بند کریں
پیر جنوری

مزید تحقیقاتی فیچرز

پچھلے مضامین - مزید مضامین
گداگری اور بھکاریوں کی ابتدا کیسے ہوئی؟
علوم عمرانیات کے ماہرین گداگری کو ایک ایسا سماجی رویہ قرار دیتے ہیں جس کے تحت معاشرے کا محروم طبقہ اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے دوسروں کی امداد کا محتاج ہوجاتا ہے۔ یہ طبقہ امیر افراد سے براہ راست اشیائے خوردو نوش، لباس اور دیگر ضروریات کیلئے رقم کا مطالبہ شروع کردیتا ہے
مصنف : ذبیح اللہ بلگن
گداگری کی تعریف
انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس گداگری اور گداگر کے بجائے اس شخص پر اپنی توجہ مرکوز کرتا ہے جو گداگروں کی امداد کرتا ہے۔ اس کتاب کے مطابق صدقہ خیرات کرنے والے اولین انسان کے ذہن میں خیرات کے وصول کنندہ کو حاصل ہونے والے ذہنی سکون کا پہلو ہرگز نہ تھا بلکہ اس کا مقصد کسی بھی مجبور اور مستحق فرد کی مدد کرکے خود ذہنی سکون حاصل کرنا تھا۔
کیونکہ مروجہ معاشرتی اقدار نے اسے یہ باور کروا رکھا تھا کہ تسکین قلب کا بہترین ذریعہ اپنے رزق میں سے خرچ کرنا ہے۔ لہذا اپنے مال میں سے خرچ کرنے کیلئے مالدار افرادکو ایسے مستحق افراد کی تلاش تھی جنہیں خیرات دی جاسکتی ۔صدقہ اور خیرات کے حقداروں کو تلاش کرنا امراء طبقہ کیلئے خاصہ وقت طلب اور کٹھن کام تھا لہذا انہوں نے اس کا آسان حل یہ تلاش کیا کہ جو بھی فقیر ان کے دروازے پر آکر صدا لگاتا وہ خیرات اور صدقہ اس کے حوالے کر دیتے ۔
یوں ایک تو دروازے پر صدا لگا کر مانگنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوئی اور دوئم معاشرے کے بہت سے ایسے افراد جو کاہل اور کام چور تھے،کو آسان ذریعہ روزگار میسر آگیا۔علوم عمرانیات کے ماہرین گداگری کو ایک ایسا سماجی رویہ قرار دیتے ہیں جس کے تحت معاشرے کا محروم طبقہ اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے دوسروں کی امداد کا محتاج ہوجاتا ہے۔
یہ طبقہ امیر افراد سے براہ راست اشیائے خوردو نوش، لباس اور دیگر ضروریات کیلئے رقم کا مطالبہ شروع کردیتا ہے۔معاشیات کے ماہرین کی رائے میں بھیک مانگنا درحقیقت سرمایہ دارانہ نظام کے منفی پہلوؤں میں سے ایک ہے اور کسی بھی سرمایہ دارانہ معاشرے کی جڑوں کو کمزور کرنے کا سبب ہے۔ اس نظام کے بعض پہلو معاشرے کے ایک طبقے کو غیر منافع بخش بنا دیتے ہیں۔
یہ افراد ریاست کی مجموعی معیشت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔
آئی ایل او کی نظر میں گداگری کی تعریف
اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں میں آئی ایل او بھی شامل ہے۔ یہ بین الاقوامی مزدور تنظیم ہے جس کا مقصد دنیا بھر میں مزدوروں کے مسائل کو اجاگر کرنا، انہیں حل کرنا، مزدوروں کی زندگی کو بہتر بنانے کیلئے مختلف قسم کے اقدامات کرنا اور ان کے کام کرنے کے ماحول، طریقے وغیرہ کے حوالے سے بین الاقوامی معیار مرتب کرنا ہے۔
اس ادارے نے اکسیویں صدی کے آغاز میں جنوبی ایشیا میں مزدوروں کی حالت زار کے حوالے سے اقدامات کا فیصلہ کیا۔ ان اقدامات کیلئے اولین ضرورت اس امر کی تھی کہ یہاں مزدوروں اور مزدوری کی اصل صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ اس کیلئے لانچ کئے گئے پروجیکٹ کا نام ” پروموٹنگ دی ایلی مینیشن آف بونڈڈ لیبر ان ساؤتھ ایشیا “(PEBLISA) تھا۔ اس پروجیکٹ کے تحت دس مختلف معاشی سیکٹرز کی نشاندہی کی گئی تھی جن میں بونڈڈ لیبر کے زیادہ امکانات تھے۔
اسی سلسلے میں 2004ء میں اپنی حدود و قیود کو بیان کرتے ہوئے آئی ایل او نے مختلف اقسام کی مزدوریوں اور ان کی تعریف بھی بیان کی تھی۔اس پروجیکٹ کے تحت گداگری کو کچھ یوں بیان کیا گیا تھا۔
” ایسی سرگرمیوں کا وسیع اور پیچیدہ میدان جہاں ایک فرد واحد کسی اجنبی جگہ سے آیا ہواور غریب ہونے کے سبب یا (حصول) صحت کیلئے، یا مذہبی مقاصد کیلئے صدقے کے طور پر دی جانے والی امداد کا سوال کرتا ہے۔
گداگر ممکنہ طور پر کچھ بیچ بھی سکتے ہیں، مثلاً پھول یا جھاڑن، اور اس کے بدلے میں اتنی رقم کا مطالبہ کریں کہ جو ان کی جانب سے فروخت کیلئے پیش کی جانے والی اشیاء کی قیمت سے کہیں زیادہ ہو“۔
اس پروجیکٹ کے تحت خود آئی ایل او نے یہ اعتراف کیا تھا کہ چونکہ گداگری کے نیٹ ورکس میں شامل گداگروں کی تعداد، ان کی عمر، علاقائی پس منظر وغیرہ کے حوالے سے کسی قسم کی لکھت پڑھت کا رواج نہیں ہے، اسی لئے اس حوالے سے اعداد وشمار اکھٹا کرنا بہت مشکل ہے۔
البتہ یہ امر طے شدہ ہے کہ نیٹ ورکس کے زیر نگرانی گداگری کرنے والوں کی اکثریت انتہائی کم عمری میں اس پیشے میں آجاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ نہ تو یہ کسی بھی طور پر اپنا تحفظ کرنے کے قابل ہوتے ہیں اور نہ ہی انہیں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع میسر آتے ہیں۔ یہاں یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ خود آئی ایل او نے محض دو برس قبل یعنی 2012ء میں اپنی ریجنل فیکٹ شیٹ میں یہ اعتراف بھی کیا تھا کہ گداگروں کے نیٹ ورکس میں نئے گداگر کس طرح بھرتی کئے جاتے ہیں اور اس نیٹ ورک سے چھٹکارے کی کوئی صورت ہے بھی یا نہیں، اس حوالے سے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے پاس کسی قسم کے اعداد وشمار یا دستاویزات موجود نہیں ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ نے گداگری کے حوالے سے کبھی بھی اس تفصیلی تحقیق کا اہتمام نہیں کیا، جس کا یہ مسئلہ متقاضی ہے۔
اٹلی کی وزارت مزدور و سماجی امور ”مولسا“ نے گداگری کی تعریف بیان کرتے ہوئے اسے کمائی کا ایسا طریقہ قرار دیا ہے جس میں ایک شخص اپنی گزر اوقات کیلئے اس آمدنی کو استعمال کرتا ہے جسے وہ اپنی عمر، صحت یا معاشی مسائل کی بنیاد پر سماج کے دیگر رسمی طبقوں کی آمدنی میں سے حاصل کرتا ہے۔ سماج سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد نہ صرف سماج کی صحت مند سرگرمیوں کی انجام دہی میں رکاوٹ بنتے ہیں بلکہ معاشی و معاشرتی ترقی کی راہ میں بھی ایک دیوار کی مانند کردار ادا کرتے ہیں۔
گداگری غربت اور محرومی سے جنم لینے والی ایک سرگرمی کا نام ہے۔ یہ دوسروں کے سامنے پیش کی جانے والی ایسی درخواست کا نام ہے جسے پیش کرنے کا مقصد حصول رقم یا صدقات ہوتا ہے اور جسے پیش کرنے والا یہ رقم ذہنی و جسمانی مسائل، غربت وغیرہ کے سبب خود کمانے سے قاصر ہوتا ہے۔
گداگری کی تاریخ
رومن ایمپائر میں گداگری کا تصور
وہ عوامل جو معاشرتی بگاڑ یا سدھار کا سبب ہوں یا پھر رسوم و رواج کی تاریخ کا مسئلہ ہو، اس حوالے سے رومی حکومتوں کا ذکرناگزیر ہوجاتا ہے۔
گداگری کی تاریخ میں بھی رومی تاریخ کا تذکرہ اہم ہے۔ رومی سلطنت میں غربت کا کیا عالم تھا؟ تاریخ کے طالب علم اس بابت بخوبی آگاہ ہیں۔ تاریخی کتب بتاتی ہیں کہ روم میں غربت کے باوجود بھیک مانگنے کا رواج بہت محدود تھا۔ اس دور میں گداگری کا تصور آج کے دور میں گداگری کے طریقوں سے بہت مختلف تھا۔ اس وقت رومی سلطنت کی فصیلوں سے باہر بکثرت ایسے فقیر دیکھے جاسکتے تھے جو شہر میں داخل ہونے والوں سے بھیک مانگتے تھے۔
ان میں سے کچھ تو وہ بدقسمت تھے جو فی الحقیقت کسی جسمانی معذوری کا شکار تھے جبکہ ان میں سے بہت سارے وہ معتوب افراد بھی شامل ہوتے تھے جنہیں بادشاہ بطور سزا اپاہج کرنے کے بعد شہر سے باہر پھینک دیتے تھے اور ان کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ باقی نہ رہتا تھا کہ وہ بھیک مانگ کر اپنے لیے خورد و نوش کا بندوبست کریں۔ اگرچہ اس دورمیں اس طرح کی سزاؤں کا رواج عام نہیں تھا تاہم بغاوت کے علاوہ دیگر جرائم میں ملوث افراد کو اس نوعیت کی سزائیں دی جاتی تھیں تاکہ عام شہریوں کے دل میں بادشاہ کا خوف پیدا ہو اور حکومت کی رٹ مستحکم رہے ۔
ایسے سزا یافتہ افراد کا شہر میں داخلہ ممنوع ہوتا تھا، اس لئے ان کے ذرائع امداد بھی بہت محدود ہوتے تھے۔ شہر میں عموماً وہی افراد گداگری کرتے تھے جو بڑھاپے کی حدود میں داخل ہوجاتے اور ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہ ہوتا، اس کے علاوہ ایسی بیوائیں یا یتیم بچے جن کی کفالت کرنے والا کوئی نہ ہو، وہ بھی گزر بسر کیلئے بھیک مانگتے تھے۔
تاہم ان کے بھیک مانگنے کے ذرائع بہت محدود ہوتے تھے۔ یا تو یہ امیروں کے محلے میں بھیک مانگتے تھے یا پھر بازار میں کسی چوک پر صدا لگاتے۔ اس کے سوا بھیک مانگنے کی اور کوئی صورت نہ تھی۔ کچھ غریب ایسے بھی ہوتے تھے جو بادشاہ سے سالانہ وظیفہ جاری کروانے میں کامیاب ہوجاتے۔ ایسے افراد کیلئے بھیک مانگنا ممکن نہ تھا۔ خواہ بادشاہ کے جاری کردہ وظیفے میں انکا گزارا ہو یا نہ ہو، وہ کسی صورت بھی بھیک نہیں مانگ سکتے تھے کیونکہ یہ بادشاہ کی توہین کے مترادف تھا کہ بادشاہ کے زیر کفالت شخص رعایا سے بھی امداد طلب کررہا ہے۔
عام افراد ایسے ضرورت مندوں کی امداد سے کتراتے تھے اور ہمدردی رکھنے والے چوری چھپے ان کی مدد کیا کرتے تھے ۔ کیونکہ کھلے عام مدد کرنے سے بادشاہ کے غضب کا نشانہ بننے کا خطرہ موجود ہوتا تھا۔ مشنا اور تلمود کے دور میں اس وقت بھکاریوں کی تعداد بڑھ گئی جب مقدس مندر کی تباہی کے نتیجے میں ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے۔ رومی دور میں خصوصاً بہت سے ایسے اقدامات کئے گئے جن کے نتیجے میں متوسط طبقے کو شدید نقصان پہنچا۔
حتیٰ کہ بعض دیہی علاقوں سے تو متوسط طبقے کا وجود ہی مٹ گیا۔
زمانہ قبل از مسیح اور آنے والے دور میں گداگری
عیسائی مورخین کا دعویٰ ہے کہ جس وقت حضرت عیسٰی  عیسائیت کی تعلیمات لے کر آئے، اس وقت یروشلم کے عوام بھیک منگوں اور بھیک کے الفاظ سے قطعاً نا آشنا تھے۔ اس کیلئے وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ نہ تو قانون موسوی( حضرت موسٰی  کے دور میں بیت المقدس کیلئے بنائے گئے قوانین) میں فقیر کا لفظ شامل تھا اور نہ ہی توریت میں فقیر کا لفظ شامل ہے۔
توریت میں بھیک کی جانب اشارہ کرنے والے الفاظ یہ ہیں کہ ”روٹی کا سوال کرنا“ یا ” در در پھرنا“۔ یہ اتفاق ہرگز نہیں ہے کہ توریت میں فقیری یا فقیروں کے بارے میں کچھ بھی درج نہیں بلکہ اس دور میں ایسا کوئی تصور ہی موجود نہ تھا۔ حتیٰ کہ قانون موسوی کے مطابق اگر کوئی شخص قرضے کے بوجھ تلے اس قدر دب جائے کہ وہ اپنا آپ اپنے بھائی کو بیچ ڈالے توبھی اس کے بھائی کو یہ اختیار ہرگزنہیں ہے کہ وہ اسے غلام بنا لے۔
یہ شخص صرف اور صرف ”جوبلی“ تک اپنے بھائی کی خدمت کرے گا ۔ جوبلی عیسائی معاشرے میں منائے جانے والے اس تہوار کا نام ہے جوہر پچاس برس کے بعد منایا جاتا ہے۔ اس تہوار کے موقع پر تمام غلام آزاد کردیئے جاتے ہیں۔ قرضداروں کا قرض معاف کردیا جاتا ہے اور قیدیوں کی سزا معاف ہوجاتی ہے۔ اس دور میں گداگری کو ایک لعنت سمجھا جاتا تھا اور وہ شخص جسے معاشرے میں ذلیل و رسوا کرنا مقصود ہو، اسے بھیک مانگنے کا حکم ملتا تھا۔

گیارہویں صدی قبل از مسیح کے یہودی ”یاوی“ نامی ایک دیوتا کو مانتے تھے۔ ان کے نزدیک بیت المقدس اور اسرائیل کیخلاف لڑائی کیلئے آسمانوں سے اترنے والے دستے کی قیادت یہی یاوی نامی دیوتا کررہا تھا۔ یہودیوں کی مقدس کتابوں کے مطابق یاوی نے بری عادات اور برے کردار کے حامل افراد کوسزا کے طور پر انہیں اور ان کے بچوں کو حکم دیا کہ وہ شہر میں بھیک مانگیں۔
اس کے برعکس نیک کردار کے حامل افراد کے بچوں کی امداد کی ذمہ داری معاشرے کے سپرد کر دی گئی۔ انہیں اس ذلت ورسوائی سے محفوظ کر لیا گیا جس کا نشانہ معاشرے میں منفی شہرت رکھنے والے شہریوں کی اولاد بنتی تھی ۔شمعون بن سراچ جو دو سو قبل مسیح یہودی مذہب کے اہم مفکر کے طور پر جانے جاتے ہیں، نے ایک کتاب تحریر کی تھی ۔ اس کتاب کے مختلف نام بتائے جاتے ہیں جن میں سے ایک ” وزڈم آف سراچ“ بھی ہے۔
وزڈم آف سراچ یہودی ادب کی وہ پہلی کتاب ہے جس میں فقیروں کے حوالے سے واضح الفاظ میں درج ہے۔ اس کتاب کے مطابق یہودی کمیونٹی میں فقیروں کو مرکزی صدقہ خیرات فنڈ میں سے کچھ بھی دینا ممنوع تھا۔ البتہ اس امر کی تلقین کی جاتی تھی کہ جو بھی شخص امداد کیلئے ہاتھ پھیلائے اسے رد نہ کیا جائے اور اس کی مقدور بھر مدد کی جائے ۔چنانچہ حکم دیا گیا کہ لوگ اپنے ذاتی اخراجات میں سے ایسے فقیروں کو بھی دیں جو باقاعدہ پیشے کے لحاظ سے بھکاری ہیں۔
دستیاب تاریخ تصدیق کرتی ہے کہ اس دور میں بیت المقدس کے دروازوں پر فقیر بیٹھا کرتے تھے جو کہ بیت المقدس کی زیارت کی غرض سے آنے والوں سے مدد کی درخواست کرتے تھے۔ اس کے علاوہ امیروں کے دروازوں پر بھی ایسے ضرورت مندوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ شہر میں سالانہ ہونے والے مختلف تہوار بھی ان غریبوں کیلئے خوشی کا باعث ہوتے تھے۔ کیونکہ ایسے موقع پر دیگر شہروں سے بھی سوداگر ، ساہوکار اور مالدار افراد آتے تھے اور کسی ایک بھی شخص کو متاثر کرنے میں کامیابی کا مطلب یہ تھا کہ آسانی سے سال بھر کیلئے امداد اکھٹی کرلی جائے۔
وقت کے ساتھ ساتھ یہودیوں نے صدقہ خیرات کے نظام کو نہایت منظم کرلیا اور یوں وہ تمام علاقے جہاں عیسائی یا یہودی اکثریت میں تھے، میں بھکاریوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ گئی۔ گیارہویں صدی عیسوی میں جب یہ لائحہ عمل مرتب کیا جارہا تھا اس وقت کے یہودی ربی سلمان بن ادریس سے پوچھا گیا کہ فقیروں کی بڑھتی ہوئی تعداد معاشرے پر بوجھ بنتی جارہی ہے۔
اس کا کیا حل نکالا جائے؟۔ اس پر انہوں نے کہا تھا کہ ” غریبوں کی اگرچہ سرکاری خزانے سے مدد کی جاتی ہے تاہم اس کے باوجود بھی وہ اگر گھر گھر جاکر اوردروازے پر دستک دے کر مانگنا چاہتے ہیں تو انہیں روکا نہ جائے بلکہ انہیں ہر کوئی اپنی اپنی حیثیت کے مطابق کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کرے“۔ آنے والی صدیوں میں ان علاقوں میں بھیک مانگنے کا رجحان تقریباً ختم ہوگیا۔
اس کی وجہ وہ قوانین تھے جن کے ذریعے بھیک مانگنے پر پابندی عائد کی گئی۔ مختلف ادوار میں یہ پابندی عائد کرنے والے شہروں میں کراکا، لندن، پرتگال اور سپین کے کچھ حصے قابل ذکر ہیں۔ لینسی لوٹ ایڈیسن کی کتاب ” دی پریذنٹ سٹیٹ آف دی جیوز“ کے صفحہ نمبر 212پر درج ہے کہ یہ مفروضہ غلط ہے کہ یہودی بھیک مانگنے کے سخت مخالف ہیں اور اس قوم میں بھکاری نہیں ہوتے۔
درحقیقت یہ اس معاشرے میں غریبوں کی امداد کا مضبوط نظام ہے جس کی وجہ سے بھکاریوں کیلئے بھیک مانگنے کا کوئی جواز باقی نہیں بچتا۔ سترہویں صدی تک بیت المقدس اور اس کے گرد نواح اور یہودیوں میں بھیک مانگنے کے طریقوں میں بھی کافی تبدیلی آئی۔ اب یہودیوں نے دن مخصوص کرلئے تھے جن میں وہ بھیک مانگا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ دیگر ایام میں وہ مزدوری کرتے اور جن کا گزارا بھیک مانگ کے اکٹھی کی گئی رقم سے ہوجاتا، وہ ہفتہ بھر آرام کرتے۔
چند مخصوص تہوار بھی بیت المقدس کے فقیروں نے مخصوص کرلئے تھے جن پر وہ خصوصی اہتمام کے ساتھ بھیک مانگتے تھے۔ اسی صدی میں چیمیلیسنکی پروگرام کے نتیجے میں پولینڈ میں بسنے والے ہزاروں یہودی معاشی طور پر تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے۔ یوں گداگری ایک بار پھر اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ اس سانحے نے یہودیوں کو دوسروں سے ہمدردی حاصل کرنے کے نت نئے طریقے بھی سکھا دیے۔
مثال کے طور پر وہ کبھی کسی غریب لڑکی کیلئے جہیز اکھٹا کرنے کے نام پر بھیک مانگتے تو کبھی جلے ہوئے گھروں کی تعمیر کے نام پر چندہ اکھٹا کرتے۔
خطہء عرب میں گداگری کا آغاز
طلوع اسلام کے بعد گداگری کا پیشہ شروع ہونے کے حوالے سے مورخین کی رائے کچھ یوں ہے کہ ” عرب معاشرہ دو انتہاؤں میں منقسم تھا۔ یہاں ایک طرف تو امراء تھے اور دوسری جانب انتہائی غریب بدو جن کیلئے زندگی گزارنا انتہائی دشوار اور مشکل تھا۔
اسلام کی آمد سے یہ معاشی تفریق ابتدا میں تقریباً خاتمے کے نزدیک پہنچ گئی تاہم اسلام پھیلنے کے ساتھ ساتھ یہ معاشی تفریق بھی دوبارہ جڑ پکڑنے لگی۔اس وقت عرب بدوؤں کی ایسی تعداد ایک بار پھر بڑھنے لگی جو اپنی گزربسر کیلئے دوسروں کی جانب سے ملنے والی امداد کے محتاج تھے۔ یوں یہ کہا جاسکتا ہے کہ باقی معاشروں کی طرح عرب معاشرے میں بھی گداگری کے فروغ کی اولین وجہ معاشی صورتحال ہی تھی۔
وقت کے ساتھ ساتھ جوں جوں اسلام میں تصوف کا تصور زور پکڑنے لگا، گداگری کا بھی نیا طریقہ متعارف ہوگیا یہ طریقہ بالکل وہی تھا جس کا تصور ہندوؤں، بدھ مت کے پیروکاروں سے ہوتا ہوا اب عیسائی مبلغین میں بھی سرایت کرچکا تھا یعنی مذہب کے نام پر گداگری۔ اس صورتحال کو صوفیوں نے ” اللہ پر توکل“ کے نام سے متعارف کروایا۔ صوفی اسلام نے گداگری کو نہایت منظم انداز میں فروغ دیا۔
یہ دراصل وہ ڈھال تھی جس کی آڑ میں مسلمانوں میں گداگری کوفروغ ملا کیونکہ ان وجوہات کے ذریعے وہ اپنے نفس کو بھی مطمئن کرلیتے تھے اور انہیں حصول رزق کیلئے وہ تگ و دو بھی نہیں کرنا پڑتی تھی جو کہ عموماً رزق حلال کمانے والوں کو کرنا پڑتی ہے۔ گداگری کا یہ انداز سب سے پہلے بغداد اور پھر یہاں سے بتدریج پورے خطہ عرب میں پھیل گیا۔عربی ادب میں سب سے پہلے گداگری اور گداگر کا تذکرہ معروف عرب نثر نگار اور فلسفی الجاہذ کی تحریروں میں ملتا ہے۔
ان کی کتاب ” کتاب البخالہ“ ( کنجوسوں کی کتاب) میں فقیروں کی کنجوسی پر سیر حاصل تبصرہ کیا گیا ہے اور فکاہیہ انداز میں انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے فقیروں کے لئے ” موکدی“ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے خصوصاً فقیروں ہی کے حوالے سے کتاب تحریر کی جس کا نام ” کتاب موکدین “ تھا۔ امور لسانیات کے ماہرین کے مطابق موکدین کا لفظ ”تکیہ“ سے نکلا ہے ۔
” دی مڈیول اسلامک انڈر ورلڈ۔ دی بنو ساسن ان عربک سوسائٹی اینڈ لٹریچر“ نامی کتاب جو بالخصوص فقیروں، بازیگروں، نیم حکیموں اور نوسربازوں کے بارے میں لکھی گئی تھی، میں فقیروں کی خصوصیات کی بنیاد پر باقاعدہ ان کی اقسام بیان کی گئی ہیں۔ ان میں ”فیلاور اور کاگانی اہم ہیں۔ فیلاور سے مراد وہ فقیر ہیں جو نشہ آور اشیا اور جڑی بوٹیوں کی فروخت بھی کرتے ہیں اور خود بھی نشہ کے عادی ہوتے ہیں۔
اسدی طوسی کے مطابق فیلاور لفظ فارسی کے پلاور سے نکلا ہے جس کا مطلب ایسا پھیری والا ہے جو ادویات فروخت کرتا ہے۔ کاگانی فارسی زبان کے کاگ سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس کے معنی اس شخص کے ہیں جو کسی معذوری کی وجہ سے مسخ شدہ جسم کا مالک ہو۔
صوفی ادب اور تصور فقیری
گوکہ عام تصور یہی ہے کہ درویشوں کے خیال میں بھیک مانگنے میں کوئی حرج نہیں اور یہ عمل ان کی ریاضتوں کاحصہ سمجھا جاتا ہے تاہم بہت سے صوفی بزرگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اس کی سختی سے ممانعت کی ہے۔
انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا کے مطابق بغداد میں دسویں صدی عیسوی میں گزرنے والے معروف صوفی شہاب الدین سوہروردی نے اپنی تحریروں میں بھیک مانگنے یا امداد طلب کرنے کی سختی سے ممانعت کی ہے۔ ” وہ صوفی جسے حقیقتوں اور اپنی حیثیت کا ادراک ہوجائے وہ کسی بھی شخص سے کسی چیز کا بھی سوال نہیں کرتا“۔ اسی طرح ایک اور صوفی بزرگ خواجہ عبداللہ انصاری نے مختلف قرانی آیات کی روشنی میں بھیک مانگنے کے عمل کو خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہو سختی سے حرام قرار دیا ہے۔
انہی بزرگوں نے اس امر کا اعتراف بھی کیا ہے کہ بغداد میں بہت سے ایسے شیخ بھی گزرے ہیں جن کی پوری زندگی ہی صدقہ خیرات کے سہارے بسر ہوئی تاہم انہوں نے اس کی ممانعت کی ہے۔ ابو نجیب سہروردی اور حضرت علی ہجویری نے اپنی کتابوں میں بغداد میں گزرنے والے صوفی بزرگوں ابو سعید کراز، اور ابراہیم بن ادھم کے حوالے سے لکھا ہے کہ جب بھی ان پر بھوک پیاس نے غلبہ پایا تو انہوں نے دوسروں سے مانگ کے کھایا تاہم حضرت علی ہجویری کے نزدیک ان کا یہ عمل قابل اعتراض ہرگز نہیں کیونکہ اگر وہ کسی اور ذریعہ سے غذا حاصل کرنے کی کوشش کرتے تو ایسے میں ان کی توجہ اپنے اصل مقصد سے ہٹ جاتی تاہم ان افراد نے یہ واضح کیا ہے کہ کسی سوال کرنے کی صورت میں صرف اس قدر کھانے پینے کا سامان لیا جائے جو سانسوں کی ڈور ٹوٹنے نہ دے۔
ان صوفی بزرگوں نے اپنی تعلیم میں فقیروں کو یہ تربیت بھی دی ہے کہ انہیں چاہئے کہ وہ جس شخص سے امداد وصول کریں اسے خدا کی جانب سے مقرر کردہ وکیل تصور کریں جس کے ذریعے خدا نے ان کو رزق پہنچانے کا بندوبست کیا ہے۔
ایران میں گداگری کے پیشے نے منگول حکمرانوں کے زوال کے بعد زیادہ زور پکڑ ا۔ اس وقت اس خطے کی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے ابن بطوطہ نے اپنے سفرنامے میں تحریر کیا ہے کہ عصر کی نماز کے بعد ہر روز ایسے فقیر بکثرت دیکھے جاسکتے ہیں جو بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں۔
اس دور کے درویش اپنے ہاتھ میں کشکول لازمی پکڑتے تھے، اس لئے درویشوں اور پروفیشنل بھکاریوں کے مابین تمیز کرنا بہت مشکل امر تھا۔ ایران میں ایسے درویش سلسلہ خاکسار سے تعلق رکھتے ہیں اور بیسویں صدی تک ان فقیروں کو آسانی سے ایران میں دیکھا گیا ہے۔ ان کشکول تھامے فقیروں کے بھیک مانگنے کا طریقہ کافی دلچسپ تھا۔ یہ کسی بھی امیر شخص کا گھر منتخب کرلیتے تھے۔
اس کے بعد یہ اس کے گھرکے سامنے اپنا خیمہ گاڑھ لیتے اور چنگھاڑتی ہوئی آواز والا بگل بجانا شروع کردیتے۔ بگل کی آواز سننے والوں کیلئے ناخوشگوار ہوتی تھی ، عموماً مذکورہ گھرانے کا امیر شخص اس شور سے گھبرا جاتا اور فقیر کو کچھ نہ کچھ دے دلا کر رخصت کرنے پر مجبور ہوجاتا۔ بگل کی آواز سے اہل علاقہ کو فقیر کی موجودگی کا علم ہوجاتا تھا۔ فقیروں کا یہ طرز عمل امیر شخص پر دباؤ کا باعث ہوتا تھا کیونکہ فقیروں اور گداگروں کو ناخوش کرنے کے سبب لوگ اسے کنجوس اور سخت دل کہہ سکتے تھے۔
فقیروں کا یہی سلسلہ وقت کے ساتھ ساتھ ان خطوں میں بھی پھیل گیا جو آنے والے وقتوں میں پاکستان، ہندوستان اور افغانستان قرار پائے۔ ابتدا ء میں انہوں نے خود کو مسافر ثابت کرتے ہوئے عوام سے ہمدردیاں حاصل کیں اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ یہ معاشرے میں بطور گداگر اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئے۔
محترم قارئین !آئندہ ہفتے ہم انہیں صفحات میں مختلف مذاہب میں گداگری کے تصور کے حوالے سے جائزہ لیں گے کہ مختلف مذاہب میں گداگری کے حوالے سے کیا تعلیمات اور نظریات پائے جاتے ہیں ۔
تاریخ اشاعت: 2015-09-29

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     ذبیح اللہ بلگن

ذبیح اللہ بلگن کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-