بند کریں
منگل جنوری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
شام پر ظلم کے اندھیرے
ان کے خاتمے کے لیے امن کا دیا جلانا ہوگا۔۔۔۔۔ شام میں خانہ جنگی کا آغاز 2011 میں ہوا تھا اور اس وقت کسی کے وہم وگمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ بہت جلد صورتحال اس قدر بھیانک رخ اختیار کرے گی کہ یہاں رونما ہونے والے سانحات تاریخ کا حصہ بن جائیں گے۔
شام میں خانہ جنگی کا آغاز 2011 میں ہوا تھا اور اس وقت کسی کے وہم وگمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ بہت جلد صورتحال اس قدر بھیانک رخ اختیار کرے گی کہ یہاں رونما ہونے والے سانحات تاریخ کا حصہ بن جائیں گے۔
مغرب ، خلیجی ممالک اور ترکی جیسے ملک سمجھتے تھے کہ بشارالااس کی حکومت کے لیے احتجاجی مظاہروں کا سامنا کرنا ممکن نہیں رہے گا اور تیونس یا لیبیا کے حکمرانوں کی طرح شامی صدر کو بھی راہ فراف اختیار کرتے ہی بنے گی۔
تاہم اس وقت بھی روسی حکومت اور اس کے تجزیہ کار یہ سمجھتے تھے کہ شام کا تیونس یا لیبیا سے موازنہ کرنا درست نہیں ہو گا اس کی وجوہات یہ تھی کہ شام میں شیعہ سنی آبادی کا باہمی تناسب تیونس اور لیبیا سے بہت مختلف تھا ،ان ممالک کے برعکس شامی فوج بہت منظم اور موثر تھی شام کا حکمران طبقہ متحدہ تھا اور اسے ایران جیسے ملک کی بھر پور عملی مددوحمایت بھی حاصل تھی ۔
بعد کے حالات نے ثابت کر دیا کہ روس کا نکتہِ نظر درست تھا۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ2011 سے 2015 تک شام کہ حالات خراب سے خراب تر ہوئے ہیں اوربشارالااسد کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ بھی ہوا ہے لیکن اس کے باوجود شام میں زمینی حقائق روسی تجزیے سے گہری مطابقت رکھتے ہیں۔ وہاں داعش قدم جما چکی ہے اور آج کا شام اس شام سے بہت مختلف ہے جو 2011 سے قبل موجود تھا۔
اس وقت شام کی کوئی مشکل واضح نہیں ہے اور مستقبل کے حوالے سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ اس ملک کے جغرافیائی خدوخال کیا ہو نگے۔
ایسی خبریں پہلے سامنے آچکی تھیں کہ روس نے بشارالاسد کی براہ راست امدا بند کردی ہے جس کے بعد یہ توقع کی جارہی تھی کہ روس اب شام کے معاملے کے حل کے لیے کوئی سرگرم کردار ادار کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔ اب روس کی فضائیہ شام میں داعش کے ٹھکانوں کو تو نشانہ بنا رہی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ شامی صدر کے مخالف باغی گروپوں کو بھی ہدف بنا چکی ہے۔
روس امریکہ یا کسی یورپی ملک کے ساتھ مل کر یہ کارروائی کرنے کی بجائے آزادانہ حیثیت میں یہ حملے کر رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ کہ امریکہ یہ کہنے پر مجبور ہے کہ روس شام میں جلتی پر تیل چھڑک رہا ہے شام کی صورتحال بہت گنجلک ہو چکی ہے ایسے میں روس اگر داعش اور باغیوں کے خلاف فضائی حملہ کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں بشارالاسد کی فوجوں کے قدم آگے بڑھتے ہیں اور یہ بات امریکہ یورپ اور خلیجی حکمرانوں کے لیے ناقابل قبول ہے۔
روس کی کوشش یہ تھی کہ امریکہ اور بشارالاسد کے مخالف دیگر ممالک مسئلے کے عسکری خل کی بجائے مذاکرات کی راہ اپنائیں تاکہ بشارالاسد کو پرا من طریقے سے اقتدار چھوڑنے پر قائل کیا جا سکے۔ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ داعش کا سدباب ابھی سے اور موٴثر طور پر نہ کیا جاسکا تو یہ آنے والے برسوں میں شام، عراق حتیٰ کہ پورے مشرق وسطیٰ کولہو لہو کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

شام کا مسئلہ عسکری قوت کے استعمال سے حل نہیں ہوگا، کیونکہ بم چاہے داعش پھوڑے یا روسی امریکی اور یورپی ممالک کے میزائل گریں ان کا نشانہ بے گناہ شامی عوام ہی بنیں گے۔ ان شامی شہریوں کو بچانے کے لیے ضروری ہے کہ بشارالاسد کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے۔ وہ اس وقت اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ مسئلے کے پر امن حل کے لیے مذاکرات سے انکار کر دیں ۔ اس وقت لوہا گرم ہے اور چوٹ لگانے والے اگر تیار نہ ہوئے تو پھر مزید خون ریزی سے بچنا بہت مشکل ہو جاے گا۔
تاریخ اشاعت: 2015-10-13

(0) ووٹ وصول ہوئے