بند کریں
ہفتہ جنوری

مزید تحقیقاتی فیچرز

پچھلے مضامین - مزید مضامین
جنرل فرانکو
مرنے کے بعد بھی لوگ اُس سے نفرت کرتے ہیں
شعیق:
سپین کے مشہورآمر حکمران فرانسسکو فرانکو کی وفات1975ء میں ہوےء اس نے1939ء سے 1975تک ملک پر بلاشرکت غیر ے حکمرانی کی۔اپنے دور حکمرانی کے دوران اُس نے اپنے مخالفین کو سختی سے کچل دیا۔اس دوران ہزاروں لاکھوں لوگوں کو سزائے موت دی گئی۔اس کی موت کے40 سال بعد بھی ملک کے درجنوں مقامات پر اُس کے مجسمے اور یادگارنشانیاں موجود ہیں۔

آجکل ان علامتوں اور نشانیوں کو عوامی مقامات سے ہٹانے کی مہم تیزی سے جاری ہے۔عوام نے ان کے خلاف عدالت میں مقدمات دائر کررکھے ہیں،ہسپانوی عوام کاکہنا ہے کہ ملک کے38میئرز کو حکم دیا جائے کہ وہ فرانکو کی آمریت کی نشانیوں کوجو86عوامی مقامات ہر موجود ہیں وہاں سے ہٹایا جائے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ ان کو ختم کرکے ملک کی تاریخ کو شاندار بنانا چاہتے ہیں اور وہ فرانکو کے آمرانہ دور میں متاثر ہ لوگوں اور اُن کے کے خاندانوں کے وقاراور عزت کو بحال کرنا چاہتے ہیں۔

فرانسسکو فرانکو4دسمبر1892ء کو سپین میں پیدا ہوا۔1907ء میں صرف 14سال کی عمر میں وہ فوج میں بھرتی ہوااس کے بعد اُس نے تیزی سے ترقی کی منازل طے کیں اور پھر پیچھے مڑکر نہیں دیکھا۔ اس نے ملک وقوم کے مفادات کے تحفظ کے لئے لڑائیاں لڑیں،اعلیٰ خدمات کا مظاہرہ کرنے پراُسے 1926ء میں جنرل بنا دیا گیا۔وہ جنرل فرانکو کے نام سے مشہور ہوا اور صرف33سال کی عمر میں وہ سپین اور یورپ کا سب سے کم عمر جنرل بن گیا۔
1928ء میں اُسے ساراگوسا میں جنرل ملٹری اکیڈمی کا ڈائریکٹربنا دیا گیا ۔یہ آرمی کیڈٹس کے لئے ایک نیا کالج بنادیا گیا تھا جہاں آرمی کی تمام برانچز کے لئے فوجی تیار کیے جاتے تھے۔اختیارات سنبھالنے کے بعد اُس نے بہترین نظم وضبط اور اصلاحات متعارف کروائیں۔حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والے مراکش کے باغیوں کے خلاف شاندارکارکردگی کا مظاہرہ کرکے وہ قومی ہیروبن گیا۔

1931ء میں بادشاہی نظام حکومت کے خاتمے کے بعدری پبلک آف سپین کے نئے رہنماؤں نے فوج میں نئی اصلاحات متعارف کروانے کی عرض سے فرانکو کو عارضی طور پر کام کرنے سے روک دیا۔ جس کے بعد قدامت پسندقوتوں نے1933ء میں دوبارہ ملک کاکنٹرول حاصل کرلیا اور فرانکو کو بحال کردیا گیا۔1934ء میں اُسے لیفٹیننٹ جنرل بنادیا گیا اسی دوران آسٹرین باغیوں نے حکومت کے خلاف بغاوت کردی۔
حکومت کے حکم پر اُس نے بغاوت کو کچل دیا جس کے بعد اُسے مئی1935 میں سپین کا آرمی جنرل سٹاف بنا دیا گیا ۔
حکومت کے سکینڈلز نے اُس کی ساکھ کو بُری طرح مجروح کیا جس کے باعث فروری1936ء میں نئے الیکشن کروانے کا اعلان ہوا۔سپین کی سیاسی پارٹیاں دو گروپوں میں تقسیم ہوگئیں جن میں سے ایک دائیں بازو پر مشتمل نیشنل بلاک بنا جبکہ دوسرابائیں بازوں کا پاپولرفرنٹ بنا۔
انتخابات میں بائیں بازو کے پالولر فرنٹ کو فتح حاصل ہوئی۔لیکن نئی حکومت سپین کے معاشرتی اور معاشی ڈھانچہ کو ترقی دیتے ہوئے لوگوں کے مسائل حل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔جس کے باعث ملک میں عوام کی بے چینی اور اضطراب میں اضافہ ہوا اور بڑھتے ہوئے انتشار اور خلفشار کی وجہ سے فرانکو نے حکومت سے اپیل کی ۔ کہ وہ ملکی حالات کے پیش نظر ایمرجنسی نافذکردے۔
حکومت نے اُس کی اپیل کو مسترد کرکے اُسے آرمی جنرل سٹاف کے عہدے سے ہٹا کر کینری آئس لینڈ میں فوج کو کمانڈکرنے کے لئے بھیج دیا۔حکومت کے فیصلے سے اختلاف کرکے اُس نے فوجی بغاوت کا فیصلہ کیا۔
جولائی1936ء میں اُس نے کینری آئس لینڈ میں باقاعدہ فوجی بغاوت کااعلان نشر کرکے اپنا منشور نشر کردیا اور اُس نے اپنی فوج کے ساتھ میڈرڈپر چڑھائی کردی۔
دائیں بازو کی قوتیں جن میں سابق نیشنل حکومت جواب اپوزیشن میں تھی وہ بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئیں۔انہوں نے فوجی رہنماؤں کے ساتھ مشاورت کرکے فرانکو کی ملک اورحکومت کے لئے شاندار خدمات کو مدنظر رکھ کر اُسے کمانڈانچیف بنادیا۔فرانکو کو یکم اکتوبر1936ء کو نیشنلسٹ حکومت کانیا سربراہ بنا دیا گیا۔1936ء سے 1939ء تک ملک میں خانہ جنگی کادوردورہ رہا جس کے دوران ملک میں بہت زیادہ خون ریزی ہوئی۔
دونوں طرف ہزاروں لاکھوں لوگ مارے گئے جس کے بعد اُس نے جرمن اور اٹلی کی مددسے اُسے یکم اپریل1939ء کو ملک میں مکمل کنٹرول حاصل ہوگیا۔فرانکو سپین میں آمرانہ طرز حکومت قائم کی۔تاہم بعدازاں اُس سے بائیں بازوں کے خلاف اپنی حکومت کی حمایت حاصل کرنے کے لئے ایک سول ڈھانچہ تشکیل دیااور36سال تک سپین کے سیاہ سفید کا مالک بنارہا۔نیشنلسٹ دور حکومت میں مخالفین کے خلاف سخت انتظامی کاروائی کی گئیں ہزاروں لوگوں کو سزائے موت دی گئی۔

انتظامی کارروائیوں کے دوران متاثر ہونے والے لوگوں کے درمیان فرانکو کے خلاف نفرت میں شدید اضافہ ہواجس سے اُسے سدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑاتھا۔یہی وجہ ہے کہ اُس کی آمریت کی زد میں آنے والے متاثرہ لوگ اور اُن کے لواحقین آج بھی اپنے دلوں میں سے اس کے خلاف نفرت باہر نکال نہیں سکے۔اسی لئے وہ اُس کی یادگارنشانیوں کا ختم کردینا چاہتے ہیں کیونکہ جب وہ اُن کو دیکھتے ہیں تواُن کی آنکھوں میں اُس کے آمریت کا بدترین دور گھومنے لگتا ہے۔وہ چاہتے ہیں کہ سپین کے عوامی مقامات سے اُس کے مجسمے اور دیگر چیزیں ہٹادی جائیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-09-24

(0) ووٹ وصول ہوئے