بند کریں
اتوار فروری

مزید تحقیقاتی فیچرز

پچھلے مضامین - مزید مضامین
3جون ۔۔۔۔پاکستان کا پہلا یوم آزادی
اس خوف اور دہشت کے عالم میں 3جون 1947ء آل انڈیا ریڈیو سے حضرت قائداعظم محمد علی جناح کی تقریر ملت اسلامیان ہند کے لئے شب تاریک میں امید کا روشن آفتاب ثابت ہوئی
عزیز ظفر آزاد
1857ء سے شروع ہونے والی شب غم 1947ء تک مسلمانان ہند پر طاری رہی۔ اس دوران بے تحاشاتکلیفوں اور اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بے انتہا قربانیاں دی گئیں۔ لاتعداد سازشوں ، جالوں اور مکرو فریب کی چالوں کا شکار مسلمانان برصغیر ہوئے۔ہندوٴں نے ہر موقع ہر مقام پر مسلمانوں کو زک پہنچانے کی کسر نہ چھوڑی۔ ہمیشہ غداری کرتے ہوئے غیر ملکی حملہ آوروں سے جا ملتے۔
انگریزوں اور ہندوٴں کے مظالم سے مسلمان بے حد پریشان اور بددل تھے۔ہندو قیادت کو یقین تھا کہ انگریز وں کو ملک چھوڑ کر جانا ہے تو وہ پورا ہندوستان ان کے سپرد کرکے جائیں گے۔ انگریز کا تعصب اور نا انصافیاں ایسا ہی ظاہر کرتی تھیں کہ انگریز مسلمانوں کو اپنا حریف اور دشمن تصور کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے مسلم حکمرانوں کو سازش کے ذریعے شکست دے کر ہندوستان کا اقتدار حاصل کیا تھا۔
انہیں خدشہ تھا کہ اگر مسلمان کسی طرح بھی قوت پکڑ گئے تو ایک بار پھر پورا ہندوستان مسلم حکمرانی میں آجا ئے گا۔ دوسری جانب ہندوٴں پر اس خطے میں بالا دستی کی خواہش ہمیشہ جنون کی حد تک طاری رہی مگر ہم صرف دو قومی نظریے کی بدولت ہندو کی بالادستی سے نجات حاصل کر سکے لہذا مسلمانوں کو ہندوٴں اور انگریز کا مشترکہ دشمن تصور کیا جاتا تھا۔ لارڈ ماوٴنٹ بیٹن کو پنڈت جواہر لعل نہرو سمیت دوسری ہندو اور سکھ قیادت کی ہر طرح سے خدمات اور تعاون حاصل تھا۔
حد تو یہ ہے کہ آزاد ہندوستان کا سربراہ ماوٴنٹ بیٹن کو بنانے کا وعدہ تک کر لیا گیا لیڈی ماوٴنٹ بیٹن اور پنڈت جواہر لعل نہرو کے تعلقات کے قصے بھی برصغیر کی تاریخ کا حصہ ہیں لہذا لارڈ ماوٴنٹ بیٹن نے اپنے دیگر انگریز افسران کے ساتھ مل کر مسلمانوں کو غلام رکھنے کے کئی منصوبے بنائے۔ جب تمام کوششیں سازشیں حضرت قائداعظم محمد علی جناح کے واضح دلائل اور مضبوط موقف کے سامنے دم توڑ گئیں تو لارڈ ماوٴنٹ بیٹن نے اپنے عہدے اور منصب کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے حکومتی اثر ورسوخ کا فائدہ اٹھا کر ہندوستان میں موجودتمام ریاستوں کو مجبور کیا کہ وہ انڈین یونین میں شامل ہوجائیں وگرنہ خطرناک انجام کے لئے تیار رہیں۔
اسی طرح بعض علاقوں اور ریاستوں پر حکومتی قوت اور فوج کشی سے قبضہ کر لیا تاکہ پاکستان اگر بن بھی جائے تو چارروز بھی نہ چل سکے۔کشمیر ، جونا گڑھ ، مانا ودر اور دیگر ریاستیں ایسے ہی ہتھیا لیں۔اس خوف اور دہشت کے عالم میں 3جون 1947ء آل انڈیا ریڈیو سے حضرت قائداعظم محمد علی جناح کی تقریر ملت اسلامیان ہند کے لئے شب تاریک میں امید کا روشن آفتاب ثابت ہوئی۔
یہ برصغیر کے مسلمانوں کیلئے تاریخ ساز دن تھا اس روز تاج برطانیہ نے تقسیم ہند کے مطالبے کو باقاعدہ طور پر منظور کر لیا۔یہ طویل جدوجہد آزادی کی پہلی بڑی فتح کا دن تھا۔حضرت قائداعظم نے اپنی تقریر میں تقسیم ہند کی خوشخبری دیتے ہوئے آخر میں پاکستان زندہ باد کا پہلی مرتبہ آل انڈیا ریڈیو سے نعرہ لگایا۔آزادی کے اعلان سے پورے ہندوستان میں خوشی کی عجب سی لہر نظر آئی کیونکہ یہ صدیوں پر مشتمل خوابوں آرزوٴں تمناوٴں کی تعبیر کا دن تھا۔
مسلمانوں کی علیحدہ آزاد خودمختار ریاست کے قیام کی عملی تصویر سامنے آگئی تھی۔حضرت قائداعظم نے اپنی زندگی داوٴپر لگا یا، اپنی موت کی خبر چھپا کر ہمیں آزادی دلائی۔پاکستانی قوم کو اپنے اس محسن کا احسان مانتے ہوئے آزادی کی قدردانی کرنی چاہیے۔کانگریس نے 3جون کا منصوبہ اس خوش فہمی میں قبول کر لیا۔ان کا خیال تھا کہ یہ تجربہ ناکام ہوجائے گا اور مسلمان لوٹ کر دوبارہ ہندوستان میں شامل ہوجائیں گے مگر ایسا نہ ہو سکا۔
ہم انشاء اللہ 3جون کے دن عہد کرتے ہیں کہ ہم ہر قربانی دینے کیلئے تیار رہیں گے مگر ہندوٴں کا اکھنڈ بھارت کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہونے دیں گے۔ہم ہر محب وطن پاکستانی کا اپنے عظیم قائد سے ان کی امانت کی حفاظت کا عہد کرتے ہیں۔ 3جون عہد وفا کے ساتھ اپنے کڑے احتساب کا مطالبہ کرتا ہے کہ ہم جائزہ لیں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کا کہ ہم نے قوم کو کیا دیا اور کیا دے سکتے ہیں ؟
3جون 2013ایک تقریب کے موقع پر امام صحافت قائد و اقبال کے عظیم فرزند جناب مجید نظامی مرحوم نے فرمایا۔
" میں سمجھتا ہوں کہ 3جون پاکستان کا پہلا یوم آزادی ہے جبکہ دوسرا 14 اگست ہے کیونکہ 3جون کو ہی پاکستان بن گیا تھا اور یہ طے ہوگیا تھا کہ کون کون سے حصے پاکستان میں شامل ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ وائسرائے ہند لارڈ ماوٴنٹ بیٹن نے پنڈت جواہر لعل نہرو کو ساتھ ملا کر پاکستان کو ایک کٹا پھٹا ملک بنانے کی کوشش کی۔قائداعظم پاکستان بنانے پر تلے ہوئے تھے اور انہیں جیسا پاکستان ملا اسے قبول کرلیا کیونکہ اگر وہ انکار کرتے یا کہتے کہ یہ ناکافی ہے تو اس وقت پاکستان نہ بنتا اور بعد ازاں اسے بنانا ناممکن ہو جاتا۔
جناب نظامی نے فرمایا کہ حضرت قائداعظم کی صحت ایسی تھی کہ 14اگست 1947ء کو پاکستان معرض وجود میں آیا اور 11ستمبر 1948ء کو قائداعظم اللہ کو پیارے ہوگئے۔ وہ جتنے دن بھی زندہ رہے ان کی بہن مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح نے تیمار داری کی۔پاکستان بنانے کا نظریہ علامہ اقبال نے دیا اور قائداعظم نے اس کو عملی تعبیر دی۔حضرت نظامی نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلم اکثریتی علاقہ گرداس پور پاکستان کے حصے میں نہیں آیا اسی طرح مشرقی بنگال کی تقسیم اور اس کے نتیجے میں بعض مسلم اکثریتی علاقے ہمارے حصے میں نہ آئے بعد ازاں مشرقی پاکستان ہم سے علیحدہ ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ایک کٹا پٹھا سہی ایک آزاد ملک پاکستان مل گیا آج ہم پاکستان کو اپنے زور بازوسے مزید مضبوط کریں گے اس کو مزید ٹکڑے نہ ہونے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف نے بلوچستان کے حوالے سے جس قسم کا سمجھوتہ کیا ہے سب نے خیرمقدم کیا اب امید ہے کہ بلوچستان پاکستان کے لئے مشرقی پاکستان ثابت نہیں ہوگا۔صوبہ سرحد عمران کے پاس چلا گیا اور اب یہاں لال ٹوپی والے نظر نہیں آرہے۔سرحدی گاندھی پاکستان کو تقسیم در تقسیم کرنا چاہتے تھے اور انہوں نے مرنے کے بعد بھی جلال آباد دفن ہونا قبول کیا۔
تاریخ اشاعت: 2015-06-04

(0) ووٹ وصول ہوئے