بند کریں
بدھ فروری

مزید تحقیقاتی فیچرز

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پاکستان غذائی قلت کاشکار ہے
بیمار افراد ملک کی تعمیر وترقی میں اہم کردارادانہیں کرسکتے
اقصیٰ لیاقت:
پاکستان کاشمار اُن ملکوں میں ہوتا ہے جہاں شہریوں کوبنیادی حقوق کے حصول میں شدیدوقت اور دشواری کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔ان میں ایک مسئلہ غذائی قلت اور صحت کابھی ہے۔اچھی خوراک اور صحت کاآپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔غذا سے انسان کے جسم کوطاقت اور توانائی حاصل ہوتی ہے۔ قوت مدافعت میں اضافے سے ہی انسان بیماریوں کے خلاف لڑکر تندرست وتوانا رہ سکتا ہے۔
پاکستان میں شہریوں کو اُن کی ضروریات کے مطابق اچھی غذا میسر ہے اور نہ ہی اُ ن کی صحت قابل رشک ہے۔ بیماریوں میں مبتلا افراد کو علاج معالجے کی مناسب سہولیات بھی مہیا نہیں کی جاتیں۔اس کاسب سے بڑا ثبوت عالمی سطح پر جاری ہونے والی”گوبل نیوٹریشن رپورٹ ہے جس کے مطابق پاکستان میں پیدائش سے پانچ سال تک کی عمر کے بچے بہت کم تعداد میں صحت بخش اندازمیں نشوونما پاتے ہیں۔
خوراک کی کمی کے باعث پانچ سال سے کم عمر کے بچے بیماریوں کاشکار ہوکر مرجاتے ہیں یا اُن کی بڑی تعداد شدید جسمانی کمزوری کاشکارہے۔ورلڈہیلتھ اسمبلی نے صحت کے متعلق 5اہداف مقررکررکھے ہیں۔ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے ممبران ممالک میں صرف کینیا ہی ایک ایسا ملک ہے جو اب پانچ اہداف کو حاصل کرنے کیلئے بھر پور کوشش کررہا ہے۔کولمبیا،گھانا،وناؤ اور یتنام کاشمار اُن ممالک میں کیا جاتا ہے جوپانچ میں سے چاراہداف حاصل کر رہے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان اپن بیس ممالک میں شامل ہے جو محض پانچ میں سے ایک ہدف حاصل کرپایا ہے۔پاکستان،بنگلہ دیش،جمہوریہ کانگو،ایتھوپیا اور نائیجیریا ایسے ممالک ہیں جہاں چھوٹے بچے بہت کم تعداد میں صحت مندانداز میں پرورش پاتے ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ دنیا کے ممالک شدید غذائی قلت کاشکار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ورلڈہیلتھ اسمبلی کے ممبران ممالک غذاکی کم کودور کرنے کیلئے مقرر کردہ اہداف حاصل نہیں کر پائے۔
یہ صورتحال اس قدر خراب ہوچکی ہے کہ اس وقت دنیا میں ہرتین میں سے ایک شخص غذائی کمی کاشکار ہوچکا ہے۔ان ممالک کیلئے اپنے مقاصد کوحاصل کرنے میں بہت سی رکاوٹوں کاسامنا ہے۔ان میں وسائل کی کمی،صلاحیتوں کاقدان اور سیاسی دباؤ سرفہرست ہیں۔ موسمی تغیر اور غذا کی قلت میں گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔موسم میں ہونے والی تبدیلیاں دنیا میں غذاکی قلت کوختم کرنے کی کوششوں کومتاثر کرنے میں سرفہرست ہیں۔

درجہ حرارت میں بڑھنے سے برف کے گلیشیئرز پگھلنے سے سیلاب تباہی مچاتا ہے تو سیلاب کے باعث کھڑی فصلیں پانی میں بہہ جاتی ہیں جس سے جہاں کروڑوں کانقصان ہوتا ہے وہاں غذاکی شدید قلت بھی پیدا ہوجاتی ہے۔خوراک کی کمی ہی بیماریوں میں اضافے کاباعث بنتی ہے۔جس قوم کے بڑے بیماریوں میں مبتلا ہوں گے تو اس کے چھوٹے بچے کس طرح تندرست وتوانا ہوسکتے ہیں۔

دنیا کے پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کے ساتھ ساتھ امیر ممالک کے غریب افراد کوبھی شدید غذائی قلت کاسامنا ہے۔یہی بات ڈرامائی اندازمیں چھوٹے بچوں پر منفی اثرات مرتب کررہی ہے۔آج دنیا بھر میں160ملین سے زائد بچے جن کی عمریں 5سال سے کم ہیں،اپنی عمر کے لحاظ سے بہت چھوٹے ہیں کیونکہ غذائی قلت کے باعث اُن کی مناسب پرورش اور نشوونما نہیں ہوپاتی۔
50ملین کے قریب بچے ایسے ہیں جن کاوزن بہت کم ہے۔اس کے باعث ہی بچوں میں شرح اموات بڑھ رہی ہے۔اس وقت دنیا کودوبڑے مسائل کاسامنا ہے۔ان میں ایک غذائی قلت کے باعث بچوں کی پرورش اور نشوونما میں رکاوٹ اور شرح اموات میں اضافہ ہے۔دوسری طرف اُن افراد کامسئلہ ہے جوزیادہ کھانا کھانے کے باعث موٹاپے کا شکار ہورہے ہیں۔2010ء سے2014کے درمیانی عرصہ کاجائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان چار سالوں میں دنیا کے ہر ممالک میں موٹاپے کی بیماری میں اضافہ ہواہے۔
بڑھتے ہوئے موٹاپے کے باعث ہی آج دنیا میں بارہ میں سے ایک شخص ذیابیطس کاشکار ہے اور اس کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔
اگرچہ دنیا کے ممالک ان مسائل پر قابو پاکر اپنے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ لیکن انہیں تاحال اس معاملے میں خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہوپائے۔اسلئے دنیا کے ممالک کو مثبت نتائج حاصل کرنے کیلئے فوری طور پر غذا کی قلت کودور کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔
اس رپورٹ میں پاکستان پر خاص زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ماں اور بچوں کو خوراک کی شدید کمی کاسامنا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ یہاں موٹاپے میں بھی اضافہ ہورہاہے۔حکومت نے جس طرح دہشتگردی کے ناسور کوختم کرنے کیلئے نیشنل ایکشن پلان دیا ہے اور اس کے مثبت نتائج بھی برآمد ہورہے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کی تعمیروترقی کے اور صحت مندشرے کی تشکیل کیلئے ہیلتھ ایکشن پلان بنایا جائے۔
غذائی قلت کاشکار دنیا بھر کے ممالک کوچاہے کہ وہ ایس ڈی جی کے دوسرے ہدف حاصل کرنے کیلئے نیوٹریشن کے نظام کوفعال بنائیں۔ایسا زراعت کوترقی دے کر ہی کیا جاسکتا ہے۔اس کام کیلئے پرائیوٹ سیکٹرز کے افراد اور اداروں کوبھی ساتھ ملا کر اُن کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ احتساب کے نظام کوبہتر بنانا چاہیے اور جولوگ غذاکامصنوری بحران پیدا کرنے والوں کو سخت سزائیں دینی چاہیں۔
اچھی غذا معاشرے کے افراد کو صحت کاپیام دے کرترقی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے جب کہ عدم فراہمی کی صورت میں معاشی ومعاشرتی ترقی ممکن نہیں ہو گی۔دنیا بھر میں ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے ممبر ممالک جو اس کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں کوغذائی قلت ختم کرنے کیلئے خاص اقدامات کرنے چاہیے۔
پاکستان کے حکمران طبقہ کواس مسئلہ کو اپنی پہلی اور آخری ترجیح بنانا ہوگا کیونکہ پاکستان اس سلسلے میں شدید مسائل کاشکار ہے۔گزشتہ دنوں وزیراعظم نے کسان پیکج کا اعلان تو کیا ہے مگر اگلے روز ہی یہ خبریں بھی آنا شروع ہوگئی ہیں کہ اس کے ذریعے اپنی سیاست چمکائی جارہی ہے۔سیاست دان اپنی سیاست ضرور چمکائیں مگر ساتھ ساتھ عوام کواُن کاحق بھی ضرور دیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-10-06

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان