بند کریں
جمعرات جنوری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
شام کی خانہ جنگی کا انجام کیا ہو گا؟
تین سال سے جاری جنگ میں اسرائیل نے شام کی حدود میں متعدد فضائی حملے کئے شام اور اسرائیل 1948ء سے حالت جنگ میں ہیں‘ 1967ء سے اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے
رمضان اصغر :
شام میں ظلم وستم کی رات گہری ہو چکی ہے، بربریت کی انتہا ہو چکی ہے، ظالموں نے ظلم کی ایسی داستان رقم کی ہے کہ تاریخ کے ظالموں کو شرمندہ کر دیا ہے ۔ تین سال سے جاری خانہ جنگی میں نسل تباہ ہو چکی ہے، لوکھوں افراد اس خانہ جنگی کی وجہ سے زندگئی کی باز ہار چکے ہیں لیکن اقتدار سے چمٹے رہنے کی حو س ان انسانوں کا درندہ بنا دیا ہے ۔
یہ ان لوگوں کی جانوں سے کھیل رہے ہیں جن کی وجہ سے ان کا اقتدار ہے جن کی وجہ سے ان کی حکومت ہے جن کا یہ وطن ہے آج یہ اپنے وطن کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں تاریخ کی بڑی ہجرت ہو رہی ہے لوگ یہ ا سے ہجرت کر کے دوسرے ممالک میں جا رہے ہیں یا کیمپوں میں بے سروسامان زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
1973ء میں شام نے مصر کے ساتھ مل کر اسرائیل کے خلاف جنگ کی اور گولان کی پہاڑیوں کا کچھ حصہ آزاد کروایا۔
اس موقع پر روس اور امریکہ دونوں ایک ہوگئے اور جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا ۔ انہی ممالک نے مصر اور اسرائیل کی صلح کروائی اور مصر نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا اس میں بنیادی کردار امریکی وزیر خارجہ ہنری کسجنر نے ادا کیا جو خود ایک سابق جرمن یہودی تھا۔ مگر شام اس حد تک جانے پر تیار نہ ہوا اور اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا ۔ 1976ء میں شامی افواج لبنانی حکومت کی درخواست پر لبنان میں داخل ہوئیں اور لبنان میں عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان خانہ جنگی کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا ۔
10جون2000ء کو حافظ الاسد کا انتقال ہو گیا اور ان کے بیٹے نے بشارالاسد نے صدارت سنبھال لی۔ انھوں نے سابقہ حکومت کی نسبت شخصی آزادیوں میں بہتری پیدا کی ہے۔آج کل وہ امریکہ سے ساتھ سرد جنگ میں الجھے ہوئے ہیں ۔ 16جون2006ء کو انھوں نے ایران کے ساتھ ایک دفاعی معاہدہ بھی کیا ہے بہت اہم ہے اور اس کے ذریعے ہتھیاروں کا تبادلہ بھی ممکن ہے۔
اسرائیل نے شام کی فوجی تنصیبات پر حملہ کیا ہے ، اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے گولان کی پہاڑیوں پر ہونے والی بمباری میں اپنے چار فوجیوں کی ہلاکت کے بعد جوابی کار روائی کے طورپر شام کی کئی فوجی تنصیبات پر حملے کیے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جن فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ان میں فوجی صدر دفتر ، ایک تربیت گاہ اور تو پخانے شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق شامی فوج نے منگل کو سرحدی باڑ کے قریب گشت پر مامور فوجیوں پر حملہ کیا ۔ تین سال قبل شام میں بغاوت کے آغاز کے بعد سے اب تک اسرائیل نے اس کی حدود میں متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔ ان حملوں کا جواز یہ دیا جاتا رہا کہ ان کی مدد سے شامی صدد بشارالاسد کی حامی لبنانی تنظیم حزب اللہ کی راکٹوں کی فراہمی کو روکا جا سکے۔
تاہم حالیہ حملوں کو جوابی کارروائی قرار دیا گیاہے ۔ ہماری پالیسی سادہ ہے، جو ہمیں نقصان پہنچائے گا ہم اسے نقصان پہنچائیں گے۔ ” بنیامن نیتین یا ہو بیت المقدس میں موجود نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے حملوں کا ہدف بنائے گئے مقامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ واضح طورپر اپنے فوجیوں پر حملے کا ذمہ دار شامی فوج کو سمجھتی ہے نہ کہ باغیوں یا حزب اللہ کے جنگجووٴں کو۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ماضی میں کی جانے والی جوابی کار روائی میں اسرائیلی فوج نے توپخانے کا استعمال کیا ہے تاہم اس مرتبہ جنگی جہازوں سے استعمال سے واقعہ کی سنگینی کا احساس ہوتاہے۔
گولان کی پہاڑیاں شام کی جنوب مغربی سرحدی علاقے کی چٹانوں پر مشتمل علاقہ ہے ۔ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے جنگی طیارے نے شام نے ساحلی شہر لاذقیہ پر میزائل داغے ہیں۔
اہلکار کا کہنا ہے کہ اس حملے میں روسی ساخت کے میزائلوں کے نشانہ بنایا گیا ہے جو حزب اللہ کے لئے لائے جار ہے تھے۔ لاذقیہ شامی صدر بشارالاسد کا مضبوط گڑھ تسلیم کیا جاتا ہے جہاں علوی برادری اکثریت میں ہے اور صدر اسد کا تعلق بھی اسی برادری سے ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل کی جانب سے شام پر رواں برس کم از کم تین میزائل حملے کیے جا چکے ہیں اور صدر بشار الاسد نے کہا تھا کہ اگر آئندہ اسرائیل نے ایسا کوئی حملہ کیا تو شام جوابی کارروائی کرے گا۔
شام اور اسرائیل سنہ1948ء سے حالتِ جنگ میں ہیں۔ یاد رہے کہ اسرائیل نے 1967کی جنگ کے بعد سے گولان کی پہاریوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور اس نے سنہ1981میں اس علاقے کو اپنی عملداری میں شامل کر لیاجسے عالمی سطح پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سیریئن آبزرویٹری فارہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ، دفاعی فضائی فوج کیاڈے سے کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھی شام میں صدر اسد کے خلاف بغاوت دو ہزار گیارہ میں شروع ہو ئی تھی ۔
اقوام متحدہ کے مطابق اس خانہ جنگی میں اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ بیس لاکھ افرادنے نقل مکانی کی ہے۔ واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں دونو ں ممالک کی فوجوں کے درمیان کئی بار فائرنگ کا تبادلہ ہو چکا ہے۔ یہ حملہ اس وقت ہوا ہے جب کیمیائی ہتھیاروں کے مش او پی سی ڈبلیو نے رپورٹ جاری کی ہے کہ شام کے کیمیائی ہتھیار بنانے والے آلات مقررہ مدت سے ایک دن قبل ہی تلف کر دیے گئے ہیں۔
اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد شام کے نائب وزیر خارجہ فیصل مقداد نے بات کرتے ہوئے کہا کہ شامی حکومت تعاون کر رہی ہے اورمشرقِ وسطیٰ کر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک کر نے کے لئے کوشاں ہے۔
یونیسف کا کہنا ہے کہ شام میں جاری لڑائی کے باعث وہاں سے بھاگنے پر مجبور بچوں کی تعداد دس لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ ادارے کے مطابق شام میں اب تک بیس لاکھ سے زائد بچے بے گھر ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام سے بھاگنے والے تین چوتھائی بچوں کی عمریں گیارہ سال سے کم ہیں۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین اینٹونیو کا کہنا ہے کہ شام کے نوجوان اپنے گھروں، خاندان کے افراد اور مستقبل کھو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق شام سے بھاگنے والے بچے لبنان، اردن ، ترکی ،عراق اور مصر پہنچ رہے ہیں اور ان کی تعداد دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین اور یونیسف کا کہنا ہے کہ وہ ان بچوں کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں ۔ جنیوا میں موجوہ بی بی سی کے نامہ نگار موگن کا کہنا ہے کہ امدادی ایجنسیاں شام میں ایک مکمل گمشدہ نسل کے حوالے سے متنبہ کر رہی ہیں جو مستقبل میں امن اور استحکام کے لئے تیا ر نہیں ہیں۔یونیسف کے ایگز یکٹو ڈائریکٹر اینتھونی لیک کا کہنا ہے کہ ہمیں اس شرمندگی کو بانٹنا چاہیے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں جاری بحران گزشتہ بیس سالوں میں سب سے بڑا بحران ہے اور صددر بشارالاسد کے خلاف مارچ سنہ2011میں شروع ہونے والی شورش میں اب تک ایک اعشاریہ سات ملین افراد نے خود کو جہاجر کے طور پر رجسٹر کروایا ہے۔
شامی فوج کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کا ہیلی کاپٹر شدت پسندوں کی تلاش میں سرچ آپر یشن کر رہا تھا کہ اس دوران وہ غلطی سے ترکی کی حدود میں داخل ہوا۔
شامی فوج کا کہنا ہے ترکی نے اپنے سرحدی علاقے میں جانے والے ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنانے کا اقدام جلد بازی میں کیا ہے جس کا مقصد سرحدی صورتحال کو کشیدہ کرنا تھا۔ دوسری جانب ترکی کے نائب وزیراعظم نے کہا ہے کہ شامی فوج کے ہیلی کاپٹر کے پائلٹ کو متعدد بار خبر دار کیا گیا اورجب وہ ترکی کی سرحد کے اندر دو کلومیٹر تک کے علاقے میں پہنچا تو اسے نشانہ بنایا گیا ۔
ادھر شام میں موجود کارکنوں نے کہا ہے کہ یہ ہیلی کاپٹر باغیوں کے مضبوط گڑھ کے قریب ہی ملک ک ساحلی صوبے لٹا کیا میں آتشیں مواد پہنچا رہا تھا۔ یاد رہے کہ اس قبل قوام متحدہ نے شام کے بارے میں اپنی رپورٹ میں ’ واضح طورپر ‘ اس بات کی تصدیق کی ہے کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ہوا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام کے دارالحکومت دمشق میں گزشتہ مارہ راکٹ حملے میں سارن گیس کا ستعمال کیا گیا تھا۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کے معائینہ کاروں نے کہا تھا کہ وہ شام میں ستمبر 2011سے اب تک کیمیائی اسلحے کے استعمال کے مبینہ14الزامات کی جانچ کر رہے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس تصدیق کے بعد اب عالمی قوتیں شامل کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرار داد لانے کی کوشش کریں گے۔ اس قبل فرانسیسی صدر فرانسواولاند نے کہا تھاکہ فرانس، برطانیہ اور امریکہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں پر اقوام متحدہ کی ’سخت‘ قراد داد کے خواہاں ہیں۔
روس اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت شام نے اس بات پر رضا مندی ظاہر کی ہے کہ وہ ایک ہفتے میں اپنے کیمیائی اسلحے کے ذخیرے کو ظاہر کر دے گا اور سنہ 2014کے وسط تک اپنے کیمیائی ہتھیاروں کو ختم کر دے گا۔ معاہدے کے مطابق اگر شام اس عہد کی پاسداری میں ناکام رہا تو اس پر اقوام متحدہ کی قراد داد نافذ ہو جائے گئی جس میں متحدہ طور پر طاقت کے استعمال کی بار درج ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ نے دمشق میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف شام پر حملے کی دھمکی دی تھی۔ دوسری جانب شام کے صدر بشارالاسد نے دمشق میں 21اگست کو ہونے والے کیمیائی حملے کی تروید کرتے ہوئے اس کا الزام عوام پر عائد کیا تھا۔واضح رہے کہ شام نے حال میں عالمی کیمیائی اسلحے معاہدے میں شامل ہونے کے لیے رضا مندی ظاہر کی ہے اور اقوام متحدہ نے اعلان کیاہے کہ شام14اکتوبر سے اس معاہدے کے تحت آجائے گا۔
امریکہ نے واشنگٹن میں شام کے سفارت خانے اور مشی گن اور ہیوسٹن ٹیکساس میں شامی قونصلیت بند کرتے ہوئے شامی سفارت عملے کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔خبر رساں ادارے اسے ایف پی کے مطابق گذشتہ ہفتے شامی سفارت خانے کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ وہ مزید خدمات نہیں دے گی جس کے بعد منگل کو امریکہ کی طرف سے یہ اقدام اٹھایا گیا ۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیرے نے کہا کہ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیاکہ ’بشارالاسد کی حکومت کی لاقانونیت انتہاتک پہنچ گئی ۔
‘ انھوں نے محکمہ خارجہ کی ایک تقریب کے دوران طلبا سے اپنے خطاب میں کہا کہ بشار الاسد کی حکومت کو گرانے کے لئے گذشہ تین سال سے جاری جنگ کے دوران140000افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اس کی حکومت ’ بغیرکسی امتیاز کے عام شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ ‘ جان کیری نے کہا کہ ’ ہمیں محسوس ہوا کہ یہاں ایسی حکومت کی نمائندگی کرنے والے سفارت خانے کی موجودگی ہماری لیے بے عزتی ہے، بس ہم نے اسے بند کر دیا۔
‘ امریکہ سے شامی سفیر دسمبر سنہ 2011میں چلے گئے تھے اور امریکی دارالحکومت میں شام کا سفارت خانہ کچھ عرصے سے بغیر سفیر کے کام کر رہا تھا جہاں معمولی تعداد میں عملہ خدمات دے رہا تھا ۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق شام کے لئے امریکہ کے خصوصی نمائندے ڈینئل ریوبنسٹین نے کہا کہ ہمیں شامی حکومت کی طرف سے تعینات نمائندے کا امریکہ میں سفارت کاری کرنا’ ناقابلِ قبول‘ ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تاہم ڈینئل ریوبنسٹین نے اس بار پر اصرار کیا کہ ’ اختلافات کے باوجود شامی عوام کے ساتھ تاریخی تعلقات کی خاطر امریکہ شام کی ریاست کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم نہیں کر رہا اور یہ تعلقات بشارالاسد کے جانے کے بعد مزید بہتر ہونگے۔ ‘ شام کے سفارت خانے کی ویب سائٹ پر پیغام دیا گیا تھا کہ ’ منگل سے شام کا سفارت خانہ کونسل کی خدمات نہیں دے سکے گا۔
شام میں مارچ 2011میں حکومت مخالف بغاوت کے آغاز کے بعد سے اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں واشنگٹن نے یہ بھی کہا ہے کہ شام کے وہ سفارت کار جو امریکی شہری نہیں ہیں انھیں امریکہ میں کام کرنے کی مزید اجازت نہیں اور ان کے لئے31مارچ تک ملک چھوڑنا ضروری ہے۔
محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان نے کہاکہ اس سے معمولی تعداد میں سفارتی عملہ اور ان کا خاندان متاثر ہو گا۔
تاہم انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ نیو یارک میں اقوام متحدہ کے لئے شام کے سفارتی مشن کا کام کرنے کی اجازت ہو گئی۔ گذشتہ مہینے امریکہ نے اقوام متحدہ کے لئے شامی سفری بشار جعفر کی نقل و حرکت کو نیو یارک کے اردگرد 25کلو میٹر تک محدود کیا تھا۔ شامی نژاد امریکیوں کے ایک گروپ جمہوری شام کے لئے اتحاد نے جعفر پر امریکہ میں عوامی مقامات پر اپنی تقاریر میں شامیوں کے درمیان فرقہ واریت کوہوا دینے کے الزام عائد کیا تھا۔
شام میں مارچ 2011میں حکومت مخالف بغاوت کے آغاز کے بعد سے اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 95لاکھ افراد کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑاہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام میں امداد تک رسائی کے لئے ایک قرار داد کو متفقہ طور منظور کرلیا ہے۔ یہ پہلی دفعہ ہے کہ سلامتی کونسل کے اراکین اس معاملے پر متفق ہوئے ہیں۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ شامی حکومت اور حزب اختلاف دونوں پر لازم ہو گا کہ وہ عام لوگوں تک امداد پہنچانے والے قافلوں کو ملک بھر میں سفر کرنے کی اجازت دیں گے۔
قرار داد کے متن میں کسی قسم کی پابندیوں کا ذکر نہیں کیا گیا ہے لیکن اس میں خبر دار کیا گیا ہے کہ اگر دونوں طرفین قرار داد کی پابندی نہیں کریں گے تو مزید ’ اقدامات کیے جائیں گے۔ ‘ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اس قرار داد کو سراہتے ہوئے کہا کہ’ اگر اس قراراداد پر اچھی نیت سے جلدی عمل درآمد کیا جائے تو لوگوں کی کچھ مشکلیں تو آسان ہو جائیں گی۔
‘ اقوام متحدہ میں امریکہ کے وزیر سمانتا پاور نے کہا کہ اس قرار داد کو پہلے منظور ہ وجانا چاہیے تھا۔ روس اور چین ، جنھوں نے ماضی میں اس قسم کی قرار دادوں کی مخالفت کی تھی اس دفعہ اس قرار داد کے حق میں ووٹ دیا ہے۔روس ابھی تک شامی صدر بشارالاسد حکومت کی حمایت کرتا ہے اس نے بتدائی طور پر قرار داد کے متن کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ پابندیوں کے ذکر کو نکالا جائے۔
تاہم قرار داد میں بیرل بموں کے استعمال کی مذمت کی گئی ہے اور اس میں امدادی قافلوں کی سرحد پار آمدورفت اور ملک میں محاصروں کو ختم کرنے کامطالبہ کیا گیا ہے۔ دریں اثنا روس کے سفیر ویٹالی چیورکن نے کہا کہ ہمارے بعض مطالبات شامل ہونے سے قرار داد متوازن ہو گئی ہے۔ لیکن اقوام متحدہ میں شام کے سفیر بشار جعفر نے کہا کہ امدا تک رسائی کو اس وقت تک موٴثر نہیں بنایا جا سکتا ’ جب تک انسانی امداد کے موضوعات کو غیر سیاسی نہ کیا جائے اور دہشت گردی کو ختم نہ کیا جائے۔

شام میں مارچ 2011میں حکومت مخالف بغاوت کے آغاز کے بعد سے اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 95لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسف کاکہنا ہے کہ گذشتہ سال کے دوران شام میں ضرورت مند بچوں کی تعداد دوگنی ہو کر 55لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ یو نیسف کی تازہ رپورٹ کے مطابق تقریبا10لاکھ بچے ایسے علاقوں میں قیددبند کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جہاں ان کی دیگر انسانی ہمدردی کی تنظیموں کی رسائی نہیں ہے ۔
رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ شام میں بچوں نے اپنی جانیں اور اپنے اعضاء گنوائے ہیں، یہاں تک کہ وہ بچپن کے تمام عناصر سے محروم ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران شام کی خانہ جنگی میں 10ہزار سے زیادہ بچے مارے گئے ہیں۔ ا س رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حقیقی تعداد ان سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔’ انڈر سیج ‘ یعنی محصور نامی یونیسف کی رپورٹ میں موجود اعداد و شمار شام میں بچوں پر پڑنے والے تباہ کن اثرات کا اشاریہ ہیں۔
انھیں کسی قسم کا تحفظ حاصل نہیں ہے ، نہ تو طبی اور نہ ہی نفسیاتی اور انھیں تعلیم تک بالکل رسائی حاصل نہیں ہے تقریبا 10لاکھ بچے ان علاقوں میں رہتے ہیں جو یا تو محصور ہیں یا پھر وہاں امدادی تنظیموں کے لیے پہنچنا بہت دشوار ہے جبکہ 30لاکھ بچوں کی تعلیم مکمل طور سے انتشار کا شکار ہے۔ رپورٹ کے مطابق اندورن ملک شام میں 30لاکھ بچے بے گھر ہیں اور ایک سال کے اندر ان کی تعداد میں تین گناہ اضافہ ہو اہے جبکہ 12لاکھ بچے دوسرے ملکوں میں پناہ گزین بن کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
پہلے یہ تعداد ڈھائی لاکھ سے زیادہ بتائی گئی تھی۔ مجموعی طورپر سوا چار لاکھ بچے پانچ سال سے کم عمر کے ہیں۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچوں کو وقت سے پہلے کم عمری میں ہی گذر بسر کے لئے کام کرنا شروع کرنا پڑتا ہے جبکہ پیسوں کے لئے لڑکیوں کو شادی پر مجبور کیا جاتا ہے۔ 12سال تک کے لڑکوں کو جنگ میں لڑنے کے لئے بھرتی کیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق تقریبا20لاکھ بچوں کو صدمے سے نکلنے کے لئے نفسیاتی علاج کی ضرورت ہے۔

یونیسف کی تازہ رپورٹ کے مطابق تقریبا 10لاکھ بچے ایسے علاقوں میں قید وبند کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں یونیسف کی رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیاہے کہ حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ یونیسف کا کہنا ہے کہ اب تک انھیں اپنے کام کو اچھے طور پر کرنے کے لئے جتنی رقم کی ضرورت ہے اس میں سے وہ صرف آٹھ فیصد ہی حاصل کر سکے ہیں۔ یونیسف کے ایگزیکیوٹیو ڈائریکٹر انتھونی لیک نے کہا’ اس جنگ کو ختم ہونا چاہیے تاکہ بچے اپنے گھروں کو واپس آسکیں اور اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ محفوظ زندگی گذار سکیں۔ شام کے بچو ں کے لئے یہ تباہ کن تیسرا سال آخری ہونا چاہیے۔
تاریخ اشاعت: 2014-04-09

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان