بند کریں
منگل جنوری

مزید انٹرویوز

- مزید مضامین
پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ سے یونیورسٹیاں بھی فائدہ اٹھا سکتی ہیں،پروفیسر ڈاکٹر حسن امیر شاہ
ویژن انفرادی نہیں اجتماعی ہونا چاہیے، اخلاقیات کا تعلق تعلیم سے نہیں تربیت سے ہے،۔۔۔۔ یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم متعارف کرانا اولین ترجیح ہے،وائس چانسلرجی سی یونیورسٹی لاہورکا خصوصی انٹرویو
مصنف : ثنا اللہ ناگرہ
انٹرویو۔ثناء اللہ ناگرہ:
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہورکے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حسن امیر شاہ نے کہاہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ سے یونیورسٹیاں بھی فائدہ اٹھا سکتی ہیں پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ ہمارا اجلاس بھی ہو چکا ہے ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان اور چین کی جامعات مشترکہ منصوبہ بندی کریں اور عملی جامہ پہنانے کے لیے علمی اور مالی تعاون بھی فراہم کریں،یونیورسٹی میں قانون کی تدریس متعارف کرانامیری اولین ترجیحات میں شامل ہے، اس کی منصوبہ بندی کیلئے تکنیکی امور کی ایک ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے،جو جملہ امور کی منصوبہ سازی کرے گی،ویژن انفرادی نہیں اجتماعی ہونا چاہیے،نصاب سازی متعلقہ ماہرین کا استحقاق ہے اخلاقیات کا تعلق تعلیم سے نہیں تربیت سے ہے،پرووائس چانسلر کے تعین سے یونیورسٹی کو فائدہ ہوگااس سے وائس چانسلر کے دائرہ اختیارپر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا،جی سی یو میں نوجوان محققین بھی اچھی تحقیق کر رہے ہیں تحقیق سے استفادہ حاصل کرنے کیلئے پاکستان میں متعلقہ انڈسٹری ہی موجود نہیں،طلباء کی کردار سازی اور ان میں قائدانہ صلاحیتوں کے نکھار میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ کھیل اور ہم نصابی سرگرمیاں بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔
انہوں نے "اردوپوائنٹ ڈاٹ کام" کو خصوصی انٹر ویو دیتے ہوئے کہا کہ جب بطور وائس چانسلر جی سی یونیورسٹی کا چارج سنبھالا تو فیکلٹی کے حوالے سے کافی مسائل درپیش آئے۔ عبدلسلام سکول کے ڈائریکٹر جنرل ڈیرھ سال قبل ادارہ چھوڑ گئے اور ان کے جانے کے بعد یہاں جتنی بھی غیر ملکی فیکلٹی تھی وہ بھی چلی گئی، ایک نئے ڈائریکٹر جنرل تھے ،ایک لائبریرین تھا اور48پی ایچ ڈی کے طالبعلم ،جن کا قیمتی سال ضائع ہو چکا تھا۔
اس ڈاکٹرل سکول کو دوبارہ چلانے کیلئے کافی محنت کرنا پڑی ہماری کاوشوں کے باعث سابق ڈی جی نے ذاتی تعلق کی بنا پرکافی مدد کی اب یہاں 10سے زائد غیر ملکی فیکلٹی ممبر واپس آچکے ہیں،مزید ہم لانے کی کوشش کر رہے ہیں،جس سے امید ہے کہ یہ ادارہ ایک بار پھر معیاری تحقیق کا مرکز بن کر سامنے آئے گا۔پروفیسر سلام چیئرپر کسی نامور ماہرِ طبیعیات کی تعیناتی کے لیے بھی اشتہار دے دیا ہے،انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قدیم ترین تعلیمی ادارے کا سربراہ ہونا میرے لیئے اعزاز ہے۔
پُرجوش بھی ہوں اور پُرامید بھی۔مسائل بھی ہیں اور ان سے نبردآزما ہونے کے لیے منصوبہ بندی بھی ۔چاہتا ہوں یہ قدیمی ادارہ اکیسویں صدی کے تقاضوں کے مطابق تحقیقی اور تدریسی میدان میں ترقی کرے اور ہم نصابی سرگرمیوں اور سپورٹس میں اس کی روایتی عظمت کو بحال کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ انٹر میڈیٹ پروگرام میں ہمارے پاس ملک کے بہترین طلباء آتے ہیں،جن میں سے بیشتر انجینئرز اور ڈاکٹرز بنتے ہیں ۔
بی اے /بی ایس سی (آنرز)میں بھی ہمیں اچھے طالبعلم ملتے ہیں جن میں سے زیادہ ترسی ایس ایس/پی ایم ایسکرتے ہیں یاعالمی وملکی اداروں میں اپنی پروفیشنل زندگی کا آغاز کرتے ہیں۔کئی سکالر شپس پر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے باہر چلے جاتے ہیں۔لیکن اصل تحقیق ایم فِل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر ہوتی ہے اور میرا خیال ہے کہ ہمارا معیار کسی سے کم نہیں۔ہاں پچھلے چند برسوں میں دو جگہ اہم مسائل پیدا ہوئے ہیں۔
عبدالسلام سکول آف میتھ میٹیکل سائنسزاور سلام چیئر ہمار افخر ہوا کرتے تھے،لیکن یہ بند ہو کر رہ گئے ہیں۔میں ان کی تفصیلی وجوہات میں نہیں جانا چاہوں گا ،لیکن ان اداروں پر توجہ نہ دینے سے ہماری تحقیق کو نقصان پہنچا۔انہوں نے کہا کہبطور کالج تو ہماری عمر 151برس ہے جبکہ بطور یونیورسٹی ہم ایک نیا ادارہ ہیں۔ہماری بہت سی اعلیٰ روایات دوسرے تعلیمی اداروں میں نہیں ملتی،ہم نے تحقیق پر 2002ء سے توجہ دینا شروع کی تاہم ہائر یجوکیشن کمیشن نے بھی تعلیم و تحقیق کے فروغ کیلئے اساتذہ کی بہت حوصلہ افزائی کی اور فنڈز فراہم کیے۔
وائس چانسلر نے کہا کہ جی سی یو کے شعبہ فزکس میں بہت معیاری کام ہو رہا ہے جو لوگ مجھ سے جونیئر ہیں وہ بھی محنت سے کام کر رہے ہیں،اور بہت سا کام ہورہا ہے۔ہمار اشعبہ کیمیاء اور،بائیو ٹیکنالوجی میں بھی تحقیق میں بہت آگے ہیں اوران کی تحقیق عالمی جرنلز میں شائع ہو رہی ہے۔ہمارے شعبہ تاریخ میں بہت سا کام ہو اہے۔شعبہ معاشیات سے میری بہت سے امیدیں وابستہ ہیں ۔
کئی جگہ مزید محنت کی بھی ضرورت ہے لیکن میں کسی طور پر نا امید نہیں ہوں۔انہوں نے کہا کہ اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن ادارے کیلئے کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ معاملات مسائل اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب سیاسی پارٹیاں انہیں اپنے مقاصد کیلئے استعما ل کرتی ہیں لیکن جی سی یو میں اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن اور یونیورسٹی انتظامیہ کے مقاصد میں کوئی فرق نہیں بلکہ ہم تعلیم و تحقیق کی بہتری کیلئے ایک دوسرے کو سپورٹ کرتے ہیں۔
انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ چارج سنبھالا تو چارفیکلٹیز کیلئے صرف ایک ڈین ہونے کی وجہ سے تمام تدریسی و تحقیقی معاملات میں وائس چانسلر ہی اختیارات کا مرکز تھا لیکن ہم نے سینئر ترین اساتذہ کو ڈین کے عہدوں کا اضافی چارج دیا ہے اور ڈینز کی مستقل تعیناتی کے لیے سمری گورنر کو بجھوادی ہے۔اسی طرح کافی معاملات کے اختیارات متعلقہ شعبوں کو منتقل کر دیے ہیں،دراصل تعلیمی و انتظامی شعبہ جات کے صدور کو خودمختار کیا جانا چاہیے۔
وائس چانسلر کو ہر معاملے میں براہِ راست ملوث ہونے کی بجائے چیک اینڈ بیلنس کا مئوثر نظام قائم کر دیناچاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ممالک سے تعلیم حاصل کرنیوالے اساتذہ یونیورسٹیوں میں زیادہ تر اسسٹنٹ پروفیسر لیول پر بھرتی ہوتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ بتدر یج ادارے کا اہم حصہ بن جاتے ہیں ہمیں کوالٹی مین پاور کی ضرورت ہے باقی یونیورسٹیوں کو کوالٹی ہیومین ریسورسز لینا چاہیے ۔
پروفیسر ڈاکٹر حسن امیر شاہ نے کہا کہہائر ایجوکیشن کمیشن بنیادی طور پر پبلک سیکٹریونیورسٹیوں کی فلاح بہبود کے لیئے وجود میں آیا تھا ۔تدریسی نظام بہتر بنانا اور انہیں مالی وسائل مہیا کرنا اس کے بنیادی مقاصد ہیں ۔اگر چہ وہ پرائیو یٹ سیکٹر اداروں کی اعانت بھی کرتا ہے،لیکن پبلک سیکٹر یونیورسٹیاں اس کی زیادہ توجہ کی حقدار ہیں،کیونکہ پبلک سیکٹر اداروں میں وسیع تر مضامین کی تدریس کے ذریعے ملک کے لیئے ہیومین ریسورس ڈیویلپمنٹ کا کام کیا جاتا ہے۔
اس کے برعکس پرائیویٹ ادارے صرف ایسے مضامین کی تدریس کا بندوبست کرتے ہیں،جن کی مارکیٹ ویلیو زیادہ ہے او رجو فیس وصول کر نے کے اعتبار سے زیادہ منفعیت بخش ہے۔مثلاََ پیور سائنسز کی تدریس اور تحقیق کے لیئے جو وسائل درکار ہواکرتے ہیں پرائیویٹ سیکٹر اس کی طرف توجہ نہیں دیتالہذٰا یہ سب مضامین پبلک سیکٹر یونیورسٹیاں میں سرکاری گرانٹ سے ہی متعارف کرائے جاتے ہیں۔
اس طرح سوشل سائنسز کے اہم مضامین پرائیویٹ سیکٹر کی توجہ سے محروم رہتے ہیں،جبکہ پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں انہیں مرکزی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔باوجود اس کے کہ مالی اعتبار سے یہ مضامین پڑھانا کچھ ایسا منفعیت بخش نہیں ہوتا۔لیکن ایک صحت مند اور متوازن معاشرے کے لیئے ادب،فلسفہ اور سماجی علوم انتہا پسندی کے خاتمے اور معتدل معاشرے کے قیام کے لیے نہایت ضروری ہے۔
انہوں نے نصاب سازی کے سوال پر کہا کہنصاب سازی متعلقہ ماہرین کا استحقاق ہے اوراس کا تعین وہی لوگ اپنے تجربے اور علم کی روشنی میں کریں گے۔میں سمجھتا ہوں کہ اخلاقیات کی تدریس کوکسی ایک شعبے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی ضرورت ہر شعبہ زندگی میں یکساں ہے،بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ اخلاقیات کافروغ تدریس سے زیادہ تربیت سے متعلق ہے۔گویا اخلاقیات کا درس کسی نصابی کتاب سے زیادہ اساتذہ کے کردارسے اخذ کیا جاتا ہے،جو طالبعلم کے لیئے مینارِ نور کی حیثیت رکھتے ہیں۔
پھر یہ بھی پیشِ نظر رہے کہ طلباء ہم نصابی سرگرمیوں میں شریک ہو کر باہمی مسابقت کے ذریعے برداشت،ایثار اور انسان دوستی کے گراں قدر جذبات سے متعارف ہوتے ہیں اور اس کو اپنی شخصیت کا حصہ بناتے ہیں۔کیونکہ یہ سرگرمیاں ان کو باور کرواتی ہیں کہ ہار جیت سے زیادہ سپورٹس مین سپرٹ کی اہمیت ہے جو ان کی اعلیٰ کردار کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔تعلیمی ادارے ان سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول مہیا کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ پرائیویٹ امتحان دینے والا طالبعلم اس تربیت سے محروم رہتا ہے ،جو تعلیمی اداروں سے وابستہ باقاعدہ طالبعلم کو میسر ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہپرووائس چانسلرکا تقرریونیورسٹیوں کے چارٹرمیں موجود ہے لہذٰا پرووائس چانسلر کی تقرری کو منفی انداز سے نہیں دیکھتا،اگر مجھے تدریسی ،انتظامی اور مالی امور کی دیکھ بھال کے لیے پرووائس چانسلر کی شکل میں اضافی مدد دستیاب ہو جائے تو یہ ایک خوش کُن اقدام ہوگا۔جیسا کہ ہمارے پاس ڈین اور سینئر پروفیسر بھی موجود ہیں اور ان کی فکری عملی مشاورت سے ہم استفادہ کرتے ہیں۔
اس طرح پرووائس چانسلر کے تعین سے یونیورسٹی کو فائدہ ہوگا اور اس سے وائس چانسلر کے دائرہ کار پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔انہوں نے کہا کہیونیورسٹیوں کے بجٹ میں اخراجات کا حجم زیادہ ہوتا ہے تحقیق کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن سے مختلف منصوبوں کی مد میں گرانٹ حاصل کی جاتی ہے۔اس کے علاوہ پاکستان سائنس فاؤنڈیشن اور دیگر بین الااقوامی اداروں سے بھی متعلقہ طریقہ کار پر چلتے ہوئے گرانٹ حاصل کی جا سکتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے محققین اور اساتذہ اپنی تحقیقی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے مئوثر منصوبہ بندی بھی کریں اور ان اداروں سے مروجہ طریقہ کار کے مطابق گرانٹ کا تقاضہ کریں۔دوسری طرف ان اداروں میں گرانٹ کی منظوری کے طریقہ کار کو تیز تر بنانے کی ضرورت ہے اور گرانٹ کے بجٹ میں اضافے کرنے کی بھی ضرورت ہے۔وائس چانسلر نے کہا کہچیمبر آف کامرس اور انڈسٹری سے ہمارے رابطوں کا سلسلہ بہت پرانا ہے۔
باہمی دلچسپی کے منصوبوں پر اشتراک کے لیے بات ہوتی رہتی ہے،لیکن اس میں کچھ خاطر خواہ پیش رفت اس لیے نہیں ہوئی کیونکہ بعض رکاوٹیں آڑے آجاتی ہیں۔میرے مضمون فزکس میں جو تحقیق ہوتی ہے اس کے اطلاق کے لیے درکار انڈسٹری ہمارے ملک میں موجود نہیں،دیگر کچھ شعبوں کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے اگر چہ ہماری یونیورسٹیوں میں تحقیقی مضامین کا افق بہت وسیع ہے، مگر ان سے متعلقہ صنعت کا میدان اور اس سے مہیا معاشی وسائل محدود تر ہیں۔
جن کی وجہ سے یونیورسٹی اور انڈسٹری کا اشتراک عمل بھی اس طرح نہیں ہو تا جس طرض مغربی ممالک میں ہوتا ہے۔ ڈاکٹر حسن امیر شاہ نے کہا کہطلباء کی کردار سازی اور ان میں قائدانہ صلاحیتوں کے نکھار میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ کھیل اور ہم نصابی سرگرمیاں بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ کھیل ،میوزک،ڈرامہ اور تقاریر چند ہنر مند طلباء تک ہی محدود نہ رہیں بلکہ یونیورسٹی کا ہر طالعلم کسی نہ کسی سرگرمی میں شامل ہواور اس سے فائدہ اٹھائے۔
اس کے ساتھ ساتھ تعلیم اور کھیل میں توازن اور ہم آہنگی کے لیئے ہم نے بعض ناگزیر اقدامات کیئے ہیں، تاکہ ان طلباء کا تعلیمی حرج نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ نمو پذیر اداروں کا ویژن انفرادی نہیں اجتماعی ہوا کرتا ہے ۔اقبا ل،فیض اور عبدالسلام کا گورنمنٹ کالج آج کے ذہین اورمحنتی نوجوان کو آنے والے کل کا نامی گرامی ادیب،سائنسدان اور ہنروربنا کرملکی ترقی میں مئوثر کردار ادا کرے گا۔
پاکستان کے نامور ماہرین طبیعات اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حسن امیر شاہ نے اپنے تعلیمی و تحقیقی کیریئربارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے 110سے زائد تحقیقی مقالے نامور بین الاقومی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں جن کا امپیکٹ فیکٹر 175سے زائد ہے ۔ان کی تدریسی اور تحقیقی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے 2011ء میں انہیں ستارہ امتیاز سے نوازا۔
1985ء میں قائدِ اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے پی ایچ ڈی کی ،انہوں نے کہا کہ وہ اٹلی برطانیہ اور روس کے نامور اداروں میں بھی تحقیقی خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔اسی طرح نوبل انعام یافتہ پاکستا نی سائنسدان کے قائم کردہ بین الاقوامی ادارے آئی سی ٹی پی اٹلی میں بھی تحقیقی خدمات سرانجام دینے کا اعزاز رکھتے ہیں۔ 2002ء میں جی سی یو نیورسٹی لاہور میں فزکس کے پروفیسر مقرر ہوئے اور 12برس تک اس تاریخی تعلیمی ادارے میں تدریسی ،تحقیقی اور ا نتظامی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دیں۔
9برس تک شعبہ فزکس کے صدر رہے ،جبکہ بطور سربراہ یونیورسٹی ورکس کمیٹی جی سی یو کے ترقیاتی پراجیکٹس کی رہنمائی اور نگرانی بھی کی۔انہوں نے بتایا کہ ان کی زیرِ نگرانی 11سے زائد طلباء پی ایچ ڈی کی سطح پر تحقیق مکمل کر کے ڈاکٹریٹ آف فلاسفی ان فزکس کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں جبکہ 5سکالرز ابھی بھی آپ کی زیرِ نگرانی پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔متعدد بین الاقوامی و قومی کانفرنسز میں جی سی یو کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں،جبکہ وہ جی سی یو کے علاوہ پنجاب یونیورسٹی اور ایف سی کالج سے بھی تدریسی و تحقیقی حوالے سے منسلک رہے ہیں، جی سی یونیورسٹی لاہور کی اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کے بانی صدر تھے اور اساتذہ کی فلاح و بہبود اور یونیورسٹی معاملات میں ان کی شرکت کے حامی ہیں، پاکستان فزکس سوسائٹی اور پاکستان پلازما فزکس میں بھی اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ 12سال تک لگاتارجی سی یو ایڈوانس سٹڈیز اینڈ ریسرچ بورڈ کے بھی ممبران رہے ہیں اور یونیورسٹی میں تحقیق کے فروغ کیلئے بھی کام کر چکے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-11-26

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     ثنا اللہ ناگرہ

ثنا اللہ ناگرہ کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان