بند کریں
پیر جنوری

مزید تحقیقاتی فیچرز

پچھلے مضامین - مزید مضامین
دُنیا کے غریب حکمران
بھارتی ریاست تریپورا کے وزیراعلیٰ مانک سرکار جو کمیونسٹ پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں ملک کے سب سے غریب حکمران ہیں۔ انہیں اقتدار میں آئے پندرہ برس ہو چکے ہیں لیکن اُن کے پاس ذاتی گھر اور گاڑی نہیں ہے
غلام زہرا :
سرے محل ، رائیونڈ محل، عالیشان گاڑیاں، قیمتی ملبوسات کھربوں کے اثاثے ، غیر ملکی بنکوں کی زینت، یہ سج دھج پاکستان کے حکمرانوں اور سیاسی رہنماوٴں کی ہے جنہوں نے ملک وقوم کے پیسے سے اپنی دکانداری چمکا رکھی ہے۔ پاکستان میں جو بھی بر سراقتدار آیا، اس نے ملک و قوم کے مسائل پرتوجہ دینے کی بجائے اپنی عیش و عشرت اور اثاثوں کو اکٹھا کرنے پر توجہ دی ۔
اُن کی طرز زندگی کو دیکھتے ہوئے مغلیہ شہزادوں کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کئی بادشاہ اور حکمران بہت سادہ زندگی بسر کرتے تھے ، عام لباس پہنتے اور عوام کی طرح رہتے تھے۔
ہادی برحق حضرت محمد کی زندگی کی سادگی کی اعلیٰ نمونہ ہے اوریہی درس آپ نے صحابہ کرام اور اُمت کو دیا۔ خلفائے راشدین کی سیرت طیبہ بھی سادگی کی بہترین مثال ہے۔
اُن کا طرز زندگی بھی عام لوگوں جیسا تھا۔ لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے اوراُن کے مسائل کا جائزہ رات کی تاریکی میں بھیس بدل بدل کر لیا کرتے تھے۔ قرون اولیٰ اور قرون وسطیٰ کے حکمرانوں میں سے بعض مختلف قسم کے پیشے اپنا کر اپنی ضروریات پوری کیا کرتے تھے، عوام کوان کا پوری دنیااور ان کی ضررویات کا خیال رکھنا ان کا شیوہ تھا۔
موجودہ دور میں بھی ایسے حکمران اور با اختیار افراد موجود ہیں جو ایک عام شخص کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں، کسی محل میں رہنے کی بجائے عام سے مکان میں رہنا پسند کرتے ہیں۔
سکیورٹی کے نام پر اپنے اردگرد حفاظتی عملہ متعین نہیں کرتے۔ سادہ کپڑوں میں گزارا کرتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ اپنے ملکوں اور معاشروں کو ترقی اور خوشحالی عطا کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔
ملائشیا کے نک عبدالعزیز کا نام کسی تعارف کا محتا نہیں۔ملائشیا کی ریاست کلینتان کے اس وزیر اعلیٰ کی مدت اقتدار بائیس سال چھ ماہ 14 دن ہے۔ کچھ عرصہ قبل علالت کے باعث یہ اپنے عہدہ سے مستعفی ہو چکے ہیں۔
نک عبدالعزیز کو اپنے دور حکمرانی میں مرکزی حکومت کی شدید مخالفت کا سامناکرنا پڑا۔ملائشیاکی اسلامی تحریک ”پاس“ سے تعلق رکھنے والے اس سادہ شخص کے دور میں کیلنتان کے صوبے میں لوگوں کی بڑی تعداد خطِ غربت سے نکل کر ترقی اور خوشحالی کی بڑی تعداد خطِ غربت سے نکل کی ترقی اور خوشحالی کی راہ پرگامزن ہوئی۔ترقی کا دائرہ شہروں کے علاوہ دیہاتوں تک بھی وسعت اختیار کر گیا ۔
نک عبدالعزیز کے دور میں نہ صرف عوام کا معیار زندگی بہتر ہوا بلکہ اُنہیں آزادی و سکون بھی نصیب ہوا۔ وزیراعلیٰ نے نہ صرف خود سادہ زندگی بسر کی بلکہ اپنی کابینہ کے ارکان کوبھی عوام سے بہتر طرز زندگی اختیار نہ کرنے دی۔ اُنہوں نے نہ خود کرپشن کی اور نہ ہی حکمران جماعت کو لوگوں کوبدعنوانی کرنے دی۔
ملائشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد اور نک عبدالعزیز کے انداز ساست میں واضح اختلافات ہیں۔
مہاتیر محمد نک عبدالعزیز کے ساتھ اختلافات کو اس حد تک لے گئے کہ انہوں نے کلینتاں صوبے کو دئیے جانے والے سارے فنڈز سے محروم کر دیا۔ اُن کے جانشین عبداللہ بداوی اوراور موجودہ وزیراعظم نے نجیب رزاق نے بھی اسی پالیسی کو جاری رکھتے ہوئے کلینتان کو اس کے حقیقی حق سے محروم رکھا۔ مرکزی حکومت نے اُنہیں ہمیشہ پریشان اور اذیت پہنچانے کی کوشش کی ۔
اُن کے بیٹے کو داخلی کو داخلی سلامتی ایکٹ کے تحت 2001 میں ملائشیا میں جہاد کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔پانچ برس تک بغیر مقدمہ چلائے اُنہیں قید میں رکھا گیا اور پھر رہا کیا گیا۔ نک عبدالعزیز ہر قدم پر ثابت قدم رہے۔وہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ غیر مسلموں میں بھی مقبول ہیں۔ انہوں نے کبھی بھی سرکاری وسائل کو استعمال کرنا جائز نہیں سمجھا۔
تجزیہ نگاروں کی رائے ہے کہ نک عبدالعزیز جیسی سادگی اور نظر یہ اپنانا ملائشیا کے کسی دوسرے سیاستدان کیلئے بہت مشکل ہو گا۔
لاطینی امریکہ کے ملک یورا گوائے کے صدر خوزی موخیکا کا شمار بھی ایسے ہی سیاستدانوں میں ہوتا ہے۔ ملک کا صدر ہونے کے باوجود انہوں نے ایوان صدر میں رہنے سے انکار کر دیا۔ اگر وہ ایوان صدر میں رہتے تو کئی خدمتگار اُن کی خدمت کیلئے حاضر رہتے۔
مگر انہوں نے اپنے عام سے گھر کو ترجیح دی۔ جہاں وہ بغیر کسی ملازم کے رہتے ہیں۔ پانی وہ کنویں سے حاصل کرتے ہیں اور انکے کپڑے دھونے کی جگہ گھر سے باہر ہے۔موخیکا کے پاس ایک قعطہ اراضی ہے جہاں دونوں میاں بیوی گل داوٴدی کاشت کر کے گزر بسر کرتے ہیں۔
خوزی موخیکا کی مجموعی دولت 1800 ڈالر ہے یعنی ایک لاکھ ترانوے ہزار۔ وہ اپنی بارہ ہزار امریکہ ڈالر تنخواہ کا 90 فیصد حصہ فلاحی کاموں میں خرچ کرتے ہیں ۔
یوراگوئے کے اس صدر کی اہلیہ اثاثوں میں ایک قطعہ اراضی ، ٹریکڑ اور گھر شامل ہے۔انکی قیمت دو لاکھ پندرہ ہزار بنتی ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ مسز موخیکا کے سارے اثاثوں کی مالیت سے زیادہ پاکستان کے ایک ایم این اے کا ماہانہ خرچہ ہوتا ہے۔
خوزی موخیکا کا نظریہ ہے کہ ”انسان غریب نہیں ہوتا بلکہ لالچ اُسے غریب بناتا ہے۔جو لوگ مجھے غریبوں میں شمار کرتے ہیں اُن کیلئے عرض ہے کہ میری لغت میں غریب کی تعریف یہ ہے کہ جو لوگ بہت زیادہ ضرورت مند ہوتے ہیں وہ کبھی مطمئن نہیں ہوتے“۔
2009 کے صدارتی انتخابات میں بڑی اکثریت حاصل کرنے سے پہلے موخیکا اپنے مخالفین کی طعنہ زنی اور نفرت کا شکار رہے ۔ اُن کے ایک مخالف نے اُن کے گھر کو ”غار“ قرار دے دیا۔ صدارتی فرائض نبھانے کے بعد انہوں نے ملک کی سیاسی اسٹیبلشمنٹ کو اس وقت شدید پریشانی سے دو چار کر دیا جب انہوں نے صدارتی رہائش گاہ کو فروخت کر کے رقم خزانے میں جمع کوا دی۔
اُن کے بعض ہم وطن اُن کے طرز زندگی پر تنقید کرتے ہیں کہ بطور صدر انہیں ایسی زندگی اختیار کرنا زیب نہیں دیتی۔ لیکن زیادہ تر کی نظر میں وہ ہیرو ہیں۔
سابق ایرانی صدر محمود احمد ی نژاد صدر منتخب ہو کر ایوان صدر پہنچے توانہوں نے وہاں بچھے تما م قالین دارالحکومت تہران کی ایک مسجدمیں بچھوا دیئے۔ اُنہوں نے ایوان صدر میں اہم شخصیات کے استقبال کیلئے الگ الاوٴئج جس پر غیر معمولی اخراجات اٹھتے تھے بند کرانے کا حکم دے دیا اور اُسکی جگہ ایک عام سے کمرے کا اہتمام کرنے کا کہا گیا جس میں صرف لکڑی کی کرسیاں رکھی جائیں۔
محمود احمد نژاد ایک تھیلے میں اپنا ناشتہ لے کر ایوان صدر جاتے تھے۔ یہ ناشتہ اُن کی اہلیہ تیار کرتی تھیں۔ ۔ اپنے رہائشی علاقے میں وہ میونسپلٹی کے عملے کے ساتھ مل کر گلیاں اور سڑکیں صاف کرتے تھے۔ اپنی کابینہ کا رکن بنانے والے پہلے وہ حلف لیتے کہ وہ سادگی اختیار کرے گا۔ محمود احمدی نژاد کے اثاثوں میں ایک پرانا چھوٹا گھر جو انہیں اپنے والد کی طرف سے ملا تھا۔
اُن کے اکاونٹس میں سوائے ایک تنخواہ کے جو انہیں یونیورسٹی میں بطور لیکچرار خدمات انجام دینے پر ملی تھی۔ یہ تنخواہ چھبیس ہزار آٹھ سو پچانوے پاکستانی روپے کے برابر تھی۔ صدر کی حیثیت سے انہوں نے ایک دن بھی تنخواہ وصول نہیں کی۔ اُن کے مطابق تمام دولت قوم کی ملکیت ہے اور وہ اس کے محافظ ہیں۔ انہوں نے صدر مملکت کے مینجر کی حیثیت ختم کر کے خود وزراء کے ساتھ آئے روز میٹنگز شروع کر دیں۔
وہ عام جہاز کی اکانومی کلاس میں سفر کرتے۔ انہوں نے فوٹوسیشن اور ذاتی تشہیر کے کلچر کو ختم کر دیا تھا۔ وہ جس ہوٹل میں بھی قیام کرتے وہاں اپنے لئے ایسا کمرہ حاصل کتے جہاں بیڈ نہ ہو۔ وہ زمین پرسونا زیادہ پسند کرتے تھے۔محمود احمد نژادی کی ایک تصویر سب سے زیادہ عام ہوئی جس میں انہوں نے ایک ایسا کوٹ پہنا ہوا تھا جو بغل سے پھٹا ہوا تھا۔

بھارتی ریاست تریپورا کے وزیراعلیٰ مانک سرکار جو کمیونسٹ پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں ملک کے سب سے غریب حکمران ہیں۔ انہیں اقتدار میں آئے پندرہ برس ہو چکے ہیں لیکن اُن کے پاس ذاتی گھر اور گاڑی نہیں ہے۔ مانک سرکار اپنی ساری تنخواہ اور الاوٴنسز پارٹی کے خزانے میں جمع کراتے ہیں۔پارٹی انہیں محض پانچ ہزار(بھارتی) روپے دیتی ہے جو آٹھ ہزار چار سو جونسٹھ روپے کے برابر ہیں۔
ایک ریاست کا وزیر اعلیٰ ان پیسوں سے اپنا گھربار چلاتا ہے ۔ مانک سرکار اور اُن کی اہلیہ نہایت سادہ زندگی بسر کرتے ہیں۔ ان کا کوئی سکیورٹی گارڈ نہیں۔ نہ ہی وہ ذاتی محافظ رکھنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔
مانک سرکار کے مخالفین بھی انہیں کرپشن سے پاک قرار دیتے ہیں ۔ 2008 میں جب اُن کے پاس نقدی اور بنک اکاوٴنٹ چیک گیا گیاتو یہ سولہ ہزار ایک سو بیس روپے تھے۔
2009 میں والدہ کے انتقال کے بعد اُنہیں روثے میں ایک مکان ملا جو انہوں نے عطیہ کردیا۔ اں کے گھر میں لینڈ لائن نمبر نہیں ہے۔وہ اپنی ذات پر عوام کی خوشحالی کو ترجیح دیتے ہیں عوام میں انہیں بے حد پذیرائی اور مقبولیت حاصل ہے۔
دوسری جانب ہمارے سیاسی رہنماوں اور حکمرانوں کی تنخواہیں اور مراعات ایران ، ملائشیا ، بھارت اور یورا گوئے سے تعلق رکھنے والوں کے کل اثاثوں کی مالیت کے برابر ہیں۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے کچھ عرصہ قبل جب وزیزاعظم نواز شریف سمیت دیگر رہنماوٴں کے اثاثوں کی مالیت کاجائزہ لیا گیا تھا تو اس میں وزیراعظم نواز شریف کے اثاثوں کی مالیت ایک ارب بیاسی کروڑ چالیس لاکھ چوالیس ہزار دو سو تیس روپے ظاہر کی گئی۔ ان اثاثوں میں 1667 کنال زرعی اراضی، مری میں10 کروڑ مالیت کی کوٹھی ، شیئرز اور گاڑیوں کی مالیت شامل ہے۔
اس کے علاوہ ان کے پاس نقد رقم 22 لاکھ 57 ہزار 820 روپے ہے ۔ وزیراعظم کے اثاثوں میں لاہور کے نزدیک زرعی اراضی کا ذکر بھی ہے۔ لیکن اس میں لاہور کے نزدیک جاتی عمر میں شریف خاندان کی پرتعیش رہائش گاہوں کا ذکر نہیں۔
عمران خان کے اثاثوں میں اسلام آباد میں واقع 500 کنال اور 5 مرلہ کے گھر کاا تحفہ ظا ہر کیا گیا ہے جبکہ زمان پارک لاہور اور میانوالی میں واقع گھر خاندانی ہے۔
عمران خان کی جانب سے ظاہر کیے گئے اثاثوں میں شیخوپورہ اور بھکر کی زرعی اراضی تحفہ خاندانی جب کہ خانیوال میں واقع اراضی تحفہ ظاہر کی گئی ہے۔ نقدی ، بنک اکاوٴنٹ اور پراڈو گاڑی اس کے علاوہ ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کے اثاثوں کی کل مالیت ایک کروڑ 75 لاکھ3 ہزار696 روپے تھی۔ چودھری نثار نے 682 کنال زرعی زمین ایک ایک کنال کے 5 پلاٹس ، شئیرز سمیت دیگر املاک کو آبادئی ظاہر کرتے ہیں۔
بنک اکاوٴنٹ اور نقدی اس کے علاوہ ہے۔
وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی جانب سے ظاہر کئے جانے والے اثاثوں کے مطابق اُن کے لندن میں اثاثوں کی مالیت 13 لاکھ 87 ہزار102 روپے مری میں 9 کنال کا گھر اور مری میں ہی ایک اور گھر کا چوتھا حصہ شامل ہے اور اس کی مالیت ایک کروڑ 66 لاکھ بنتی ہے۔ٹیوٹالینڈ کروز، اراضی دو بیویوں کے بنک اکاوٴنٹ وغیرہ اس کے علاوہ ہیں۔
ان کے بچوں کے نام جو جائیداد ہے اس کا تذکرہ نہیں کیا گیا ۔ صرف مذکورہ بالا چند پاکستانی رہنما ہی اربوں کے اثاثے نہیں رکھتے۔ دیگر اراکین اسمبلی بھی ارب پتی ہیں۔ اکثر کے بیرون ملک کاروبار اور جائیداد یں بھی ہیں۔
جب کہ اس ملک کے بیشتر افراد کو دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے میسر ہے ۔ عوام کے پیسے سے ملک و قوم کو کھوکھلا کرنے والے یہ رہنما اگر دولت اور اقتدار کی ہوس چھوڑ کر سچے دل سے قوم کی خدمت کا ارادہ کرلیں اور نک عبدالعزیز ، خوزی موخیکا ، محمود احمد نژادی اور مانک سردار کی راہ پر چلتے ہوئے عوام کی خدمت کو شعار بنالیں تو شاید ملک کی تقدیر بدل جائے ۔
کاش ہمارے حکمرانوں کو کوئی سمجھائے کہ دراصل دولت سے انبار کے باوجود وہ غریب ہی رہیں گے اوراصلی رہنما تو وہ ہیں جنہیں عوام کی خوشحالی اور ترقی سے غرض ہے ۔جائیداد اور ذاتی حیثیت ان کیلئے بے معنی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-11-26

(2) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان