بند کریں
ہفتہ جنوری

مزید انٹرویوز

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ہماری ابھی تک حکومت سے جنگ بندی نہیں ہو ئی ،ترجمان کالعدم تحریک طالبان
حالیہ بم دھماکوں میں تحریک طالبان ملوث نہیں، آئین سمیت کوئی شرط مذاکرات میں نہیں رکھنی چاہئے ہماری مذاکراتی کمیٹی مکمل بااختیار ہے شاہد اللہ شاہد کا وزیرستان میں اُردو پوائنٹ کو خصوصی انٹرویو
مصنف : رحمت اللہ شباب

حکومت سے مذاکرات میں آئین کی باتوں سے مذاکرات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے کیونکہ طالبان شریعت کے نفاذ کے لیے بے پناہ قربانیا ں دی ہے ۔ تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے وزیر ستان میں نا معلوم مقام پر اُردو پوائنٹ کو خصوصی انٹر ویو دیتے ہوئے کہا کہ طالبان امن مذاکرات کے لیے مکمل سنجیدہ ہے اور ہماری سیاسی شوریٰ نے اپنے کمیٹی کے اراکین کو اپنے تحفظات اور اختیارات سے مکمل طور پر آگاہ کر دیا ہے۔

http://photo-cdn.urdupoint.com/daily/khaas_pics/shahid/P1110273.JPG

ہم اُمید کرتے ہیں کہ حکومت کی طرف سے مثبت جواب ملے گا۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ حکومت اور طالبان کے درمیان جب مذاکرات ہو رہے ہیں تو پھر بم دھماکے کون کر رہا ہے ۔ تو ان کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں سے جو بم دھماکے ہوئے ہیں ۔اس میں نہ تحریک طالبان ملوث ہیں اور نہ ہم ایسے دھماکو ں کی حمایت کرتے ہیں جن میں بے گنا ہ لوگوں کی ہلاکت ہوں۔

ہماری پالیسی واضع ہے۔ جبکہ یہ بات بھی اپنی جگہ واضع ہے کہ ابھی تک حکومت کے ساتھ ہماری جنگ بندی نہیں ہوئی ہے۔ البتہ حالیہ دھماکوں میں ملوث قوتوں کو تلاش کرنا حکومت کا کام ہے۔ مذاکرات آئین کے اندر ہونے کے حوالے سے ترجمان کا کہنا تھا کہ مذاکرات شروع کرنے کے لیے دونوں اطراف سے کوئی شرائط نہیں ہونا چاہیے اور غیر مشروط مذاکرات کی بات طالبا ن اور حکومت دونوں کی طرف سے بار بار کی گئی ہے ایسے صورت حال میں آئین کے تحت مذاکرات کی بات ایک شرط ہے۔
جو پیش نہیں ہونی چاہیے۔

http://photo-cdn.urdupoint.com/daily/khaas_pics/shahid/P1110275.JPG

رہی بات آئین کی تو ہم نے پہلے بھی واضح کرچکے ہیں کہ ہماری جنگ نہ تو کرسی کی ہے نا اقتدارکی ۔ ہم تو صرف شریعت چاہتے ہیں۔مذاکرات شورش زدہ علاقوں کے حوالے سے شاہد اللہ شاہد کا کہنا تھا۔ شورش زدہ علاقوں کی کوئی خاص حد بندی نہیں ہے۔

اسکی وضاحت ہونے پر اسکے بارے میں کوئی بات کی جاسکتی ہے۔ ویسے تو پورا پاکستان شورش زدہ ہے ، بہتر یہی ہے کہ مذاکرات پورے ملک کے حوالے سے ہو۔جب اُن سے سوال کیا گیا کہ مذاکرات میں تمام عسکری گروپوں کی تحریک طالبان کی حمایت حاصل ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان اس خطے کی سب سے بڑی عسکری قوت ہے۔ تحریک کے علاوہ جو ہماری برادر تنظیمیں کام کررہی ہیں۔
اگر حکومت اُن کو مذاکرات میں شامل کرنا چاہتی ہے اور اُن کے مطالبات کا خیال رکھیں تو تحریک طالبان یقین رکھتی ہے۔وہ سب ہمارے معاہدے کا بھر پور احترام کریں گی۔افغانستان میں موجود امریکی افواج کے 2014کے نکلنے کے حوالے سے ترجمان کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ امریکہ کے نکلنے یا نہ نکلنے کا نہیں بلکہ ہمارا ہدف اور فسادی نظام ہے۔ جو امریکہ مغربی تہذیب کی شکل میں لیکر آیا ہے۔
اور میڈیا نے اُس نظام کی مضبوطی میں مغربی قوتوں کا ساتھ دیا ہے۔

90فیصدمیڈیا آج مسلمانوں کے خلاف جنگ میں بطور ہتھیار استعمال ہور ہا ہے۔

میڈیا اس نظام کی خرابی بیان کرنے کی بجائے اس نظام سے مسلک افراد کو بدنام کرکے نظام کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ مثلا پرویز مشرف کو آج بڑا مجرم بنا دیا گیا ہے۔ اس کے جرائم کا اصل سبب وہ نظام ہے جس نے مشرف کو کھلی چھوٹ دی تھی اور وہ جو چاہے کرتا رہے۔ پہلے قبائلیوں کو خون میں نہلا دیااور بعد میں مساجدوں کو بھی نہیں بخشا۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ مشرف کو مجرم سمجھنے کے باوجود بھی اُسی کی غلط پالیسیاں اُ ن کے جانے کے بعد بھی حکمرانوں نے اُن سے دو قدم آگے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
پاکستان میں میڈیا کے نمائندوں کو نشانہ بنانے کے حوالے سے ترجمان نے بتایا کہ تحریک طالبان نے اب تک باقاعدہ کوئی ہٹ لسٹ جاری نہیں کی ہے۔البتہ سیکولر نظام کے واضح حمایت اور شریعت کی من پسند تشریحات وہ باتیں ہیں جن میں ہمیں میڈیا سے اختلافات ضرور ہیں۔ طالبان کی سیاسی شوریٰ اور کمیٹی اراکین کے درمیان ملاقات کے حوالے سے ترجمان کا کہنا تھا کہ اراکین کے ساتھ وزیرستان کے نامعلوم مقام پر دو دن سے زیاد ہ طویل مشاورت کی گئی ہے۔
تمام حالات کا جائز ہ لیا گیا ہے اور اُن کو اپنے تمام موقف سے آگاہ کر دیا ہے۔ اب اُن کا کام ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ کس طرح مذکرات کرتے ہیں۔ فی الحال میں صرف یہ ہی کہہ سکتا ہوں کہ ہمیں کمیٹی پر مکمل اطمینان ہے اور ہماری طرف سے وہ مکمل بااختیار ہے۔ہماری کمیٹی حکومتی کمیٹی کے ساتھ ملکر جو بھی فیصلے کر ے گی۔ وہ قوم کو لمحہ لمحہ آگاہ کرے گی۔ لیکن فی الحال ہم اِن کو راز ہی رکھیں تو بہتر ہوگا۔

تاریخ اشاعت: 2014-02-11

(5) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     رحمت اللہ شباب

رحمت اللہ شباب پشاور میں اُردو پوائنٹ کے نمائندہ خصوصی ہیں۔

رحمت اللہ شباب کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-