بند کریں
جمعرات جنوری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
متحدہ عرب امارات میں رمضان المبارک کی رونقیں
ماہ رمضان میں زیادہ تر شاپنگ مالز نے اشیائے خورودنوش کی قیمتیں کم کی ہوئی ہیں جس سے لوگ خوب فائدہ اٹھاتے ہیں اور کئی کئی ماہ کا راشن سٹور کر لیتے ہیں بلکہ کئی ماہ قبل ماہ رمضان کی آمد کاانتظار کیا جاتا ہے
طاہر منیر طاہر :
دنیا کے دیگر عرب ممالک کی طرح متحدہ عرب امارات میں بھی مقدس ماہ رمضان کا استقبال روایتی جو ش وخروش سے کیا جاتا ہے۔ ویسے تو دیگر اسلامی ممالک اپنی اپنی روایات کے مطابق ماہ رمضان کو خو ش آمدید کہتے ہیں۔ عرب ممالک میں مارہ رمضان کا استقبال خصوصی مہمان کی طرح کیا جاتا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہاں چاند نظر آنے یا نہ آنے پر اختلاف نہیں پایا جاتا بلکہ اس ریجن کے عرب ممالک الملکتہ العربیہ العسودیہ کی پیروی کرتے ہیں۔
جیسے ہی سعودی حکومت چاند نظر آنے کا اعلان کرتی ہے، ان ممالک میں رمضان شروع ہو جاتا ہے اور اس طرح عید کے موقع پر بھی حکومت سعودیہ کو ہی فالو کیا جاتا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے ساتوں ریاستوں ابوظہبی‘ دوبئی‘ شارجہ‘ ام القیوین عمان‘ راس الخیمہ اور الفجیرہ میں ماہ رمضان سے قبل ہی سرکاری اور نیم سرکاری عمارتوں پر رنگین اور جاذب نظر قمقموں کی تزئین و آرائش شروع ہو جاتی ہے۔
خوبصورت اور جاذب نظر روشنیاں رات کو بھی دن کا منظر پیش کرتی ہیں اورلوگوں کی توجہ اپنی طرف مرکوز کرتی ہیں۔
دبئی اور شارجہ میں توپ چلا کر ماہ رمضان کا آمد کا اعلان کیا جاتا ہے جبکہ دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے بھی چاند نظر آنے کی خبر نشر کر دی جاتی ہے۔ خبر کو دور دراز تک پہنچانے کیلئے آجکل سوشل میڈیا کا بھی سہارا لیا جاتا ہے جبکہ موبائل ٹیکسٹ میسج بھیج کر اطلاطات منٹوں میں ایک دوسرے تک پہنچا دی جاتی ہیں۔
ویسے تو رمضان کی آمد سے قبل ہی نہ صرف مقامی عرب لوگ بلکہ یہاں رہنے والے دوسرے لوگ بھی انہی کے انداز میں ایک دوسرے کو آمد رمضان کی مبارکباد دیتے ہیں۔ ”رمضان مبارک “ کی صدائیں ہر طرف سے بلند ہوتی ہیں لوگ رمضان مبارک کہنے کیلئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ماہ رمضان کے دوران ان ممالک میں کام کا دورانیہ دو گھنٹے کر دیا جاتا ہے۔
سات کے بجائے پانچ گھنٹے اور آٹھ کے بجائے چھ گھنٹے ڈیوٹی رہ جاتی ہے تاکہ روزہ دار آرام کر سکیں۔ حکومت کی طرف سے دو گھنٹے کی ریلیف سے غیر مسلم بھی فائدہ اٹھاتے ہیں اور یوں رمضان میں غیر مسلموں کو بھی کم کام کرنا پڑتا ہے۔
ماہ رمضان کے دوران دن کے وقت زیادہ تر کاروبار بندھ ہی رہتا ہے جبکہ رات کے وقت کاروبار عروج پر ہوتا ہے۔ تقریباََ سار ی رات بازار‘ مارکیٹیں، شاپنگ مالز ار سنٹرز کھلے رہے ہیں جہاں لوگ شاپنگ کرتے اور وقت گزارتے ہیں۔
ماہ رمضان کے دوران بھی عام مہینوں کی طرح اشیاء کی قیمتوں پر حکومت کا زبردست کنٹرول ہوتا ہے اورکوئی چیز عام دنوں کی نسبت مہنگی فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ خلاف ورزی اور شکایت پر مقامی بلدیہ فوری اور سخت نوٹس لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مارہ رمضان میں اشیائے خورودنوش کی فراوانی ہوتی ہے اور ہر چیز بناوٹ بڑھائے بآسانی مل جاتی ہے۔
ماہ رمضان میں زیادہ تر شاپنگ مالز نے اشیائے خورودنوش کی قیمتیں کم کی ہوئی ہیں جس سے لوگ خوب فائدہ اٹھاتے ہیں اور کئی کئی ماہ کا راشن سٹور کر لیتے ہیں بلکہ کئی ماہ قبل ماہ رمضان کی آمد کاانتظار کیا جاتا ہے کہ ماہ رمضان میں اشیاء سستی ہوتی ہیں‘ تب خریدیں گئے۔
بہت سی اشیاء پر ڈسکانٹ پر لوگ ماہ رمضان میں لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔
امارات میں سرکاری سطحوں پر اور نجی سطح پر بھی گرینڈ افطاریوں کا اہتمام کیاجاتا ہے۔ کھلی جگہ پر بڑے بڑے ٹینٹ لگا کر ہزاروں افراد کو افطاری دی جاتی ہے۔ افطاری میں کھجور‘ ہر طرح کا پھل‘ لیسی‘ دہی‘ بریانی‘ چاول‘ عربی روٹی‘ خبس‘ دودھ‘ جو س ‘پکوڑے اور دیگر متعدد اشیاء روزہ داروں کو مفت فراہم کی جاتی ہیں۔
افطار ٹینٹ میں لوگ افطاری بھی کرتے ہیں اور سحری کیلئے بھی لے جاتے ہیں۔ بڑی بڑی کمپنیاں اور صاحب ثروت ہوٹلوں میں بھی افطاری کا اہتمام کرتے ہیں جبکہ سمندر کی لہروں پر بحری جہاز میں افطاری اور صحرا میں ڈیزرٹ سفاری کے ساتھ ڈیزرٹ افطاری کا بھی اہتمام کیاجاتا ہے۔ غرضیکہ جس طرح عرب ممالک میں ماہ رمضان کا استقبال خوش دلی سے کیا جاتا ہے‘ بالکل اسی طرح پورا مہینہ ماہ رمضان کے تقدس کو بحال بھی رکھا جاتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-07-15

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان