بند کریں
منگل فروری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سنگاپور کے غیر یقینی حالات
اہم عہدوں پر غیر ملکیوں کی تعیناتی پر تشویش پائی جاتی ہے۔۔۔۔ سنگاپور کے عوام کی اکثریت اس بات پر سخت ناراض ہے کہ ان کاملک ان کے اپنے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ اینگلوا مریکن اور چینی سرمایہ کار گلوبل اکنامک نظام کے تحت نہ صرف DM ماہرین کی بڑی تعداد سنگاپور لا رہے ہیں
11 ستمبر کو سنگاپور میں انتخابی مہم کے آخری روز بھی آلودگی کا سینڈرڈ انڈیکس 211کی خطرناک کییگرسے j/q ایک درجہ کم تھا۔ اس انتخابی مہم میں تمام جماعتوں نے بھر پور حصہ لیا۔ انتخاب کے روز پبلک ہولی ڈے تھی۔ تجزیہ کار ان انتخابات کو سنگا پور کی تاریخ کے انتہائی سخت ترین مقابلے قرار دے رہ تھے۔ لوتھیا کھیانگ ورکرز پارٹی کے رہنما کو ہر جگہ ہیرو کی طرح پذیرائی ملی۔
یہ انتخابات سنگاپور کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہے کیونکہ ملائیشیا سے آزادی حاصل کرنے کے بعد یہ اس کا گولڈن جوبلی سال ہے۔
سنگاپور کی آزادی کے معمار لی کیون یو نے اسے ملائیشیا سے آزادی حاصل کرنے کے بعد خوشحال ملک بنانے میں اہم کردار کیا تھا۔ رواں سال کے آغاز میں ان کا انتقال ہو چکا ہے۔ اب ان کے صاحبزادے لی ہسین لونگ حکمران پیپلز ایکشن پارٹی کے سربراہ ہیں جو پچھلے 56سال سے ملک پر حکمرانی کر رہی ہے۔
انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے مطابق اس عرصے میں سنگا پور کی مقامی فی کس مقامی پیداوار، دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر ہے جو ہانگ کانگ، امریکہ اور جرمنی سے دوگنی ہے ۔ 82 فیصد شہری حکومتی اپارٹمنٹ میں رہائش پذیر ہیں۔ ایک ملین سے زائد یہ فلیٹ 1960 میں ہاوسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ نے تعمیر کئے تھے۔ تب سے سنگاپور میں بے قاعدگیا پائی جاتی ہیں۔
1980 میں سنگاپور کے باشندے کل آبادی کا 91 فیصد تھے۔
2012 میں شرح پیدائش اور نقل مکانی بڑھنے سے یہ تعداد ڈرامائی طور پر 62 فیصد پر آچکی ہے۔ 2013 کے حکومتی وائٹ پیپر کے تحت اس کے شہریوں کی آبادی 55 فیصد ہو چکی ہے ۔ مستقبل کے حوالے سے سنگاپور کے شہریوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ اس کی وجہ اہم عہدوں پر غیر ملکی باشندوں کی تعیناتی ہے۔
سنگاپور کے عوام کی اکثریت اس بات پر سخت ناراض ہے کہ ان کاملک ان کے اپنے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔
اینگلوا مریکن اور چینی سرمایہ کار گلوبل اکنامک نظام کے تحت نہ صرف DM ماہرین کی بڑی تعداد سنگاپور لا رہے ہیں بلکہ مینجمنٹ کایک ایسا ڈھانچہ قائم کر رہے ہیں جس میں سنگاپور کے عوام کو اہم عہدوں سے محروم کیا جا رہاہے۔ غیر ملکی ملازموں اور ٹینلٹ کے ذریعے وہ سنگاپور کی معیشت کو فروغ ضرور دے رہے ہیں مگر اس سے ملکی باشندوں میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے جو اسے اپنی حق تلفی قرار دے رہے ہیں۔

نئی سیاسی جماعت سنگاپور فرسٹ نے ”ہمارے ملک کو بحال کرو“ نعرے کے تحت انتخابی مہم چلائی جو اس بات کی غمازی ہے کہ مستقبل کے حوالے سے ان کی بے چینی آسمانوں کو چھو رہی ہے۔ ریفارمز پارٹی کے امیدوار گلبرٹ گو انتخابی ریلی کے دوران وزیراعظم کو ”غدار“ کہ کر پکارتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ”وزیراعظم ہمیں بیچ رہے ہیں۔ یہ ہمارا ملک ہے۔
میں سنگا پور کا باشندہ ہوں اور مجھ پر ہی ملازمت کے دروازے بند ہو رہے ہیں کیونکہ غیر ملکیوں کو ہم پر ترجیح دی جا رہی ہے۔؟
بنگلہ دیش، بھارت، میانمار اور نیپال کے ملازمین بھی سنگا پور کی ترقی میں اہم ادا کر رہے ہیں ۔ اس کی پر شکوہ آسمان کو چھوتی عمارتیں ،گلیوں کی صفائی اس بات کاعملی ثبوت ہے۔ ان کی شبانہ روز محنت سے سنگاپور میں سٹائلش زندگی کو فروغ ملا ہے۔
یورپ کی طرح سنگا پور کو بھی ترقی کے لیے امیگرنٹ لیبر کی ضرورت ہے اور یورپ کی طرح لیبرکلاس کے لیے امیگرنٹس کو ضروری سمجھا جا رہا ہے جبکہ سنگا پور کے نوجوان بالکل مختلف انداز میں اصولوں کو اپنائے ہوئے ہیں۔
نصف صدی قبل لی کیون یو نے کہا تھا کہ ”ہم نہ تو ملائین ہیں اور نہ ہی چینی قوم ہیں ہمارے بارے میں یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ ہم انڈین ہے۔
“ ہر شخص کو زبان، کلچر، مذہب کے حوالے سے یہاں برابری کا درجہ حاصل ہے۔ سنگا پور کو اس کے عوام کے خواہشات کے تحت چلایا جائے گا جو اب ایک حقیقت بن چکا ہے۔
نسلی بے چینی اور معاشی خوف کی جڑیں سنگا پور میں بے حد گہری ہوتی جار ہی ہیں۔ سنگا پور کے عوام نے دنیا بھی میں اپنی ایک مخصوص پہچان بنائی ہے یہ سنگاپور کے باشندوں کا محبوب ملک ہے مگر سب اچھا نہیں ہے۔
لی کیویو کی موت سنگاپور کے عوام کا بہت بڑا نقصان ہے کیا انہیں ایک ایسا شخص مل سکے گا جو مستقبل کے ویژن اور اتھارٹی کو عملی شکل دے سکے؟ اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ کر انہیں خوف سے نجات دلا کر ان کی رہنمائی کرے ؟ 12ستمبر کو سنگاپور کے ابتدائی انتخابی نتائج آنا شروع ہو گئے۔ حکمران پی اے پی پارٹی نے 69.6 پاپولر ووٹ حاصل کئے جبکہ ورکرز پارٹی نے 89 رکنی پارلیمنٹ میں 6 اپوزیشن نشستیں حاصل کیں۔ سنگاپور میں انتخابی عمل تشکیل پا چکا ہے مگر عوام میں پائی جانے والی غیر یقینی اب بھی باقی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-09-24

(0) ووٹ وصول ہوئے