بند کریں
اتوار فروری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سوڈان
قبائلیوں کے درمیان خانہ جنگی پر کیسے قابو پایا جائے؟۔۔۔۔۔ شمالی سوڈان میں مویشی پالنا معیشت کا ایک اہم ترین جزوہے مگر مویشیوں کی چوری نے قبائلی کے درمیان جنگ کی صورتحال پیدا کر رکھی ہے
ایمریک ونسناٹ:
سوڈان جب سے دو ممالک میں تقسیم ہوا ہے ۔ امن وامان کی صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ خراب ہو چکی ہے ۔ خاص طور پر نوزائیدہ ترین ملک شمالی سوڈان میں نسلی عصیبت نے ملک کو خانہ جنگی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ شمالی سوڈان میں مویشی پالنا معیشت کا ایک اہم ترین جزوہے مگر مویشیوں کی چوری نے قبائلی کے درمیان جنگ کی صورتحال پیدا کر رکھی ہے۔
ایک ایسا واقعہ سبسٹان میبر میں پیش آیا ۔ پچھلے مہینے اپنی گائیوں کی تلاش میں مصروف تھا۔شاملی سوڈان میں تشدد کی یہ لہر ختم ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ پچھلے پندرہ مہینوں کے دوران خانہ جنگی میں معمولی کمی ضرور آئی ہے۔ اس کی وجہ ہتھیاروں کی صفائی کا کام مکمل نہ ہونا ہے ۔ جانوروں کی چوری کے معمولی واقعات کئی فیملی ممبران کی موت کا باعث بنتے ہیں۔
میبر اپنے اغوا کے واقعہ کے بارے میں کہتا ہے کہ اسے گن گوائنٹ پر جھاڑیوں میں لیجا کر بیٹھا دیا گیا۔۔ ان میں سے ایک کا کہنا تھا کہ اسے قتل کر دیا جائیگا مگر دوسرے کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ذیلی قبیلے سے تعلق بتا دے تو اسے چھوڑ دیا جائیگا۔
شمالی سوڈان میں خانہ جنگی دسمبر 2013 ء میں شروع ہوئی جب اکثر یتی ڈنکلا قبیلے سے تعلق رکھنے والے صدر سلوا کیرنے نیور قبیلے کے اپنے ڈپٹی رائیک میچر پر بغاوت کا الزام لگا کر عہدے سے ہٹا دیا تھا۔
اس وقت سے ملک میں نسلی خون خرابہ، گینگ ریپ، چائیلڈ سولجرز کی بھرتی اور کئی علاقوں میں خواتین کی حکومت بن چکی ہے۔ میبر کا اغواء وسیع تناظر میں اس لئے زیادہ خطرناک ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق ایک ہی ڈنکلا قبیلے سے بتایا جاتا ہے۔
کیتھولک پادری اور سرگرم کارکن فادر ہنری گیڈوڈو کا کہنا ہے کہ ایک ہی قبیلے کے درمیان تشدد تشویش ناک ہے۔
اس میں لوگ ایک دوسرے کو قتل وغارت کا نشانہ بنا رہے ہیں جس سے شدت پسند قبائلیوں کو خانہ جنگی کی وجہ سے ہتھیار حاصل کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔
شمالی سوڈان کو ہتھیاروں سے پاک کرنے کیلئے نہ صرف رویوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے بلکہ تشدد کے ورثے کو امن اوربدلے کو معافی کے کلچر میں بدلنا ہوگا۔ مقامی لوگوں کو کہنا ہے کہ قبائل کے مابین تشدد میں اضافے سے جانوروں کی چوری میں بھی اضافہ ہوا۔
ان واقعات میں کئی افراد موت کے منہ میں چلے گے۔
ایک مقامی لڑائی نے انتقام کی ایسی چنگاری بھڑکائی جس کے نتیجے میں ایک سال کے دوران 70 افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ معاملہ جانوروں کو ہر جانے کے طور پر ادا کرنے سے حل ہوا۔ ایک مقامی اہلکار جیمز کنہک کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی ایسے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں مگر ان میں زیادہ اموات نہیں ہوتی تھیں۔
اب قبائیلوں کے ہاتھوں میں روایتی چھڑی کی جگہ کلاشنکوف نے لی ہے۔ اس کا واحد حل اسلحے کا عدم پھیلاوٴ ہے مگر ایسا اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک خانہ جنگی جاری ہے۔ سرکاری اہلکاروں نے تسلیم کیا ہے کہ شمالی سوڈان کی حکومت نے ڈنکا قبائل میں بندوقیں تقسیم کیں۔ وہاں قانون نافذ کرنیوالے اداروں کا وجود نہ ہونے کے برابر ہے ۔ ایک مقامی عہدیدار کنہک کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے قبائلی کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے تو اسے اس بات کا کوئی پروا نہیں ہوتی کہ اسے ہرجانہ ادا کرنا پڑے گا بلکہ یہ ہر جانہ قبیلے کو ادا کرنا پڑتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-03-26

(0) ووٹ وصول ہوئے