بند کریں
ہفتہ فروری

مزید تحقیقاتی فیچرز

پچھلے مضامین - مزید مضامین
انسانی حقوق کے عالمی ٹھیکیدار بھارت کا اصل رُوپ بے نقاب۔
اکثرادویات ایکسپائرہوتی ہیں قیمت بھی پاکستانی ادویات کے مقابلے میں آٹےمیں نمک کےبرابر۔عالمی ادارہ صحت اورپاکستان ڈرگ اتھارٹی کے پاس رجسٹرڈنہ ہونے کےباوجودبھی حکومت کا کردارسوالیہ نشان۔۔۔؟
مصنف : رحمت اللہ شباب
تحقیقی رپورٹ۔رحمت اللہ شباب:
بھارت نے افغانستان کے تعاون سے پاکستان کیخلاف بائیولاجیکس اور جراثیمی جنگ شروع کر دیا ہے۔افغانستان کے راستے غیر قانونی ادویات کی ترسیل کی جارہی ہے جن کے استعمال سے خطرناک بیماریاں پھیلنے کیساتھ ساتھ پولیو،خسرہ،تپ دق اورکالے یرقان میں اضافہ ہو رہا ہے۔صحت کے حوالے سے کام کرنے والے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی صورت میں بتایاکہ پاکستان کے قبائلی علاقہ جات میں غیر قانونی طریقے سے افغانستان کے راستے بھارتی ادویات پہنچائے جاتے ہیں ۔
ان ادویات کے بارے میں عہددیدار نے انکشاف کیا کہ پاکستان کو بھیجی جانے والی ادویات میں جراثیمی اجزاء کی بڑے پیمانے پر استعمال کی جا رہی ہے جسکی وجہ سے قبائلی علاقہ جات اور ان سے ملحقہ علاقہ جات میں پولیو ،خسرہ جیسے خطرناک بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے حالانکہ ان علاقہ جات میں حکومت کی طرف سے باقاعدہ ان بیماریوں کے خلاف مہم بھی چلائی جا رہی ہے ۔
عہدیدار کے بقول ان ادویات کے استعمال سے حاملہ خواتین بھی مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہوتی ہیں اور اکثر زچکی کے دوران اُنکی موت واقعہ ہو جاتی ہے اور یا بعد میں مختلف امراض کا شکار ہو جاتی ہیں جبکہ انکے پیدا ہونے والے بچے بھی مندرجہ بالا خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔غیر قانونی طریقے سے آنے والی ان ادویات کا سب سے بڑا مرکز پشاور کے کارخانہ بازار ہے یہاں پر ان ادویات کی ترسیل کیلئے بڑے بڑے گدام کرائے پر حاصل کئے گئے ہیں جہاں سے پشاور اور ملک کے دیگر حصوں کوبذریعہ خواتین اور بچے سپلائی کی جاتی ہیں اور اسی طرح ان ادویات کا دوسرا بڑا مرکز شمالی وزیرستان کا صدر مقام میرانشاہ ہے،یہاں پر ان ادویات کو خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع اور پنجاب کے بیشتر اضلاع میں چند ضمیر فروش راتوں رات امیر بننے کے چکر میں قوم سے موت کا کھیل وارکھیل رہا ہے ۔
عہدیدار نے بتایا کہ یہی وجہ ہے کہ پشاور اور شمالی وزیرستان ملک کے دیگر اضلاع کی نسبت بیماریوں کے گھڑ بن چکے ہیں۔اس سلسلے میں (۔۔۔۔۔) نے جب علاقے کا سروے کیا تو معلوم ہُوا کہ پاکستانی ادویات کے مقابلے میں ان ادویات کی قیمت بھی انتہائی کم ہیں۔ادویات پر تحریر کئے گئے لیٹریچر کے مطابق ایک ٹیبلیٹس میں تینْ /چار فارمولے استعمال کئے گئے ہیں،مثلاً ان کی ایک ٹیبلیٹس (ڈیکلیسین فولڈ)میں پیراسٹامول،ڈیکلوفینک سوڈیم، میگنیشئم ٹرائی سیلیکیٹ استعمال کی گئی ہے ۔
ویسے تو یہ تین فارمولے سستے ہیں لیکن اتنے بھی سستے نہیں کہ ان کی دس ٹبلیٹس کی قیمت صرف 3.25روپے ہو،اگر حساب کی جائے تو افغانستان کے مشرقی صوبوں تک پہنچانے میں ان پر دوگنے اخراجات آتے ہیں ۔یہ تو عام مارکیٹ میں 3.75روپے میں دستیاب ہیں جو ان کے کاروبار کرتے ہیں ان کو تو اس سے بھی سستے ڈسکاوٴنٹ کیساتھ دستیاب ہوگا۔مارکیٹ سروے کے دوران ایک اور خطرناک انکشاف اس وقت ہُواجب ہمارے نمائندے نے ان ادویات کے کاروبار کرنے والے ایک ضمیر فروش سے نشہ اوارہ ٹیبلیٹس کا مطالبہ کیا کاروبار کرنے والے نے ہمارے نمائندے کو سٹرائی زین کی ٹیبلیٹس دیئے اور جب ہم نے ان کی جان پڑتال اور مطالعہ کیا تو25روپے میں خریدی گئی ڈبے سے 60ٹیبلیٹس برآمد ہُوئے ۔
لیٹریچر پڑھنے پر معلوم ہُوا کہ یہ ٹیبلیٹس ویسے تو الرجی کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں لیکن یہاں پر یہ ٹیبلیٹس ایک زہریلہ نشہ کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔اور اسی طرح سیکس کیلئے استعمال ہونے والے ٹیبلیٹس کی تعداد تو سینکڑوں میں تھیں جنکے ڈبے پر نیم برہم لڑکیوں کی تصاویر اور اسی طرح کی نمکین باتیں تحریر کی گئیں تھیں جنکو نوجوان نسل کی توجہ کیلئے خوبصور ت اور دلکش ڈبوں میں پیک کئے گئے تھے۔
ادویات کیساتھ ساتھ رنگین مزاجی کیلئے ایمپورٹڈکنڈم کی بھی کمی نہیں تھی جو 50پیسے سے لیکر 15روپے کی قیمت تک دستیاب تھے۔جب ہم نے ان غیر معیاری ادویات کا تفصیلی جائزہ لیا تو معلوم ہُوا کہ ان میں کچھ ادویات ایسے بھی تھے جو ایکسپائرہونے پر تین سال کا عرصہ گزر چکا تھا۔اس سلسلے میں جب ہمارے نمائندے نے دوکاندار سے ادویات کی ایکسپائر ہونے کے حوالے سے بحث شروع کی تودوکاندار نے بڑے دھماکے دار اور پریشان کن دلائل دیئے۔
دوکاندار نے تو پہلے اپنا دفاع کیا اور بعد میں بتایا کہ مارکیٹ میں ایسے ادویات اور کنڈم بھی موجود ہیں جنکے استعمال سے ایک تو نوجوان نسل نامرد ہو جاتے ہیں ااور کنڈم میں استعمال ہونے واے میٹریل سے رگے شیل ہو جاتی ہیں جبکہ خواتین کے اندر زخم بن جاتے ہیں۔اس دوکاندار کی باتوں میں میں تو اتفاق نہیں کرتا لیکن اگر انکی کی گئی باتوں کا جائزہ لینے کیلئے ان علاقوں کیساتھ ملحقہ علاقہ جات کے سرکاری اور نیم سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے تعدادپر غور کی جائے تو ان میں سب سے زیادہ ذہنی بیمار، خواتین کے پوشیدہ امراض اور بچوں میں پانے والے خطرناک بیماریوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے ۔
یہ ادویات قبائلی علاقوں کیساتھ ساتھ اب پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی با آسانی دستیاب ہیں ۔غریب جان بچانے کیلئے مہنگے ادویات کی بجائے ان ادویات کو زیادہ ترجیخ دے رہے ہیں لیکن ان کی خطرناک بات یہ ہے کہ ان میں استعمال کئے گئے تین، چار فارمولوں سے عارضی طور پر فائدہ تو ہو جاتا ہے لیکن بعد میں وہ ان کا عادی ہو جاتا ہے اور یوں ایک آسان شکار بن کر آہستہ آہستہ موت کے منہ میں پہنچ جاتا ہے۔
اس سے پہلے بھی پاکستان میں غیر معیاری ادویات سے لاکھوں لوگ موت کے منہ میں جا چکے ہیں ۔خیبر پختونخوا کی طرح پنجاب کے صوبائی دارلحکومت لاہور کے شالمی مارکیٹ میں یہ ادویات با آسانی دستیاب ہیں ۔افسوسناک پہلو تو یہ ہے کہ نہ تو حادم اعلیٰ کے پاس ان کا حل ہے اور نہ تبدیلی خان کے پاس حالانکہ ان جماعتوں نے انتخابات سے پہلے صحت کا جو وعدہ کیا تھاوہ آج سب کے سامنے ہے اس گنوانا کھیل میں بھارت اور افغانستان کیساتھ ہمارے حکمران بھی برابر کے شریک ہیں کیونکہ یہ ادویات نہ تو عالمی ادرہ صحت(W.H.O)کے پاس رجسٹرڈ ہیں اور پاکستان ڈرگ اتھارٹی کیپاس رجسٹرڈ ہیں ۔
یہ سب کچھ ہونے کے باوجود بھی پاکستان ڈرگ اتھارٹی خاموش تماشائی کی طرح بیگی بلی بن کر قوم کی تباہی دیکھ رہا ہے جو سوالیہ نشان ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-04-07

(11) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     رحمت اللہ شباب

رحمت اللہ شباب پشاور میں اُردو پوائنٹ کے نمائندہ خصوصی ہیں۔

رحمت اللہ شباب کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان