بند کریں
پیر جنوری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
تیسری عالمی جنگ
روسی طیارے کی تباہی اس کانکتہ آغاز ہوسکتی ہے پیرس میں چند ہفتے ہونے ولے دہشت گردحملوں کے بعدعیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ نے اسے ” تیسری غیر منظم عالمی جنگ“ قراردیاتھا اور ترکی اور روس کے درمیان نیاقضیہ اٹھ کھڑا ہونے کے بعد
نعیم خان:
ترکی کی جانب سے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے روسی طیارے کومار گرائے جانے کے بعد دونوں ممالک کے باہمی تعلقات جوپلے ہی منفی رخ اختیار کرچکے تھے۔ اب مزید بلکہ شدید تناؤ کاشکارر ہوچکے ہیں۔ روس نے ترکی سے معافی مانگتے کامطالبہ کیاہے جبکہ ترقی کامئوقف ہے کہ اس کی فضائی حدودکی خلاف ورزی پرروس کومعافی مانگتا ہوگی۔
روس نے ترکی کے ساتھ فوجی تعاون روکنے اور اس پرتجارتی پابندیاں عائد کرنے کااعلان بھی کیاہے۔ ترکی اپنی ملکی ضروریات کی گیس کا 60 فیصد روس سے حاصل کرتا ہے اور اگرروس ترکی کوقدرتی گیس کی فراہمی معطل کردیتا ہے توترکی کی مشکلات میں بے تحاشا اضافہ ہوسکتا ہے۔ دوسری طرف ٹیٹونے اپنے ایک رکن ملک ترکی کے حوالے سے موقف اختیار کیاہے کہ ترکی کواپنے دفاع اور داخلی خودمختاری کے تحفظ کاحق حاصل ہے۔

طیارے کی تباہی کے بعد روس نے زندہ بچ جانے والے پائلٹ کے حوالے بیان جاری کیاہے کہ ترکی کے لڑاکاطیاروں نے روسی طیارے کونشانہ بنانے سے قبل کوئی وارننگ نہیں دی تھی اور روسی طیارہ ترکی کی بجائے شامی حدود میں پرواز کررہاتھا اور یہی وجہ ہے کہ اس کاملبہ شامی حدود میں4میل اندرگراتھا۔ ترکی نے اس کے جواب میں روسی طیارے کودی جانے والی متعدد وارننگز کی آڈیوٹیپ جاری کردی ہیں۔
ترکی نے موقف کرنے والے روسی طیاروں کی تعداد دوتھی جن میں سے ایک وارننگ سننے کے بعدترکی کی فضائی حدود سے نکل گیاتھا لیکن دوسرا طیارہ کم وبیش 3کلومیٹر ترکی کے اندر محوپرواز رہا جس پر آخری چارہ کارکے طور پر اسے نشانہ بنایاگیا۔
ترک صد راسپ طیب اردگان کے مطابق روسی طیارے ترکی اور شام کے سرحدی علاقوں میں مقیم ترکمان آبادی کونشانہ بنارہے تھے کیونکہ اس علاقے میں داعش کاوجود نہیں ہے۔
ترکمان قوم کے ترکی کے ساتھ گہرے تہذیبی، تمدتی ، ثقافتی کی حفاظت میں کسی قسم کی کوتاہی کامتحمل نہیں ہوسکتا ۔ دوسری جانب روسی صدر نے اس واقعہ کوروس کی کمرمیں چھراگھوانپنے کے متراوف اور ترک حکومت کودہشت گردوں کی ہمدرد“ قرار دیاہے۔
تجربہ کاروں کی رائے میں روسی طیارے کی تباہی اور اس کے بعد سامنے آنے والی صورتحال دونوں ممالک کے تعلقات کے مکمل خاتمے پر منتج ہوسکتی ہے جس کے نتیجے میں شام میں داعش کے خلاف کارروائی کی متحدہ اور متفقہ کوششوں کونقصان پہنچنے کاخدشہ موجودہے۔

پیرس میں چند ہفتے ہونے ولے دہشت گردحملوں کے بعدعیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ نے اسے ” تیسری غیر منظم عالمی جنگ“ قراردیاتھا اور ترکی اور روس کے درمیان نیاقضیہ اٹھ کھڑا ہونے کے بعد یہ تیسری عالمی جنگ ایک حقیقت کا روپ دھارتی دکھائی دیتی ہے بلکہ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق دہشتگردی کے خلاف جنگ ہی دراصل تیسری عالمی جنگ ہے اور اب یہ جنگ اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پرسب سے زیادہ نقصان ترکی کوہی اٹھاتا پڑاتھا کیونکہ ترکی اس دور میں عالم اسلام کیلئے دارالخلافت کادرجہ رکھتا تھا اور خلافت کے خاتمے نے جہاں عالم اسلام کی مرکزیت کوشدید نقصان پہنچایا تھاوہیں ترکی کوبھی سیاسی ، عسکری اور تزویرانی حوالے سے کئی برس پیچھے دھکیل دیاتھا۔
روس اور ترکی کے باہمی تعلقات میں بگاڑشام میں خانہ جنگی کے آغاز کے ساتھ ہی شروع ہوگیا تھا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ترکی شام میں بشارالاسدکی حکومت کے خاتمے کاخواہاں ہے اور اسے شام کے مسئلے کاواحد حل سمجھتا ہے۔دوسری جانب روس بشارلاسد کی حکومت کوبچانے کیلئے میدان میں موجود ہے اور پوری عالمی برادری میں روس ہی وہ واحد ملک ہے جوابھی تک شامی آمرکاسب سے بڑا سہارا بناہوا ہے۔ روس نے شام میں داعش کے خلاف جس نام نہادکارروائی کاآغاز کررکھا ہے وہ دراصل بشارالاسد حکومت کے خلاف جدوجہد کرنے والے شامی گروپوں تک محدود ہے ۔
روسی طیارے داعش پر حملوں کی آڑ میں شامی حکومت کے مخالفین کونشانہ بناتے ہیں۔
جہاں تک روسی صدرولادی میرپیوٹن کی جانب سے روسی طیارے کی تباہی کے بعدسامنے آنے والا سخت ترین موقف یہ ظاہر کرتا ہے کہ روس شام میں اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔ روس اور ترکی کے درمیان کسی ممکنہ تصادم کوروکنے کیلئے امریکہ اہم ترین کرداراداکرسکتا ہے۔
امریکی سمجھتے ہیں کہ پیرس حملوں اور ترکی میں ہونے والے 20۔Gسمٹ کے بعد داعش کے خلاف ایک عالمی اتحادقائم کرنے کی کوشش کامیاب ہوسکتی ہے اور داعس کوشکست دینے کیلئے عالمی اتحاد کاقیام ناگزیر ہوچکاہے۔ ترکی سمجھتا ہے کہ محض داعش کے خلاف کارروائی کرکے شام میں خانہ جنگی کاخاتمہ ممکن نہیں ہوگا بلکہ اس اعلیٰ ترین مقصد کے حصول کیلئے بشارالاسد کواقتدار سے ہٹاکرشامی عوام کو اپنے سیاسی مقدر کافیصلہ خودکرنے کااختیار دینا بھی ضروری ہے۔

شام کی خانہ جنگی کے نتیجے میں ہجرت پرمجبور ہونے والے شامی باشندوں کی اکثریت نے ترکی میں پناہ حاصل کررکھی ہے تودوسری جانب شام کی خانہ جنگی کے اثرات کی اور کردوں کے درمیان پائی جانے والی مغائرت پر بھی مرتب ہورہے ہیں اور امریکہ بعض کرگروپوں کاحامی ہے اور انہیں کسی نہ کسی طور مددبھی فراہم کرتا ہے۔ بشارالاسد اورا ن کے حامیوں کی پوری کوشش ہوگی کہ کسی نہ کسی طورروس اور ترکی کے درمیان کھلی جنگ شروع ہوجائے تاکہ بشارالاسد سے دنیا کی توجہ ہٹ جائے۔
اس صورتحال میں روس اور ترکی کوانا اور جوش کی بجائے ہوش اور معاملہ فہمی سے کام لینے کی ضرورت ہے تاکہ شام کی خانہ جنگی کواس کے منطقی انجام تک پہنچایا جاسکے۔ امریکہ روس اور ترکی کومذکرات کی میزتک لانے میں اہم کردار اداکرسکتا ہے۔ اور اس مقصدکیلئے اسے دیگر علاقائی طاقتوں کوبھی اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے۔ یہ کام مشکل ضرورہے مگرناممکن نہیں کہ شامی صدر بشارلاسد کومذاکرات کے ذریعے پرامن طور پر انتقال اقتدار پر آمادہ کرلیاجائے اور وہ بتدریج اقتدار شامی عوام کے آزادنہ طور پر منتخب کیے جانے والے نمائندگان کے سپردکردیں۔
ترکی علاقائی مسائل کے حل کیلئے علاقائی سطح پر تعاون کی حمایت کرتا ہے۔ شام کے حمایتی ممالک تروس اور ایران ، پرسفارتی دباؤ بڑھاکراور عرب ممالک کی جانب سے ترکی کوبھرپور تائیدوحمایت کایقین دلاکربھی موجودہ صورتحال سے نمٹاجاسکتا ہے۔ اسی طرح روسکی بھی یہ یقین دہانی کروائی جاسکتی ہے کہ شام میں بشارالاسد حکومت کے خاتمے کے باوجود روس کے تجارتی ، اقتصادی اور سیاسی مفادات کونقصان نہیں پہنچایاجائے گا۔
ترکی اورروس بخوبی یہ بات جانتے ہیں کہ دونوں کے درمیان اگرجنگ کی نوبت آگئی تواس کے نتیجے میں باہمی تباہی کے سواکچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ اس حقیقت کاادراک اگرچہ نیٹوکوبھی ہے لیکن تاحال اس پلیٹ فارم سے ابھی کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ توقع کی جاسکتی ہے کہ نیٹومشرق وسطی کے اہم ترین ممالک کااجلاس طلب کرے اور اس میں ترکی اور روس کوبھی خصوصی طور پر شریک کیاجائے تاکہ جوانبین کے درمیان بامعنی ٹھوس اورقابل عمل مذاکرات کی راہ ہموار کی جاسکے۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-08

(0) ووٹ وصول ہوئے