بند کریں
منگل فروری

مزید تحقیقاتی فیچرز

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مستقبل کی ڈرون جنگیں
امریکہ نے دنیا کو تباہی کی راہ پر دھکیل دیا! جنرل ہنری آرنلڈ نے 1945ء میں بڑے یقین کے ساتھ یہ پیش گوئی کی کہ مستقبل کی جنگیں ایسے جنگی جہازوں کے ذریعے لڑی جائیں گی
کامران امجد خان:
دوسری جنگ عظیم کے دوارن امریکی فضائیہ کے کمانڈر جنرل ہنری آرنلڈ نے جرمن فوج کے ٹھکانوں پر بمباری کا نیا طریقہ دریافت کرتے ہوئے دو امریکی بمبار طیاروں بی۔17اور بی۔24کو ریمورٹ کنٹرول کے ذریعے اڑنے والے طیاروں میں تبدیل کیا اور انہیں ہتھیاروں سے لیس کر کے دعویٰ کیا کہ امریکی پائلٹوں کی جان کو خطرے میں ڈالے بغیر یہ طیارے دشمن کی فوج کو شدید نقصان پہنچائیں گے۔
امریکی فوج کا یہ مشن خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں کرسکا، تاہم جنرل ہنری آرنلڈ نے 1945ء میں بڑے یقین کے ساتھ یہ پیش گوئی کی کہ مستقبل کی جنگیں ایسے جنگی جہازوں کے ذریعے لڑی جائیں گی، جنہیں پائلٹ کے بغیر اڑایا جائے گا۔
سات دہائیوں بعد آرنلڈ کی بات سچ ثابت ہوئی نظر آرہے ہیں۔ مسلح ڈرونز دنیا بھر میں آسمانوں پر راج کرتے نظر آرہے ہیں۔
اس وقت اگرچہ امریکہ کو ڈرونز کے استعمال میں دیگر ممالک پر واضح برتری حاصل ہے تاہم دنیا کے دورے ملک بھی بڑی تیزی سے اس ٹیکنالوجی پر دسترس حاصل کررہے ہیں۔ ڈرونز کے ثمرات میں پائلٹ یا زمینی افواج کو خطرے میں ڈالے بغیر دشمن کے خلاف کارروائی سب سے اہم ہے۔ جس نے فوج کے استعمال کو بھی محدود کردیا ہے۔ امریکہ نے افغانستان ، عراق، لیبیا، پاکستان ، فلپائن، صومالیہ اور یمن میں مسلح ڈرونز کا بے دردی سے استعمال کیا ہے، اس سے دیگر ممالک بھی اپنے اپنے دشمنوں کے خلاف ان ڈرونز کا اسی طرح استعمال کرنے کے خواہش مند ہیں، جیسے کہ امریکہ کررہا ہے بلکہ بعض ممالک تو ایسا کرنے بھی لگے ہیں، البتہ فی الحال یہ استمال ڈھکا چھپا کیا جارہا ہے جو کسی بھی وقت علی الاعلان حملوں میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
دنیا کے مختلف ممالک اب ڈرون ٹیکنالوجی پر دسترس حاصل کرچکے ہیں۔ یا اس ہدف کے قریب پہنچ چکے ہیں جس سے مستقبل قریب میں ڈرون جنگوں کا شدید خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔
یقین سے یہ کہنا مشکل ہے کہ کتنے ممالک ڈرونز ٹیکنالوجی پر پوری طرح دسترس حاصل کرچکے ہیں کیونکہ اکثر ممالک اپنے ڈرون پروگرام کو خفیہ رکھے ہوئے ہیں یا ان کے بارے میں غلط معلومات پھیلاتے ہیں۔
کچھ ممالک تو اپنے پاس موجود ڈرونز سے بالکل منکر ہیں تاکہ اپنی صلاحیت کو چھپا سکیں، جبکہ بعض ممالک ایسے بھی ہیں جو اپنی ڈرون ٹیکنالوجی آپریشنل نہ ہونے کے باوجود اس کی وجہ سے خود کو طاقتور ثابت کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ امریکہ کے ڈرون پروگرام کو سب پر برتری حاصل ہے۔ 2008ء سے اب تک، امریکہ نے افغانستان میں ایک ہزار سے زائد ڈرون حملے کیے ہیں۔
2008ء سے 2012ء تک اس نے عراق میں 48ڈرون حملے کیے اور 2011ء میں لیبیا میں کم از کم 145ڈرون حملے کیے۔ مجموعی طور پر پاکستان پر کیے جانے والے امریکی ڈرون حملوں کی تعداد 400کے قریب ہے، یمن میں 100اور صومالیہ میں 18حملوں کے علاوہ امریکہ نے ایک ڈرون حملہ فلپائن میں بھی کیا ہے۔
اسرائیل اور برطانیہ بھی مسلح ڈرونز کا استعمال کر رہے ہیں۔ جو لائی 2013ء میں برطانوی فوج نے افغانستان میں 299ڈرون حملے کیے جبکہ اسرائیلی ڈرونز نے صرف2008-09ء کے دوران غزہ میں 42حملے کیے۔
نیز اسرائیل نے مصر کی حکومت کی رضا مندی سے اگست 2013ء میں سینائی، پتسولہ میں بھی ڈرون حملے کیے تھے۔
اگرچہ فی الحال ڈرونز کو جنگی مقاصد کیلئے استعمال کرنے والے ممالک کی تعداد کم ہے مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ 2004ء تک صرف 41ممالک کے پاس مسلح یا غیر مسلح ڈرون ٹیکنالوجی موجود تھی جبکہ 2011ء تک ایسے ممالک کی تعداد بڑھ کر 76ہوچکی تھی۔
تازہ ترین تحقیقات کے مطابق امریکہ ، برطانیہ اور سرائیل کے علاوہ چین اور ایران بھی آپریشنل مقاصد کیلئے ڈرونز استعمال کررہے ہیں۔ چین تو گزشتہ پانچ برس سے مختلف فوجی نمائشوں اور پریڈز کے دوران اپنے ڈرونز دکھا رہا ہے اور اب اپنے ڈون پروگرام پر اس قدر زیادہ خرچ کررہا ہے کہ 2020ء تک اس کا بجٹ امریکہ کے ڈرون پروگرام کے بجٹ کے برابر ہوجائے گا۔
ایران نے ایک ایسا ڈرون بنایا ہے جو اس کے مطابق 2ہزار کلو میٹر کی رینج رکھتا ہے۔ گویا پورے مشرق وسطیٰ پر اس کی ڈرون کے ذریعے رسائی ممکن ہے۔
بھارتی حکومت نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے پاس موجود ڈرونز کو جلد ہی گائیڈڈ میزائلوں سے لیس کر کے بڑی تعداد میں تیار کرے گی اور انہیں سرحد پار دہشت گردی روکنے کے لئے استعمال کرے گی۔
پاکستان بھی اپنے روایتی حریف سے پیچھے نہیں رہنا چاہتا، اس نے بھی اعلان کر رکھا ہے کہ ہم قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور طالبان کے خلاف کاروائی کیلئے مسلح ڈرون بذات خود یا چین کی مدد سے تیار کریں گے۔ بلکہ بعض اطلاعات کے مطابق پاکستان یہ صلاحیت حاصل کرچکا ہے۔ ترکی کے پاس بھی اس وقت 24ڈرونز موجود ہیں، جن میں ایک ڈرون جو تیاری کے مراحل میں ہے، اس کے بارے میں ترکی کی حکومت کا خیال ہے کہ وہ امریکی ڈرون Reaperکے برابر صلاحیتوں کا حامل ہوگا۔

آسٹریلیا، جاپان اور سنگاپور غیر مسلح نگران ڈرون بنا چکے ہیں، جنہیں وہ متنازعہ علاقوں میں فی الحال نگرانی اور جاسوسی کے مشن انجام دینے کیلئے استعمال کررہے۔ روس ایک عرصہ سے ڈرون ٹیکنالوجی پر دسترس رکھتا ہے مگر اس کے معاشی حالات اس کی راہ میں حائل ہیں۔فرانس اور اٹلی بھی اپنے پروگرام کو آگے بڑھانے میں دشواری کا شکار ہیں اور فی الحال محض نگران ڈرونز ہی استعمال کررہے ہیں۔
یہ ڈرونز امریکی ڈرونز Reaperکی ہی تبدیل شدہ شکل ہیں جسے ان دو ممالک کیلئے مسلح کی بجائے جاسوسی کے مقاصد کیلئے تیار کیا گیا ہے ۔ فرانس ان ڈرونز کے ذریعے مالی میں نگرانی کے آپریشن کررہا ہے۔
جوں جوں مسلح ڈرونز رکھنے والے ممالک کی تعداد بڑھے گی، بین الاقوامی امن کو لاحق خطرات بڑھتے جائیں گے۔ سی آئی اے کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا میں 430 ایسے سمندی مقامات ہیں جن کے بارے میں اب تک مختلف ممالک کسی معاہدے پر نہیں پہنچے اور یہ مقامات متنازعہ حیثیت رکھتے ہیں۔
تین، گیس، معدنیات اور دیگر قیمتی اشیاء کے حصول کے علاوہ باہمی تنازعات بھی ڈرونز کے مسلح استعمال کے امکانات کو بڑھا رہے ہیں۔ خصوصاََ ایسے علاقوں میں جہاں دو یا زیادہ ملکوں کے درمیان باہمی تنازع موجود ہے وہاں مسلح ڈرون جنگوں کے امکانا تو بہت زیادہ ہیں۔
مسلح ڈرونز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور ان کی افادیت کے احساس نے دنیا کے بیشتر ممالک کو ان کے حصول پر مائل کیا ہے اور ان کی یہ خواہش دنیا کو ایک ایسے مقام کی طرف تیزی سے لے جارہی ہے جہاں مسلح تصادم اور ڈرونز کے ذریعے مہلک حملوں کا خطرہ بہت بڑھ گیا ہے۔

امریکہ نے ڈرونز کے بے رحم استعمال سے جو مثالیں قائم کی ہیں، اس کے زوال اور دنیا کی متعدد ابھرتی ہوئی طاقتوں کے عالمی منظر نامے میں طاقت حاصل کرلینے سے بھی اس بات کے امکانات میں اضافہ ہوگیا ہے کہ ڈرون ٹیکنالوجی رکھنے والی دیگر اقوام بھی ڈرون کا ویسا ہی وحشیانہ اور بے رحم استعمال کریں گی اور اپنے دشمنوں کے خلاف روایتی جنگوں کے بجائے ڈرونز کے ذریعے مقاصدکے حصول کو ترجیح دیں گی۔

موجودہ صورتحال میں یہ انتہائی ضروری ہے کہ امریکہ بذات خود ڈرون زکے بے رحم اور عالمی قوانین کے خلاف استعمال کو بند کرے اور دیگر عالمی طاقتوں کو بھی اس ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے روکنے کیلئے باقاعدہ قوانین تشکیل دے۔ جیسا کہ اوباما انتظامیہ کے ڈرون پالیسی کے چیف آرکیٹکٹ اور سی آئی اے کے ڈائرکٹر نے اپریل 2012ء کی اپنی تقریر میں اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”اگر ہمیں دوسرے ملکوں سے یہ توقع رکھتی ہے کہ وہ ڈرون ٹیکنالوجی کو ذمہ داری سے استعمال کریں، تو اس کیلئے ہمیں پہلے خود اسے ذمہ داری سے استعمال کرنا ہوگا۔ “ اس حوالے سے فوری اقدامات اور قوانین تشکیل دینے کی ضرورت ہے تاکہ دنیا کو مستقبل میں وحشی ڈرون جنگوں سے بچایا جاسکے۔
تاریخ اشاعت: 2014-04-28

(3) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان