بند کریں
اتوار فروری

مزید تحقیقاتی فیچرز

پچھلے مضامین - مزید مضامین
لاہور کی پھول منڈی
جہاں سدا بہار رہتی ہےمندے کے دنوں میں گلاب پرچون ریٹ میں 50روپے کلو تک جا پہنچتا ہے جبکہ مہنگے داموں یہ ہزار روپے فی کلو تک بھی جاپہنچتا ہے۔ لاہور کی اس پھول منڈی میں سب سے زیادہ گلاب دیکھنے کو ملتا ہے

عمیر ناصر:
قدرت کا ایک حسین تحفہ پھول بھی ہیں، جو ہمیشہ سے انسان کے جمالیاتی ذوق کو تسکین بخشتے رہے ہیں۔ پھولوں کے شوخ رنگ نظر کو خیرہ تو کرتے ہی ہیں مگر یہ جذبات کے اظہار کا بھی موثر ذریعہ ہیں۔ اپنی دلکش خوبصوری اور رعنائی کے علاوہ پھول ماحول کو بھی معطر کردیتے ہیں۔ شعرا اور ادباء نے اپنی شاعری اور تحریروں میں پھولوں کا بے دریغ استعمال کیا ہے۔

کہیں پھول کی پتی سے ہیرے کا جگر کاٹ ڈالا ہے تو کہیں اسے صنف نازک اور بچوں کی نزاکت سے ملا دیا ہے۔ شیخ سعدی نے اپنی کتابوں کے نام گلستان سعدی اور بوستان سعدی رکھے تھے۔
سچ ہے کہ پھول انسان کی خوشی اور غمی میں برابر کے ساتھی ہیں۔ موقع کوئی بھی ہو پھولوں کے ساتھ انسان کا ساتھ ضرور رہتا ہے۔ اسی ساتھ کی وجہ سے پھول نزاکت ، لطافت اور خوشبو کی دنیا سے نکل کر بازاروں میں بکنے لگے ہیں۔
انہیں ضرورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے بڑے پیمانے پر پاکستان میں پھولوں کی کاشت بھی کی جانے لگی ہے۔ لاہور میں بیگم کوٹ کے نزدیک ایک پھول منڈی بھی قائم ہوچکی ہے۔ جہاں روزانہ وسیع پیمانے پر پھولوں کا کاروبار ہوتا ہے اور خصوصاَ نماز فجر کی ادائیگی کے بعد یہاں شہر بھر کے دکانداروں کا بہت زیادہ ہجوم دیکھا جاسکتا ہے۔ یہاں خریدار کے لئے موجودہ دکانداروں کی اکثریت کا تعلق لاہور سے ہوتا ہے جو اس پھول منڈی سے کئی اقسام کے پھول خرید کر لے جاتے ہیں بعد ازاں اپنی دکانوں پر ان کے گلدستے اور ہار فروخت کرتے ہیں ۔
لاہور کی اس پھول منڈی کے قائم ہونے سے پہلے لاہور میں پھولوں کے کاروبار سے منسلک افراد پتو کی کا رخ کرتے تھے۔ یوں انہیں اہل لاہور کو پھول فراہم کرنے کیلئے لمبا سفر کرنا پڑتا تھا۔ مگر اس مقام پر روزانہ ارد گرد موجود کھیتوں سے تازہ پھول چنکر بیچے جاتے ہیں۔ شیخو پورہ اور شرقپور شریف کے علاقوں میں گلاب کے پھولوں کی وسیع کاشت ہوتی ہے۔
جہاں سے پھول چن کر لاہور کی اس منڈی میں لائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس منڈی میں بیرون ممالک اور پاکستان کے دیگر علاقوں سے بھی بیوپاری پھول منگواتے ہیں۔ یہاں کئی اقسام کے پھول خریدے جاسکتے ہیں۔ خاص طور پرپھولوں کی جو اقسام یہاں دستیا ب ہیں ان میں گلاب، چنبیلی ، گیندا، ٹیولپ وغیر مشہور ہیں۔صرف گلاب کے پھول کا جائزہ لیا جائے تو جن دنوں اس کی ضرورت میں بہت زیادہ اضافہ ہوجاتا ہے اس کا نرخ بھی بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے جس موسم میں گلاب کی فصل پھول دینے لگتی ہے پھول کی کثرت ہونے کی وجہ سے اس کے نرخوں میں بھی بہت زیادہ کمی آجاتی ہے۔

مندے کے دنوں میں گلاب پرچون ریٹ میں 50روپے کلو تک جا پہنچتا ہے جبکہ مہنگے داموں یہ ہزار روپے فی کلو تک بھی جاپہنچتا ہے۔ لاہور کی اس پھول منڈی میں سب سے زیادہ گلاب دیکھنے کو ملتا ہے ۔ گلا ب کے بعد جو مقامی پھول یہاں سب سے زیادہ دیکھا جاسکتا ہے وہ گیندے کا پھول ہے۔ گیندے کے پھول کا زیادہ تر استعمال ہار میں ہوتا ہے۔ منڈی میں کچھ افرا گیندے کے پھولوں کے ہار پرو کر درجنوں کے حساب سے بیچ رہے تھے۔
اس کے علاوہ یہاں تیسرا سب سے زیادہ فروخت کیا جانے والا پھول چنبیلی کا ہے۔ امپورٹڈ پھولوں کی مہنگی اور نایاب اقسام بھی یہاں با آسانی مل جاتی ہیں۔ پھول منڈی کا ماحول انتہائی معطر اور خوش رنگ نظر آتا ہے۔ یہاں موجود ہر شخص انتہائی انہماک اسے اپنے کام میں جُتا نظر آتا ہے۔ ان بیوپاریوں کی نظریں منڈی میں دخل ہونے والے شخص پر رہتی ہیں۔
چھوٹے دکاندار موٹر سائیکلوں پر پھول لاد کر لے جاتے ہیں جبکہ بڑے دکاندار پک اپ اور رکشوں وغیرہ میں پھولوں کو لے جاتے ہیں۔ گلدستوں میں سجانے کیلئے پھول ٹہنیوں سمیت ہی کاٹ کر یہاں لائے جاتے ہیں۔ جڑانوالہ روڈ پرواقع یہ پھول منڈی 3حصوں میں تقسیم ہے۔ 2بڑے حصوں میں صرف دیسی گلاب کی فروخت ہورہی ہوتی ہے جبکہ 1حصے میں کئی اقسام کے پھول اور گلدستے بنانے کے لوازمات جیسے پتے اور جھاڑ وغیر ہ خریدے جاسکتے ہیں۔
بیوپاری پھول بیچنے کیلئے مختلف طریقے اپناتے ہیں وہ لمبی ٹہنیوں والے پھول درجن کے حساب سے اور چھوٹی ٹہنی والے پھولوں کی ڈھیریاں بنا کر فروخت کرتے ہیں۔ جبکہ دیسی گلاب کو زمین پر پھیلا کر اس کی نیلامی کی جاتی ہے۔ لاہور کی اس واحد پھول منڈی میں صفائی کی صورحال انتہائی ناقص ہے۔ سڑک کنارے کیچڑ اور گندگی کا ایک بہت بڑا ڈھیر ہر وقت نظر آتا ہے۔
بیوپاری جب پھول لے کر منڈی پہنچتے ہیں تو پھولوں سے بھری ہوئی چادر کو نہایت اطمینان سے زمین پر سجا دیتے ہیں ۔ گلاب کی ایک خاص قسم کو گٹھیوں میں باندھ کر زمین پر یا لکڑی کے میز پر رکھ دیا جاتا ہے۔ پھولوں کی ان گٹھیوں کو دیکھ کر بہت زیادہ سکون ملتا ہے۔ پھول فروخت کرنے والے ایک شخص نے بتایا کہ یہاں تقریباََ پورے پاکستا ن اور بیرون ملک سے پھول منگوائے جاتے ہیں۔
یہ لاہور کی واحد پھول منڈی ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے لاہور کے دکاندار پتو کی سے پھول خریدتے تھے ابھی بھی وہاں سے بھی پھول خریدے جاتے ہیں مگر پھول بیچنے والے دکانداروں کی ایک بڑی اکثریت اس پھول منڈی کا رخ کرتی ہے ۔ لاہور سے آئے ایک خریدار اسلم نے بتایا کہ اس کی گڑھی شاہور کے علاقے میں پھولوں کی دکان ہے۔ اس نے بتا یا کہ اس منڈی سے گلاب مناسب دام میں مل جاتا ہے۔
جبکہ کچھ ایسے پھول ہیں جو پتو کی کی منڈی میں زیادہ اچھی قیمت میں ملتے ہیں۔ لیکن یہ منڈی بہت نزدیک ہے جس کی وجہ سے میں اپنی دکان کیلئے تمام پھول اسی جگہ سے خریدتا ہوں۔ ایک اور دکاندار اصغر نے بتا یا کہ اس کی دکان بھاٹی گیٹ، دربار مارکیٹ کے پاس ہے وہ یہاں سے بنے بنائے ہار خرید کر لے جاتا ہے جس سے اس کی کافی محنت بچ جاتی ہے۔ یہ منڈی اس کو بہت قریب پڑتی ہے عموماََ جمعرات کی صبح میں وہ پھولوں کی زیادہ خریدار کرتا ہے۔
بہر کیف یہ لاہور کی وہ واحد جگہ ہے جہاں موسم بہار سارا سال اپنے جوبن پر رہتا ہے آپ کسی اور جگہ پھول دیکھیں یا نہ دیکھیں مگر اس جگہ جا کر بہت سارے پھولوں کو ایک ساتھ دیکھ سکتے ہیں۔
میں نے دیکھی ہے ہر پھول کی آنکھ پُر نم
کیسے کہہ دوں کہ گلشن میں بہار آئی ہے

تاریخ اشاعت: 2014-01-03

(10) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان