بند کریں
اتوار جنوری

مزید تحقیقاتی فیچرز

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات
مزدوروں کے حق میں کئی گھنٹوں لمبی تقاریر کرتے اور کئی کئی اوراق پر مشتمل مکالمے لکھتے ہیں لیکن ان کے مکالے اور تقریریں ان کے درد کا درمان کرنے سے قاصر ہیں. ہیومن ریسورس بھی ہر ادارے میں موجود ہے
میمونہ صدف یوم مزدور ، یعنی مزدوروں کے حقوق کا عالمی دن ۔۔۔یہ دن منانے کا آغاز آج کی اقتصادی قوت اور انسانی حقوق کے علم بردار ملک امریکہ سے ہوا ۔ یہ دن ان مزدوروں کی یاد میں منایا جاتا ہے جنھیں شکاگو میں اپنے حقوق کے لیے کی گئی ہڑتال کی پاداش میں گولیوں اور دستی بم کا نشانہ بنایا گیا ۔ اور ان گنت مزدور اس حملے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔
یہ واقع 1882ء میں وقوع پذیر ہوا جب شام کے وقت ہئے مارکیٹ میں کام کرنے والے تقریبا 5000 اپنے مزدور اپنے حق کے حصول کے لئے اکٹھے ہوئے اور اس اجتماع کو منتشر کرنے کے لیے 180 افراد پر مشتمل پولیس کا ایک دستہ روانہ کیا گیا ۔ پولیس کے دستے پر کسی نامعلوم افراد نے دستی بم پھینکا جس سے ایک افسر جان بحق اور متعدی زخمی ہوگئے ۔ پولیس نے جوابی کاروائی کے طور پر فائر کھول دیا ۔
جس سے کئی مزدور مارے گئے۔ اس وقت کے صدر گرور کیلولینڈ نے اس ہڑتال کے ختم ہونے کے چھ دن کے بعد اس دن کویوم مزدور کے طور پر منانے کا آئینی فیصلہ کیا اور اس دن لیبر یونین نے ایک پریڈ کا اہتمام کیا جس کے بعد مزدوروں اور ان کے خاندان کے لیے فسیٹول بھی منایا گیا ۔یوم مزدور انھی جان بحق مزدوروں کی یاد میں منایا جاتا ہے ۔ دنیا میں 80 سے زائد ممالک میں یکم مئی کو یوم مزدور کے طور پر منایا جاتا ہے ۔
امریکہ اور کینیڈا میں یہ دن یکم ستمبر کو منایا جاتا ہے ۔ یورپ میں یکم مئی موسم بہار کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ 1955ء میں کیتھولک چرچ نے یکم مئی حضر ت عیسیٰ اور ان کے حواریوں کے لیے وقف کر دیا گیا۔ آج اس واقعے کو گزرے کئی برس ہو چکے ہیں ، ہرسال یہ دن منایا جاتا ہے ۔ امریت ہو یا جمہوریت اس طبقے کے حالات زندگی میں کوئی فرق نہیں آتا ۔ اس جمہوریت کے دور میں بھی اس طبقے کی فلاح و بہبود کو تودور کی بات ہے کوئی ان کے حق کے بارے میں بات کرنے کوتیار ہی نہیں ۔
بظاہر لیبر یونین تو ہر جگہ موجود ہیں ۔ ہیومن ریسورس بھی ہر ادارے میں موجود ہے تاہم ابھی تک اس طبقے کی حالت زار پر کبھی توجہ نہیں دی گئی ۔ لیبر یونین اگر ہڑتال یا احتجاج کرتی بھی ہے تو مذکورہ ملازمین جو کہ روزانہ کی تنخواہ پر کام کرتے ہیں ان کی تنخواہیں کاٹ لی جاتی ہیں ۔ الٹا انھیں نقصان ہو جاتا ہے ۔ دریں اثناء میں برطرفیوں کا سلسلہ بھی چل نکلتا ہے جس سے متاثر ہونے والے عموما وہ ملازمین ہوتے ہیں جن کا تعلق روزانہ تنخواہ پر کام کرنے والوں اور نچلیدرجے کے ملازمین سے ہوتا ہے ۔
بڑی بڑی گاڑیوں اور منرل واٹر کی بوتلوں کا استعمال کرنے والے این جی اوزکے کارکن ، جو ان مزدوروں کے حقوق پر بے تکان بولتے ہیں ، انکے دکھ اور حالات سے قطعی نا واقف ہیں ۔این جی اوز کے یہ کارکن مزدوروں کے حق میں کئی گھنٹوں لمبی تقاریر کرتے اور کئی کئی اوراق پر مشتمل مکالمے لکھتے ہیں لیکن ان کے مکالے اور تقریریں ان کے درد کا درمان کرنے سے قاصر ہیں ۔
ایک حالیہ سروے کے مطابق این جی اوز کی حد سے زیادہ مداخلت اورآئے روز کی ہڑتالو ں اور کام کی بندش کی وجہ سے کئی فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے قریبا40000 کے قریب لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں ۔گویا گفتار کے غازیوں کی بلاضرورت مداخلت نے ان غریبوں کی روزی روٹی ہی چھین لی ہے ۔اور رہی سہی کسر گیس اور بجلی کی بندش نے پوری کر دی ہے ۔ گیس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے کپڑے ، دھاگے ، اور گتے کی صنعت کو بے تحاشا نقصان پہنچایا ہے ۔
جو صنعتیں پاکستان کے جی ڈی پی کا دس فی صد تک تھیں آج گیس اور بجلی کی لوڈشیڈینگ کی وجہ سے خسارے میں جا رہی ہیں ۔ صنعتکاراس مخدوش صورت حال سے گبھرا کر اپنے سرمائے کو بنگلہ دیش اورچین منقل کرنے لگے ہیں ۔ پچھلے چھ برس میں نئے کارخانے اور فیکڑیاں لگنا تو درکنار بند ہونیوالی فیکڑیوں کی تعداد پہلے سے کہیں زیادہ ہے ۔ اور دن بدن ان بند ہونے والی فیکڑیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ان سے وابسطہ لوگ روزی کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں ۔فیکٹریوں کی بندش سے بے روزگار ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ پچھلے برسوں کی نسبت کہیں زیادہ ہے ۔ بے روزگا ر افرادمیں جوتعلیم یافتہہوتے ہیں وہ تو کسی نہ کسی طرح حصول رزق میں کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن جو نچلے طبقے کے ان پڑھ مزدور ہوتے ہیں وہ کوئی اور نوکری حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتے ۔
ان کے گھروں میں فاقے ہونے لگتے ہیں ۔ پھر یہی لوگ یا تو جرائم کی راہ اختیار کرتے ہیں ، یا غیرقانونی طریقے سے ملک سے باہر روزی کمانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے انجام میں یہ تو سمندرورں میں پانیوں اور مچھلیوں کانوالہ بن جاتے ہیں یا کسی ملک کی جیل میں کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارتے ہیں ۔ اور ان کے گھرانے الگ مالی مشکلات کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ اس غم و یاس میں بھی مبتلا رہتے ہیں کہ نہ جانے ان کے چاہنے والا زندہ ہے بھی یا نہیں ۔
یہ مزدورعمرکے اس حصے تک جب تک وہ محنت مزدوری کر سکتے ہیں کرتے ہیں ۔ان میں سے اکثرو بیشتر کی زندگی اسی طرح فٹ پاتھوں پر بیٹھے گزرتی ہے ۔وہ دو وقت کی روٹی کے لئے پوری زندگی بھاگ دوڑ کرتے رہتے ہیں ۔یہاں تک کہ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اور پھر ان کی جگہ ان کے بیٹے لے لیتے ہیں اسی طرح انھی سڑکوں کے کنارے کام اور ہنر کے بک جانے کے انتظار میں ہر صبح آ بیٹھتے ہیں۔
جنگ ہو یاامن۔ سرد ی ہو یا، گرمی ہر دو صورتوں میں ان مزدوروں کا ٹھکانہ نہیں۔ یہ حالات نسل در نسل چلتے آ رہے ہیں ۔ان کے حالات نہیں بدلتے ، ان کی ساری کوشش کا ثمردو وقت کی روٹی مل جائے اور ان کے بچے بھوکے نہ سویں یہی غنیمت ہے ملک میں بڑھتی ہوئی بد امنی اورافراط زر نے مزدور طبقے کی مشکلات میں بے انتہا اضافہ کیا ہے ۔ اشیائے صرف کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مہنگائی نے ان کی روزمرہ ضروریات کو بھی ان کی دسترس سے باہر کر دیا ہے ۔
۔۔انھیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ یکم مئی کو مزور کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے یانہیں ۔نہ ہی انھیں ان کے حق میں ہونے والی کانفرنسوں ، واکس ، ریلیوں ، جلسوں سے کوئی غرض ہے بلکہ الٹا ان کے لیے یہ ریلیاں ، جلسے جلوس فاقہ کی نوید لاتی ہیں ۔ انھیں غرض ہے توصرف اس چیز سے کہ انھیں دن کے اختتام پر روٹی میسر ہو۔ اس دن کو منانا یا نہ منانااہم نہیں بلکہ اہم یہ ہے کہ ملک میں زیادہ سے زیادہ فیکڑیاں ، ادارے اور روزگار کے مواقع پیدا کئے جائیں تاکہ ان پڑھ افراد جو کہ صر ف محنت مزدوری ہی کر سکتے ہیں ان کے لیے خاندان کا پیٹ بھرنااور زندگی گزارنا نسبتا آسان ہوجائے ۔
یوم مئی کو جلسے جلوسوں کی نذر کرنے کی بجائے ان مزدوروں کے ساتھ وقت گزار کر یا ان کی مالی امداد کر کے گزارنا زیادہ اہم ہے۔باعزت روزگار کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہونا چاہیے ۔حکومت کا فرض ہے کہ ملک میں صنعتوں کا قیام عمل میں لایا جائے لیکن اس کے ساتھ ساتھ مخیر حضرات کو بھی اپنا پیسہ ملک سے باہر رکھنے کی بجائے اپنے ملک میں صنعتوں میں لگاناچاہیے تاکہ ملک میں روزگار کے مواقع بڑھائے جا سکیں۔
حکومت کو چاہیے کہ ملک میں ایسی فضا قائم کی جائے جو کہ پرائیویٹ سرمایہ کاروں کے لئے سازگار ہو ۔ صنعتوں پرنہ صرف ٹیکس کو کم کیا جانا ضروری ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ بجلی اور گیس کی مسلسل فراہمی ، اور لیبر یونین اور این جی اور کے لئے ضابطہ اخلاق کی وضاحت وقت کی ضرورت ہے ۔ملک میں این جی اوز کے لئے نہ تو کوئی ضابطہ اخلاق واضع کیا گیا ہے نہ ہی کوئی ایسا مناسب قانو ن موجود ہے جو ان این جی اوز کی بے جا مداخلت کو روک سکے ۔ ملک میں این جی اوز کے لیے ایسے قوانین واضع کئے جائیں جو کہ صنعتوں میں ان کی غیر ضروری مداخلت کو روک سکیں ۔اور اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے کام کر سکیں ۔تاکہ فیکڑیوں کی بندش کو روکا جا سکے اور مزدوروں کے حالات میں بھی مثبت تبدیلی لائی جا سکے ۔
تاریخ اشاعت: 2014-05-01

(0) ووٹ وصول ہوئے