بند کریں
منگل جنوری

مزید تحقیقاتی فیچرز

پچھلے مضامین - مزید مضامین
انسانی سمگلنگ
تعریف ،نوعیت اور وسعت۔۔۔۔ انسانی سمگلنگ کا وسعت اختیار کرتا مکروہ دھندہ اہل مغرب کیلئے درد سر بنا ہوا ہے
مصنف : ذبیح اللہ بلگن
گزشتہ ہفتے یورپی ملک آسٹریا میں انسانی سمگلنگ کے حوالے سے ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے ۔ آسٹریاکے سیکیورٹی اداروں کو ہنگری سے متصل مشرقی سرحد کے قریب ایک ایسے لاوارث ٹرک کے حوالے سے معلومات ملیں جس میں 71لاشیں موجود تھیں۔ آسٹروی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ٹرک ویانا جانے والی مرکزی سڑک کے کنارے پانڈارف قصبے کے قریب پایا گیاتھا ۔
ہلاک ہونے والوں میں 59 مرد، آٹھ خواتین اور چار بچے شامل ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ یہ افراد ٹرک کی دریافت سے ڈیڑھ سے دو دن پہلے ہلاک ہو چکے تھے اور ان کے جسم گلنا سڑنا شروع ہو گئے تھے۔پولیس نے یہ بھی کہا ہے کہ ٹرک کے ہنگری سے سرحد عبور کر کے آسٹریا میں داخلے سے قبل ہی یہ افراد ہلاک ہو چکے تھے۔واضح رہے کہ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ایک اجلاس میں یورپ آنے والے تارکین وطن کے بارے میں غور کیا جا رہا ہے۔
مشرق وسطی اور افریقہ کے شورش زدہ ملکوں سے ہزاروں کی تعداد میں تارکین وطن یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔خیال رہے کہ اس سے قبل سمندر میں یورپ کی جانب آنے والی کشتیوں سے تو حالیہ چند ہفتوں میں سو سے زیادہ تارکینِ وطن کی لاشیں مل چکی ہیں لیکن کسی ٹرک سے ایسی لاشیں ملنے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔لاشیں ملنے کے بعد آسٹریا کی وزیر داخلہ جوہانا مائکل لیٹنر نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ یہ ایک سیاہ دن ہے اور میری ہمدردیاں ہلاک ہونے والوں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس واقعے نے ایک بار پھر تارکین وطن کو تحفظ فراہم کرنے اور انسانی سمگلروں سے لڑنے کے لیے یورپی یونین میں فوری مشترکہ پالیسی بنانے کے مسئلے کو اجاگر کیا ہے۔ویانا میں جاری اجلاس میں سربیا اور مقدونیہ کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کو بڑی تعداد میں تارکین وطن کی یورپ آمد کے خلاف حکمتِ عملی تیار کرنا ہو گی۔گذشتہ ماہ یورپی سرحد کو عبور کرنے والے تارکین وطن کی تعداد 107,500 ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ صرف ایک دن میں پولیس کے مطابق تین ہزار سے زیادہ افراد سربیا میں داخل ہوئے ہیں۔

روزنامہ نئی بات کے انہی صفحات میں ہم پاکستان میں انسانی سمگلنگ کے واقعات کے حوالے سے مفصل انداز میں رقم کر چکے ہیں ۔ ذیل میں بین الاقوامی انسانی سمگلنگ کے حوالے سے تحریر کیا جا رہا ہے ۔انسانی سمگلنگ جیسا مکروہ دھندا کیونکر فروغ حاصل کر رہا ہے اور اس کاروبار میں ملوث افراد کس طرح اربوں ڈالرز کا منافع حاصل کر رہے ہیں اور انسانی سمگلنگ کا شکار افراد کے حوالے سے بین الاقوامی قوانین کیاہیں ؟۔
ان تمام سوالات کا ذیل میں مفصل جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے ۔ مگر اس سے پہلے دنیا کی معاشی اور جغرافیائی تقسیم کے حوالے سے آگاہ ہونا ضروری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ وہ کون سے عوامل ہیں جو انسانی سمگلنگ کے فروغ کا باعث بن رہے ہیں ۔
دنیا کی معاشی و جغرافیائی تقسیم
آج جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں یہ 29 فیصد زمین کے حصے پر محیط ہے جبکہ باقی 71 فیصد حصہ پانی سے ڈھکا ہوا ہے۔
دنیا کی تقسیم کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو اس کا خشکی کا حصہ چھ بڑے اور آٹھ چھوٹے حصوں میں منقسم ہے ۔اس وقت ان خطوں کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔ براعظم ایشیا، براعظم یورپ، براعظم افریقہ، براعظم جنوبی امریکہ، براعظم شمالی امریکہ، اوربراعظم آسٹریلیا۔ ایک نیا براعظم بھی دریافت کیا گیا ہے جسے ماہرین تسلیم کرنے میں پس و پیش سے کام لے رہے ہیں۔
اس براعظم کو انٹارکٹیکا کا نام دیا گیا ہے ۔ہمارا موضوع پہلے چھ براعظموں تک محدود ہے جہاں سے انسان ایک سے دوسرے براعظم یا ایک ملک سے دوسرے ملک ہجرت کرتے ہیں ۔یہ ہجرت یا ترک وطن کا عمل قانونی ہے یا غیر قانونی اس کا جائزہ اس مضمون میں لیا گیا ہے۔جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے کہ پوری دنیا کے معاشی جغرافیے کو پہلے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا اس تقسیم کا جائزہ لیا جائے تو دنیا میں پائی جانے والی غربت کے اسباب کھل کر سامنے آ جاتے ہیں۔
مثلاً شمال کی دنیا امیر دنیا ہے جبکہ جنوب میں غربت نے پنجے گاڑھے ہوئے ہیں۔ اس تقسیم کے مطابق شمال میں دنیا کی آبادی کا صرف 1/4 حصہ رہتا ہے ۔یہ دنیا کی کل آمدن کے 4/5 حصے کا مالک ہے ۔یہاں رہنے والوں کی اوسط عمر 70 سال کے قریب ہے ۔شمال میں اتنی خوراک پیدا ہوتی ہے کہ اس کی بڑی مقدار ہر سال ضائع کرنا پڑتی ہے۔ یہاں دنیا بھر کی صنعتوں کا 90 فیصد حصہ لگا ہوا ہے۔
ان ممالک کی آبادی کم از کم ہائر سیکنڈری اسکول تک تعلیم یافتہ ہے۔ دنیا بھر میں سائنسی تحقیق اور انسانی ترقی پر ہونے والے اخراجات کا 96 فیصد حصہ شمال میں خرچ ہوتا ہے۔ شمال کے تجارتی ادارے اور کمپنیاں دنیا بھر کی تجارت اور معاشی نظام پر چھائے ہوئے ہیں۔ یہاں کی ملٹی نیشنل کمپنیاں دنیا کے سرمائے کے 1/3 حصے پر قابض ہیں۔ اس کے برعکس جنوب میں دنیا کی آبادی کا 3/4 حصہ آباد ہے لیکن اسے دنیا کی آمدنی کا صرف 1/5 حصہ ملتا ہے۔
یہاں لوگوں کی اوسط عمر 50 سال ہے۔ جنوب میں غریب ترین ممالک میں پیدا ہونے والے بچوں میں سے 1/4 پانچ سال کی عمر سے پہلے ہی خوراک اور ادویات کی کمی کے سبب مر جاتے ہیں۔ جنوب کی آبادی کا چوتھا حصہ بھوک اور افلاس کا شکار ہے۔ آدھی سے زیادہ آبادی ان پڑھ ہے۔ بعض ممالک میں ناخواندگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دنیا بھر میں جتنے غریب افراد ہیں ان کا 2/3 حصہ بنگلہ دیش، بھارت، پاکستان اور انڈونیشیا میں پایا جاتا ہے۔
جنوب جس میں تیسری دنیا کے ممالک پائے جاتے ہیں شمال کے ممالک کے لیے خام مال پیدا کرتے ہیں۔ لیکن خود یہ اربوں ڈالرز کے قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ جنوب میں زیادہ ریاستوں پر فوجی قابض ہیں جو شمال کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں ۔ یورپ و امریکہ ہر سال غلے کی ایک بڑی مقدار کو ضائع کر دیتا ہے تاکہ عالمی منڈی میں اس کی قیمت گرنے نہ پائے یا غریب لوگوں تک خوراک سستے داموں نہ پہنچ سکے۔
ہر سال کسانوں کو لاکھوں ڈالرز اور پونڈز محض اس لیے دیئے جاتے ہیں کہ وہ اپنی فصل کاشت نہ کریں۔ جبکہ تیسری دنیا کے ممالک میں قدرتی وسائل اور معدنیات کی فراوانی کے باوجود بھوک نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اور عوام امیر ملکوں کی طرف رخ کر رہے ہیں ۔ مثلاً براعظم افریقہ کے 26 فیصد حصے پر فصلیں اگائی جا سکتی ہیں لیکن فی الحال صرف 6 فیصد حصے کو زیر کاشت لایا جا رہا ہے۔
اسی طرح بنگلہ دیش کو بھی ماضی میں غریب ترین ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا جبکہ یہاں دنیا کے سب سے بڑے مچھلی کے ذخیرے قائم کیے جا سکتے ہیں اور یہ بہت ہی سرسبز و شاداب ملک ہے۔ اسی طرح میکسیکو دنیا بھر کی چاندی کا 14 فیصد حصہ پیدا کرتا ہے۔ پیرو دنیا کی چاندی کا تقریباً 13 فیصد ا ور 8.7 فیصد زنک پیدا کرتا ہے۔ برازیل میں دنیا کے خام لوہے کا 13 فیصد حصہ اور بولویا میں ٹین کا 12 فیصد جبکہ انٹی مونی کا 26 فیصد حصہ تیار کیا جاتا ہے۔
چلی تانبہ کا 13 فیصد، زائرے میں کو بالٹ کا پچاس فیصد تانبا کا 6 فیصد اور ہیرے جواہرات کا 25 فیصد حصہ پایا جاتا ہے۔ بوسٹوانا قیمتی اور صنعتی جواہرات کا 22 فیصد حصہ اپنے اندر رکھتا ہے۔ زمبیا میں کوبالٹ کا 14 فیصد اور تانبے کا 7 فیصد حصہ پایا جاتا ہے۔ انگولا میں ہیرے جواہرات کا 10 فیصد حصہ پایا جاتا ہے۔ الغرض پورا افریقہ معدنیات کی دولت سے مالا مال ہے۔
ایشیاء میں بھی متعدد اشیاایسی پائی جاتی ہیں جن کی یورپ کو شدید ضرورت ہوتی ہے۔ ملائیشیا میں دنیا کے ٹین کا 24 فیصد حصہ اور انڈونیشیا میں 14 فیصد پایا جاتا ہے۔ تھائی لینڈ ٹین کا 13 فیصد حصہ پیدا کرتا ہے۔ دیگر اشیاء میں چائے، کپاس، تیل، ربڑ، لکڑی وغیرہ تیسری دنیا سے مغرب کے امیر ممالک کو بھیجی جاتی ہیں۔ دراصل غریب ممالک اپنی پیداوار سے امیر ملکوں کی خوشحالی قائم رکھے ہوئے ہیں۔
امیر ممالک دنیا کے وسائل کا 80 فیصد حصہ ہڑپ کر جاتے ہیں۔
انسانی سمگلنگ کی تعریف، نوعیت اور وسعت
انسانی سمگلنگ کا مطلب منافع کی غرض سے کسی شخص کا جنسی استحصال کرنے، غلام رکھنے، جبری مشقت یا جبری شادی کرنے کے مقصد کے لئے انسانوں کی غیر قانونی تجارت لیا جاتا ہے۔ خاص طور پر بچوں اور عورتوں کو مذکورہ مقاصد کے لئے استعمال کرنا ۔
انسانی سمگلنگ اس وقت دنیا میں منشیات کی سمگلنگ کے بعد دوسری بڑی غیر قانونی منافع بخش انڈسٹری بن چکی ہے جس سے اربوں ڈالر کمائے جاتے ہیں۔ 2004ء میں اس کے ذریعے 5 بلین امریکی ڈالر منافع کمایا گیا جبکہ انسانوں کی اس غیر قانونی تجارت کا بین الاقوامی سالانہ منافع 2008ء میں 31.3 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کے مطابق ہر سال 127 ممالک میں سے 25 لاکھ افراد 137 ممالک میں سمگل کئے جاتے ہیں۔
انسانی سمگلنگ سے مراد ”کسی شخص کو جبری مشقت، جبری شادی، جنسی استحصال، گھریلو خدمت، مندر میں پوجا کرنے، یا اس کے جسمانی اعضاء جسم سے کاٹ کر فروخت کرنے یا کوئی ایسا کام جس کو وہ آزاد رضا مندی سے کرنے کے لئے تیار نہ ہو کرنے پر مجبور کرنے کے لئے طاقت کے استعمال، جھوٹ ، فراڈ، دھوکہ، جبر، لالچ یا خوف کے تحت اس کی مرضی حاصل کرنا، لیا جاتا ہے۔
“ اس میں تمام عمر کے مرد، عورتیں، بچے اور مخنث شامل ہیں۔ یہ تعریف انگریزی کی اصطلاح Human Traffaking کے مفہوم کے مطابق کی گئی ہے جبکہ Human smuggling سے مراد کسی شخص کا اپنی رضا مندی سے کسی ایسے ملک میں جانے کے لئے جس کی ایمگریشن کا وہ قانوناً مستحق نہ ہو کسی سمگلر یا ایجنٹ کی خدمات حاصل کرنا ہے جو مذکورہ شخص کو اس کے مطلوبہ ملک کو سرحدوں کے اندر منتقل کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔
اس تعریف میں سب سے اہم نکات ہیں (i) ملک چھوڑنے والے شخص کی آزاد رضا مندی کا شامل ہونا اور (ii) مطلوبہ ملک میں پہنچنے کے بعد سمگلر کی ذمہ داری کا ختم ہو جانا ۔ دنیا میں دونوں طریقوں سے انسانوں کی سمگلنگ جاری ہے۔ انٹرنیشنل سنٹر فار مائیگریشن پالیسی ڈویلپمنٹ کے مطابق Human Smuggling ”ریاست کے خلاف جرم ہے“ جس میں سمگلنگ کا شکار ہونے والے فرد کے بنیادی انسانی حقوق پامال نہیں ہوتے اور نہ ہی عوام الناس کی زندگی اس سے متاثر ہوتی ہے۔
یہ عمل ایمگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آتا ہے۔ اس کے برعکس Human Trafficking کو ”فرد کے خلاف جرم“ قرار دیا گیا ہے۔ اس تعریف میں سمگل ہونے والے فرد کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا ذکر موجود ہے۔ اس کے علاوہ اولذکر میں کسی شخص کا ایک ملک سے دوسرے ملک میں سفر کرنا لازمی قرار دیا جاتا ہے جبکہ موٴخر الذکر میں سفر کرنا ضروری نہیں ہوتا ہے اور سمگلنگ کا شکار شخص سمگلر کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔
اس کو منزل پر پہنچ کر آزاد نہیں چھوڑا جاتا ۔ ایسے شخص کو اس کی مرضی کے خلاف جبر اور طاقت کے ذریعے سمگلر یا کسی دیگر شخص کو خدمات فراہم کرنے یا جبراً کام کرنے کے لئے روک لیا جاتا ہے۔ ان خدمات میں جنسی استحصال یا جبری مشقت بھی شامل ہوسکتی ہے۔ ایسا شخص اپنی مرضی سے معاہدے کی شرائط طے کرنے کے قابل نہیں ہوتا ۔ انسانی سمگلنگ اور انسانوں کے اس استحصال کو روکنے کے لئے اقوام متحدہ کی طرف سے 2000ء میں اٹلی میں ”انسداد سمگلنگ کنونشن“ منعقد کیا گیا جس میں 127 ممالک اور 137 فریقین نے تمام دنیا سے شرکت کی۔
اس کو ”سمگلنگ پروٹوکول“ کا نام دیا گیا۔ جس میں انسانی سمگلنگ کو ایک منظم بین الاقوامی جرم قرار دیتے ہوئے مندرجہ ذیل اصطلاحات کی یوں وضاحت کی گئی۔
انسانی سمگلنگ کی اقسام
(1) بچہ (Child)انسانی نسل سے تعلق رکھنے والا ہر ذی روح خواہ وہ عورت، مرد یا مخنث ہو اور جس کی عمر 18 سال سے کم ہو اسے بچہ تصور کیا جائے گا۔
اسے وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو اقوام متحدہ (یونیسف) کے چارٹر میں درج ہیں۔(2) ممنوعہ مشقت (Bonded Labor)ذہنی یا جسمانی محنت یا خدمت کی کوئی بھی شکل جس سے انسانی توہین ہوتی ہو اور اس کا معاوضہ محنت یا خدمت کے مقابلے میں انتہائی کم ہو۔ کسی ایسے قرض کی واپسی کے لئے کام کرانا جس کی قرض لیتے وقت طے ہونے والی شرائط فریقین نے آزاد مرضی سے طے نہ کی ہوں، یا ایسے کام یا محنت سے سمگل شدہ شخص کا استحصال کیا جائے یا اخراجات کو اس شخص پر بطور قرض لاگو کیا جائے جو اس کو اغواء کرنے کے بعد اس پر کئے گئے ہوں اور ان کی واپسی کے لئے کام کرنے پر مجبور کرنا۔
ان تمام اقسام کے جسمانی اور ذہنی کاموں یا خدمات کو ممنوعہ مشقت (Bonded Labor) کہا جائے گا جو کہ اس پروٹوکول کے تحت غیر قانونی اور قابل سزا ہے۔(3) جبری مشقت (Forced Laber)اس میں وہ صورتحال شامل کی گئی ہے جس میں شخص مذکور کو کسی خوف، تشدد یا دوسری سزا کے ڈر سے اس کی مرضی کے خلاف کام کرنے پر مجبور کیا جائے۔ اس صورت میں اس کی آزادی پر پابندی لگتی ہو یا اس کی عزت نفس مجروح ہوتی ہو۔
یہ مشقت کسی کھیت، کارخانے، گھریلو کام ، عبادت گاہ میں عبادت کے نام پر استحصال کر کے یا بھیک مانگنے کی صورت میں بھی ہوسکتی ہے۔(4) بچوں سے مشقت (Child Labor)18 سال سے کم عمر افراد سے ایسا کام لینا جس کی اجرت یا معاوضہ مقرر ہو اور اس سے فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہو۔ یہ پیسوں کی شکل میں ہو یا کسی خدمت کے عوض لیا جائے دونوں صورتوں میں ممنوع ہے۔ یعنی ایسا کام بھی بچوں کی مشقت میں شامل ہے جو بچے کی جسمانی، ذہنی، اخلاقی، سماجی یا تعلیمی ترقی میں رکاوٹ کا باعث بنے۔
آئی ایل او (انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن) کے مطابق دنیا میں اس وقت 24 کروڑ 60 لاکھ بچے جن کی عمریں 5 سے 17 سال کے درمیان ہیں استحصال کا شکار ہیں۔ ان سے قرض کے حصول کے لئے جبری مشقت لی جاتی ہے ۔ کچھ جنگی صورتحال سے نپٹنے کے لئے بھرتی کئے جاتے ہیں۔ کچھ اسلحہ اور منشیات کی غیر قانونی سمگلنگ میں ملوث ہیں ، بچوں سے جبری مشقت کی سب سے بدصورت شکل ان کو فحش فلموں کے لئے استعمال اور ان سے جنسی زیادتی کرنا ہے۔
ان غیر اخلاقی اور غیر قانونی سرگرمیوں سے بچ جانے والے دیگر غیر قانونی تجارتوں میں ملوث ہیں۔
(5) جنسی استحصال (Sexual Expliotation)سمگلنگ کے شکار افراد عام طور پر سنگین صورتحال سے دوچار ہوتے ہیں اور آسانی سے جرائم پیشہ افراد کے ہاتھ لگ جاتے ہیں۔ جو ان کو جسم فروشی کے اڈوں یا بین الاقوامی سیکس انڈسٹری تک لے جاتے ہیں۔ایسے افراد میں منشیات کے عادی، اغوا شدہ افراد، مہاجرین، سیاحوں کے علاوہ ریلوے اسٹیشن یا عوامی مقامات پر جمع ہونے اور آوارہ گھومنے والے یا گھروں سے بھاگے ہوئے شامل ہوتے ہیں۔
بعض علاقوں سے اقلیتوں کے اغوا کیے گئے افراد بھی ایسے لوگوں میں شامل کرلیا جاتا ہے۔ کسی خاص نسل یا سماجی پس منظر کے حامل افراد بھی ان مجر موں کا شکار بن سکتے ہیں۔ جنسی استحصال کا شکار ہونے والے سمگلروں کی باتوں میں آجاتے ہیں کیونکہ وہ اپنے ملک میں غربت اور تنگ دستی کی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ یہ سمگلرایجنٹ کا روپ دھار کر خصوصاً عورتوں کو بہتر مستقبل اور اچھی ملازمت کا جھانسہ دیکر ورغلاتے ہیں۔
ایشیاء ، لاطینی امریکہ اور سابق سوویت یونین سے لاکھوں عورتوں کو ملازمتوں کے جھوٹے وعدوں سے سیکس انڈسٹری تک لے جایا گیا۔ وہاں پہنچ کر ان کو معلوم ہوا کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ اور بہت جلد ان کو معلوم ہو جاتا ہے کہ ان سے کون سا کام لیا جانے والا ہے۔ ان قحبہ خانوں سے عورتوں کا بھاگنا بہت مشکل اور پر خطر ہوتا ہے۔ 2009ء میں امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے ایک رپورٹ تیار کی جس میں بتایا گیا امریکہ میں 2007-8ء کے دوران سمگلنگ کے 12 سو واقعات رونما ہوئے جن میں 83 فیصد جنسی استحصال کے لئے انسانی سمگلنگ کے واقعات تھے۔
کسی فرد کو اس کے اپنے یا کسی دیگر ملک لے جا کر اس کی مرضی کے خلاف جبری جنسی زیادتی کا نشانا بنانا جنسی استحصال کہلاتا ہے۔ اس کی تفصیل آگے آ رہی ہے کہ اس وقت دنیا میں کتنی عورتوں یا بچوں کا جنسی استحصال ہو رہا ہے۔ واضح رہے کہ سویڈن، ناروے اور آئس لینڈ میں جنسی عمل کے لئے پیسوں کی ادائیگی غیر قانونی ہے۔
(6) بچوں کی سمگلنگ(ng (Child Trafficki
بچوں کی سمگلنگ میں، ان کو استحصال کے مقصد کے لئے بھرتی کرنا، آمدورفت مہیاکرنا، ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا، ان کو سہولت بہم پہنچانا یا وصول کرنا یا ان کی خرید و فروخت کرنا شامل ہے۔
بچوں کی سمگلنگ اور ان کے کاروباری جنسی استحصال کی کئی شکلیں ہوسکتی ہیں۔ ان میں سے ایک بچے کو جسم فروشی پر مجبور کرنا یا جنسی فعل یا فحاشی پر مبنی بچوں کی فلمیں بنانا بھی ایک اہم عنصر ہے۔ اس میں جبری مشقت بھی شامل ہے۔ غلامی یا اس کی کسی شکل کو بھی اس زمرے میں رکھا جاتا ہے۔ بچوں سے گھریلو خدمات لینا، عبادت گاہوں یا مزاروں پر بندگی کے بہانے رکھنا، اسے بھی استحصال کے برابر سمجھا جاتا ہے۔
بچوں کی سمگلنگ کواس انڈسٹری میں سب سے زیادہ منافع بخش کاروبار تصور کیا جاتا ہے۔ ان دنوں بچوں کے اعضاء فروخت کرنا ،غیر قانونی طور پر گود لینا، کم عمری میں شادی کرنا، سپاہی بھرتی کرنا، اتھلیٹ کے طور پر جیسے فٹبال کی کھیل یا اونٹ دوڑ ہے، میں ان کو استعمال کرنا یا بھیک مانگنے کے لئے ان کو اپنے پاس رکھنا عام ہو چکا ہے۔ اس ضمن میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچوں کو ان کے آباؤ اجداد اور زبان تک سے بیگانہ بنا دیا جاتا ہے جس سے سمگلرز یا ان کے مالکان کھل کر ان کا استحصال کرسکتے ہیں۔
2010ء میں تھائی لینڈ اور برازیل بچوں کو جنسی استحصال کے لئے سمگل کرنے میں سرفہرست تھے۔ اس میں والدین کی غربت کا اہم کردار ہوتا ہے۔ زیادہ تر بچے غریب ممالک سے سمگل کئے جاتے ہیں۔ اونٹ سواری کے لئے پاکستان، بنگلہ دیش اور سوڈان سے بچوں کو لایا جاتا ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیاگیا ہے کہ غریب ممالک جن کی آبادی ان کے وسائل سے زیادہ ہے وہاں بچوں کو غربت دور کرنے کے لئے فروخت کر دیا جاتا ہے۔
ایسے بچوں کی ایک بڑی تعداد کو غیر قانونی گود لینے، جبری مشقت اور جنسی استحصال کے لئے دیگر ممالک سمگل کر دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات قانونی یا غیر قانونی گود لینے کا عمل چھوٹے بچوں اور حاملہ عورتوں کی سمگلنگ کا باعث بنتا ہے۔ ڈیوڈایم کی رپورٹ کے مطابق انڈیا اور امریکہ کے درمیان بچوں کے گود لینے کے نظام میں کئی سیکنڈل سامنے آ چکے ہیں۔ ہر سال ایشیاء، مشرقی یورپ، شمالی امریکہ سے ہزاروں کی تعداد میں ایسے بچوں کو سمگل کر کے امریکہ اور یورپ میں فروخت کر دیا جاتا ہے جن کا جنسی استحصال کیا جاتا ہے۔
ایسی صورتحال کے شکار بچوں کو اغواء کیا جاتا ہے یا ان کو یتیم بنا دیا جاتا ہے۔ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ایک سٹڈی کے مطابق ،ہر سال سمگل ہونے والے افراد میں 30% بچے ہوتے ہیں۔
محترم قارئین ! دراصل مساوی قوانین کی عدم موجودگی کی وجہ سے مختلف ممالک کے سمگلرز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جنسی مقاصد کے لئے سمگلنگ اور جبری مشقت یا Sextrafficking کی ایسی تعریف جو عالمی سطح پر متفقہ طور پر تسلیم شدہ ہو کہیں دکھائی نہیں دیتی۔
البتہ افراد کی جنسی فعل کے لئے ملک کے اندر اور باہر منظم آمدورفت کا احاطہ مذکورہ بالا تعریف میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اس آمدورفت کے لئے جسمانی تشدد، دھوکے ، فریب، لالچ یا کسی قرض کی ادائیگی پر مجبور کر کے افراد کو لایا جاتا ہے جو بعد ازاں آسانی سے استحصال کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بین الاقوامی تناظر میں انسانی سمگلنگ کا جائزہ لینے کے بعد یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ دنیا کی غیر مساوی معاشی تقسیم انسانی سمگلنگ کے فروغ کا باعث ہے ۔ جب تک تھرڈ ورلڈ کنٹریز یعنی تیسرے درجے کے ممالک میں معاشی آسودگی پیدا نہیں کی جاتی بین الاقوامی انسانی سمگلنگ کے مکروہ دھندے کو روکنا مشکل ہی نہیں ناممکن دکھائی دیتا ہے ۔
تاریخ اشاعت: 2015-09-09

(1) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     ذبیح اللہ بلگن

ذبیح اللہ بلگن کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-