بند کریں
بدھ جنوری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
یونانی طیارے کی واپسی سے تاشفین تک
یورپ اور پاکستان میں سرد جنگ چھڑ چکی ہے
ایس بی ایس:
گزشتہ دنوں پہلی بار پاکستانی حکومت نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے یورپ کو چونکنے پر مجبور کر دیا ہے صورتحال ایسی ہو چکی ہے کہ سفارتی حلقے اسے ”سرد جنگ“ قرار دیتے نظر آرہے ہیں۔ بظاہر چہروں پر مسکراہٹ ہے لیکن اندرون خانہ پاکستان اپنے موقت پر بھر پور ادنداز میں ڈٹے رہنے کا فیصلہ کر چکا ہے ۔
کچھ عرصہ قبل وفاقی وزیر داخلہ نے اعلان کیا تھا کہ یورپی یونین کی جانب سے ڈی پورٹ کیے جانے والے پاکستانیوں کو تصدیق کے بنا واپس نہیں لیا جائے گا۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا گیا کہ یورپ عام پاکستانیوں کو بھی واپس بھیجتے وقت دہشت گردی کا ٹھپہ لگا دیتا ہے اس لیے اب صرف وہی پاکستانی واپس لیا جائے گا جس کی تصدیق کی جائے۔ اسی طرح اس پر لگائے گئے الزام کے حوالے سے بھی تصدیق کی جائے گی۔
عام طور پر پاکستانی شہری روزگار کے حصول کے لیے یورپی ممالک کا رُخ کرتے ہیں۔لیکن وہاں سے انہیں کسی الزام میں واپس بھیجا جائے تو یورپی ممالک اس الزام کی بجائے دہشت گردی کا لیبل لگا دیتے ہیں جس سے پاکستان کی ساکھ خراب ہوتی ہے وزیر داخلہ کے اس اعلان کو بظاہر یورپی ممالک نے محض ایک سیاسی بیان کے طور پر لیا۔اس سے قبل بھی اکثر سیاسی بیانات اور عمل اقدامات میں واضح فرق نظر آتا تھا اسی لیے گزشتہ دنوں یونان نے 30افراد کو بے دخل کرکے پاکستان بھیج دیا جس پر اسلام آباد کا درجہ حرارت بڑھ گیا اور وزیر داخلہ نے ایئر پورٹ پر ڈی پورٹیز کو طیارے سے نکلنے ہی نہ دیا۔
انہوں نے اپنے فیصلے پر جھکنے سے انکار کردیا۔ چودھری نثار نے یہ سوال بھی اُٹھایا کہ فیصلے کے باوجود طیارے کو لینڈنگ کی اجازت کیوں دی گئی؟ حکومت پاکستان کی جانب سے ڈی پورٹیز کو طیارے سے نکلنے کی اجازت نہ دینے پر افراتفری پھیل گئی اور یونانی سفیر بھی پہنچ گے۔ اس کے باوجود حکومت پاکستان نے صرف ان 19 افراد کو اُترنے کی اجازت دی جن کی تصدیق ہوئی اور باقی 30 افراد اسی طیارے سے واپس بھیج دیئے گئے ۔
یہ یورپی یونین کے لیے واضح پیغام تھا کہ اب پاکستان کے پالیسی سازوں نے اپنے موقف سے پیچھے نہ ہٹنے کا فیصلہ کرلیا ہے یورپی یونین اور پاکستان کے درمیان سرد جنگ میں اس وقت تیزی آگئی جب اگلے روز کیلی فورنیا میں ہونے والی دہشت گردی میں ملوث تاشفین کو پاکستان سے جوڑ دیا گیا۔ تاشفین 25برس قبل سعودی عرب چلی گئی تھی۔سی این این کے مطابق اس نے سوشل میڈیا پر داعش کے امیر کی بیعت کی ۔
اسی طرح اس کی مولانا عبدالعزیز کے ساتھ تصاویر بھی گردش کرتی رہیں۔ ان دو بنیادوں پر اسے ”پاکستانی دہشت گرد“ قرار دینے کی کوشش کی جاتی رہی جبکہ یہ دونوں حوالے اتنے مضبوط نہیں کہ اس کا تعلق پاکستان سے جوڑا جا سکے۔ سفارتی وسیاسی حلقوں کے مطابق یہ پاکستانی فیصلے کا ردعمل بھی ہو سکتاہے کیونکہ پاکستان نے دہشت گردی کے ٹھپپے سے بچنے کے لیے ہی بنا تصدیق ہوئے ڈی پورٹیز کو واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
پاکستان اور یورپی بلاک کے درمیان یہ سرد جنگ فی الوقت مزید آگے بڑھتی نظر آتی ہے۔ اب یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ اس کا فیصلہ اگلے چند روز ہو گا۔ فی الحال پاکستان یورپ کے اس واضح پیغام کے باوجود جھکنے پر آمادہ نظر نہیں آتا۔پالیسی ساز وہ تمام الزامات دھونا چاہتے ہیں جو محض پاکستان کے ردعمل ظاہر نہ کرنے کی کمزوری کی وجہ سے پاکستان پر لگائے جاتے رہے ہیں۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جس وقت تاشفین کا تعلق پاکستان سے جوڑا جا رہا تھا اس وقت ایف بی آئی کی حتمی رپورٹ بھی سامنے نہیں آئی تھی اور ایف بی آئی ابھی تحقیقات کر رہی تھی۔میڈیا میں پاکستان کا نام اُچھالا جاتا رہا لیکن تاشفین 25 برس سے جن ممالک میں رہی ان کا نام اس طرح نہیں اُچھالا گیا۔ بہر حال ایک نئی سرد جنگ کا آغاز ہو چکا ہے جس میں ایک حملہ چودھری نثار نے ڈٰ پورٹیز کے حوالے سے کیا اور یورپ نے جوابی حملہ تاشفین کی صورت کر کے پاکستان کو دباوٴ میں لانے کی کوشش کی۔ اگے مرحلے میں بات کہاتک پہنچتی ہے ؟ اس پر ابھی محض قیاس آرائی ہی کی جا رہی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-12

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان