بند کریں
بدھ فروری

مزید تحقیقاتی فیچرز

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کنگلے عوام کے کروڑ پتی نمائندے
سیاستدانوں کے ظاہرکردہ اثاثوں سے کئی گنا زائد بیرون ملک جائیدادیں نام نہاد خیراتی ادارے اور ٹرسٹ ٹیکس چوری کا ذریعہ بنا لئے گئے

اسرار بخاری:
اس میں کوئی تعجب کی بات ہے نہ ششدر رہ جانے کا معاملہ ہے۔ پاکستا ن میں جو انتخابی نظام رائج ہے اس میں کوئی غریب اور نچلے متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والا تو درکنار اونچے متوسط طبقہ کا شخص بھی اگر انتخابات میں حصہ لینے کا سوچ بھی لے تو اسے پاگل یا مجنوں سمجھا جائے تو کیونکہ اس نظام کے تحت تو یونین کونسل کی سطح کے انتخابات میں بھی لاکھوں روپے کا خرچہ برداشت کرنے والا حصہ لے سکتا ہے قومی اور صوبی اسمبلیوں کے انتخابات تو کروڑوں کی حدوں کو چھوتے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے ارکان پارلیمنٹ کے اثاثوں کی جو تفصیلات جاری کی ہیں ملک بھر میں کسی ایک شخص کیلئے یہ چونکا دینے ولا انکشاف نہیں ہے بلکہ یہ ” جو اس نے کہاگویا میرے دل میں تھا“ والی بات ہے۔ ملک کاپتہ پتہ بوٹا بوتا اس حقیقت سے باخبر ہے کہ انتخابات کے ذریعہ اسمبلیوں میں پہنچنے والے ارب پتی اور کروڑ پتی لوگ ہوتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے انتخابات 2013ء میں حصہ لینے والوں کے اثاثوں کی جو تفصیلات جاری کی ہیں ان کے مطابق ان میں وزیر اعظم نواز شریف سب سے زیادہ امیر جن کے اثاثوں کی مالیت ایک ارب 82کروڑ روپے ہے جبکہ گل محمد لاٹ ایک ارب 78کروڑ‘ شاہد خاقان عباسی ایک ارب 29کروڑ‘ پیر پگاڑا39کروڑ‘ مخدوم امین فہیم کے کروڑوں روپے کے اثاثوں کی مالیت ظاہر نہیں کی گئی۔
وفاقی وزیر خواجہ آصف صرف 90لاکھ ‘ چودھری پرویز الٰہی 20کروڑ‘ شیخ رشید 4کروڑ 18لاکھ ‘ مخدوم جاوید ہاشمی 10کروڑ 12لاکھ ‘ مخدوم شاہ محمود قریشی 8کروڑ 62لاکھ ‘ فریال تالپور 15کروڑ 89لاکھ ‘ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا 11کروڑ 31لاکھ اعجاز الحق ایک کروڑ، اسی طرح تمام ارکان کے اثاثے کروڑوں روپے مالیت کے ہیں اور اگر ان کی ٹیکس ادا کرنے کی شرح دیکھی جائے تو شاید ایک عام سررکاری ملازم سے بھی کم ہوسکتی ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے اکثر زمیندار ہیں اور پاکستان میں زرعی ٹیکس لاگو نہیں ہے۔ سابق صدر زرداری نے سوئس عدالت کے اپنی دولت کی وجہ یہی تحریری طور پر بیان کی تھی۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پارلیمنٹرینر کے 2012-2013ء کے مالی اثاثوں کے تفصیلات ویب سائیٹ پر جاری کردی ہیں۔ وزیر اعظم ارب پتی تو ممبران کروڑ پتی جبکہ عوام کی حالت زار نہ بدل سکی۔
اثاثوں کی تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف ایک عرب 82کروڑ روپے کے ساتھ نمایاں رہے پیپلز پارٹی کے سینیٹر گل محمد لاٹ ایک ارب 79کروڑ روپے کے اثاثوں کے ساتھ دوسرے امیر ترین پارلیمنٹرین ہیں۔ ۔شاہد خاقان عباسی کے اثاثو ں کی مالیت بھی سوا ارب روپے سے زائد جبکہ جمشید دستی تہی دست نکلے۔ سینیٹر پرویز رشید کے پاس صرف 2لاکھ روپے اور انکے پاس اپنا گھر ہے نہ گاڑی ۔
عمران کان کے اثاثوں کی مالیت 5کروڑ روپے اور خورشید شاہ کے اثاثوں کی قیمت بھی تقریباََ 2کروڑ 19لاکھ روپے ظاہر کی گئی ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے اثاثوں کی مالیت 17کروڑ روپے سے زائد ہے جبکہ مولانا فضل الرحمن صرف 73لاکھ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں۔ وزیر اعظم نوزش شریف اور انکے زیر کفالت کے اثاثوں میں چوہدری شوگر مل، حدیبیہ انجینئرنگ کمپنی ، حدیبیہ پیپر ملز، محمد بخش ٹیکسٹائل مل، حمزہ سپننگ مل، کلثوم ٹیکسٹائل مل میں بھی کروڑوں روپے کے شئیرز ظاہر کئے گئے ہیں۔
انکے پاس تین گاڑیاں اور ایک ٹریکٹر بھی ہے، اربوں روپے رکھنے ولاے وزیراعظم کی اہلیہ کے پاس صرف 15لاکھ روپے کے زیورات ہیں۔ گل محمد لاٹ اور ان کی اہلیہ پاکستان کے اندر اور باہر کاروبار کی مالک ہیں۔ پاکستان میں انکی جائیدادوں میں پلاٹس، فلیٹس اور زرعی زمین شامل ہیں جنکی قیمت 9کروڑ 71لاکھ 67ہزار 884روپے ہے۔ برطانیہ ، یو اے ای، سعودی عرب میں انکے 13اثاثوں کی مالیت 1اب 28کروڑ 51لاکھ 78ہزار 564روپے ہے۔
انہوں نے برطانیہ اور دبئی میں 51کروڑ 28لاکھ 86ہزار812روپے کا قرضہ لیا تھا اور انہوں نے پاکستان میں 29کروڑ 7لاکھ 22ہزار 581روپے کی جبکہ بیرون ملک 11کروڑ 75لاکھ 25ہزار 974روپے کی سرمایہ کاری کی۔ گل محمد لاٹ کے مجموعی اثاثوں کی مالیت تقریباََ ایک ارب 79کروڑ روپے ہے۔ خورشید شاہ کے اثاثوں میں کروڑوں روپے کی قیمتی پلاٹ اور زرعی اراضی بھی شامل ہے۔
آفتا ب شیر پاؤ بھی 5کروڑ روپے سیزائد کے اثاثوں کے مالک ہیں، انکے اثاثوں میں چارسدہ میں دکانیں اور مارکیٹ اور اسلام آباد میں بھی قیمتی بنگلے شامل ہیں۔ شیر پاؤ کے پاس 35لاکھ روپے کی 2004ء ماڈل لینڈ کروزر بھی ہے۔
مخدوم امین فہیم کے کروڑوں روپے کے اثاثوں کی کل مالیت ظاہر نہیں کی گئی، انکے اثاثوں میں ڈیفنس میں 5قیمتی بنگلے، یو اے ای میں اپارٹمنٹ جس کی مالیت 20لاکھ درہم سے زائد ہے، انکے اثاثوں میں 4قیمتی گاڑیاں اور 31لاکھ روپے سے زائد مالیت کے 125اونٹ، گائے، بھینس اور بکریاں بھی شامل ہیں۔
عمران خان کے اثاثوں میں کنالوں کی وراشتی اراضی ہے۔ عمران خان کے پاس بھی 50لاکھ روپے کی ایک پروڈو گاڑی ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے 17کروڑ روپے کے اثاثوں میں لاہور ، جڑانوالہ میں کروڑوں روپے کے قیمتی بنگلے اور ایک قیمتی گاڑی جسکی مالیت 8لاکھ روپے ہے، انکے اثاثوں میں 22لاکھ روپے مالیت کے 40تولے زیورات بھی ظاہر کئے گئے ہیں۔وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف کے اثاثوں کی مالیت بھی تقریباََ 90لاکھ روپے ظاہر کی گئی ہے۔
خواجہ آصف کے پاس کوئی گاڑی نہیں جبکہ 45لاکھ روپے مالیت کا 90تولہ سونا بھی ان کے گوشواروں میں ظاہر کیا گیا ہے۔ گوجرنوالہ میں ایک لاء کالج میں 20فیصد شئیرز جو کہ 14لاکھ روپے کے بنتے ہیں بتائے گئے ہیں۔
وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی کے اثاثوں کی کل مالیت 3کروڑ 58لاکھ روپے سے زائد بتائی گئی ہے۔ عابد شیر علی بھی اپنے وزیر پانی و بجلی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے گاڑی سے بھی محروم ہیں۔
چوہدری پرویز الٰہی کے کل اثاثوں کی مالیت 20کروڑ روپے سے زائد ہے ، ان میں قیمتی غیر زرعی زمین اور ماڈرن فلور مل شامل ہیں۔ پرویز الٰہی کے پاس دو گاڑیاں بھی ہیں جن میں سے ایک کی مالیت 2کروڑ 60لاکھ روپے اور ایک کی مالیت 57لاکھ روپے سے زائد ہے۔ ممبر قومی اسمبلی غلام سرور خان کے اثاثوں کی مالیت 9کروڑ 24لاکھ روپے سے زائد ہے جن میں قیمتی وراثتی زمین و مکان شامل ہیں، انکے بزنس میں سی این جی اور کرشرز شامل ہے۔
ان کے پاس کروڑوں روپے مالیت کی دو قیمتی گاڑیاں بھی شامل ہیں، انکی اہلیہ کے پاس 24لاکھ روپے مالیت کا 40تالہ سونا بھی ہے۔ شیخ رشید کے اثاثوں کی مالیت 4کروڑ 18روپے سے زائد ہے۔ ، شیخ رشی دکے پاس 6لاکھ تیز ہزار روپے کی گنز اور پسٹلز بھی موجود ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے ظاہر کئے گئے اثاثوں کی قیمت 89لاکھ روپے سے زائد کی ہے جبکہ ان کے ذمہ 24لاکھ روپے واجب الدا بھی ہیں ان کے آبائی اچاثوں میں فیض آباد میں رہائشی مکان، چکری میں فارم ہاؤس، دھمیال میں رہائشی فلیٹس ، چکری ، چوڑا اور کولیاں میں سینکڑوں کنال قیمتی زرعی اراضی بھی ہے، ڈی ایچ اے، سکھ چین لاہور میں بھی ان کے پاس قیمتی پلاٹ موجود ہیں، ان کے پاس دو قیمتی گاڑیاں بھی ہیں لیکن انہوں نے ان اثاثوں کی مالیت ظاہر نہیں کی ہے۔
جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ کے اثاثو ں کی مالیت 2کروڑ 80لاکھ روپے سے زائد ہے، انکے اثاثوں میں قیمتی زرعی اراضی رہائشی مکان ظاہر کئے گئے ہیں جبکہ انکے پاس صرف ایک گاڑی ہے جس کی مالیت 5لاکھ روپے ہے۔ وزیر اعظم کے داماد کیپٹن(ر) صفدر کے اثاثوں کی مالیت بھی 5کروڑ روپے سے زائد ہے، انکے اثاثوں میں ایک 60لاکھ روپے مالیت کی قیمتی بی ایم ڈبلیو بھی ہے جو کہ انکی اہلیہ کے نام ہے اور جس کو یو اے ای کی حکومت نے تحفہ میں دیا۔
مولانا فضل الرحمن کے اثاثوں کی کل مالیت 73لاکھ روپے سے زائد بتائی گئی ہے۔
ڈپٹی اسیکر مرتضیٰ جاوید عباسی کے اثاثوں کی کل مالیت 2کروڑ 72لاکھ روپے سے زائد ظاہر کی گئی ہے اور نیشنل بنک کے 50لاکھ روپے کے مقروض بھی ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے مخدوم جاوید ہاشمی کے اثاثو ں کی مالیت 10کروڑ 12لاکھ روپے سے زائد کی ہے، انکے اثاثوں میں قیمتی اراضی اور رہائشی اراضی بھی شامل ہے، شاہ محمود قریشی کے اثاثوں کی مالیت 8کروڑ 62لاکھ روپے سے زائد ہے، انکے اثاثوں میں منقولہ و غیر منقولہ جائیداد اور قیمتی اراضی شامل ہے۔
سابق صدر آصف زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کے اثاثوں کی مالیت 15کروڑ 89لاکھ روپے سزائد ہے، کروڑوں روپے کی حامل پارلیمنٹین کے پاس صرف 3لاکھ روپے کے زیورات ہیں۔ آصف زرداری کی دوسری ہمشیرہ ڈاکٹر عذرا افضل کے کل اثاثو ں کی مالیت تقریباََ 8کروڑ روپے ہے اور ان کے پاس 40تولہ سونا ہے جس کی مالیت صرف ”ڈیڑھ لاکھ“ روپے بتائی گئی ہے اور کروڑوں روپے کے اثاثوں کی مالک ممبر اسمبلی کے پاس گاڑی تک نہیں ہے۔
سابق اسپیکر اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کے کل اثاثوں کی مالیت 11کروڑ 31لاکھ روپے سے زائد ہے، ان کے پاس دو گاڑیاں اور 90لاکھ روپے 146تولے کے طلائی زیورات بھی گوشواروں میں ظاہر کئے گئے ہیں۔ ایم کیو ایم کے فاروق ستار کے اثاثوں کی مالیت 36لاکھ روپے ثاہر کی گئی ہے ، انکے پاس صرف ایک گاڑی جسکی مالیت 5لاکھ روپے اور 75ہزار روپے کے طلاعئی زیورات ہیں۔
محمد اعجاز الحق کے کل اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ روپے سے زائد ہے، انکے پاس ایک گاڑی اور صرف 60ہزار روپے کے طلائی زیورات ہیں۔
الیشن کمیشن کے ویب سائٹ پر عوامی نمائندوں کے اثاثو ں کی جو تفصیلات جاری کی ہیں ان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ باقاعدہ تحقیق کے بعد یہ درست ثابت ہوئی ہیں۔ یہ تفصیلات دیکھ کر اگر عام لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوجائے کہ یہ اربوں اور کروڑوں مالیت کے اثاثے رکھنے والے اس ملک کے عوام کیلئے کتنا سود مند ثابت ہوئے ہیں۔
کیونکہ اس وقت ملک قرضوں کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔ شدید اقتصادی بحران کے باعث حکومتوں کو عالمی مالیاتی اداروں کا مرہون منت ہونا پڑتا ہے۔ توانائی کے بحران سے ملک کی اقتصادی ، معاشی ، تجارتی اور سماجی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کررکھے ہیں جس سے غربت اور بیروز گاری میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کا جینا حرام کر رکھا ہے کیا یہ اربوں کروڑوں کے اثاثے رکھنے والے غریب عوام کی مشکلات کم کر سکیں گے انکا ماضی اس کی توثیق نہیں کررہا۔

تاریخ اشاعت: 2014-01-07

(3) ووٹ وصول ہوئے