ قیام پاکستان کے وقت سے ہی انسانی سمگلنگ کا دھندہ جاری ہے۔ اس دور میں سمگل ہونے والوں میں زیادہ تعداد مہاجرین میں شامل لٹی پٹی خواتین کی تھی جنہیں ناپاک مقاصدپر مبنی کاروبار کے لئے اغوا کیا گیا، اس کے علاوہ بچوں کو گداگری کی خاطر اغوا کرنے والے گروہوں کی سرگرمیاں بھی منظر عام پر آئیں۔
انسانی اعضاء فروخت کرنے والے منظم گروہ بھی سادہ لوح پاکستانیوں کو بیرون ملک بھیجنے کا جھانسہ دے کر لوٹتے رہے ہیں۔ پاکستان کی جغرافیائی صورتحال کے سبب یہ علاقہ جہاں دیگر شعبہ جات زندگی سے تعلق رکھنے والوں کیلئے باعث کشش بنا رہا وہیں اس مکروہ دھندے سے وابستہ افراد بھی آسانی کے ساتھ اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے اس سرزمین کو استعمال کرتے رہے۔
ابتداً پاکستان میں سمگل ہو کر آنے والوں کی منزل مقصود یہ ملک ہی ہوتاتھا، تاہم اب صورتحال کچھ زیادہ گھمبیر ہوچکی ہے۔اب پاکستان اسمگلنگ کرنے والے گروہوں کے لئے محض منزل نہیں رہا بلکہ ایک گزرگاہ کی حیثیت بھی اختیار کرگیا ہے۔ اب انسانی اسمگلنگ میں ملوث بین الاقوامی گروہ فلپائن، برما اور اس جیسے دیگر پسماندہ ممالک سے مرد و خواتین اور بچوں کو پاکستان لاتے ہیں اور کچھ عرصے کے بعدیہاں سے انہیں یورپی منڈیوں میں بھیڑ بکریوں کی طرح فروخت کردیتے ہیں۔
اسی طرح افغان باشندوں کو بھی یورپی ممالک تک پہنچانے کے لئے پاکستان کو بطور گزرگاہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ان افراد کوا سمگلنگ کے مقاصد کے اعتبار سے اگر مختلف گروہوں میں تقسیم کیا جائے تو یہ امر سامنے آتا ہے کہ پاکستان سے سمگل ہونے والوں کی اکثریت بہتر روزگار کی متلاشی ہوتی ہے۔ دوسری جانب اندرون پاکستان ایک جگہ سے دوسری جگہ(عمومی صورتحال میں یہ سمگلنگ ایک صوبے سے دوسرے صوبے میں ہوتی ہے) سمگل کیے جانے والوں میں زیادہ بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے ۔
یہاں،سمگلنگ کا اصل مقصد معصوم بچوں کو گداگری کیلئے استعمال کرنا، کم عمر یا خوبصورت عورتوں کوجسم فروشی کیلئے استعمال کرنا، یا پھر ان سے مختلف صنعتوں میں زبردستی بیگار لینا مقصود ہوتا ہے۔ ان مغویوں سے جن صنعتوں میں زبردستی مزدوری کروائی جاتی ہے، ان میں اینٹیں تیار کرنے والے بھٹے، قالین بانی کی صنعت،ہاتھ کی کھڈیاں،کان کنی کی صنعت، پہاڑ کھودنے کا کام وغیرہ شامل ہیں۔
یوں مجموعی طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں انسانی سمگلنگ کا بنیادی محرک روزگار کے بہتر مواقع ہیں ۔جس کی بناء پر اکثریت خود ان ایجنٹس کے ذریعے بیرون ملک جانے کے جھانسے میں آجاتی ہے اوراس خواہش کی تکمیل میں پیش آنے والے ممکنہ خطرات کو قبول کرنے کیلئے تیار ہو جاتی ہے ۔یہ سمگلرز عام افراد کو امریکہ، برطانیہ،یورپ، آسٹریلیا،ایشیاء پیسیفک اور مڈل ایسٹ جیسے ممالک میں داخلے کا خواب دکھاکر مال بٹورتے ہیں۔
تاہم اب یہاں کے ایئرپورٹس پر مسافروں کے سفری دستاویزات کی پڑتال کیلئے جدید ترین کمپیوٹرائزڈ مشینری کی تنصیب کی وجہ سے ان ممالک میں داخلہ بہت مشکل ہوچکا ہے، جس کی وجہ سے اب یہاں داخلے کے لئے فضائی راستہ شاذ ونادر ہی استعمال کیا جاتا ہے۔(ماضی میں پاسپورٹ اور دیگر سفری دستاویزات پر تصویر کی تبدیلی کے بعد جعلی دستاویزات پرسفر عام تھا) ۔

زمینی اور سمندی راستوں سے انسانی سمگلنگ
موجودہ حالات میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے راستے غیر قانونی سرحدی راہداریاں اور سمندری راستے ہیں۔ پاکستان کی افغانستان اور ایران کے ساتھ انتہائی طویل سرحدیں موجود ہیں جو ایسے ایجنٹس کے لئے سمگلنگ کا بہترین ذریعہ ثابت ہوتی ہیں۔ افغانستان کے ساتھ پاکستان کی سرحد کی لمبائی کم وبیش چوبیس سو کلو میٹر ہے جبکہ اس میں چمن اور طورخم کے مقام پر امیگریشن پوسٹیں ہیں۔
یہاں ملاحظہ فرمائیں کہ ان پوسٹوں کے ذریعہ پاکستان اورافغانستان میں آنے جانے والے مسافروں کی تعداد محض پانچ فیصد ہے۔بیان کیا جاتا ہے کہ اس راستے سے افغانیوں کے لئے غیر قانونی دستاویزات پر پاکستان میں داخلہ بہت آسان ہے۔ ایجنٹس ان چیک پوسٹس کے ذریعے سے سنٹرل ایشیائی اور افغان باشندوں کو پاکستان سمگل کرتے ہیں۔ اگر ہم پاکستان اور ایران کی سرحد کی جانب دیکھتے ہیں تو ہمیں دکھائی دیتاہے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان واقع سرحد نو سو کلو میٹر پر پھیلی ہوئی ہے۔
اس قدر طویل سرحد پر محض تفتان کے مقام پر چیک پوسٹ واقع ہے، جہاں مسافروں کے سفری دستاویزات کی پڑتال کے لئے جدیدسہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بعض اوقات تو یہاں موجود عملے کی تعداد کم ہو کر محض پانچ تک رہ جاتی ہے۔ دوسری جانب مند کے مقام پر واقع چیک پوسٹ نہایت کم استعمال میں رہتی ہے، جس کی وجہ سے اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہی ہے۔ اس صورتحال کا سب سے زیادہ فائدہ وہ گروہ اٹھاتے ہیں جن کا مقصد جعلی سفری دستاویزات پر مسافروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا ہوتا ہے۔
پاکستان سے تفتان اور پھر ایران تک کا سفر ہی بسا اوقات مسافروں کی ہمت توڑنے کے لئے کافی ہوتا ہے کیونکہ اس دوران انہیں بلوچستان کی خشک ، بنجر بے آب و گیاہ پہاڑی راستہ پر اپنا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ ایران پہنچنے پر، منزل کے متلاشی ان بے سمت مسافروں کو پہلے ترکی اور پھر یونان روانہ کیا جاتا ہے، لیکن اس پورے سفر کو کامیابی سے مکمل کرنے والے محض ایک تہائی افراد ہوتے ہیں۔
باقی ماندہ دو تہائی افراد یا تو سفر کی صعوبتیں سہنے میں ناکام ہوجاتے ہیں، یا پھر سرحدی پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہوکرجیلوں میں جا پہنچتے ہیں ۔ وہ مسافر جو یورپ کی بجائے مشرق وسطیٰ کے ممالک میں اپنی قسمت آزمانا چاہتے ہیں، ان کے لئے ایجنٹس عموماًخشکی کی بجائے بحری سفر کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کیلئے مسافروں کو پہلے بلوچستان سے مند بیلو سمگل کیا جاتا ہے، اس کے بعد یہ قسمت کے مارے مسافر کشتیوں اور چھوٹے بڑے بحری جہازوں کے ذریعے سے مسقط پہنچائے جاتے ہیں جہاں سے انہیں منزل مقصود پر پہنچایا جاتا ہے۔
ان غیر قانونی طریقوں سے پاکستان سے بیرون ملک جانے والوں کی کل تعداد کیا ہے، اس بارے میں ایف آئی اے، تاحال اندازے ہی لگا رہی ہے تاہم ہر سال بیرون ممالک سے ڈی پورٹ ہونے والوں کی تعداد کے پیش نظر ادارے کا اندازہ ہے کہ اوسطاً بتیس سے پینتیس ہزار افراد ہر سال بیرون ملک ان غیر قانونی طریقوں سے سرحد پار کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان میں سے کچھ کا سفر سرحد پر ہی ختم ہوجاتا ہے جب وہ پاکستانی یا ایرانی سرحدی پولیس کی نظروں میں آتے ہیں ۔
یونان تک پہنچتے پہنچتے مسافروں کی بڑی تعداد ہمت یا قسمت کے ہاتھوں ہار چکی ہوتی اور یوں منزل مقصود پر پہنچنے والے خوش قسمتوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔ دوسری جانب ان ایجنٹس کے ہاتھوں میں اپنی عمر بھر کی کمائی اور زندگی کی ڈور تھمانے والوں کی بدولت ان ایجنٹس کی سالانہ کمائی لاکھوں یا کروڑوں میں نہیں بلکہ اربوں میں ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان میں موجود ان ایجنٹس کی سالانہ کمائی کے بارے میں انتہائی محتاط اندازہ لگایا جائے تو بھی یہ کمائی کم از کم دس سے گیارہ کروڑ ڈالر کے لگ بھگ ہے۔

پاکستان میں ایف آئی اے کا ادارہ غیر قانونی طریقوں سے سرحد پار کرنے والوں کیخلاف ماضی کی نسبت اب زیادہ سرگرم ہے۔ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق پاک ایران سرحد اور ایران میں داخل ہونے میں کامیاب ہونے والے کم و بیش پندرہ ہزار افراد کو ڈی پورٹ کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب عمان سے ڈی پورٹ ہونے والوں کی تعداد سات ہزار کے لگ بھگ ہے۔ ان اعداد وشمار کی روشنی میں یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جاسکتا ہے، کہ یورپی معاشی بحران کے باوجود آج بھی مشرق وسطیٰ میں موجود تیل کی دولت کے مقابلے میں یورپ کی چمک دمک سادہ لوح پاکستانیوں کو اپنے جانب کھینچنے میں زیادہ کامیاب ہے یا پھر یہ کہ پاکستانی، خلیجی ریاستوں کے سخت قوانین کے خوف کے پیش نظر ان ممالک کی بجائے یورپ میں جانا زیادہ پسند کرتے ہیں۔
اسی بارے میں ایف آئی اے کے ذیلی ادارے محکمہ امیگریشن کے مطابق معمولی سمجھے جانے والے پیشوں مثلاً ڈرائیونگ،لفٹ آپریٹنگ، میکینک، راج گیری اور اس قسم کے دیگر پیشوں سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر افراد مشرق وسطیٰ کا رخ کرتے ہیں جبکہ یورپی ممالک میں داخلہ ان افراد کے لئے زیادہ باعث کشش ہے جو پڑھے لکھے اور کسی نہ کسی شعبہ ہائے زندگی میں ڈگری یافتہ ہیں۔
گوکہ ادارہ ماضی کی نسبت، اس ضمن میں زیادہ فعال دکھائی دیتا ہے لیکن انسانی سمگلنگ کا مکروہ دھندہ آج بھی اپنے پورے عروج پر دکھائی دیتا ہے۔ایک وقت تھا کہ جب پاکستانی ویزہ ، دنیا کے بیشتر ممالک کے ایئرپورٹس پر آسانی کے ساتھ دستیاب تھا۔ اسوقت سبز پاسپورٹ رکھنے والے ہر شہری کو محض یہ ثابت کرنے کی ضرورت ہوتی تھی کہ وہ اپنے مالی وسائل کی بدولت اس ملک کا سفر کرنے کا اہل ہے، جس کے بعد اسے آسانی کے ساتھ ویزہ مل جاتا تھا۔
وقت کے ساتھ ساتھ صورتحال تبدیل ہوتی گئی۔ پاکستانیوں کے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے، جعلی پاسپورٹس پر سفر کرنے اور انسانی سمگلنگ میں ملوث ایجنٹس کے انتہائی منظم نیٹ ورکس میں تبدیل ہو جانے کے بعد اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے، کہ پاکستانیوں کے لئے دیگر ممالک کے جینوئن ویزہ کا حصول بھی بہت ہی مشکل ہوچکا ہے۔
انسانی سمگلنگ کے حوالے سے قوانین کی صورتحال
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال کم از کم دس سے پندرہ ہزارافراد بلوچستان کے راستے سے غیر قانونی طریقوں سے بیرون ملک جانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ان میں اکثریت پاکستانیوں کی ہوتی ہے جبکہ دیگر میں افغانیوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ اس کوشش میں کامیابی کا تناسب اگرچہ پچاس فیصد سے بھی کم ہوتا ہے تاہم گرفتار ہونے والوں کی اکثریت کا یہ دعویٰ ہوتا ہے کہ انہیں سفر کے آغاز سے قبل اس سفر کی قانونی حیثیت کے بارے میں اندازہ نہیں تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے دیہی علاقوں میں تعلیم اورشعور کی کمی کی وجہ سے اکثریت ان ایجنٹس کی قانونی حیثیت سے واقف ہی نہیں ہوتی ہے۔
ایسے میں یہ ایجنٹس ہی بیرون ملک سفر کا ذریعہ ہوتے ہیں اور وہ ان کے ذریعے بیرون ملک جانے کا خواب بننے لگتے ہیں۔ پاکستان میں انسانی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے سرکاری سطح پر کام کرنے والا ادارہ یعنی کہ ایف آئی اے اب اس ضمن میں بھی متحرک ہوچکا ہے اور مختلف میڈیا ذرائع مثلاً اخبارات ، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ذریعے سے غیر قانونی ایجنٹس کی نشاندہی اور بیرون ملک غیر قانونی سفر کی حیثیت کے بارے میں عوام میں شعور اجاگر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
لیکن یہ کوششیں ابھی آغاز ِ سفر کی مانند ہیں کیونکہ صورتحال یہ ہے کہ پچھلے تین برسوں میں کڑے پہروں اور سخت کوششوں کے باوجود بیس ہزار سے زائد افراد کو غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ وہ افراد تھے جو پاکستانی سرحد کو پار کرنے کی کوشش میں تھے۔ اس کے علاوہ اسی عرصے کے دوران پچاس سے زائد انتہائی مطلوب انسانی سمگلرز کو بھی گرفتار کیاگیا ہے جن کے بارے میں اندازہ ہے کہ یہ اربوں روپوں کے عوض لاکھوں افراد کوغیر قانونی طریقے سے بیرون ملک بھیج چکے ہیں۔

پاکستان میں انسانی سمگلنگ کی اس قدر خوفناک شرح کی وجہ یہ ہرگز نہیں کہ اس ضمن میں قانون سازی پر توجہ نہیں دی گئی۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس حوالے سے متعدد قوانین موجود ہیں۔پاکستان پینل کوڈ کے تحت ہیومن ٹریفکنگ کی مختلف اشکال جن میں حبس بیجا میں رکھ کر بیگار لینا، جنسی مقاصد کیلئے بچوں کی تجارت، آزاد شہری کو غلام بنانے کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے اور اس کے مرتکب افراد کیلئے جرمانے سے لے کر عمر قید تک سزائیں موجود ہیں۔
اس ضمن میں دیگر تشکیل دیئے جانے والے قوانین میں بونڈڈ لیبر سسٹم ابولیشن ایکٹ بی ایل ایس اے(Bonded Labor System abolition Act) اور پریوینشن اینڈ کنٹرول آف ہیومن ٹریفکنگ آرڈیننس پچتو(Prevention and Control of Human Trafficking Ordinance) شامل ہیں۔ تاہم ہیومن ٹریفکنگ اور انسانی سمگلنگ پر قابو پانے میں ناکامی کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان قوانین اور پاکستان پینل کوڈ کے مطابق ترتیب دیئے گئے قوانین میں تصادم ہوتا ہے ۔
مثال کے طور پر پچتو کے تحت گرفتار ہونے والے ملزمان کو کم از کم سات جبکہ زیادہ سے زیادہ چودہ سال قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔دوسری جانب پاکستان پینل کوڈ کے تحت انہی الزامات سے ملتے جلتے الزامات میں گرفتار ہونے والوں کیلئے معمول سزائیں موجود ہیں جس کی وجہ سے ماتحت عدالتیں اس قسم کے مقدمات میں سزاؤں کے تعین کے حوالے سے الجھاؤ کا شکار ہوتی ہیں۔

انسداد انسانی سمگلنگ میں ایف آئی اے کا کردار
اس ضمن میں ایف آئی اے کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو یہ اندرون ملک اور بیرون ملک انسانی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے نمایاں کوششوں میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔ سال 2010-11 میں ادارے کی جانب سے سینکٹروں افسروں کو ایف آئی اے اکیڈمی میں ٹریننگ دی گئی جس کامقصد اندرون انسانی سمگلنگ پر قابو پانا تھا۔
ایف آئی اے کی جانب سے انسانی سمگلنگ کا نشانہ بننے والے افراد کو دارالامان اور دیگر محفوظ مقامات تک پہنچانے کے لئے کی جانے والی کوششیں بھی قابل تحسین ہیں تاہم ادارے کو درپیش مسائل میں سب سے بڑا مسئلہ ایسے افراد کی شناخت ہے۔ اندرون ملک سمگلنگ کی صورت میں اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے، کھیتی باڑی کرنے والے کسانوں اور قحبہ خانوں سے منسلک خواتین کی شناخت کیلئے ادارے کے پاس مناسب سہولیات اور انتظامات نہ ہونے کے سبب ادارے کی کارکردگی خاصی مایوس کن دکھائی دیتی ہے۔
بیرون ملک سمگل کئے جانے والے افراد کی بحالی کیلئے حکومتی سطح پر دارالامان اور دیگر ادارے قائم کئے گئے ہیں تاہم حکومتی سطح پر بدانتظامی کے سبب یہ ادارے بھی ایسی خواتین کی بحالی میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ ایف آئی اے نے دو برس قبل ایک بین الاقوامی این جی او کے ساتھ مل کے ایسے غیر قانونی تارکین وطن افراد کے سفر، عارضی رہائش اور قانونی مدد کیلئے کوششیں شروع کی ہیں جو کہ قابل تحسین اقدام ہے۔
اس کے علاوہ ادارے نے سولہ خصوصی سیلز بھی قائم کئے ہیں جو خاص کر انسانی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے بنائے گئے ہیں۔ان تمام اقدامات کے باوجود بھی پاکستان میں انسانی سمگلنگ کا کاروبار جاری ہے جس کی ایک وجہ کرپشن بھی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق کراچی میں نادرا کے ایسے پانچ دفاتر کام کر رہے ہیں جہاں آسانی کے ساتھ جعلی پاسپورٹ اور شناختی کارڈ حاصل کیا جاسکتا ہے۔
ان جعلی دستاویزات کے لئے کوشش کرنے والوں میں اکثریت بنگالیوں کی ہوتی ہے جو پاکستان ایک ماہ کے وزٹ ویزہ پر آنے کے بعد واپس نہیں جاتے اور پھر ان جعلی دستاویزات کے ذریعے سے یورپی یا خلیجی ممالک میں سفر کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں گرفتاری کی صورت میں یہ پاکستان کا نام بدنام کرنے کا سبب بن جاتے ہیں۔مزید براں اس وقت ملک میں ایسے ہزاروں افغان مہاجرین موجودہیں جو افغان سرزمین پر بدامنی کے سبب پاکستان میں مہاجر کی حیثیت سے آئے اور پھرجعلی دستاویزات کی بنا پر خود کو پاکستانی شہری کے طور پر رجسٹر کروانے میں کامیاب ہوگئے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ایف آئی اے کے ادارے کو مزید فعال بنانے کے ساتھ ساتھ وزارت داخلہ کے ماتحت کام کرنے والے دیگر اداروں کو بھی فعال کرنے کے ساتھ ساتھ کرپشن پر بھی قابو پایا جائے تاکہ مستقبل میں پاکستان کو انسانی سمگلنگ کے لئے بطور راہداری یا بطور منزل کم سے کم استعمال کیا جاسکے۔
تاریخ اشاعت: 2015-08-19

(1) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     ذبیح اللہ بلگن

ذبیح اللہ بلگن کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان