بند کریں
پیر جنوری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
طالبان کا قندوز پر قبضہ
امریکہ اور نیٹو فوسز کی مشکلات بڑھ گئیں۔۔۔۔ یہ قبضہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب افغان فورسز کو نہ صرف امریکی فضائیہ بلکہ نیٹو فورسز کی مدد بھی حاصل تھی
اعصام احمد:
دسمبر 2014 کے اختتام پر امریکی اتحادی فورسز کے انخلاء کے اعلان سے قبل طالبان نے اپنی سرگرمیاں محدود کر دی تھی۔ امریکہ کی جانب سے افغانستان میں امن عمل کے قیام کے لیے قطر میں مذاکرات کا آغاز کیا گیا تھا جبک طالبان نے امریکی اتحادی فورسز کی افغانستان سے مکمل انخلا کی شرط پر امن عمل میں شریک ہونا کا اعلان کیا تھا۔
2001 میں کابل کے تحت سے بیدخلی کے بعد قندوز پر قبضے کو طالبان کی پہلی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے اس قبضے نے امریکی فورسز اور افغان حکومت کے لیے سخت مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ قندوز کئی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل صوبہ ہے اس کی براہ راست سرحدیں تاجکستان سے ملتی ہیں جو سنٹرل ایشیاء سے رابطے کے لیے بھی اہم راہداری ہے۔
قندوز پر طالبان کے مستقل قبضے کی صورت میں امریکی نیٹو فورسزکے لیے سخت مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں ۔
اس علاقے سے شدت پسند گروپوں کی آمد کے لیے راستہ بھی کھل سکتا ہے۔ تاجکستان میں امریکہ نے فضائیہ اڈے قائم کر رکھے ہیں۔انہی ائربیس سے امریکہ طالبان شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر حملے کرتا ہے۔
قندوز پر قبضے نے امریکی حکومت کی نیندیں اُڑا دی ہیں۔ یہ قبضہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب افغان فورسز کو نہ صرف امریکی فضائیہ بلکہ نیٹو فورسز کی مدد بھی حاصل تھی ۔
اب قندوز ائر پورٹ پر قبضے کے لیے فیصل کن جنگ لڑی جاری ہے۔قندوز پر طالبان کے قبضے سے امریکی اتحادیوں کے امن عمل کو شدید دھچکا لگا ہے۔ اگلے سال امریکہ میں صدارتی انتخابات کا انعقاد بھی ہو رہا ہے۔ اس مرحلے پر صدر اوباما کی مشکلات بڑھ گئی ہیں جنہوں نے دسمبر2014 سے قبل امریکی فورسز کے افغانستان سے مکمل انخلا کی امریکیوں کو نوید سنائی تھی۔
موجودہ حالات میں امریکی فضائیہ اور نیٹو فورسز کے لیے طالبان سے قندوز کا قبضہ چھڑانا ایک چیلنج بن چکا ہے۔
قندوز پر قبضے نے سابق طالبان امیر ملا عمر کی ہلاکت کے بعد نئے امری ملا منصور اختر کی ساکھ کو بے حد تقویت بخشی ہے اور ایک کمانڈر کی حیثیت سے ان کی پوزیشن میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے ۔ البتہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے جو سرمائے کے بل بوتے پر طالبان کو تقسیم کرن کے کمزور کرنا چاہتے تھے۔
افغان فورسز بھی طالبان کے قندوز میں بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو روکنے میں ناکام رہی ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قندوز پر طالبان کا قبضہ غنی حکومت تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے ۔
دفاعی تجزیہ کار احمد رشید کا کہنا ہے کہ قندوز پر طالبان کا قبضہ کابل حکومت کی افغان صوبوں پر کمزورگرفت کی نشاندہی کرتا ہے۔ قندوز میں افغان فوج کی مجموعی تعداد7000 بشمول مقامی ملیشیا ہے۔
مقامی اطلاعات کے مطابق یہاں قابض طالبان کی تعداد1000 سے زائد ہے مگر افغان حکومت کے پاس کوئی مربوط حکمت عملی اور صلاحیت نہیں ہے کہ وہ قندوز کا وفاع کر سکے۔احمد رشید کا مزید کہنا ہے کہ طالبان نے قندوز پر قبضہ کر کے داعش کے افغانستان میں بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کی بھی نفی کر دی ہے جس نے عراق اور شام کے بڑے علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔ قندوز پر طالبان کے قبضے سے یہ بات عیاں ہے کہ وہ اب بھی ایک متحدہ جنگجو فورس ہے اور اب بھی افغان حکومت کو مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

طالبان جنگجو 1994 میں افغانستان میں اس وقت اُبھر کر سامنے آئے جب ملک میں خانہ جنگی ہو رہی تھی۔ وہ مذہبی مدارسوں سے پڑھ کر آئے تھے ۔ افغانستان پر پچھلے کئی برسوں سے جاری خونریز خانہ جنگی کی وجہ سے افغان عوام کی بڑی تعداد ملک میں سیاسی استحکام چاہتی تھی۔ افغان طالبان نے عوام کو نہ صرف سیاسی استحکام فراہم کیا جس کی بنا پر وہ 1996 میں کابل کے اقتدار پر براجمان ہو گے۔

ایک طرف طالبان کے ملک میں سیاسی استحکام فراہم کیا لیکن دوسری جانب انہی کے دور حکومت میں ٹیلی ویژن میوزک اور سینما پر پابندی عائد کر دی گئی ۔ لڑکیوں کے سکول جانے پر پابندی ، خواتین کے لیے برقعہ اور مردوں کے لیے داڑھی کو لازمی قرار دے دیا گیا۔ ساڑھے تین لاکھ افغان فوج کا قیام اسی لئے عمل میں لایا گیا تھا کہ آئندہ افغانستان میں طالبان کے کردار کو ختم کر دیا جائے گا مگر قندوز پر ان کا قبضہ اس تاثر کی نفی کرتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-10-15

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان