بند کریں
جمعہ فروری

مزید تحقیقاتی فیچرز

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مسجد مریم زمانی
اس مسجد کو بادشاہ جہانگیر نے اپنی ماں کے نام پر 1611 ء سے 1614ء کے درمیان تعمیر کروایا جو دھا اکبر کے نام سے مشہور تھی ۔ مریم الزمانی کون تھی ؟ اس بارے میں بعض تاریخ دان یہ کہتے ہیں کہ وہ جو دھابائی تھی
برصغیر پاک ہندو میں مغل بادشاہوں نے سینکڑوں سال حکمرانی کی ۔ ہر حکمران نے اپنے دور حکومت میں عظیم الشان عمارتیں تعمیر کروائیں ۔ ان میں مساجد ، قلعے ، محلاوت اور دیگر گار عمارتیں قابل ذکر ہیں ۔ یہ تاریخی عمارتیں آج بھی ہمیں مغلیہ عہد رفتہ کی یاددلاتی ہیں اور ہم ان خوبصورت اور دیدہ زیب عمارتوں کے حسن میں کھو کر مغلیہ فن تعمیر کو داا تحسین دیئے بغیر نہیں رہتے ۔
انہی شاندار عمارتوں میں ایک مسجد مریم زمانی بھی ہے ۔ اس مسجد کو بادشاہ جہانگیر نے اپنی ماں کے نام پر 1611 ء سے 1614ء کے درمیان تعمیر کروایا جو دھا اکبر کے نام سے مشہور تھی ۔ مریم الزمانی کون تھی ؟ اس بارے میں بعض تاریخ دان یہ کہتے ہیں کہ وہ جو دھابائی تھی جبکہ اکثر مورخین کا کہنا ہے کہ وہ اکبر بادشاہ کی کوئی دوسری بیوی تھی ۔ مغلیہ عہد کے اس دور میں شاہی تخت کے جانشین کی ماں کانام مریم الزمانی تھا ۔
اسی بنا ء پر جہانگیر نے اس مسجد کا نام اپنی ماں کے نام پر رکھا تھا ۔
یہ مغلیہ فن تعمیر کی پہلی ایسی مسجد ہے جس کے طرزتعمیر سے متاثر ہو کر بعد میں بنائی جانے والی مساجد اسی ڈیزائن پر بنائی گئیں ۔ یہ مسجد اس وقت کے تعمیرات میں ماہر کاریگروں کا عظیم شاہکار ہے ۔ اس کی تعمیر میں سیمنٹ اور چونا استعمال کیا گیا ۔ مسجد کے درود یوار کو نہایت عمدہ اور خوبصورت نقش ونگار سے سجایا گیا جو اس کے حسن کو چار چاند لگارہے ہیں ۔
مسجد کے صحن میں مغلیہ دور کی مخصوص پختہ فرشی ٹائلیں لگائی گئیں تھیں جس کی جگہ نیا سنگ مرمر لگادیا گیا ہے ۔ نماز پڑھنے کی جگہ بیضوی شکل میں بنائی گئیں یہاں بڑا گنبد بھی موجود ہے جس میں مزید تکون نما چھوٹے چھوٹے گنبد بنائے گئے تھے جس اس بڑے گنبد کی دلکشی میں اضافہ کرتے ہیں ۔ انہیں دیکھنے والے حیرت کے سمندر میں گم ہوئے بغیر نہیں رہتے ۔
مسجدکا درمیانی محراب بھی گنبد نما بنا ہوا ہے جس پر خوبصورت انداز میں نقش کاری کی گئی ہے ۔
مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے مخصوص جدہ پر بہت خوبصورت نقش ونگار بنائے گئے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ مسجد میں قرآنی آیات اور دیگر تحریریں بھی کندہ کی گئی ہیں ۔ اسی طرح مسجد میں اسے بنانے والے بادشاہ کا نام اور اس کا سن تعمیر بھی کنندہ کیا گیا ہے۔
تاریخی حوالوں کے مطابق مسجد کے لئے 127ضرب 135فٹ جگہ مختص کی گئی تھی ۔ جس میں سے بہت سی جگہ پروہیل رم کاکاروبار کرنے والے اور مقامی رہائشیوں نے قبضہ کر رکھا ہے ۔
بعض تاریخ دان اس مسجد کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ جس دروازے میں یہ مسجد بنائی گئی تھی اسے مسجدی گیٹ کہا جاتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں مسجد مریم زمانی موجود تھی ۔ بعدازاں یہ نام بگڑ کر مستی گیٹ مشہور ہوگیا ۔

سکھ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور اقتدار میں اس کی مسجد کو بارودخانہ فیکٹری میں تبدیل کر دیا گیا جس کے باعث اس کا نام بارودخانے والی مسجد مشہور ہوگیا ۔ 1850ء میں یہ مسجد مسلمانوں کو لوٹا دی گئی جنہوں نے اس کی دوبارہ مرمت اور تزئین وآرائش کروائی ۔ تاریخی مسجد مریم زمانی جو مغلیہ عہد کی تاریخ بیان کر رہی ہے اسے دور حاضر میں مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے ۔ مسجد خستہ حالی کا شکار ہوچکی ہے ۔ متعلقہ حکومتی ادارے بھی اس کی حالت سنوارنے کی کوشش نہیں کررہے ۔
تاریخ اشاعت: 2015-08-15

(0) ووٹ وصول ہوئے