بند کریں
اتوار فروری

مزید تحقیقاتی فیچرز

پچھلے مضامین - مزید مضامین
افلاطون (427تا 347قبل مسیح)
قدیم یونانی فلسفی افلاطون کی فکر مغربی سیاسی فلسفہ اور بہت حدتک اخلاقی اور مابعد الطبیعیاتی فلسفہ کے نقطہ آغاز کو ظاہر کرتی ہے۔ ان موضوعات پر اس کے معروضات کو دور ہزار تین سوبرسوں سے مسلسل پڑھا جارہا ہے
محمد عاصم بٹ:
قدیم یونانی فلسفی افلاطون کی فکر مغربی سیاسی فلسفہ اور بہت حدتک اخلاقی اور مابعد الطبیعیاتی فلسفہ کے نقطہ آغاز کو ظاہر کرتی ہے۔ ان موضوعات پر اس کے معروضات کو دور ہزار تین سوبرسوں سے مسلسل پڑھا جارہا ہے۔ افلاطون کا شمار مغربی فکر کے عظیم بانیوں میں ہوتا ہے۔
افلاطون ایتھنز کے ایک ممتاز گھرانے میں 427قبل مسیح میں پید ا ہوا ۔
نوجوانی میں اس کی ملاقات فلسفی سقراط سے ہوئی جو اس کا دوست اور رہنما بن گیا۔399قبل مسیح میں ستر برس کی عمر میں سقراط پر بے دینی اور ایتھنز کے نوجوانوں کو ور غلانے کے مبہم الزامات کے تحت مقدمہ چلایا گیا۔اس کو موت کی سزادی گئی۔ افلاطون کے الفاظ میں سقراط ،دانا ترین ،اور ان تمام لوگوں میں سے بہترین ہے جن سے آج تک مل پایا ہوں سقراط کی موت نے افلاطون کے دل میں جمہوری حکومت کے لیے ایک مستقل نفرت بھر دی۔

سقراط کی موت کے کچھ ہی عرصہ بعد افلاطون نے ایتھنز چھوڑدیا۔ اگلے دس یا بارہ برس اس نے مسلسل سفر میں گزارے۔ 387قبل مسیح کے قریب وہ ایتھنز واپس آیا اور ایک مدرسہ کی بنیاد رکھی۔ جسے اکاومی کا نام دیا۔جو نوسو سال سے زائد عرصہ تک قائم رہی۔ افلاطون نے زندگی کے بقیہ چالیس برس ایتھنز میں گزارے۔ وہ فلسفہ کی تدریس کرتا اور لکھتا رہا۔ اس کا سب سے معروف شاگرد ارسطوتھا جو سترہ برس کی عمر میں اکاومی میں داخل ہوا تب افلاطون ساٹھ برس کا تھا۔
افلاطون 80برس کی عمر میں 347 میں فوت ہوا۔
افلاطون نے قریب چھتیں کتابیں تحریر کیں جن میں سے بیشتر سیاسی اور اخلاقی مسائل پر بحث کرتی ہیں ۔ اس نے بابعد الطبیعیات اور الہیات پر بھی لکھا۔ اس کی تحریروں کو یہاں چندسطروں میں اجمالا بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ تاہم اس احتمال کے باوجود کہ یوں اس کے افکار کی ایک بے جاسادہ تو ضیح بن جائے گی میں افلاطون کی معروف کتاب جمہوریہ میں موجود اس کے اہم سیاسی نظریات کا اجمالا بیان کرنے کی کوشش کروں گا جس میں ایک مثالی معاشرے کا تصور پیش کیا گیا۔

افلاطون کے خیال میں بہترین حکومت اشرافیہ کی حکومت ہے۔ اس سے اس کی مراد کسی وراثتی اشرافیہ سے نہیں تھی نہ ہی یہ بادشاہت کا احیاء ہے۔ بلکہ یہ ایک معتبر اشرافیہ ہے یعنی یہ کہ بہترین اور دانا ترین افراد ریاست پر حکومت کریں گے۔ ان کا انتخاب شہریوں کی رائے دہندگی کی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ بلکہ باہمی معاونت کی بنیاد پر جو لوگ پہلے سے سر پرست طبقہ کے رکن ہیں انہیں اضافی اراکین کا سخت معیارات پر انتخاب کرنا چاہیے۔

افلاطون کا خیال تھا کہ سرپرست طبقہ کے لیے مرداور عورت کے انتخاب میں کوئی تخصیص نہیں ہے۔وہ پہلا اہم فلسفی تھا۔اور آئندہ طویل عرصہ تک کوئی دوسرا اس جیسا پیدانہ ہوا جس نے عورت اور مرد کی برابری کی بات کی۔ اوریہ کہا کہ دونوں کو ہر طرح کے مواقع سے مستفید ہونے کا برابر حق حاصل ہے۔ افلاطون نے ریاست کو بچوں کی نگہداشت کا ذمہ دار قراردیا۔
اس نے شاعری،مو سیقی وغیرہ کو منموعہ علوم قراردیا۔ اس نے ایک مکمل تعلیمی نظام دیا کہ ریاضیات اوردیگر مدرساتی علوم کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے متعدد مراحل پر شدید آزمائش کر لینی چاہیے ایک کم کامیاب انسان میں معاشرے کی معاشی فعالیت کی پر کھ کرلینی چاہیے۔ جبکہ زیادہ کامیاب لوگوں کو مسلسل مزید تربیت حاصل کرنی چاہیے۔ اس اضافی تعلیم میں نہ صرف عمومی مدرساتی موضوعات شامل ہوں بلکہ یہ فلسفہ کی تربیت کا بھی احاطہ کرے جس سے افلاطون کی مراد دراصل مثالی اشکال کے اپنے مابعد الطبیعیاتی نظریہ کی تدریس تھی۔

پینتیس برس کی عمر میں جو لوگ نظریاتی ضوابط پر عبور حاصل کرلیں انہیں مزید پندرہ برس تربیت دی جائے گی۔جو عملی تجربہ پر مبنی ہوگی۔صرف وہی افراد جو یہ ثابت کریں کہ وہ اپنے کتابی علم کو حقیقی دنیا پر عملأ منطبق کرسکتے ہیں سرپرست طبقہ میں جگہ پا سکیں گے۔ مزید یہ کہ صرف وہی لوگ جو واضح طور پر ظاہر کردیں کہ وہ بنیادی طور پر عوامی فلاح میں دلچسپی رکھتے ہیں خود سرپرست بن سکیں گے۔

تاہم ہر فرد سرپرست طبقہ میں داخل ہونے کا مجاز نہیں ہوگا۔سرپرست طبقہ دولت مند نہیں ہوگا۔ سرپرستوں کو صرف ایک معمولی حدتک ذاتی جائیداد پاس رکھنے کی اجازت ہوگی۔ان کی نہ کوئی زمین ہوگی نہ ذاتی گھر ۔ انہیں ایک مخصوص مشاہرہ ملے گا جو ہرگز زیادہ نہیں ہوگا۔انہیں سونا یا چاندی اپنے پاس رکھنے کا حق نہ ہوگا۔سرپرست طبقہ کے افراد کو علیحدہ خاندان بنانے کی بھی ممانعت ہوگی۔
تاہم وہ اکٹھے طعام کریں گے اور ان کی بیویاں بھی مشترک ہوں گی۔ ان فلسفی بادشاہوں کا اجر مادی دولت نہیں ہوگی بلکہ یہ اطمیان ہوگا کہ وہ عوام کی خدمت کررہے ہیں۔ یہ افلاطون کے مثالی ریاست سے متعلق نقطہ کا اجمالی بیان ہے۔
متعدد صدیوں تک جمہوریہ دلچسپی کے ساتھ پڑھی جاتی رہی۔ یہ امر قابل غور ہے کہ اس میں بیان کیا گیا سیاسی نظام کسی حقیقی دیوانی حکومت کے لیے بطور مثال استعمال نہ کیا گیا۔
افلاطون اور ہمارے مختلف زمانوں کے درمیانی وقفہ میں بیشتریورپی ریاستوں میں وراثتی شاہی نظام رائج رہا۔ حالیہ صدیوں میں متعدد ریاستوں نے حکومت کے جمہوری نظام کو اختیار کیا۔فوجی حکومت یاجابرانہ آمریت کی بھی مثالیں ملتی ہیں جیسے ہٹلر یا مسولینی وغیرہ کی حکومتیں ۔ ان تمام نظام ہائے حکومت میں سے کوئی ایک بھی افلاطون کی مثالی جمہویہ کے مماثل نہیں ہے۔
کسی سیاسی جماعت نے کبھی افلاطون کے سیاسی افکار کو اپنا راہنما بنانے کی کوشش نہیں کی۔نہ ہی انہوں نے اس طور ان افکار کو اپنی سیاسی تحاریک کی بنیاد بنایا جس طرح مارکس کے خیالات کو اپنایا گیا۔ تو کیا اس سے ہم یہ نتیجہ اخذکریں کہ افلاطون کی تحریریں اگرچہ وہ قابل احترام ہیں، عملی طور پر اقطعا نظر انداز کی گئیں؟ میر ا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہے۔

اتنا ضرور سچ ہے کہ یورپ میں کسی دیوانی حکومت نے افلاطون کی مثالی ریاست سے براہ راست استفادہ نہیں کیا۔ لیکن ازمنہ وسطی کے یورپ میں کیتھولک کلیسا اور افلاطون کے سرپرست طبقہ کے بیچ گہری مماثلتیں تلاش کی جاسکتی ہیں ۔ یہ کلیسا ایک خود بخود منتخب ہونے والے اشرافیہ پر مشتمل تھا جس کے اراکین ایک سرکاری فلسفہ کی تربیت حاصل کرتے۔ اصولی طور پر خاندانی پس منظر سے قطع نظر ہر مرد اس پاپائی طبقہ میں داخل ہونے کا اہل تھا (البتہ عورتوں کی ممانعت تھی)۔
اصولی طور پر اہل کلیسا خاندانی بندشوں سے آزاد ہوتے ان سے یہ توقع کی جاتی کہ وہ ذاتی ترقی کی حرص کی بجائے اپنے طبقہ کی فلاح کے مقصد کو پیش نظر رکھیں۔
افلاطون کے افکار نے امریکی حکومت کے نظام کو بھی متاثر کیا۔ امریکی آئین ساز مجلس کے کئی اراکین افلاطون کے سیاسی افکار سے آگاہ تھے۔ یہ توقع کی جاتی تھی کہ امریکی آئین عوامی منشاء کو دریافت اور اسے عملا منطبق کرنے کی تدبیر کرے گا۔
لیکن یہ تقاضہ بھی کیا گیا کہ یہ قوم پر حکمرانی کے لیے دانا ترین اور بہترین افراد کے انتخاب کا کوئی نظام وضع کرے گا۔
افلاطون کی قدروقیمت کا تعین کرتے ہوئے دشواری یہ ہے کہ ان تمام ادوار میں افلاطون کے اثرات وسیع تر اور سرایت کن ہونے کے باوجود پیچیدہ اور بالو اسطہ رہے ہیں مزید کہ اس کے سیاسی نظریات کی نسبت اخلاقیات اور مابعد الطبیعیات پر اس کے مباحث نے بعد کے فلاسفہ پر زیادہ گہرے اثرات مرتب کیے۔
موجودہ فہرست میں افلاطون کو ارسطو کی نسبت کم درجہ دیا گیا ہے تو اس کی وجہ بنیادی طور پر یہ ہے کہ ارسطو ایک اہم سائنس دان اور فلسفی تھا۔ دوسری طرف افلاطون کو تھا مس جیفر سن اور والٹیئر جیسے فلاسفہ سے زیادہ بلند درجہ دیا گیا ہے۔ اس لیے کہ سیاسی تحریروں نے دنیا کو دو یاتین صدیوں کے لیے ہی متاثر کیا جبکہ افلاطون کے اثرات ئتیس صدیوں تک قائم رہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-06-18

(0) ووٹ وصول ہوئے